جموں و کشمیر
سرینگر پولیس کی منشیات مخالف کارروائی، ساڑھے 3 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط
سرینگر، ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کو جاری رکھتے ہوئے سرینگر پولیس نے ہفتہ کے روز بتایا کہ اس نے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت دو بدنام زمانہ منشیات فروشوں کی تقریباً 3.5 کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔
پہلی کارروائی میں نگین پولیس اسٹیشن نے حضر ت بل کے ہبک کراسنگ میں واقع ایک دو منزلہ رہائشی مکان اور اس سے ملحقہ زمین، جس کی مالیت تقریباً 1.30 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے، ضبط کر لی۔ یہ جائیداد راحل منظور ملا کی ملکیت ہے اور اس کا تعلق 2021 میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 8/21 کے تحت درج ایک مقدمے سے ہے۔
ایک علیحدہ کارروائی میں صورہ پولیس اسٹیشن نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت اپر صورہ کے کیل خان گلی کے رہائشی عادل رشید گڈو کے تقریباً 2.20 کروڑ روپے مالیت کے رہائشی مکان کو ضبط کر لیا۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ دونوں جائیدادیں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائی گئی تھیں۔
ضبطی احکامات کے تحت جائیدادوں کے مالکان کو مزید قانونی کارروائی مکمل ہونے تک ان جائیدادوں کو فروخت کرنے، منتقل کرنے، لیز پر دینے، کسی اور کے حوالے کرنے، ان میں تبدیلی کرنے یا کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
پولیس نے کہا کہ یہ اقدامات جموں و کشمیر پولیس کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت منشیات کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے نہ صرف منشیات فروشوں بلکہ منشیات کی تجارت سے حاصل کی گئی غیر قانونی جائیدادوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پولیس کے بیان میں کہا گیاکہ ’’اس قسم کے سخت اقدامات جاری ’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کا اہم حصہ ہیں، جن کا مقصد معاشرے، بالخصوص نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنا اور منشیات سے پاک کشمیر کے خواب کو حقیقت بنانا ہے۔‘‘
یواین آئی۔ظا
جموں و کشمیر
اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب حادثاتی دھماکے میں فوج کے دو جوان زخمی
سری نگر، جموں و کشمیر کے اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب منگل کے روز ایک حادثاتی دھماکے میں ہندوستانی فوج کے دو جوان زخمی ہو گئے۔ یہ اطلاع افسران نے دی۔
حکام کے مطابق یہ حاڈثۃ اُڑی سیکٹر کے کمل کوٹ علاقے میں پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکہ مکمل طور پر حادثاتی نوعیت کا تھا، جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔
حکام نے کہا، “دونوں زخمی جوانوں کو فوری طور پر خصوصی طبی علاج کے لیے فضائی راستے سے سری نگر کے بادامی باغ میں واقع فوج کے بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔”
حکام نے واضح کیا کہ یہ دھماکہ ایک حادثہ تھا اور اس کا سرحد پار سے ہونے والی کسی فائرنگ یا دہشت گردانہ سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خبر لکھے جانے تک ہندوستانی فوج کی جانب سے اس حادثہ کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔
یواین آئی ۔اے ایم ۔ایف اے
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے الزام میں دو افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے بارہمولہ ضلع میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان پر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے، واقعے کی ویڈیو بنانے اور شکایت درج کرانے کی صورت میں متاثرہ خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکی دینے کا الزام ہے۔
بارہمولہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گُریندر پال سنگھ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ متاثرہ خاتون نے 25 جولائی کو بارہمولہ پولیس سے رابطہ کر کے واقعے کی شکایت درج کرائی تھی۔ یہ واقعہ 3 جولائی کو جلشیری-ڈرنگبل علاقے میں پیش آیا تھا۔
ایس ایس پی کے مطابق خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ سیر کے لیے اس علاقے میں گئی تھی، جہاں دو نامعلوم افراد ان کے پاس آئے، انہیں ہراساں کرنا شروع کیا اور ان کی ویڈیو بنانے لگے۔
گُریندر پال سنگھ نے بتایا، “ملزمان نے جوڑے کو تشدد کا نشانہ بنایا، نوجوان کو وہاں سے بھگا دیا اور اس کے بعد باری باری خاتون کے ساتھ عصمت دری کی۔ انہوں نے اس دوران اپنے موبائل فون سے پورے واقعے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور پھر موقع سے فرار ہو گئے۔”
ایس ایس پی کے مطابق متاثرہ خاتون ملزمان کی شناخت نہیں کر سکی، تاہم اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ واقعے کے دوران دونوں افراد ایک دوسرے کو “شاکر” اور “اشرف” کے نام سے پکار رہے تھے۔
شکایت موصول ہونے کے بعد بارہمولہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خاتون پولیس افسر میناکشی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔
بارہمولہ ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شاہجہاں چودھری نے کہا کہ ملزمان کی شناخت ایک بڑا چیلنج تھی کیونکہ واقعے کے 22 دن بعد شکایت درج کرائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تکنیکی شواہد اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کیا۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی نے جنتر منتر پر دیے گئے بیان پر معافی مانگ لی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے منگل کے روز جنتر منتر پر دیے گئے اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر منعقدہ احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے کشمیر میں جاری عسکریت پسندی کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں طاقت کے استعمال کو درست قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے ان پر سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کو جائز قرار دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنتر منتر اپنی مرضی سے نہیں گئیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری طلبہ کی درخواست پر وہاں پہنچیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان طلبہ کو کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں ہراساں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، “میں خود وہاں نہیں گئی تھی، کشمیر کے بچوں نے مجھے بلایا تھا۔ انہوں نے مجھے اس لیے بلایا کیونکہ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے اور یہ بچے ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے ہیں تو انہیں کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں پریشان کیا جاتا ہے۔ انہیں امید تھی کہ شاید محبوبہ مفتی آئیں گی تو ہماری کچھ مدد ہو سکے گی۔”
جنتر منتر پر دیے گئے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں نے کہا تھا کہ آج پورا ہندستان جموں و کشمیر بن گیا ہے۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان کے متنازع بیان کی ویڈیو اصلی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس لفظ کا انہوں نے استعمال کیا تھا، اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “میں یہ نہیں کہوں گی کہ یہ فرضی ویڈیو ہے، نہیں، ویڈیو اصلی ہے، لیکن ‘بہانہ’ کا لفظ مجھ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا تھا کیوں کہ میں ایک ساتھ بہت سے لوگوں سے بات کر رہی تھی، جس کا غلط مطلب نکالا گیا۔”
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا6 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
ہندوستان5 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی









































































































