ہندوستان
خوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے سلسلے میں مرکز کی مودی حکومت کو سخت نشانہ بنایا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک، گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے لیے تقریباً ڈیڑھ کروڑ (1.5 کروڑ) درختوں کو کاٹ کر ماحول کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اس خطے کی خوبصورتی کو برباد کیا جا رہا ہے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے ایک پیغام میں مسٹر گاندھی نے لکھا، “میں ہندوستان کے سب سے جنوبی سرے ‘اندرا پوائنٹ’ گیا۔ وہاں صدیوں پرانے درختوں کے درمیان چہل قدمی کی، مالامال سمندری زندگی اور حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) سے بھرپور مرجانی چٹانوں (کورل ریفس) کو دیکھا اور وہاں کے مقامی لوگوں سے بات چیت بھی کی۔ قبائلی برادریوں کی زمین ‘جنگلات کے حقوق کے قانون’ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چھینی جا رہی ہے اور ان جزائر پر بسائے گئے بہت سے سابق فوجیوں کو بھی مناسب معاوضہ نہیں مل رہا ہے”۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) عوام کو یہ بتا رہی ہے کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دفاعی ضروریات کے لیے ہے، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ‘آئی این ایس باز’ کی توسیع کی ضرورت ہے تو کانگریس حکومت اس کی مکمل حمایت کرے گی، لیکن بحریہ کا یہ مطالبہ گزشتہ پانچ سال سے زیرِ التوا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ اس پروجیکٹ کو ٹرانس شپمنٹ پورٹ کے نام پر بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ایسا بندرگاہ کیرالہ میں پہلے ہی تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس منصوبے کے تحت مرجانی چٹانوں کو سرکاری نقشوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور فوجیوں و قبائلی برادریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے تاکہ ایک کاروباری گروپ وہاں ہوٹل اور کیسینو (جوا خانے) تیار کر سکے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کے عوام یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی فائدہ ان قدرتی اثاثوں کی تباہی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے جنہیں دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ماحولیاتی توازن کے ساتھ ترقی کے حامی ہیں اور نکوبار جزائر کو دنیا کے بہترین پائیدار سیاحتی مقامات کے طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس لیڈر کا کہنا تھا کہ یہی وہ ہندوستان ہے جس کے لیے جدوجہد کی جانی چاہیے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
‘اسمارٹ بارڈر’ کا کام آخری مرحلے میں، اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد شروع کیا جائے گا: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ سرحدوں کی نگرانی کے لیے حکومت کے ‘اسمارٹ بارڈر’ کا کام آخری مرحلے میں ہے اور اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد ہی شروع کیا جائے گا۔
مسٹر شاہ نے جمعہ کو تریپورہ میں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی لنکامورا سرحدی چوکی کا معائنہ کرنے کے بعد جوانوں کے ساتھ بات چیت کی۔ انہوں نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر اگرتلا میں شجرکاری مہم کے تحت ‘اگر’ کا پودا لگایا۔ سرحدوں پر کئی طرح کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں جہاں سرحد پر بی ایس ایف اور سشستر سیما بل تعینات ہیں، وہاں ‘اسمارٹ بارڈر’ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چار نکاتی حفاظتی حکمتِ عملی کے تحت، مقامی انتظامیہ، ٹیکنالوجی اور جوانوں کی محنت کو ساتھ لیتے ہوئے سرحدوں کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمارٹ بارڈر کے تصور پر بحث آخری مرحلے میں ہے اور اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد ہی شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “ہم ایک ساتھ ملک کی مختلف سرحدوں پر سات یا آٹھ مقامات پر اس پائلٹ پروجیکٹ کو شروع کریں گے۔
پائلٹ پروجیکٹ میں جو بھی ابتدائی مسائل آئیں گے انہیں دور کر کے پوری سرحد کو اسمارٹ بارڈر بنانے کی سمت میں ہم آگے بڑھیں گے۔ اس کانسیپٹ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ایس پی، گاؤں کے پٹواری اور سرپنچ کا بھی کردار ہوگا۔ جب تک سرحدی علاقوں کی مقامی انتظامیہ کو ہم اس میں شامل نہیں کرتے، تب تک ہم سرحد کو ناقابلِ تسخیر نہیں بنا سکتے۔ اگر ہم تنہائی میں سرحد کی سکیورٹی کا تصور کرتے ہیں تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔” مسٹر شاہ نے کہا کہ تریپورہ فرنٹیر ملک کی سرحد کے لیے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ کی جدید کاری کے لیے 15 سال سے پرانی تقریباً 650 کلومیٹر کی باڑ میں سے 119 کلومیٹر نئی باڑ کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کی سہولیات کے لیے سرحدی چوکیوں میں بجلی کی فراہمی، گرین انرجی کے اقدامات، جوانوں کے لیے محفوظ پینے کا پانی وغیرہ جیسے پروجیکٹوں کا کام مکمل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تریپورہ تین طرف سے سرحدوں سے گھرا ہوا ایک حساس ریاست ہے۔ انہوں نے ملک کو 2047 تک مکمل طور پر ترقی یافتہ بنانے کے لیے سب سے پہلے اسے محفوظ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ملک کو اسمگلنگ، انسانی تریفکنگ (انسانی اسمگلنگ) اور ملک کے نوجوانوں کو نشے سے محفوظ کرنا ہوگا۔ ہر چیز کے لیے سکیورٹی کا انتظام ہو، ایسا اسمارٹ سکیورٹی گرڈ بنانے کا کام حکومت نے ہاتھ میں لیا ہے۔” مسٹر شاہ نے کہا کہ باڑ کی سکیورٹی کے پورے تصور اور کام کے کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے معاشرے کو متاثر کرنے والی ہر برائی سے ملک اور سرحدوں کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ سرحدی سکیورٹی کی اسمارٹ فینسنگ اور چار نکاتی سکیورٹی گرڈ کے تصور کو آنے والے دنوں میں سرحد کی حفاظت کرنے والی ہر مرکزی مسلح پولیس فورس کے کام کا کلچر بنانے کی شروعات کی گئی ہے۔”
مرکزی وزیر داخلہ نے ماحولیات کے تحفظ میں پولیس فورسز کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2019 سے لے کر آج تک تمام مرکزی مسلح پولیس فورسز کے جوانوں نے تقریباً 7.5 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے ہیں۔ اس سال بھی 40 سے 60 لاکھ درخت لگائیں گے اور لگائے ہوئے درختوں میں سے جو درخت زندہ نہیں رہ سکے، ان تمام درختوں کو دوبارہ لگانے کا کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال کے لیے دو کروڑ درخت لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے بی ایس ایف کی 37 ویں کور میں جوانوں کی رہائش گاہوں کا ای-افتتاح اور 97 ویں کور میں کوارٹر گارڈ کمپلیکس کا ای-
سنگِ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی سہولیات بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
شجرکاری مہم کے تحت آج ایک دن میں مرکزی مسلح پولیس فورسز، آسام رائفلز، نیشنل سکیورٹی گارڈ، دہلی پولیس، نارکوٹکس کنٹرول بیورو، نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور انٹر اسٹیٹ کونسل سیکرٹریٹ سمیت وزارتِ داخلہ کے تمام دفاتر نے ملک بھر میں 5 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے۔ اس موقع پر تریپورہ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا، مرکزی ہوم سکریٹری، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، سکریٹری بارڈر مینجمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل بارڈر سکیورٹی فورس سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
غیر ملکی زرِ مبادلہ انتظام (غیر قرض جاتی آلات) (تیسری ترمیم) قواعد، 2026 کا نوٹیفکیشن جاری: وزارتِ خزانہ
نئی دہلی، وزارتِ خزانہ نے ہندوستان سے باہر رہنے والے افراد (پی آر او آئی) اور غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کے لیے سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور مستحکم طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کے بہاؤ کو فروغ دینے کے مقصد سے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ 2026-27 میں اعلان کیا تھا کہ ہندوستان سے باہر رہنے والے افراد (پی آر او آئی) کو پورٹ فولیو سرمایہ کاری اسکیم کے تحت ہندوستانی اسٹاک ایکسچینج میں فہرست شدہ کمپنیوں کے حصص اور سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی، جو اب تک صرف این آر آئی اور او سی آئی کے لیے دستیاب تھی۔
بجٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس اسکیم کے تحت کسی بھی کمپنی میں ایک فرد پی آر او آئی کی سرمایہ کاری کی حد 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دی جائے گی، جبکہ تمام انفرادی پی آر او آئی سرمایہ کاروں کے لیے مجموعی سرمایہ کاری کی حد موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد کر دی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے آج جاری کردہ بیان کے مطابق ان بجٹ تجاویز پر عمل درآمد کے لیے محکمۂ اقتصادی امور (ڈی ای اے) نے غیر ملکی زرِ مبادلہ انتظام (غیر قرض جاتی آلات) (تیسری ترمیم) قواعد، 2026 کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے این آر آئی اور او سی آئی سرمایہ کاروں کے لیے پہلے سے موجود آن بورڈنگ نظاموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کے زیادہ مؤثر حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔
سرکاری سیکیورٹیز میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کی شرکت بڑھانے کے لیے حکومت نے مکمل طور پر قابلِ رسائی راستہ (ایف اے آر) کے تحت شامل سیکیورٹیز کی فہرست میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں 15، 30 اور 40 سالہ مدت والی نئی سرکاری سیکیورٹیز کے اجرا کے ساتھ ساتھ ایف اے آر کے لیے اہل خودمختار گرین بانڈز بھی شامل کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ جنرل روٹ کے تحت ایف پی آئی سرمایہ کاری کے حوالے سے حکومت نے سرکاری سیکیورٹیز میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں پر عائد تین پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں قلیل مدتی سرمایہ کاری کی حد، ارتکاز کی حد اور ہر سیکیورٹی کے لحاظ سے سرمایہ کاری کی حد شامل ہیں
تاہم، مرکزی حکومت کی سیکیورٹیز کے بقایا اسٹاک میں 6 فیصد اور ریاستی حکومت کی سیکیورٹیز (ایس جی ایس) میں 2 فیصد کی مجموعی مقداری سرمایہ کاری کی حد برقرار رکھی جائے گی۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
مودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے نیٹ امتحان میں بے قاعدگیوں کے لئے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ نیٹ پیپر لیک ہونے کی وجہ سے جان گنوانے والی آکانکشا کی موت خودکشی نہیں، بلکہ ایک کرپٹ اور ٹوٹے ہوئے نظام کا نتیجہ ہے مسٹر گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ آکانکشا ڈاکٹر بن کر ملک اور سماج کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ اس کے والد کسان ہیں، جنہوں نے بیٹی کے خواب کو پورا کرنے کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ پر 3 لاکھ روپے کا قرض لیا اور ناگپور میں باورچی کے طور پر کام کیا تاکہ وہ کوچنگ کرسکے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ایک والد نے ہر ممکن کوشش کی، لیکن این ای ای ٹی پیپر لیک ہونے اور امتحان کی منسوخی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان آکانکشا ہمیں چھوڑکر چلی گئی۔
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ یہ صرف ایک طالب علم کا المیہ نہیں ہے بلکہ تعلیمی نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان عہدے پر برقرار ہیں اور حکومت کے اقدامات صرف کمیٹیاں بنانے، عہدیداروں کے تبادلے اور تحقیقات کا اعلان کرنے تک محدود ہیں۔
کانگریس لیڈر نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا، لیکن گزشتہ 12 برسوں میں تعلیمی نظام کو جس حالت میں پہنچایا گیا ہے، اس کی قمت ملک کی پوری نوجوان نسل چکا رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار امتحانی تنازعات، پیپر لیک ہونے اور انتظامی بدانتظامی نے طلباء کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار امتحانی تنازعات، پیپر لیک اور انتظامی بدانتظامی نے طلباء کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا6 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
دنیا6 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز کے قریب دشمن کے ڈرونز گرانے کے لیے بڑا انتظام
دنیا6 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر1 week agoامرناتھ یاترا: اعلیٰ سطح کی چوکسی اور ہم آہنگی برقرار رکھیں، جموں کے ایس ایس پی کی پولیس کو ہدایت
دنیا5 days agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے
دنیا1 week agoایران کے شہید رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی: برطانوی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
جموں و کشمیر2 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی






































































































