دنیا
امریکہ ایران مذاکرات میں رکاوٹ: ایران کا ضبط شدہ فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ
واشنگٹن، ایران کی ضبط شدہ رقم امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
ایران اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کے تحت کوئی ٹھوس قدم اٹھانے سے پہلے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں، یہ مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایران کو خاص رعایتوں کے بغیر بڑے پیمانے پر فنڈز جاری کرنے کی منظوری دینے سے گریزاں ہیں، خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے، جوہری سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے۔
یروشلم پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایرانی مذاکرات کار کسی تاخیر کے بغیر، دونوں فریقوں کے درمیان ابتدائی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوتے ہی ضبط شدہ فنڈز سے فوری طور پر “نقدی” تک رسائی چاہتے ہیں۔ امریکی حکام واضح ہیں کہ پابندیوں میں ریلیف صرف اسی صورت میں دیا جائے گا جب ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹھوس یقین دہانیاں کرائے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں تشویش محض سطحی نہیں ہے۔ اگر فنڈز تیزی سے جاری کیے جاتے ہیں، تو یہ ایران کو ایک اقتصادی سہارا فراہم کرے گا، جبکہ امریکہ کو اس کے سب سے طاقتور سودے بازی کے آلے ’اقتصادہ باو‘ جس کو بنانے میں اس نے برسوں صرف کئے ہیں ھاتھ سے چلاجا ئے گا۔
سینئر حکام نے علاقائی ثالثوں پر واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران پہلے ٹھوس اور موثر اقدامات نہیں کرتا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ارد گرد اپنی جوہری سرگرمیوں اور سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی اہم فنڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اوباما کے 2015 کے معاہدے سے ملتا جلتا کسی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے، جس میں ایران کو 1.7 بلین ڈالر کی رقم جاری کی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق ایران اب تقریباً 12 بلین ڈالر کا مطالبہ کر رہا ہے اور ٹرمپ کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشیروں نے ایسے انتظامات پر غور کیا ہے جس میں قطر جیسا تیسرا ملک ایران کو فنڈز جاری کرے گا، اس طرح امریکہ کی جانب سے براہ راست ادائیگیوں سے گریز کیا جائے گا۔ ثالثوں نے ایک درمیانی تجویز پیش کی ہے، جس میں ملٹی بلین ڈالر کے “انسانی ہمدردی کے فنڈ” کی تشکیل بھی شامل ہے جسے صرف خوراک، ادویات اور زرعی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک، کسی بھی فریق نے اس تعطل کو توڑنے کے لیے خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے حزب اللہ کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے: مجتبیٰ خامنہ ای
تہران، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اتوار کے روز لبنان کی جماعت حزب اللہ کی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملے ’’مکمل اور غیر مشروط طور پر‘‘ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
مجتبیٰ خامنہ کا یہ بیان امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور تنظیم کے ارکان کی جانب سے بھیجے گئے وفاداری کے عہد پر مبنی خط کے جواب میں سامنے آیا۔
سپریم لیڈر نے حزب اللہ کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا امریکا کے ساتھ ایم او یو کی پہلی شرط ہی لبنانی سرزمین کی سالمیت اور صہیونی جارحیت کا خاتمہ ہے، امریکہ کے ساتھ مسلط جنگ کے خاتمے کے کسی بھی سمجھوتے کے لیے صہیونی جارحیت کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار گروہوں میں ’’ایک ناقابلِ تسخیر چٹان اور صفِ اوّل کی قوت‘‘ ہے، ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، حزب اللہ کی ثابت قدمی دنیا بھر کی آزاد اقوام کے لیے ایک متاثر کن پیغام بن گئی ہے۔
ایرانی رہنما نے کہا کہ دنیا کی اقوام امریکی حکومت اور اسرائیل کے ظلم و جبر سے تنگ آ چکی ہیں، جو انسانی جانوں اور نسلوں کے تباہ کنندہ ہیں، انھوں نے کہا جہاد اور مزاحمت کے سوا اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 4,330 افراد ہلاک اور 12,236 زخمی ہو چکے ہیں۔ 26 جون کو لبنان اور اسرائیل نے امریکا کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گا۔تاہم، اس معاہدے میں انخلا کے لیے کوئی ٹائم لائن شامل نہیں ہے۔ اس کی بہ جائے انخلا کی تکمیل کو اس شرط سے مشروط کیا گیا ہے کہ لبنانی فوج اسرائیلی افواج کے خالی کیے گئے علاقوں کی مکمل سیکیورٹی ذمہ داری سنبھالے اور حزب اللہ سمیت تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔
اس کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر بدستور قابض ہے، جن میں کچھ علاقے کئی دہائیوں سے اس کے قبضے میں ہیں، جب کہ بعض دیگر پر اس نے اکتوبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان ہونے والی گزشتہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے 30 دنوں کا وعدہ پورا کیا، امریکہ منجمد اثاثے جاری نہ کر سکا: اسماعیل بقائی
تہران، اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے 30 دنوں کا وعدہ پورا کیا جب کہ ایم او یو کے مطابق امریکا منجمد اثاثے جاری نہ کر سکا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا فعال طور پر تبادلہ کیا جا رہا ہے، پاکستان اور قطر ثالث کے طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا حملے کے دوران تہران کی اوّلین ترجیح اپنی خودمختاری کا دفاع ہے، انھوں نے بتایا کہ ایران نے 30 دنوں میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی یقین دہانی کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
ترجمان نے کہا امریکہ نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی جہاز رانی واقعات کو بہانہ بنا کر حملے شروع کر دیے، اس طرح ایک سال میں تیسری مرتبہ مذاکرات کے دوران حملوں سے ایران کی سفارت کاری کو دھوکہ دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر قریب دو ہفتے سے جاری حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کی منظوری نہیں دی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکی حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں کمی
سنگاپور، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد اپنی فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روک دیں، جس کے نتیجے میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں 5 فی صد تک گر گئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 5.58 فی صد کم ہو کر 91.38 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جب کہ کاروبار کے آغاز میں یہ مختصر طور پر 90 ڈالر کی اہم تکنیکی حد سے بھی نیچے آ گئی تھی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 5.46 فی صد کمی کے بعد اس کی قیمت 84.43 ڈالر فی بیرل رہی۔
گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مسلسل اضافے کے بعد دونوں معاہدے تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، کیوں کہ یہ تنازع آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر تک پھیل گیا تھا۔ اس کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جب کہ دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب کی ایشیا کے لیے باب المندب کی آبنائے کے ذریعے ہونے والی برآمدات بھی رکاوٹ کا شکار ہو گئیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا7 days agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا7 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
جموں و کشمیر6 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی



































































































