دنیا
امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا، ایرانی فوج کا جواب دینے کا اعلان
تہران، امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی تجارتی بحری جہاز پر چڑھ کر قبضہ کر لیا ہے، ایرانی فوج نے اسے ’’بحری قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوا ہے جب انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے لیے اپنی ٹیم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیج رہے ہیں۔ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے ایرانی پرچم والے مال بردار بحری جہاز ’’توسکا‘‘ کو قبضے میں لیا،
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا یہ کارروائی یو ایس ایس سپروئنس نے بحیرہ عرب میں کی، ایک بحری جہاز ’ایم وی توسکا‘ بندر عباس کی جانب جا رہا تھا، متعدد وارننگز کے باوجود جہاز نے حکم نہ مانا، 6 گھنٹے بعد جہاز کے انجن روم خالی کرانے کا حکم دیا گیا۔ سینٹکام کے مطابق فائرنگ کے بعد جہاز کا انجن ناکارہ بنا دیا گیا، فائرنگ سے جہاز کی حرکت مکمل طور پر روک دی گئی، اور 31 ویں میرین یونٹ نے جہاز پر قبضہ کر لیا، تعاون نہ کرنے پر بحری جہاز کو امریکہ نے تحویل میں لیا۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پیشہ ورانہ اور متناسب انداز میں کی گئی۔ امریکی فوج نے ایرانی بحری جہازوں پر چڑھ کر انھیں ضبط کرنے کی تیاری کر لی، وال اسٹریٹ جرنل ایرانی فوجی ہیڈکوارٹرز نے رد عمل میں کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، امریکہ نے نیوی گیشن سسٹم کو غیر فعال کر کے اہلکاروں کو جہاز میں اتارا، خلیج عمان میں اس بحری قزاقی کا جلد جواب دیں گے۔
اس سے قبل ابتدائی بیان میں ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ بحری جہاز کو قبضے میں لینے کی امریکی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے، امریکی افواج نے بحیرہ عمان میں ایرانی تجارتی بحری جہاز پر فائرنگ کی، تاہم ایرانی بحریہ کی بروقت کارروائی سے امریکی فوج کو پسپائی ہوئی، امریکی فوج موقع سے واپس چلی گئی۔ تاہم ایرانی فورسزکے بیان میں کسی بحری جہاز کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ دوسری طرف ایک ایرانی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران اس مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا کیوں کہ اس کا خیال ہے کہ اسے امریکا نے دھوکا دیا ہے، اور یہ کہ دونوں ممالک درحقیقت ایک اور کشیدگی کے دہانے پر ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کی دھمکیوں کا سلسلہ نہ رک سکا، اس بار معاہدے کی پاسداری بہانہ بن گئی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر متنبہ کیا ہے اگر معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی تو ایسے اقدامات کروں گا جس کا تصور بھی محال ہوگا۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، دیکھتے ہیں معاملات کس ڈگر پر چلتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ایران جوہری معاملے پر شفافیت یقینی بنانے پر آمادہ ہو چکا ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق معائنوں کی اجازت دینے پر بھی رضامند ہے۔
انھوں نے کہا آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور خطے کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور لیڈر شپ سب ختم ہوچکی ہے، اگر ایران معاہدے پر قائم نہیں رہا تو وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دہرایا کہ اُن کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، اُن کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، اُن کے تمام رہنما مارے جا چکے ہیں، اُن کا پورا ملک تباہ حالی کا شکار ہے، اُن کی معیشت مفلوج ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا اور آپ کو نیویارک ٹائمز کو پتہ ہے جو جعلی خبریں پھیلاتا ہے، اس نے کہا ’’ارے، حالات تو تقریباً ویسے ہی ہیں جیسے 4 ماہ پہلے تھے!‘‘ نہیں چار ماہ پہلے ان کے پاس بحریہ تھی، 159 بحری جہاز تھے، جو اب نہیں ہیں، ان کی پوری بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کے 250 طیارے تباہ ہو چکے ہیں، ان کے تمام طیارے اور ریڈار کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا اگر ایران اپنے معاہدے پر عمل نہیں کرتا یا وہ مناسب رویہ نہیں اپناتے تو میں وہ سب کچھ کروں گا جو مجھے کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے حوالے سے کہا کہ مستعفی برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر مسائل پر قابو نہیں پا سکے، اسٹارمر کو توانائی، امیگریشن بحران اور جرائم کی بڑھتی وارداتوں کا سامنا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد انھوں نے اسٹارمر کی مدد کی پیشکش قبول نہیں کی، ایران جنگ کے دوران اٹلی کا رویہ بھی انتہائی برا رہا، یورپ کے تحفظ کے لیے ہم نے کھربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
باقر قالیباف نے امریکیوں کے ساتھ ایک فریم میں آنے سے انکار کیوں کیا تھا
عمان، باقر قالیباف نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں مذاکرات کے دوران امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ فریم قبول نہیں کیا اور ٹرمپ کے بیان کے بعد مذاکراتی سیشن چھوڑ دیا تھا۔
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بتایا کہ انہوں نے مذاکرات میں شرکت کی تھی، تاہم امریکی وفد کے ساتھ ایک فریم میں آنے یا مشترکہ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا تھا۔ باقر قالیباف کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد ایرانی وفد نے مذاکرات جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ دھمکیوں اور طاقت کی زبان کے ماحول میں ایران کبھی مذاکرات نہیں کرتا۔
ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان پر احتجاجاً مذاکراتی سیشن چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان کے بقول انھوں نے جے ڈی وینس کو یاد دلایا کہ مفاہمتی یادداشت میں دھمکیوں سے گریز کی شق موجود تھی۔ باقر قالیباف نے مزید کہا کہ اس کے بعد ایرانی وفد امریکی ٹیم کے ساتھ دوبارہ نہیں بیٹھا، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ ان کے مطابق پاکستانی اور قطری ثالثوں نے مذاکراتی عمل جاری رکھا، جب کہ ثالث ممالک کو واضح کر دیا گیا تھا کہ امریکی وفد کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع پر باقر قالیباف نے اسرائیل کے حوالے سے کہا کہ اسرائیلی حکومت مذاکراتی عمل کی شدید مخالفت کرتی ہے اور مذاکراتی راستے میں اپنی تباہی دیکھتی ہے۔ ایرانی اسپیکر کے بقول اسرائیل کسی صورت کسی معاہدے کا پابند نہیں ہونا چاہتا اور مذاکراتی عمل کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار اسرائیل کو سخت زبان استعمال کر کے روکنے کی کوشش کی اور کئی بار اسرائیل کو حکم دیا اور اپنی مخصوص لغت بھی استعمال کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران پر تیل سے متعلق پابندیاں عارضی طور پر ہٹا دی گئیں: وینس
برگن اسٹاک (سوئٹزرلینڈ)، امریکہ نے پیر کے روز ایران پر تیل سے متعلق عائد پابندیوں کو عارضی طور پر ہٹا لیا ہے۔
امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دے گا۔
مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب صدر وینس نے کہا کہ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دے گا۔
سوئٹزرلینڈ کے عالیشان برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والی بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر وینس نے کہا، ’’ہم نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے بہت مضبوط بنیاد قائم کر دی ہے۔‘‘ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے ساتھ امریکہ۔اسرائیل جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’جوہری معاملے پر بہت مختصر گفتگو ہوئی، لیکن اس حوالے سے کوئی تفصیلی مذاکرات نہیں ہوئے۔‘‘
امریکہ میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز، جو کہ دنیا کے زیادہ تر تیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، اب جہاز رانی کے لیے “مکمل طور پر کھلا” ہے۔ ایران نے جنگ کے اوائل میں ہی اس آبی گزرگاہ کو بند کردیا تھا جس سے دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہو گیا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا7 days agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
دنیا6 days agoچین کا مشرق وسطیٰ میں فوری اور پائیدار جنگ بندی پر زور




































































































