دنیا
ٹرمپ کا غزہ میں حماس کی غیر مسلحی سے متعلق معاہدے کا دعویٰ،غزہ نئی فلسطینی انتظامیہ کے سپرد ہوگا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو حماس اور غزہ میں موجود دیگر تمام مسلح گروہوں کی مکمل غیر مسلحی کے لیے ایک ایسے معاہدے کا اعلان کیا جسے انہوں نے “تاریخی” قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے اور وہاں نئی فلسطینی انتظامیہ کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے حوالے سے اب بھی مختلف فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” نے غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کی مکمل غیر مسلحی سے متعلق ایک معاہدہ طے کر لیا ہے، جس کے بعد مرحلہ وار اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلا بھی عمل میں آئے گا۔ تاہم اس اعلان کے باوجود یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا حماس اور اسرائیل باضابطہ طور پر اس معاہدے کا حصہ ہیں یا نہیں، کیونکہ دونوں فریقوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ان کے 20 نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم پیش رفت اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کی سمت ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروپوں کی مکمل غیر مسلحی مختلف مراحل میں مکمل کی جائے گی اور جیسے جیسے یہ عمل آگے بڑھے گا، اسرائیلی فوج بھی مرحلہ وار غزہ سے واپس ہٹتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت غزہ کا انتظام بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے سپرد کیا جائے گا، جو فلسطینی عوام کی خدمت کے لیے “بورڈ آف پیس” کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے اسرائیل کو بھی وہی سکیورٹی حاصل ہوگی جس کا وہ حقدار ہے اور غزہ کو دوبارہ دہشت گرد حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ایک بین الاقوامی استحکام فورس اور نئی فلسطینی پولیس فورس مشترکہ طور پر سنبھالے گی، جو شہریوں اور پڑوسی ممالک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ صرف ایک سال قبل غزہ شدید جنگ، سنگین انسانی بحران اور یرغمالیوں کی قید جیسے حالات سے دوچار تھا، تاہم اب ایک تاریخی پیش رفت حاصل کی گئی ہے، اگرچہ ابھی بھی بہت سا کام باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کو غزہ سے ابھرنے والے خطرے کو دوبارہ سر اٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے ثالثی کرنے والے ممالک مصر، قطر اور ترکیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اپنی ٹیم کی انتھک محنت کو بھی اس پیش رفت کا اہم سبب قرار دیا۔ ٹرمپ نے اس کامیابی پر تمام متعلقہ فریقوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ ایسا معاہدہ کبھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قاہرہ میں ثالثی کرنے والے ممالک اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار نے مجوزہ شرائط کو اسرائیل کے لیے غیر اطمینان بخش قرار دیا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
مسلم ممالک اسرائیل کی سازشوں سے ہوشیار رہیں: عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مصر کی ایک بندرگاہ پر دو جہازوں کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کے واقعے کو اسرائیل کا “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد خطے کے امن کو سبوتاژ کرنا اور مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ سب کو اسرائیل کی ان سازشوں اور فالس فلیگ آپریشنز سے ہوشیار رہنا چاہیے، جن کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور امن کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ خطرہ واضح اور مشترکہ ہے، جو پوری مسلم دنیا کے اتحاد کو لاحق ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران مصر کو اپنا دوست اور خطے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ مصر کی سلامتی اور استحکام تہران کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ترکیہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا: اردوغان
انقرہ، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے یہ بات لبنان کے صدر جنرل جوزف عون کے ساتھ صدارتی محل میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
صدر اردوغان نے کہا کہ 17 برس بعد کسی لبنانی صدر کا ترکیہ کا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے اور صدر جوزف عون کی قیادت لبنان میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی قبضے، مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ترک صدر نے کہا کہ لبنان برسوں سے علاقائی تنازعات کا شکار رہا ہے، اس لیے خطے میں پائیدار امن کے قیام سے سب سے زیادہ فائدہ لبنان کو پہنچے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ترکیہ لبنان کے ریاستی اداروں کی استعداد کار بڑھانے، انسانی امداد، تکنیکی تعاون اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں اپنی بھرپور معاونت جاری رکھے گا۔
صدر اردوغان نے لبنان اور شام کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں امن مشن کے اختتام کے بعد اگر لبنان کی سلامتی کے لیے کوئی نیا بین الاقوامی انتظام تشکیل دیا جاتا ہے تو ترکیہ اس میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہے گا، جبکہ لبنانی مسلح افواج کی تربیت اور دفاعی تعاون بھی جاری رکھا جائے گا۔
صدر اردوغان نے کہا کہ 2 مارچ 2026ء سے جاری اسرائیلی حملوں میں 4 ہزار 300 سے زائد لبنانی شہری جاں بحق، 2 ہزار سے زیادہ زخمی اور تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے لبنانی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ابتدا ہی سے اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتا آیا ہے اور ہر بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کے انسانیت کے خلاف جرائم کو اجاگر کرتا رہا ہے۔
اس موقع پر لبنان کے صدر جنرل جوزف عون نے کہا کہ ترکیہ اور لبنان کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور مضبوط تعلقات موجود ہیں، جنہیں مزید فروغ دینے پر دونوں ممالک کی قیادت متفق ہے۔
انہوں نے صدر اردوغان کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک علاقائی حالات میں دونوں ممالک کا قریبی تعاون مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔
یو این آئی۔ م س
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
دنیا7 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
دنیا1 week agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں: مارکو روبیو
دنیا1 week agoامریکہ سعودی جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ






































































































