ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو ملک کی خواتین معاف نہیں کریں گی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے ناری شکتی وندن ترمیمی قانون کو منظور نہیں ہونے دیا اور خواتین کو ان کا حق دینے سے روکا، ملک کی خواتین انہیں کبھی معاف نہیں کریں گی مسٹر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ جن جماعتوں نے یہ “جرم” کیا ہے، ملک کی خواتین انہیں کبھی برداشت نہیں کریں گی اور جب بھی وہ ان جماعتوں کو دیکھیں گی تو اس کی کسک ان کے دلوں میں باقی رہے گی۔
وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو اس “بے عزتی” کی سزا ملک کی خواتین ضرور دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق جو دہائیوں سے زیر التوا تھے، انہیں 2029 سے نافذ کیا جانا تھا، لیکن خواتین کو نئے مواقع دینے اور آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اسے خواتین کو انصاف دینے کا ایک مقدس عمل قرار دیا۔
مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کو روک کر “بھرون ہتھیا” جیسا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسے جماعتیں اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو ریزرویشن دینے میں رکاوٹ ڈالی ہے اور اس بار بھی اس نے مختلف “جھوٹ” کا سہارا لے کر اس عمل کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، اس سے کانگریس اور اس کے حامیوں کا “چہرہ بے نقاب” ہو گیا ہے اور وہ پہلے ہی ملک کے بیشتر حصوں میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بل تمام ریاستوں کے لیے ایک موقع تھا اور اگر یہ منظور ہو جاتا تو نمائندگی میں اضافہ ہوتا اور عوام کی آواز مزید مضبوطی سے اسمبلی اور لوک سبھا تک پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال کر خواتین کی توہین کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ اصلاحاتی اقدامات جیسے یکساں سول کوڈ، ووٹر لسٹ کی درستگی، وقف قوانین اور ماؤ نواز تشدد کے خاتمے جیسے اقدامات کی مخالفت کی ہے، جس کی وجہ سے ملک اپنی مکمل ترقی حاصل نہیں کر سکا۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی پر حکومت کو گھیرتے ہوئے پرینکا نے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط قرار دیا
نئی دہلی کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے لوک سبھا میں پاس نہ ہونے کو “جمہوریت کی بڑی جیت” قرار دیا ہے محترمہ پرینکا گاندھی نے ہفتہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت جمہوری نظام کو کمزور کرنے اور ملک کے وفاقی ڈھانچے میں تبدیلی کی “سازش” کر رہی تھی، جسے اپوزیشن نے متحد ہو کر ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ آئین کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے اور اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے۔ اقتدار میں بیٹھے رہنماؤں کے چہروں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ انہیں بڑا جھٹکا لگا ہے۔” انہوں نے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ اگر اپوزیشن متفق نہ ہوئی تو وہ کبھی انتخاب نہیں جیت پائے گی۔ “ان بیانات سے ہی حکومت کے ارادے واضح ہو جاتے ہیں۔”
محترمہ پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کے نام پر ایک ایسا بل پاس کروانا چاہتی تھی جس سے اسے حلقہ بندی (ڈی لیمیٹیشن) میں من مانی کرنے کی آزادی مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی حکمت عملی یہ تھی کہ خواتین کے ریزرویشن کے نام پر اپوزیشن سے حمایت لی جائے اور اس کے بعد حد بندی کے عمل میں خود مختاری حاصل کر لی جائے۔ اس بہانے وہ ذات پات کی بنیاد پر ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار سے بھی بچنا چاہتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ “یہ محض خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ حد بندی سے جڑا ہوا ایک بڑا سوال تھا۔ ایسی صورت میں اپوزیشن کے لیے حمایت کرنا ممکن نہیں تھا۔”
کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بی جے پی پر خواتین کے معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین سب دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے اناؤ، ہاتھرس، خواتین کھلاڑیوں کے احتجاج اور منی پور کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان معاملات میں حساسیت نہیں دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ “آج وہی حکومت پارلیمنٹ میں خواتین کی ہمدرد بننے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن ملک کی خواتین اب بیدار ہو چکی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تمام جماعتیں متحد ہوتی ہیں تو حکومت کو چیلنج دیا جا سکتا ہے۔
محترمہ پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد 2023 میں منظور شدہ خواتین کے ریزرویشن قانون کو نافذ کرنے کے حق میں ہیں، بشرطیکہ اسے صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اس دن کو ‘بلیک ڈے’ (سیاہ دن) کہے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ “حکومت کے لیے جھٹکا” ہے اور ایسا جھٹکا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ “ہندوستان کی خواتین اب صرف تشہیر اور دکھاوے سے متاثر نہیں ہوں گی۔ وہ حقیقی مسائل کو سمجھ رہی ہیں اور حکومت سے جواب مانگ رہی ہیں۔”
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
ٹرمپ کو آخر ہفتہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اچھے امکانات کی توقع
واشنگٹن ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے اچھے امکانات کی توقع کرتے ہیں، انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے چند اختلافات حل ہونا باقی ہیں۔
ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بات چیت جاری ہے اور یہ آخر ہفتہ جاری رہے گی اور بہت ساری اچھی چیزیں ہو رہی ہیں ۔
انہوں نے ایرانی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کو “بہت اچھا” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چیزیں “بہت اچھی” رہیں گی ۔
امریکی رہنما نے کہا کہ ایران کے ساتھ تمام اختلافات کو حل کیا جانا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ “مجھے نہیں لگتا کہ بہت زیادہ اہم اختلافات ہیں ۔”
ایریزونا میں کنزرویٹو موومنٹ ٹرننگ پوائنٹ کی ایک تقریب میں ٹرمپ نے کہا کہ “اور اس عمل میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح چل رہے ہیں، لیکن کون جانتا ہے؟ کسی کے بارے میں بھی کون جانتا ہے، لیکن خاص طور پر ایران کے ساتھ کون جانتا ہے؟ یہ عمل بہت تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے اور زیادہ تر نکات پر پہلے ہی بات چیت اور اتفاق ہو چکا ہے۔”
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں اہداف پر حملے کیے تھے، جس سے نقصان ہوا اور شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی علاقے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔
سات اپریل کو واشنگٹن اور تہران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ اگرچہ دشمنی دوبارہ شروع ہونے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا، لیکن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
راجیہ سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی
نئی دہلی، پارلیمنٹ کے توسیع شدہ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی ہفتہ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے قانون سازی کی دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعد بجٹ اجلاس کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے اپنے اختتامی خطاب میں بجٹ اجلاس کے دوران ایوان میں ہوئے اہم کام کاج کی اطلاع دی اور پھر ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
چیئرمین نے کہا کہ بجٹ اجلاس کا آغاز صدر کے خطاب کے ساتھ ہوا تھا اور بعد میں مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بامعنی بحث ہوئی اور بعد میں بجٹ منظور کیا گیا۔ مسٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ اجلاس کے دوران ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر حکومت کی جانب سے اہم بیانات دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران کئی اہم بل منظور کیے گئے اور 50 پرائیویٹ بل پیش کیے گئے۔ ایوان کی کارروائی کل 157 گھنٹے اور 40 منٹ تک چلی۔ اجلاس کے دوران ایوان میں 117 سوالات پوچھے گئے اور 207 موضوعات خصوصی تذکرے کے دوران اٹھائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اسی اجلاس میں مسٹر ہری ونش کو تیسری بار ایوان بالا کا ڈپٹی چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اسی اجلاس میں راجیہ سبھا کے 59 ارکان کی مدت کار مکمل ہونے پر انہیں الوداعیہ بھی دیا گیا۔ بجٹ اجلاس دو مرحلوں میں ہوا اور پہلا مرحلہ 28 جنوری سے 13 فروری تک اور دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے 2 اپریل کو مکمل ہوا۔ اس کے بعد مہیلا شکتی وندن ادھینیم میں ترمیم کے بل پر بحث کے لیے بجٹ اجلاس کا توسیعی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک منعقد کیا گیا۔
یو این آئی۔ این یو
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
جموں و کشمیر5 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا5 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
دنیا5 days agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
دنیا1 week agoمیلانیا ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین سے تعلقات کی خبروں پر خاموشی توڑ دی
جموں و کشمیر1 week agoڈرگ فری جموں و کشمیر مہم اجتماعی اقدام کا تقاضا کرتی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس








































































































