ہندوستان
سال 2025 میں مغربی ایشیا اور افریقہ کے حوالے سے ہندوستان کی طویل المدتی اسٹریٹجک حکمتِ عملی

خصوصی مضمون: محمد عابد
نئی دہلی، ایسے خطے میں جہاں سیاسی اتحاد دیرپا نہیں رہتے، ہندوستان بتدریج اپنی طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری کو معاشی ترقی، تکنیکی اختراعات اور سیاسی توازن کے ذریعے مضبوط کر رہا ہے وزیر اعظم نریندر مودی کا تازہ ترین دورہ مغربی ایشیا اور افریقہ نہ معمول کی سفارتکاری تھی اور نہ ہی سرخیوں میں نمایاں ہونے کی کوشش۔ بلکہ یہ ہندوستان کی علاقائی پوزیشن میں ایک محتاط، سلامتی پر مبنی ازسرِ نو ترتیب کی عکاسی کرتا ہے، جو قلیل مدتی نمایاں سرگرمیوں کے بجائے استحکام، لچک اور پائیدار اسٹریٹجک پوزیشننگ کو ترجیح دیتا ہے۔
اگر اس دورے کو وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر کے اسرائیل کے دورے کے پس منظر میں دیکھا جائے تو وزیر اعظم مودی کا دورہ ایک واضح اور مربوط اسٹریٹجک حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ نئی دہلی اب مغربی ایشیا کو صرف الگ تھلگ دوطرفہ تعلقات کے طور پر نہیں دیکھتا، جو وقتی سفارتی مواقع پر مبنی ہوں۔ بلکہ ہندوستان اس خطے کو ایک مربوط اسٹریٹجک نظام کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں سیاسی اعتدال، معاشی استحکام اور سکیورٹی تعاون ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر ہندوستان کی علاقائی مصروفیت میں ایک نمایاں ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے، جو خارجہ پالیسی کے اہداف کو طویل مدتی قومی سلامتی اور معاشی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔
اس ازسرِ نو ترتیب دی گئی حکمت عملی کے مرکز میں انڈیا–مڈل ایسٹ اکنامک کوریڈور (ائی ایم ای سی) شامل ہے، جسے ایک تبدیلی لانے والا رابطہ کاری فریم ورک کے طور پر تصور کیا گیا ہے جو ہندوستان کو مشرق وسطیٰ کے ذریعے یورپ سے جوڑتا ہے۔ صرف تجارتی سہولت کاری سے آگے بڑھ کر، ائی ایم ای سی ہندوستان کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی علاقائی سپلائی چینز اور لاجسٹک نیٹ ورکس میں مستحکم مقام حاصل کرسکے۔ ماہرین اسٹریٹجک کے مطابق وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ ایک واضح جیوپولیٹیکل پیغام بھی تھا، خاص طور پر ترکی کی جانب، جس کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، کیونکہ انقرہ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی کھلی حمایت کی اور بعد میں اسلام آباد کے ساتھ اپنے دفاعی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔ اس پس منظر میں، ہندوستان کی عمان، اردن اور ایتھوپیا کے ساتھ مصروفیت کو وسیع پیمانے پر ایک اسٹریٹجک مثلث تشکیل دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو عربی جزیرہ نما کے مشرقی کنارے سے شروع ہو کر مغربی ایشیا کے قلب سے گزرتی ہے اور ہارن آف افریقہ تک مستحکم بنیاد رکھتی ہے۔
وزیر اعظم مودی کے اردن، ایتھوپیا اور عمان کے دورے ہندوستان کے مربوط اسٹریٹجک وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور بحرِ ہند کو جوڑتا ہے۔ نئی دہلی ان علاقوں کے بڑھتے ہوئے جیوپولیٹیکل انٹرکنکشن کے مطابق اپنی پالیسی مرتب کر رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی تجارتی راہدریوں اور گلوبل سپلائی چینس میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ یہ دورہ غزہ جنگ کے بعد بڑھتے ہوئے علاقائی عدم استحکام کے دوران ہوا، کیونکہ یمن اور سوڈان میں جاری تنازعات بحر احمر اور اس کے گردونواح کے بحری راستوں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں، جو ہندوستان کی تجارت، توانائی کی درآمدات اور بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے مفادات کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر نے مشرق وسطیٰ کو ایک “اہم گزرگاہ” قرار دیا ہے جو افریقہ، یورپ، بحرہ روم اور انڈو-
پیسیفک کو جوڑتی ہے۔ یہ نقطۂ نظر ہندوستان کے اس تصور کو اجاگر کرتا ہے کہ یہ خطہ محض ایک مسابقتی میدان نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک کنیکٹر کے طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ مودی کے دورے میں شامل ہر ملک ایک کلیدی جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ اردن مغربی ایشیا کے اہم علاقے میں واقع ہے، ایتھوپیا ہارن آف افریقہ میں غالب ہے اور افریقی یونین کی میزبانی کرتا ہے اور عمان آبنائے ہرمز اور مغربی بحرِ ہند سے متصل ہے، جو دنیا کے سب سے اہم توانائی نکات میں سے ایک ہے۔
ہندوستان اردن کو خطے میں اعتدال اور استحکام کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھتا ہے، جو عمومی طور پر سیاسی پولرائزیشن سے دوچار ہے۔ اردن کی انتہا پسندی کی نفی اور متوازن سفارت کاری ہندوستان کو مغربی ایشیا میں بغیر کسی الجھن کے تعلقات قائم رکھنے کے قابل بناتی ہے۔
ایتھوپیا ہندوستان کے لیے افریقہ کا دروازہ ہے اور گلوبل ساؤتھ میں اس کی اہمیت مرکزی ہے۔ ہر سال تقریباً دو سو ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ہندوستانی تجارت ریڈ سی کے راستے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام جیسے سمندری قزاقی، انسانی اسمگلنگ اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے براہِ راست نئی دہلی کے لیے تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ ایتھوپیا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اس شراکت داری کی اسٹریٹجک منطق پر زور دیا اور کہا کہ ایتھوپیا افریقہ کے اہم علاقے میں واقع ہے جبکہ ہندوستان بحرِ ہند کے قلب میں ہے، اس طرح یہ دونوں خطے میں امن، سلامتی اور رابطے کے شراکت دار ہیں۔
دورے کے دوران پر ہندوستان اور ایتھوپیا نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرتے ہوئے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی بنیاد رکھی۔ افریقی یونین کی میزبانی کی وجہ سے ادیس ابابا ہندوستان کی افریقہ پالیسی میں کلیدی سفارتی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ایسے ترقیاتی تعاون پر زور دیا جو شفاف، صلاحیت بڑھانے والا اور مقامی ملکیت پر مبنی ہو، اور یہ جان بوجھ کر اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے جو قرض پر مبنی ترقیاتی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ پائیدار اور خودمختار ہے۔
دوسری طرف، عمان خلیج فارس میں ہندوستان کے سب سے زیادہ بھروسہ مند شراکت داروں میں سے ایک ہے اور ہندوستان کی توانائی اور بحری سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔
وزیر اعظم مودی کی عمان میں بادشاہ عبد اللہ دوم کے ساتھ بات چیت نے اس شراکت داری کو مزید مضبوط کیا۔ وزیر اعظم کے مطابق یہ دورہ ‘انتہائی نتیجہ خیز’ رہا، جس کے دوران قابلِ تجدید توانائی، پانی کے انتظام، ڈیجیٹل اصلاحات، ثقافتی روابط اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا گیا۔ دونوں فریقین نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور غیر متزلزل موقف پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور بحری تعاون مضبوط ہے، اور ہندوستانی بحریہ کو دوکم جیسے بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہے, جو مغربی بحرِ ہند میں ہندوستان کی آپریشنل رسائی کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔ عمان ہندوستان کی لنک ویسٹ پالیسی ، مہاساگر وژن میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے ایک قابل اعتماد اینکر کے طور پر کام کرتا ہے۔
جیوپولیٹیکل امور سے آگے، اس دورے نے ایک مضبوط عسکری، معاشی پہلو کو بھی اجاگر کیا۔ جیسے جیسے ہندوستان کے عالمی مفادات بڑھ رہے ہیں اور تجارت کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر امریکہ کے نئے ٹیرف کے دباؤ کے پیش نظر، نئی دہلی سرگرم طور پر اپنے اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو متنوع بنا رہا ہے۔ مڈل ایسٹ اور افریقہ اس تنوع کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ واشنگٹن کے مبصرین کو مڈل ایسٹ اور مغربی بحرِ ہند میں ہندوستان کے پراعتماد اور فعال کردار کی توقع رکھنی چاہیے، جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو امریکہ کی پانچویں بحری بیڑے کے آپریشنل دائرہ کار میں آتے ہیں۔
دورے کے سیاسی پیغامات بھی اتنے ہی اہمیت کے حامل تھے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے غزہ امن منصوبے کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اسرائیل کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل تعاون کے مشترکہ عزم کی تصدیق بھی کی۔ یہ دوہرا پیغام، یعنی تنازعات کے حل میں تعاون اور دہشت گردی کے خلاف سختی، ہندوستان کی مغربی ایشیا میں مخصوص پوزیشن کو اجاگر کرتا ہے۔
ہندوستان اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وہ کسی مخصوص اتحاد سے وابستہ ہوئے بغیر سرگرم رہے اور کسی جانب داری کا پابند بنے بغیر اثرورسوخ برقرار رکھنے کا اہل ہے۔ یہ محتاط ابہام کسی غیر یقینی کیفیت کی علامت نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبہ ہے۔ اس سے نئی دہلی اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط کر سکتا ہے، اور عرب ریاستوں کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھتے ہوئے گلوبل ساؤتھ میں اپنی پوزیشنبھی قائم رکھتا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس دورے کے دوران ایران، چین یا دیگر ملکوں کا کوئی براہِ راست تذکرہ نہیں کیا گیا۔ یہ خاموشی جان بوجھ کر اختیار کی گئی تھی، جو ہندوستان کی عمل پسندی اور لچک کو ترجیح دینے والی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وزیر اعظم مودی کا اردن دورہ، ایتھوپیا کے ساتھ تعلقات کی اسٹریٹجک اپ گریڈنگ اور ہندوستان–اسرائیل دفاعی تعاون میں اضافہ ایک مربوط علاقائی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندوستان خطے میں اہم شراکت، نازک استحکام کو بھی مضبوط کرنا چاہتا ہے اور دفاعی تعاون کو وسیع اقتصادی اور تکنیکی ڈھانچے میں ضم کرنے کا خواہاں ہے۔
وزیر اعظم مودی کے مڈل ایسٹ میں اقدامات محض سفارتی تسلسل کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ہندوستان کی علاقائی سلامتی کی شراکت داریوں میں ایک خاموش مگر مؤثر ازسرِنو ترتیب کا عندیہ دیتے ہیں، یہ اقدامات اگرچہ فوجی تعیناتی کی طرح ظاہر نہیں ہوتے، مگر آنے والی دہائی کے اسٹریٹجک توازن کو زیادہ دیرپا طور پر تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے ہندوستان خطے کی سلامتی، اقتصادی اور تکنیکی نظام میں اپنے انضمام کو گہرا کرتا رہے گا، ویسے ویسے اس کی اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی بڑھتی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مغربی ایشیا اور افریقہ میں اس کی اہمیت بھی نمایاں ہوتی جائے گی۔
یو این آئی ۔ م ع
ہندوستان
کانگریس نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ، پاکستان کے ‘بڑھتے ہوئے سفارتی کردار’ پر متنبہ کیا
نئی دہلی ، کانگریس نے پیر کے روز مرکز کی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعے یہ الزام لگایا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک سخت بیان میں رمیش نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور انہوں نے اسے اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت قرار دیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پہلے کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک کو ہمارے عالم اور ہمیشہ خوش لباس وزیر خارجہ نے ‘دلال’ قرار دیا تھا، وہ مبینہ طور پر آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔
رمیش نے پاکستان کی نازک معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ اس ملک نے حال ہی میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر ادھار لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت واضح طور پر مشکل میں ہے اور اس کا انحصار دوست ممالک کی خیرات پر ہے، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا اور اس سلسلے میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور پہلگام دہشت گردانہ حملے سمیت ماضی کے دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے رمیش نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پاکستان پر مستقل بین الاقوامی دباؤ بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی مشغولیت کے انداز اور بیانیے کے انتظام نے پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔
سابقہ یو پی اے حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے رمیش نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں زیادہ کامیاب رہے تھے۔
رمیش نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کی بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی پذیرائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منیر کے ریمارکس نے خطے میں تناؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت ہندوستان کے لیے ایک خاصا سنگین دھچکا ہے۔ رمیش نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ فیلڈ مارشل اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے خاندان اور ساتھیوں کے ایکو سسٹم کو ہندوستان کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں، اور انہوں نے اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ‘تاریخی ناکامی’ قرار دیا۔ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی میں مکمل تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ موجودہ قیادت مطلوبہ تبدیلی لانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کھڑگے مغربی بنگال اور راہل تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے
نئی دہلی ، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی پیر کو بالترتیب مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے مسٹر کھڑگے مغربی بنگال کے کوچ بہار اور سلی گوڑی میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے جبکہ تمل ناڈو میں ، راہل گاندھی کنیا کماری میں لکشمی پورم ، ترونیل ویلی میں نونگولیری اور تھوتھکوڈی میں سری وینکٹم میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
سپریم کورٹ کی ریزولوشن پلان کی منظوری میں تاخیر پر این سی ایل ٹی کی سرزنش، ملک گیر رپورٹ طلب
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پیر کے روز نیشنل کمپنی لاء ٹربیونل (این سی ایل ٹی) کی جانب سے ریزولوشن پلانز کی منظوری میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ، نئی دہلی اور انسولوینسی اینڈ بینکرپٹسی بورڈ آف انڈیا (آئی بی بی آئی) کو ہدایت دی کہ وہ زیر التواء درخواستوں اور ان میں تاخیر کی وجوہات پر مشتمل جامع ملک گیر ڈیٹا فراہم کریں۔
جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن پر مشتمل بنچ ایک ایسے کیس کی سماعت کر رہی تھی جہاں ایک منصوبہ تقریباً دو سال سے زیر التواء تھا۔ یہ تنازع دیوالیہ پن کی کارروائی سے پیدا ہوا تھا، جس میں آئی آئی ایف ایل کے 85 کروڑ روپے کے دعوے کو شروع میں 2020 میں ریزولوشن پروفیشنل نے مسترد کر دیا تھا، جسے بعد میں این سی ایل ٹی نے منظور کیا اور 2023 میں این سی ایل اے ٹی نے برقرار رکھا، جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔
عدالت نے اشارہ دیا کہ جب ریزولوشن پلان پیش کیا جاتا ہے تو این سی ایل ٹی کے لیے اسے بروقت منظور کرنا لازمی ہے، ورنہ آئی بی سی کا وقت کے پابند کارپوریٹ انسولوینسی ریزولوشن پراسیس (سی آئی آرپی ) مکمل کرنے کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔
عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ کو حکم دیا کہ وہ جلد از جلد یہ معلومات فراہم کرے کہ منظوری کے لیے کتنی درخواستیں زیر التواء ہیں اور یہ درخواستیں کتنے عرصے سے لٹکی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، عدالت نے ان وجوہات کی بھی وضاحت طلب کی ہے جن کی بنا پر منظوری کی درخواستوں پر اب تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا





































































































