ہندوستان
دنیا ’کثیر قطبی‘ نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، روس نے ہندوستان کو اہم ستون قرار دیا

نئی دہلی، صدر ولادیمیر پوتن کی 4 دسمبر سے دو ہندوستانی دور سے پہلے روس نے کہا کہ وہ نئی دہلی کے ساتھ اپنی شراکت داری کو ایک ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کے مطابق نئی شکل دینا چاہتی ہے، ایک ہی طرح کی دنیا ماسکو کے مطابق امریکی غیر یقینی روئیّے اور نئی طاقتوں کے مرکز ابھرنے متعین ہو رہی ہے۔
ہندوستانی صحافیوں کے ساتھ ایک تفصیلی گفتگو میں کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے ہندوستان کو “عظیم دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں ’’قانون کی حکمرانی کو پامال کیا جا رہا ہے، تجارتی اصول توڑے جا رہے ہیں اور گلوبلائزیشن کا وعدہ کیا گیا‘‘۔
اسی ماحول میں، انہوں نے کہا، ہندوستان اور روس مل کر ’’دنیا کو مست‘‘۔
روسی خبر رساں ادارے ’’اسپوتنک‘‘ کے زیر اہتمام تقریب میں پیسکوف نے کہا، ’’دنیا میں کچھ نیا پیدا ہو رہا ہے، ایک کثیر قطبی عالمی نظام‘‘۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پوتن کئی برسوں کے بعد ہندوستان آرہا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس مارچ پر دفاع، جوہری توانائی اور تجارت کے شعبوں میں متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کرنا۔ پیسکو نے بارہا پر زور دیا – روس کے تعلقات کو ’’بیرونی سرحد‘‘ سے محفوظ رکھنا ضروری ہے، ایک واضح اشارہ امریکہ کی پالیسیوں کی طرف جو نئی دہلی کو روسی توانائی کی خریداری پر مجبور کر رہی ہے۔
یو این آئی ۔م اع جاری
ہندوستان
مودی نے مسلسل سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیرِ اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندرمودی نے بدھ کے روز آزادہندستان کے مسلسل سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیرِ اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کر لیا مسٹر مودی نے 26 مئی 2014 کو پہلی بار وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھایا تھا اس کے بعد سے وہ مسلسل ملک کے منتخب وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں مسلسل منتخب وزیرِ اعظم کی حیثیت سے منگل کو ان کی مدتِ کار کے 4398 دن مکمل ہو گئے یہ پنڈت نہرو کی منتخب وزیرِ اعظم کے طور پر 4398 دن کی مدتِ کار کے برابر ہیں۔ پنڈت نہرو 13 مئی 1952 سے 27 مئی 1964 تک وزیرِ اعظم رہے تھے۔ البتہ وہ آزادی کے بعد 15 اگست 1947 کو ہندستان کے پہلے وزیرِ اعظم بنے تھے، لیکن اس وقت وہ منتخب نہیں بلکہ عبوری حکومت کے وزیرِ اعظم تھے۔
اس سے قبل مسٹر مودی سابق وزیرِ اعظم اندراگاندھی کے مسلسل منتخب وزیرِ اعظم کے طور پر 4077 دن کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ اندرا گاندھی 24 جنوری 1966 سے 24 مارچ 1977 تک مسلسل وزیرِ اعظم رہیں، اگرچہ بعد میں 1980 میں بھی وزیرِ اعظم منتخب ہوئی تھیں۔
مسٹر مودی وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کی حیثیت سے مجموعی طور پر 9000 سے بھی زائد دن خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے تیسری مسلسل مدت کے لیے 9 جون 2024 کو وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
ذرائع کے مطابق قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی ریاستی حکومتوں کے وزرائے اعلیٰ کی ایک اہم میٹنگ آج ہوگی، جس میں مسٹر مودی کو اس حصولیابی کے پر مبارکباد دی جائے گی۔ اس موقع پر ایک قرارداد بھی منظور کیے جانے کا امکان ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
مودی نے وزیر اعظم کے طور پر طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے کا ریکارڈ قائم کیا: برلا
نئی دہلی، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم کے طور پر سب سے طویل عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے کا تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے مسٹر برلا نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا، ”آج وزیر اعظم اور لوک سبھا میں قائدِ ایوان نریندر مودی نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں منتخب وزیر اعظم کے طور پر طویل ترین مدت تک مسلسل خدمات کا تاریخی ریکارڈ قائم کیا۔ وزیر اعظم کے طور پر 4,399 دنوں کی مسلسل خدمت کا یہ تاریخی سنگِ میل ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کی علامت ہے“۔
انہوں نے مزید کہا، ”اس مدت کے دوران آئینی اقدار، پارلیمانی جمہوریت اور جمہوری اداروں کو صحت مند پارلیمانی طریقہ کار اور روایات کے ذریعے مزید استحکام حاصل ہوا ہے“۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا، ”وزیر اعظم کو اس منفرد کامیابی پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔ ملک کی مسلسل ترقی، گڈ گورننس اور ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کی تکمیل کے لیے ان کی قیادت کے لیے میری نیک تمنائیں“۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
کا عوامی مینڈیٹ مودی کے لیے نہیں تھا: 2024 کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کے مسلسل سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے کا ریکارڈ بنانے کے درمیان بدھ کو کہا کہ سچ یہی ہے کہ 2024 کا عوامی مینڈیٹ ان (مسٹر مودی) کے لیے نہیں تھا کانگریس نے اس موقع پر پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو یاد کرتے ہوئے انہیں جدید ہندوستان کا معمار بتایا اور کہا کہ 17 کروڑ رائے دہندگان والی ووٹر لسٹ انہوں نے ہی تیار کروائی تھی۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’جہاں نہرو 1952، 1957 اور 1962 میں بھاری اکثریت سے جیتے تھے، وہیں مسٹر مودی 2024 میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کر پائے اور انہیں خود کو وزیراعظم بنانے کے لیے بی جے پی پارلیمانی پارٹی کو نظر انداز کر کے عجلت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا اجلاس بلانا پڑا۔ سچ یہی ہے کہ 2024 کا عوامی مینڈیٹ یقینی طور پر ان کے لیے نہیں تھا مسٹر رمیش نے لکھا کہ 15 اگست 1947 کو پنڈت جواہر لال نہرو ہندوستان کے وزیراعظم بنے اور انہوں نے ایک ایسی شاندار کابینہ کی قیادت کی، جیسی دنیا میں شاید ہی کبھی دیکھی گئی ہو۔ اس کے بعد اگلے پانچ سال میں جدید ہندوستان کی تعمیر ہوئی۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اسی دوران 560 سے زیادہ دیسی ریاستوں کو پرامن طریقے سے ہندوستانی یونین میں ضم کیا گیا، ہندوستان کے آئین پر بحث ہوئی اور اسے اپنایا گیا، زمینداری نظام ختم کیا گیا، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن نافذ کیا گیا، کئی کثیر المقاصد آبپاشی اور بجلی کے منصوبے شروع کیے گئے، سائنس اور ٹیکنالوجی (جس میں ایٹمی توانائی بھی شامل ہے) کے لیے انفراسٹرکچر تیار کیا گیا اور ہندوستان عالمی معاملات میں ایک طاقت بن کر ابھرا۔
انہوں نے کہا کہ اسی دوران تمام بالغوں کو ووٹ دینے کا حق یقینی بنانے کے لیے 17 کروڑ رجسٹرڈ رائے دہندگان والی ووٹر لسٹ تیار کی گئی اور آزاد ہندوستان کے پہلے عام انتخابات اکتوبر 1951 سے فروری 1952 کے درمیان کرائے گئے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، ’’پنڈت نہرو کے دورِ وزارت عظمی 1947-52 کے دوران ہندوستان کی کامیابیوں کے اس ریکارڈ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، ڈاکٹر راجندر پرساد، سی راج گوپال آچاری، مولانا ابوالکلام آزاد جیسے قدآور رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ مسٹر مودی اب اسے ہی مٹانا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے آج خود سے طے کردہ اور مشکوک طریقے سے تیار کردہ کوئی سنگ میل حاصل کر لیا ہو، لیکن وہ ہندوستان کے گلے میں ایک بوجھ کی طرح ہیں، کیونکہ وہ ہندوستان میں جمہوریت کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ جمہوریت کے وہی ادارے – ایک آزاد الیکشن کمیشن اور ایک مقدس ووٹر لسٹ – اب خطرے میں ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو برباد کر کے سائنسی سوچ کو ختم کر دیا گیا ہے، جیسا کہ حال ہی میں نیٹ اور سی بی ایس ای گھوٹالوں سے پتہ چلا ہے۔ نجکاری اور ’اہل نہیں پائے گئے‘ جیسے غلط طریقوں سے درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے ریزرویشن کو کمزور کیا گیا ہے۔‘‘
یو این آئی۔ایف اے
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا1 week agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا7 days agoیہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے کبھی ملاقات کروں: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی







































































































