دنیا
ایران امریکہ جنگ بندی کا کل آخری دن! توسیع کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی
دوحہ، ایران امریکہ جنگ بندی کا کل آخری دن ہے، جس کے پیش ثالث ممالک متحرک ہوگئے ہیں اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی 15 روزہ عارضی جنگ بندی کل ختم ہو رہی ہے، جس کے باعث خطے میں تناؤ ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم، پاکستان اور سعودی عرب سمیت اہم علاقائی ممالک نے جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کا دوسرا دور شروع کروانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام اس وقت امریکہ اور ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ سب سے پہلے موجودہ جنگ بندی کی مدت میں اضافہ کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکا جا سکے جبکہ ایران کو مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں باضابطہ طور پر شامل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام ثالث ممالک پسِ پردہ دونوں فریقین کو میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں، کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور میں ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرے دور میں مزید ٹھوس نتائج حاصل کیے جائیں۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ 24 گھنٹوں میں جنگ بندی میں توسیع نہ ہوئی تو خطے میں بحری اور فضائی سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے۔ تاہم، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے ممالک کا اثر و رسوخ ایران کو، جبکہ پاکستان اور مصر کا کردار امریکہ کو دوبارہ مذاکرات کی طرف مائل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الوقت عالمی برادری کی نظریں کل ختم ہونے والی ڈیڈ لائن پر لگی ہوئی ہیں، جہاں ایک طرف جنگ بندی کی بحالی کی امید ہے اور دوسری طرف دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل نے ذمے داریاں پوری نہ کیں تو امن معاہدے پر عمل نہیں ہو گا: حماس
غزہ، حماس کے مذاکراتی وفد کے رکن غازی حمد نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی قابض افواج نے معاہدے کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری نہ کیں تو حماس بھی غزہ امن معاہدے کے کسی مرحلے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غازی حمد نے کہا کہ یہ مذاکرات نہایت مشکل اور پیچیدہ تھے، تاہم ہم نے ایسی بہترین قابلِ عمل صورت تک پہنچنے کی کوشش کی جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی حمد نے واضح کیا کہ غزہ سے متعلق معاہدہ مرحلہ وار ہے اور اس پر مختلف مراحل میں عمل درآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے معاہدے کے متن کی منظوری کے بعد اسرائیل کو پہلے مرحلے پر عمل درآمد شروع کرنا ہوگا، جبکہ اسرائیل کو غزہ سے اپنی تمام افواج بھی واپس بلانا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی قومی کمیٹی اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی ضروری ہے اور اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کو بھی ختم کیا جائے گا۔
حماس عہدیدار کے مطابق ہتھیار فلسطینی قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کا عمل اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی مکمل پاسداری پر منحصر ہے اور اگر اسرائیلی افواج نے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اپنی ذمے داریاں پوری نہ کیں تو حماس بھی معاہدے کے کسی حصے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اسلحہ چھوڑنے کا عمل اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلاء اور فلسطینی علاقے کی تعمیرِ نو میں پیش رفت سے مشروط ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ادھر بورڈ آف پیس نے حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامات کی نگرانی کے لیے قائم بورڈ آف پیس نے اعلان کیا ہے کہ حماس نے باضابطہ طور پر جنگ بندی کے آئندہ مراحل پر عمل درآمد کے لیے ایک تفصیلی لائحۂ عمل پر اتفاق کر لیا ہے۔
بورڈ آف پیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پہلی مرتبہ حماس نے باضابطہ طور پر غیر مسلح ہونے کے قابلِ عمل منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی افواج غزہ سے انخلاء کریں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کئی ماہ پر محیط سنجیدہ اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کا نتیجہ ہے، جن کا مقصد صدر ٹرمپ کے اس وژن کو عملی شکل دینا ہے جس کے تحت غزہ میں نئی حکمرانی، سیکیورٹی، انسانی امداد، تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کا نظام قائم کیا جانا ہے، جیسا کہ جامع امن منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں بیان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے غزہ میں غیر مسلح ہونے کے منصوبے پر مشتمل ایک دستاویز پر اتفاق کر لیا ہے، جسے امریکی صدر ٹرمپ نے امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کا تفصیلی لائحہ عمل 14 روز کے اندر تیار کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بین الاقوامی نگرانی کے ادارے کی منظوری اور تمام فریقوں کی رضامندی سے کی جا سکے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنیوالے 2 جہازوں کو نشانہ بنایا: پاسداران انقلاب
تہران، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 2 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر روک دیا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ دیگر 4 آئل ٹینکروں نے فوری طور پر اپنا راستہ تبدیل کیا اور سابقہ پوزیشنوں کی جانب واپس لوٹ گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی حملوں میں کسی ایف 35 یا دیگر طیارے کو نقصان نہیں پہنچا: امریکہ
واشنگٹن، سینٹ کام نے ایرانی سرکاری میڈیا اور آئی آر جی سی (پاسداران انقلاب) کے تین دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو خطرہ آئی آر جی سی کی دھمکیوں اور حملوں سے ہے تاہم ایرانی حملوں میں کسی امریکی ایف 35 یا دیگر طیارے کو نقصان نہیں پہنچا، تمام ایرانی میزائل اور ڈرون ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ یا ناکام ہو گئے۔
سینٹ کام نے کہا کہ ایم ٹی نورا نے امریکی ناکہ بندی نہیں توڑی، ایرانی دعویٰ غلط ہے، اس وقت 20 سے زائد امریکی جنگی جہاز، سیکڑوں طیارے اور ہزاروں اہلکار ناکہ بندی پر تعینات ہیں، امریکی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے امریکہ کے خلاف جوابی کارروائیوں کے دوران شدید نقصان اٹھانے والے امریکی فوجی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے مطابق 8 جولائی سے 22 جولائی تک جاری رہنے والے پندرہ روزہ طاقتور ایرانی حملوں میں امریکی عسکری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈار اور فضائی دفاعی شعبے میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، 3 سیٹلائٹ مواصلاتی سسٹمز، پیٹریاٹ ڈیفنس کے 6 ریڈار، ابتدائی وارننگ اور نگرانی کے متعدد ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد پیٹریاٹ نظام کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا ہے کہ اب ایرانی میزائل اور ڈرون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اہداف تک پہنچ رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق لاجسٹک اور معاونت کے شعبے میں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے 6 مراکز، 3 سپورٹ اور لاجسٹک تنصیبات، ایندھن کے 12 بڑے ذخائر، ہتھیاروں اور اسپیئر پارٹس کے 17 گودام اور میزائلوں کے 6 ذخیرہ خانے تباہ کیے گئے تاکہ امریکی آپریشنل صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔ آ
پریشنل انفرااسٹرکچر کے شعبے میں ایم کیو-9 ڈرونز کے 6 ہینگرز، ایف-15 لڑاکا طیاروں کی تیاری کی تنصیب، 8 نئے ڈرونز پر مشتمل ہینگر، طیارہ بردار جہاز کا رلنگ پلیٹ فارم، پی-8 طیارے کا ہینگر، ہیمارس میزائل پلیٹ فارمز، پیٹریاٹ ڈیفنس کے 4 کمپلیکسز اور ایمیزون سے وابستہ مصنوعی ذہانت کا مرکز اور ڈیٹا پروسیسنگ ہب بھی شدید نقصان کا شکار ہوئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
جموں و کشمیر1 day agoپاکستان سے دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے والے پانچ دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم
دنیا1 week agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
دنیا1 week agoامریکہ سعودی جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ
دنیا1 week agoامریکی حملے جاری رہے تو نئی حکمتِ عملی اپنائیں گے: ایران کا انتباہ
دنیا1 week agoہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی نہیں بیچ سکے گا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoیمن بحران پر ایران کو ذمے دار ٹھہرانا درست نہیں: عباس عراقچی
دنیا6 days agoسعودی عرب کے یمن کے شہر الحدیدہ میں فضائی حملے
دنیا4 days agoروس کو ہتھیار فراہم کرکے ایران پہلے ہی یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے: زیلنسکی





































































































