ہندوستان
جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج پرامن طریقے سے مکمل، وزیر کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات: وانگچوک
نئی دہلی، ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچوک نے ہفتہ کے روز ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات ہے اور اصل مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔
نیٹ، سی یو ای ٹی، سی بی ایس ای اور ایس ایس سی جی ڈی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے پیش نظر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج ہفتہ کو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی اپیل پر منعقدہ اس مظاہرے میں سینکڑوں حامیوں نے حصہ لیا، جن میں طلباء اور نوجوان ملازمت پیشہ افراد بھی شامل تھے۔ یہاں کچھ لوگوں نے سی جے پی کے مظاہرے کی مخالفت میں نعرے بازی بھی کی، تاہم دہلی پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
دہلی پولیس نے اس احتجاج کے لیے جنتّر منتر پر ایک بار کے لیے جمع ہونے کی اجازت دی تھی۔ پوری راجدھانی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کئی مقامات پر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 (عوامی ہنگامہ، ممکنہ خطرات، یا عوامی تحفظ و امن کو درپیش خطرات کو روکنے کے لیے فوری اور عارضی احکامات) نافذ کی گئی تھی۔
اس احتجاج میں حمایت دینے کے لیے شامل ہوئے مسٹر وانگچوک نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنی حمایت جاری رکھتے ہوئے اگلے ہفتے کے آخر میں دوبارہ جنتّر منتر آئیں گے۔ احتجاجی مقام پر “سونم وانگچوک کو وزیر تعلیم بننا چاہیے” کے نعرے سنائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ “استعفے کا مطالبہ تو بس شروعات ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ امتحان میں گڑبڑی اور پیپر لیک تو دراصل ایک بہت بڑے مسئلہ کی علامتیں ہیں۔ شفافیت، جوابدہی اور سب کے لیے اچھی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے پورے نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔”
جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
دہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
نئی دہلی، دہلی میں طلبہ کے احتجاجی مظاہرے اور کانگریس لیڈروں کے خلاف پولیس کارروائی پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی حکومت کو جم کر نشانہ بنایا دونوں لیڈروں نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ کی آواز دبانے اور اپوزیشن کو ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے مسٹر کھرگے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لوگ بغیر کسی شناخت یا بیج کے پولیس کے درمیان کام کر رہے ہیں اور بلا واسطہ طور پر طلبہ نیز کانگریس لیڈروں کو ڈرانے دھمکانے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت طلبہ کے ساتھ ساتھ کانگریس کے سینئر لیڈروں کو بھی کچلنے کی کوشش کرے گی تو ملک بھر میں لاکھوں لوگ ان کی حمایت میں کھڑے ہوں گے اور حالات حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ بعد میں حکومت کو پچھتانا پڑے گا کہ اس نے مسٹر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا۔ انہوں نے دہرایا کہ کانگریس اور انڈیا الائنس کسی بھی دباؤ سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔
وہیں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، یہ اہم نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ طلبہ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ صحیح ہے یا غلط۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنے جائز مطالبات اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں نیز نظامِ تعلیم میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں بار بار امتحانی سوالنامے لیک ہو رہے ہیں اور حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے میں بھی ناکام رہی ہے، جس سے کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے لیکن طلبہ کے ساتھ سڑک پر اور پارلیمنٹ کے اندر جو سلوک ہو رہا ہے، وہ پوری طرح غیر جمہوری ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو اہم موضوعات پر بحث کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جب اپوزیشن اسپیکر سے اس سلسلے میں بات کرتی ہے تو انہیں حکومت سے بحث کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جمہوری بات چیت کی گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
کانگریس ملک بھر میں بدھ کو طلبہ سے کرے گی بات چیت
نئی دہلی، کانگریس نے ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کے تحت بدھ کو ملک بھر کے کالجوں، یونیورسٹیوں، کوچنگ اداروں، ہاسٹلوں اور دیگر تعلیمی احاطوں میں طلبہ کے ساتھ بات چیت کا پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے آج ضروری پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل ہو رہے سوالناموں کے لیک، امتحانات میں تاخیر، بھرتی کے عمل میں غیر یقینی صورتِ حال، تعلیم کی بڑھتی لاگت اور بڑھتی بے روزگاری جیسے مسائل کو لے کر طلبہ کی آواز کو منظم طریقے سے اٹھانے کے لیے یہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے 17 جون کو راجستھان کے کوٹہ سے ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کی شروعات کی تھی، جسے 17 جولائی کو دہرادون میں آگے بڑھایا گیا۔ اس مہم کا مقصد ملک کے نظامِ تعلیم کو استحصالی نظام سے آزاد کرانا اور طلبہ کے مسائل پر عوامی دباؤ بنانا ہے۔
بیان کے مطابق منگل کو کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر سینئر لیڈروں نے یہاں طالب علم مظاہرین پر پولیس کارروائی کی مخالفت میں وزیرِ اعظم رہائش گاہ کے باہر پرامن مظاہرہ کیا لیکن پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی کیے جانے کا الزام لگایا۔ پارٹی لیڈروں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ کھڑا ہونا، نظامِ تعلیم کی جواب دہی یقینی بنانا اور طلبہ کے مستقبل کی حفاظت کرنا ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ پارٹی نے اپنے لیڈروں سے کہا ہے کہ آج وہ متعلقہ شہروں کے کوآرڈینیٹرز کے ساتھ پروگرام منعقد کر کے ‘چھاتروں کی گونج’ مہم پر پریس کانفرنس کریں۔ مسٹر گاندھی کی کوٹہ تقریر اور پریزنٹیشن کے ذریعے پیپر لیک، امتحان میں تاخیر، بھرتی میں غیر یقینی صورتِ حال اور بے روزگاری جیسے مسائل کو طلبہ کے سامنے رکھیں۔ ساتھ ہی طلبہ کو مہم سے جڑنے اور اپنے تجربات نیز تجاویز شیئر کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
پردھان کی برطرفی کے مطالبے کے حق میں اپوزیشن کا پارلیمنٹ احاطے میں مظاہرہ
نئی دہلی، کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنے کے مطالبے حق میں بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار پر مظاہرہ کیا لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی ایک گھنٹے کے لیے ملتوی ہونے کے بعد اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ، پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار پر جمع ہوئے۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینر اور تختیاں لے کر مسٹر پردھان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ مظاہرے کے دوران اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ طلبہ کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کی اصل وجہ سوالناموں کے لیک ہونے کے واقعات ہیں اور اس کے لیے وزیرِ تعلیم ہی پوری طرح ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے مسٹر پردھان کو ہٹایا جانا چاہیے۔
اراکینِ پارلیمنٹ کے ہاتھوں میں ‘دھرمیندر پردھان کو برطرف کرو’ جیسے نعرے لکھی تختیاں بھی تھیں۔
مظاہرے میں کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، کانگریس کی جنرل سکریٹری محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال، گورو گوگوئی، دیپیندر سنگھ ہڈا، گرجیت سنگھ اوجلا، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو، دھرمیندر یادو، اودھیش پرشاد، رام گوپال یادو، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے اور کلیان بنرجی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے متعدد اراکینِ پارلیمنٹ شامل ہوئے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا5 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا5 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا5 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
ہندوستان6 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
جموں و کشمیر5 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا5 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
ہندوستان6 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
دنیا5 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے









































































































