تازہ ترین
دارا سنگھ کا پہلوانی سے اداکاری تک کا سفر

19نومبر یوم پیدائش کے موقع پر
ممبئی،18 نومبر (یو این ائی) دارا سنگھ کا شمار میں ہندوستانی پہلوان اور ایک اداکار کے طور پر کیا جاتا ہے دارا سنگھ نہایت سادہ مزاج اور شگفتہ طبیعت کے مالک تھے دارا سنگھ کی پیدائش 19 نومبر، 1928 میں پنجاب کے ایک جاٹ سکھ کنبہ میں بلونت کور اور سورت سنگھ رندھاوا کے یہاں ہوئی تھی اپنے لمبے قد و قامت کی وجہ سے اُن کو بچپن سے ہی پہلوانی کا شوق تھا اُنہوں نے 1966ء میں رستم پنجاب اور 1978ء میں رستم ہند کا خطاب حاصل کیا۔
دارا سنگھ نے ہندوستانی طرز کی پہلوانی کی باقاعدہ تربیت لی جو ریت کے اکھاڑے میں لڑی جاتی ہے۔ دارا سنگھ ہندوستان کے کشتی کے ٹورنامنٹوں کی بڑی مقبول شخصیت تھے۔ وہ ہندوستان کی نوابی ریاستوں کی دعوت پر بھی وہاں جایا کرتے تھے۔ وہ ہاٹ میلوں میں کشتی لڑتے تھے۔ انہوں نے کئی عظیم پہلوانوں کو مات دی اور امریکہ میں کئی پیشہ ور پہلوانوں کو ہرایا۔
وہ 1947 میں سنگاپور چلے گئے تھے اور کوالالمپور میں ترلوک سنگھ کو ہراکرملیشیا میں چیمپئن بن گئے تھے۔ انہوں نے پیشہ ور پہلوان کے بطور مشرق بعید کے تقریباً تمام ممالک کا دورہ کیا۔
داراسنگھ نے لوتھیز اور ہسٹانلسا زیباسکو جیسے بین اقوامی پہلوانوں سے مقابلہ کیا ۔ انہوں نے 500 سے زیاہ پیشہ ورانہ کشتیاں لڑیں اور کبھی شکست کا منہ نہیں دیکھا۔
درا سنگھ نے 1953 میں پیشہ ورانہ انڈین ریسلنگ چمپئن شپ جیتی اور 1959 میں کناڈا کے چمپئن جارج نگوڈنوکر کوہراکر دولت مشترکہ چمپئن ٹرافی جیتی۔
انہوں نے 1983 میں سرگرم کشتی سے ریٹائرمنٹ لے لیا اور 1989 میں اپنی خودنوشت سوانح میری آتم کتھا پنجابی میں شائع کی۔ سات سال بعد انہیں نیوز لینڈ کے ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔
ان کے آخری ٹورنامنٹ کا افتتاح وزیراعظم راجیو گاندھی نے کیا تھا جس میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔انہیں جیت کا تحفہ اس وقت کے صدر گیانی ذیل سنگھ نے دیا تھا۔
دنیا
جنگ کے بعد سے ایران میں ادویات کی شدید قلت
تہران، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سے ایرانی دواخانوں (فارمیسیوں) میں ادویات کی شدید کمی ہوگئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، 28 فروری سے اب تک امریکہ اور اسرائیل نے ملک کے مختلف صوبوں میں تقریباً 25 فارماسیوٹیکل مراکز پر حملے کیے ہیں۔ نشانہ بنائے گئے مراکز کی فہرست میں بڑے اور تزویراتی طور پر اہم ادارے شامل ہیں، جن میں کینسر، امراضِ قلب، اینستھیزیا اور ملٹیپل اسکلیروسس کی دوائیں بنانے والے مراکز کے ساتھ ساتھ تہران میں واقع ‘پاسچر انسٹی ٹیوٹ’ بھی شامل ہے۔
تہران کے ولی عصر اسکوائر کے پاس ایک فارمیسی میں کام کرنے والے ڈاکٹر پیزمان نعیم نے ’’اسپوتنک‘‘ کو بتایا کہ ’’ذیابیطیس اور امراضِ قلب جیسی کچھ ادویات مارکیٹ میں انتہائی نایاب ہوگئی ہیں۔ جنگ کے دوران بھی ان کی سپلائی بہت کم تھی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔‘‘
ڈاکٹر نعیم نے ذکر کیا کہ چیلنجوں کے باوجود صورتحال قابو میں ہے۔ ایرانی حکام نے ایک ہیلپ لائن قائم کی ہے جس کے ذریعے شہری یہ جان سکتے ہیں کہ کون سی دوائیں اسٹاک میں نہیں ہیں اور وہ کن فارمیسیوں میں دستیاب ہو سکتی ہیں۔
فارماسسٹوں نے مریضوں کو ادویات فراہم کرنے کے لیے خود ایک نیٹ ورک تیار کیا ہے۔ ایرانی حکومت ادویات کے شعبے کو امداد فراہم کر رہی ہے، لیکن پابندیوں کی وجہ سے کچھ مخصوص غیر ملکی دوائیں مارکیٹ میں بہت کم ملتی ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق، ان ادویات کی تیاری کے لیے ضروری کچھ خام مال کے حصول میں بھی مسائل آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جنگ کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس سے فارمیسیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ادویات کی فروخت گر گئی ہے اور آسمان چھوتی قیمتوں نے عام شہریوں کے لیے ضروری دوائیں خریدنا ناممکن بنا دیا ہے۔”
ڈاکٹر نعیم نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے دوران یا جنگ کے بعد ادویات کی فروخت میں بہتری آئے گی اور وہ عوام کے لیے آسانی سے دستیاب ہوں گی۔ ایرانی حکام نے ادویات سازی کے پلانٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بار بار ‘جنگی جرائم’ قرار دیا ہے۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا
انڈونیشیا میں دو ٹرینوں کی ٹکر میں سات افراد ہلاک
جکارتہ، انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے مشرق میں واقع شہر بیکاسی میں پیر کی رات دو ٹرینوں کی ٹکر میں کم ازکم سات افراد ہلاک اور 81 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔
ایک خبر رساں ادارے نے ریلوے کے ایک اہلکار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر تلاشی اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔
ٹرین کا تصادم پیر کو دیر گئے بیکاسی تیمور اسٹیشن پر ہوا، جب ایک کمیوٹر ٹرین اور ایک لمبی دوری والی ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔ لمبی دوری کی ٹرین نے دوسری ٹرین کے پچھلے ڈبے کو ٹکر ماردی، جو خواتین کے لیے ریزرو تھا۔
یواین آئی/ اسپوتنک۔الف الف
دنیا
عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی
ماسکو، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی نیز یکجہتی کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
مسٹر عراقچی نے پیر کو سینٹ پیٹرزبرگ میں مسٹر پوتن سے یہ ملاقات کی۔
انہوں نے ایکس پر کہا کہ “خطے میں بڑے اتار چڑھاؤ کے درمیان روس کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت کرنا خوشی کی بات ہے۔ حالیہ واقعات نے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اور مضبوطی کو ظاہر کیا ہے۔ جیسے جیسے ہمارے تعلقات بڑھ رہے ہیں، ہم یکجہتی کے لیے شکر گزار ہیں اور سفارت کاری کے لیے روس کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں”۔
انہوں نے مسٹر پوتن اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ اپنی تصاویر بھی شیئر کیں۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا7 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا7 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا4 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا6 days ago“جنگ بندی میں توسیع ” تیل کے حصص میں کمی،سرمایہ کار محتاط








































































































