تازہ ترین
سالانہ امر ناتھ یاترا: سماج دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جائے گا/ڈی آئی جی

سری نگر، (یو این آئی): سالانہ امر ناتھ جی یاترا کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر سیکورٹی ایجنسیوں اور سیول انتظامیہ کی جانب سے میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ یاترا کے دوران مزید اضافی پیرا ملٹری فورسز کی تعیناتی کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ڈی آئی جی سی آر پی ایف راجندر پرساد نے منگل کے روز بتایا کہ یاتریوں کی سیکورٹی کے لئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حساس علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پر اضافی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔اْن کے مطابق سماج دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر سبھی تیاریاں مکمل کی گئی ہیں۔
ڈی آئی جی سی آر پی ایف نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ سالانہ امر ناتھ یاترا کے دوران الرٹ رہیں اور مشکوک افراد کے بارے میں سیکورٹی فورسز کو آگاہ کریں تاکہ ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
واضح رہے کہ سالانہ امر ناتھ یاترا کو خوش اسلوبی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر مرکزی حکومت نے 150کے قریب پیر املٹری فورسز کی کمپنیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا جبکہ جموں وکشمیر پولیس کے ساتھ ساتھ فوج اور بارڈر سیکورٹی فورسز اہلکاروں کو بھی حساس علاقوں میں تعینات کیا جارہا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ دو سال کے وقفے کے بعد سالانہ امر ناتھ یاترا 30 جون سے شروع ہو رہی ہے اور توقع کی جارہی ہیں کہ رواں سال 10لاکھ کے قریب یاتری پوترا شیو لنگم کے درشن کے لئے وارد ہونگے۔
ہندوستان
کا عوامی مینڈیٹ مودی کے لیے نہیں تھا: 2024 کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کے مسلسل سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے کا ریکارڈ بنانے کے درمیان بدھ کو کہا کہ سچ یہی ہے کہ 2024 کا عوامی مینڈیٹ ان (مسٹر مودی) کے لیے نہیں تھا کانگریس نے اس موقع پر پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو یاد کرتے ہوئے انہیں جدید ہندوستان کا معمار بتایا اور کہا کہ 17 کروڑ رائے دہندگان والی ووٹر لسٹ انہوں نے ہی تیار کروائی تھی۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’جہاں نہرو 1952، 1957 اور 1962 میں بھاری اکثریت سے جیتے تھے، وہیں مسٹر مودی 2024 میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کر پائے اور انہیں خود کو وزیراعظم بنانے کے لیے بی جے پی پارلیمانی پارٹی کو نظر انداز کر کے عجلت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا اجلاس بلانا پڑا۔ سچ یہی ہے کہ 2024 کا عوامی مینڈیٹ یقینی طور پر ان کے لیے نہیں تھا مسٹر رمیش نے لکھا کہ 15 اگست 1947 کو پنڈت جواہر لال نہرو ہندوستان کے وزیراعظم بنے اور انہوں نے ایک ایسی شاندار کابینہ کی قیادت کی، جیسی دنیا میں شاید ہی کبھی دیکھی گئی ہو۔ اس کے بعد اگلے پانچ سال میں جدید ہندوستان کی تعمیر ہوئی۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اسی دوران 560 سے زیادہ دیسی ریاستوں کو پرامن طریقے سے ہندوستانی یونین میں ضم کیا گیا، ہندوستان کے آئین پر بحث ہوئی اور اسے اپنایا گیا، زمینداری نظام ختم کیا گیا، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن نافذ کیا گیا، کئی کثیر المقاصد آبپاشی اور بجلی کے منصوبے شروع کیے گئے، سائنس اور ٹیکنالوجی (جس میں ایٹمی توانائی بھی شامل ہے) کے لیے انفراسٹرکچر تیار کیا گیا اور ہندوستان عالمی معاملات میں ایک طاقت بن کر ابھرا۔
انہوں نے کہا کہ اسی دوران تمام بالغوں کو ووٹ دینے کا حق یقینی بنانے کے لیے 17 کروڑ رجسٹرڈ رائے دہندگان والی ووٹر لسٹ تیار کی گئی اور آزاد ہندوستان کے پہلے عام انتخابات اکتوبر 1951 سے فروری 1952 کے درمیان کرائے گئے۔
کانگریس لیڈر نے کہا، ’’پنڈت نہرو کے دورِ وزارت عظمی 1947-52 کے دوران ہندوستان کی کامیابیوں کے اس ریکارڈ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، ڈاکٹر راجندر پرساد، سی راج گوپال آچاری، مولانا ابوالکلام آزاد جیسے قدآور رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ مسٹر مودی اب اسے ہی مٹانا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے آج خود سے طے کردہ اور مشکوک طریقے سے تیار کردہ کوئی سنگ میل حاصل کر لیا ہو، لیکن وہ ہندوستان کے گلے میں ایک بوجھ کی طرح ہیں، کیونکہ وہ ہندوستان میں جمہوریت کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ جمہوریت کے وہی ادارے – ایک آزاد الیکشن کمیشن اور ایک مقدس ووٹر لسٹ – اب خطرے میں ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو برباد کر کے سائنسی سوچ کو ختم کر دیا گیا ہے، جیسا کہ حال ہی میں نیٹ اور سی بی ایس ای گھوٹالوں سے پتہ چلا ہے۔ نجکاری اور ’اہل نہیں پائے گئے‘ جیسے غلط طریقوں سے درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے ریزرویشن کو کمزور کیا گیا ہے۔‘‘
یو این آئی۔ایف اے
دنیا
امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر پر حملے سے کوئی تعلق نہیں، ایران کی حملے میں ملوث ہونے کی تردید
تہران، ایران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کر دی۔
ایرانی نائب وزیرخارجہ نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ تہران کا امریکی اپاچی ہیلی کاپٹرپرحملے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایاگیا۔آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال میں ایسے واقعات غیرارادی طور پرپیش آسکتے ہیں۔
ادھر ایک امریکی عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر سے ایرانی ڈرون ٹکرایا تھا تاہم ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا ،تحقیقات جاری ہیں ۔
دوسری جانب ایرانی عسکری ذرائع کےمطابق ہرمزمیں 24 گھنٹوں کےدوران کوئی فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھہ کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والا امریکی فوج کا انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر مارگرایا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا کہ اگرچہ ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹس محفوظ رہے ہیں لیکن پھر بھی امیریکہ کو اس حملے کا لازمی طور پر جواب دینا ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے
واشنگٹن، آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے، امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے۔
امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کے جواب میں ایران کے خلاف حملے شروع کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی آرمی کے اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرائے جانے کے بعد ایران کے خلاف جوابی فضائی حملے شروع کر دیے گئے ہیں، امریکی فوج ایران میں صرف مخصوص اہداف کو نشانہ بنارہی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو “اس حملے کا لازمی طور پر جواب دینا تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے خطے میں مزید فوجی اقدامات کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے دو امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ ایک ذریعے کے مطابق حملے میں شاہد ڈرون استعمال کیا گیا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا یا وہ کراس فائر کا شکار ہوا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی افواج کو آبنائے ہرمز سے نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں موجود بیرونی افواج انسانی غلطیوں، حادثات یا ممکنہ کراس فائر کے باعث مسلسل خطرات سے دوچار رہیں گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرق وسطیٰ کو ایک بڑے تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال عالمی تیل رسد اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
جموں و کشمیر7 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا1 week agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoیہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے کبھی ملاقات کروں: ٹرمپ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی






































































































