دنیا
روبیو کو ایران جنگ، تائیوان کے ہتھیاروں کے معاہدے اور کیوبا کی پالیسی پر سینیٹ کی جانچ پڑتال کا سامنا
واشنگٹن، مغربی ایشیا میں حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد پہلی بار سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیوامریکی کانگریس کے سامنے پیش ہوئے، انہیں ایران، تائیوان اور کیوبا سے متعلق اپنی پالیسیوں پر سینیٹرز کے تند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں کافی حد تک کمزور ہوچکی ہیں اور ایران اب اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ کھلا پن دکھا رہا ہے۔
مسٹر روبیو نے کہا کہ جن مسائل کو پہلے حدود سے باہر سمجھا جاتا تھا وہ اب بات چیت کا حصہ بن رہے ہیں، حالانکہ حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ابھی کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ سماعت کے دوران ڈیموکریٹک سینیٹر کرس وان ہولن نے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو 40 سال سے ایسے موقع کا انتظار کر رہے تھے اور آخر کار ایک ایسا صدر مل گیا جو کام کرنے کے لیے تیار تھا۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو ’مکمل ناکامی‘ قرار دیا۔
مسٹر روبیو نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیتا ہے تو بھی اسے خود بخود بڑے اقتصادی فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندیوں میں نرمی اسی صورت میں ممکن ہوگی جب ایران اپنے جوہری پروگرام پر مزید رعایتیں دے۔ انہوں نے کہا، “ایران جتنی زیادہ رعایتیں دے گا، اسے اتنے ہی زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔ کوئی پیشگی بونس نہیں ہوگا۔”
مسٹر روبیو نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای پردے کے پیچھے ہونے والے مذاکرات میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے تمام پیغامات ثالثوں کے ذریعے تحریری شکل میں پہنچائے جا رہے ہیں۔
سماعت کے دوران، ان سے کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ کے مشتبہ جہازوں پر امریکی فوجی حملوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔
ستمبر کے آغاز سے اب تک ان کارروائیوں میں مبینہ طور پر 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ ملٹری آپریشنز کے لیے طے کیے گئے رازداری کے معیارات کسی برتن میں منشیات کی موجودگی کو حملوں کی بنیاد نہیں سمجھتے۔ مسٹر روبیو نے جواب دیا کہ ہر فوجی آپریشن کا قانونی طور پر جائزہ لیا جاتا ہے اور اگر مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں تو بعض اوقات ہڑتالیں منسوخ کر دی جاتی ہیں۔
تائیوان کو 14 بلین ڈالر کے مجوزہ ہتھیاروں کے پیکیج کے بارے میں روبیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک اس معاہدے کی منظوری نہیں دی ہے لیکن اس پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان کو 11 بلین ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دسمبر میں دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فیصلے میں تاخیر چین کے دباؤ کی وجہ سے نہیں ہوئی، حالانکہ چین تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی کا معاملہ اٹھاتا رہتا ہے۔ روبیو نے کہا کہ حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر منحصر ہے۔
چین اور ایران کے درمیان فوجی تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی چینی نسل کا کچھ فوجی سازوسامان موجود ہے لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس سے میدان جنگ کی صورتحال میں کوئی فیصلہ کن تبدیلی آئی ہو۔ روبیو کو کیوبا کی پالیسی کے حوالے سے بھی سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے دوران مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کیوبا پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے خلاف “کیوبا کو مارنا بند کرو” اور “کیوبا کو زندہ رہنے دو” جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد میں سیکورٹی اہلکاروں نے منتشر کر دیا۔ کیوبا کے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے روبیو نے انتظامیہ کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا میں حقیقی تبدیلی اسی صورت میں ممکن ہے جب وہاں کے سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ موجودہ نظام میں اس وقت تک بہتری ممکن ہے جب تک نئے لوگ اقتدار میں نہیں آتے یا نئی سوچ پیدا نہیں ہوتی‘‘۔
حالیہ برسوں میں امریکی اور کیوبا کے حکام کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے کیوبا پر دباؤ بڑھایا ہے۔ سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف مجرمانہ الزامات عائد کیے جانے کے بعد یہ مہم تیز ہو گئی۔ مسٹر روبیو نے کہا کہ کیوبا اپنے محدود بین الاقوامی تعلقات کی وجہ سے امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں دھماکوں کا دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تہران، آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کے باعث کشیدگی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل امریکی انٹیلی جنس اداروں نے مبینہ طور پر دو آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزارنے کی کوشش کی، جہاں وہ سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
بیان کے مطابق بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دونوں آئل ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔
ایران نے متاثرہ آئل ٹینکروں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم ملاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے جاری ہدایات پر عمل کریں اور بارودی سرنگوں والے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں۔
اس واقعے پر امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
کویت میں پیٹرولیم تنصیب پر ایران کا حملہ، متعدد افراد زخمی، بڑے پیمانے پر نقصان
تہران، ایرانی حملے میں کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
اس حوالے سے جاری کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے خبر دار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملے جاری رکھے تو تہران تنازع کو مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل کر دے گا۔
محسن رضائی نے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب جنگ یا مذاکرات کی پالیسی ختم ہو چکی ہے، 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی حکمتِ عملی تنازع کو خطے میں پھیلنے سے روکنا تھی۔
سینئر فوجی مشیر کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے کویت یا دیگر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
لبنانی صدر جوزف عون امریکہ کے دورے پر روانہ
تہران، لبنان کے صدر جوزف عون اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ روانہ ہوگئے۔
بیروت میں ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لبنانی صدر کی امریکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ سربراہی اجلاس منعقد ہو گا۔
اجلاس میں امریکی حکام کے ساتھ لبنان کی موجودہ صورتِ حال، جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے ممکنہ اقدامات، بالخصوص جنوبی لبنان میں امن و استحکام کی بحالی، اسرائیل کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور ریاستی عملداری کو لبنان کے تمام علاقوں تک وسعت دینے جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا4 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا2 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
ہندوستان5 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
دنیا1 week agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
دنیا4 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی، ہنگامی امداد کی اپیل
ہندوستان5 days agoخردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر، کانگریس نے مرکزی حکومت پر عوام پر بوجھ بڑھانے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 day agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز میں ایران نے 2 اماراتی ٹینکرز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنا دیا، ہندوستانی ہلاک








































































































