تازہ ترین
مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کا کراچی میں انتقال

کراچی،، 18 نومبر (یو این آئی)مفتی اعظم پاکستان اور جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر مفتی محمد رفیع عثمانی کراچی میں انتقال کرگئے وہ طویل عرصہ سے علیل تھے اور انتہائی نگہداشت میں تھے ڈان میں شائع خبر کے مطابق مفتی رفیع عثمانی کے بھتیجے سعود عثمانی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ’کس دل سے کہوں کہ میرے محبوب چچا مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد رفیع عثمانی ابھی کچھ دیر قبل انتقال فرماگئے’۔
وہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر اور وفاق المدارس العربیہ کے سرپرست اعلیٰ تھے۔مفتی رفیع عثمانی، معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔
مفتی محمد رفیع عثمانی و فاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر ، کراچی یونیورسٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ رکن، اسلامی نظریاتی کونسل، رویت ہلال کمیٹی اور زکوٰۃ و عشر کمیٹی سندھ کے رکن اور سپریم کورٹ آف پاکستان اپیلٹ بینچ کے مشیر بھی رہے۔
مفتی رفیع عثمانی 21 جولائی 1936 کو متحدہ ہندوستان کے علاقے دیوبند میں پیدا ہوئے اور 1986 میں دارالعلوم کراچی کے صدر بنے۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے عظیم نقصان ہے، دینی تعلیمات کے فروغ کے لیے مفتی صاحب کی خدمات بے مثال ہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا ایک عرصے تک پر نہیں ہوسکے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ممتاز عالم دین مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ مفتی صاحب کا انتقال اسلام کے لیے عظیم سانحہ ہے، ان کی دینی خدمات لازوال ہیں۔
مولانا طاہر اشرفی نے مفتی رفیع عثمانی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان علما کونسل ان کے انتقال پر تعزیت کرتی ہے، وہ عالم اسلام کی عظیم علمی روحانی شخصیت تھے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مرحوم متوازن افکار و نظریات کے حامل تھے۔انہوں نے کہا کہ مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے پاکستان ایک معتدل بلند پایہ فقیہ مفتی سے محروم ہوگیا ہے، ان کی وفات حسرت آیات عالم اسلام کے لیے عظیم سانحہ ہے۔
ہندوستان
پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی بھلر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا شکنجہ، ٹھکانوں پر چھاپہ ماری
نئی دہلی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی ہرچرن سنگھ بھلر اور دیگر سے متعلق کئی مقامات پر تلاشی مہم چلا رہا ہے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)، انسدادبدعنوانی بیورو (اے سی بی)، چنڈی گڑھ نے سابق ڈی آئی جی اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان معاملات میں آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے اور ایک مجرمانہ معاملے کے تصفیے کے لیے بچولیہ کے ذریعے غیر قانونی رقم کے مطالبے جیسے الزامات شامل ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ “ملزم، ساتھیوں اور مشتبہ بے نامی داروں سے منسلک 11 مقامات (چنڈی گڑھ-2، ضلع لدھیانہ-5، پٹیالہ-2، نابھہ-1 اور جالندھر-1) پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 17 کے تحت تلاشی لی جا رہی ہے۔” اہلکار نے مزید کہا کہ تلاشی کا مقصد جرم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا سراغ لگانا، بے نامی جائیدادوں کی شناخت کرنا اور منی لانڈرنگ سے متعلق شواہد اکٹھا کرنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی نے گزشتہ سال اکتوبر میں سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ہرچرن سنگھ بھلر کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا کیس درج کیا تھا۔ انہیں 17 اکتوبر 2025 کو ایک اور معاملے میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا۔
سی بی آئی کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق، آکاش بارا نے شکایت درج کرائی تھی جس کی بنیاد پر پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی (روپڑ رینج) بھلر اور ایک نجی شخص کرشانو کے خلاف بھارتیہ نیاۓ سنہیتا کی دفعہ 61 (2) اور انسداد بدعنوانی قانون کی دفعات 7 اور 7 اے کے تحت 16 اکتوبر کو باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں بچولیہ ملزم کرشانو کو شکایت کنندہ سے مسٹر بھلر کے لیے پانچ لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ اس کے بعد سی بی آئی نے مسٹر بھلر اور بچولیہ کرشانو کو گرفتار کر لیا۔
سی بی آئی کی ایف آئی آر کے مطابق، “مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے دوران، چنڈی گڑھ میں واقع بھلر کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے دوران 7,36,90,000 روپے نقد برآمد ہوئے، جن میں سے 7,36,50,000 روپے ضبط کر لیے گئے۔ اس کے علاوہ، مجموعی طور پر 2,32,07,686 روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور چاندی کی اشیاء (بھلر کے بیڈروم سے)، اور 26 برانڈڈ اور مہنگی گھڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔”
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ “غیر منقولہ جائیداد کے دستاویزات بھی ضبط کی گئی ہیں، جن میں چنڈی گڑھ کے ایک گھر اور فلیٹ کے کاغذات اور موہالی، ہوشیار پور اور لدھیانہ اضلاع میں تقریباً 150 ایکڑ زرعی زمین کے حصول سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ ان میں مسٹر بھلر، ان کے خاندان کے افراد (بشمول اہلیہ تجیندر کور بھلر، بیٹا گرپرتاپ سنگھ بھلر اور بیٹی تیز کرن کور بھلر) اور دیگر کے نام پر تجارتی جائیدادیں شامل ہیں۔ جناب بھلر اور ان کے اہل خانہ کے پاس مرسڈیز، آڈی، انووا اور فارچیونر جیسی مہنگی گاڑیوں سمیت پانچ گاڑیاں بھی پائی گئیں۔”
سی بی آئی نے انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 13(1)(بی) بشمول دفعہ 13(2)، اور بھارتیہ نیاۓ سنہیتا 2023 کی دفعہ 61(2) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی سی بی آئی کی ایف آئی آر کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کر کے چھاپہ ماری شروع کر دی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ‘عآپ’ سے الگ ہونے والے سات ارکان کے بی جے پی میں انضمام کو منظوری دے دی
نئی دہلی، راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ایوان کے ان سات ارکان کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں انضمام کو منظوری دے دی ہے جو حال ہی میں عام آدمی پارٹی (عآپ) سے الگ ہوئے ہیں۔
راجیہ سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایوان میں مختلف جماعتوں کے ارکان کی فہرست میں، عام آدمی پارٹی سے الگ ہو کر بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کرنے والے ارکان کے نام اب بی جے پی کی فہرست میں آگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ارکان کی تعداد 106 سے بڑھ کر 113 ہو گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی سے منتخب ہونے والے ارکان راگھو چڈھا، ڈاکٹر سندیپ کمار پاٹھک اور ڈاکٹر اشوک کمار متل نے گزشتہ 24 اپریل کو دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے سات ارکان کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
ان ارکان میں مذکورہ تین کے علاوہ جناب ہربھجن سنگھ، وکرم جیت سنگھ ساہنی، سواتی مالیوال اور راجندر گپتا شامل ہیں۔ راجیہ سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے آج جاری کردہ فہرست کے مطابق، ان ارکان کو 24 اپریل سے ہی بی جے پی کے ارکان کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
اس فہرست میں اب عام آدمی پارٹی کے ارکان کی تعداد کم ہو کر صرف تین رہ گئی ہے۔ ایوان میں اب عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ کے علاوہ دو ارکان مسٹر نارائن داس گپتا اور مسٹر سنت بلبیر سنگھ کے نام شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے مسٹر راگھو چڈھا کو ایوان میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد سے پارٹی میں مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
یواین آئی ۔ایف اے
دنیا
آپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
واشنگٹن، سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت برہم ہو گئے جب اینکر نورہ او ڈانل نے حملہ آور کول ایلن کا پیغام پڑھ کر ان سے سوال کر دیا۔
پولیٹیکو نے لکھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں صحافی نورہ او ڈانل پر سخت تنقید کی، کیوں کہ انھوں نے اُس مشتبہ حملہ آور کے منشور سے ایک اقتباس پڑھ دیا تھا، جس نے ایک دن قبل وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ جب او ڈانل نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں ریکارڈ کیے گئے انٹرویو کے دوران حملہ آور کول ایلن کے منشور سے یہ جملہ پڑھا ’’میں اب اس بات کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ ایک پیڈوفائل، ریپسٹ اور غدار میرے ہاتھوں کو اپنے جرائم سے آلودہ کرے۔‘‘ تو ٹرمپ، جو اس سے پہلے نسبتاً پُرسکون تھے، اچانک غصے میں آ گئے۔
ٹرمپ نے کہا ’’میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ یہ پڑھیں گی کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ آپ ایسا کریں گی، کیوں کہ آپ لوگ بہت برے ہیں، بہت برے لوگ۔ ہاں، اس نے یہ لکھا ہے۔ میں ریپسٹ نہیں ہوں۔ میں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔‘‘ حملہ آور کے بارے میں ٹرمپ کا نیا انکشاف او ڈانل نے درمیان میں پوچھا ’’اوہ، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اشارہ کر رہا تھا‘‘ لیکن صدر نے ان کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ’’میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔‘‘
ٹرمپ اس بات پر بھی برہم دکھائی دیے کہ شاید ان کا تعلق جیفری اپیسٹین کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، حالاں کہ منشور یا اوڈانل کی بات میں ان کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ’’آپ ایک بیمار شخص کی یہ بکواس پڑھ رہی ہیں۔ مجھے ان چیزوں سے جوڑا جا رہا ہے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے مکمل طور پر بری الذمہ قرار دیا جا چکا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا ’’آپ کو یہ پڑھنے پر شرم آنی چاہیے، کیوں کہ میں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوں۔ آپ کو ’60 منٹس‘ میں یہ نہیں پڑھنا چاہیے تھا۔ آپ باعثِ شرم ہیں۔‘‘ اینکر نے کہا ’’حملہ آور نے لکھا ہے کہ میں ہوٹل میں ہوں اور کوئی چیکنگ نہیں ہوئی، سیکرٹ سروس کیا کر رہی ہے، یہ نااہل ہے۔‘‘ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’حملہ آور خود بھی نااہل ہے وہ آسانی سے پکڑا گیا۔‘‘
اینکر نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گزشتہ رات کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ جنگ عظیم بھی نہیں ہوئی، جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ بیمار ذہن کے مالک ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ حملہ آور اچھے کالج سے پڑھا اور ذہین بھی ہے لیکن بیمار ذہن ہے، کچھ لوگ ذہین ہوتے ہیں لیکن بیمار ذہن کے بھی ہوتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا7 days agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا6 days agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس
دنیا6 days agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں






































































































