ہندوستان
سنگاپور جانے والی ایئر انڈیا کی فلائٹ کے انجن میں آگ کی وارننگ کے بعد فلائٹ دہلی واپس لوٹی

نئی دہلی، دہلی سے سنگاپور جانے والی ایئر انڈیا کی فلائٹ کے انجن میں آگ لگنے کی وارننگ ملنے کے بعد فلائٹ واپس دہلی پہنچ گئی۔
ایئر انڈیا کے ترجمان نے بتایا کہ فلائٹ نمبر اے آئی 2380 نے بدھ کے روز دہلی سے سنگاپور کے لیے اڑان بھری تھی۔ ٹیک آف کے کچھ دیر بعد، عملہ نے تکنیکی خرابی کی وجہ سے دہلی واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ پرواز کے دوران انجن میں آگ لگنے کی وارننگ ملنے کے بعد مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ طیارہ بحفاظت دہلی ہوائی اڈے پر اتر گیا ہے۔ مسافروں کو دوسرے طیارے میں سنگاپور بھیجا گیا ہے۔
ایئرلائن نے مسافروں کو ہونے والی تکلیف پر اظہار معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے۔
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
خاتون رکن پارلیمنٹ پر گجرات بی جے پی صدر کا تبصرہ توہین آمیز: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے گجرات بی جے پی صدر جگدیش وشوکرما کی جانب سے کانگریس کی خاتون رکن پارلیمنٹ گیٹی بین ٹھاکور پر کیے گئے مبینہ نازیبا تبصرے کو بی جے پی کی خواتین دشمن ذہنیت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ملک کی خواتین ایسی توہین کا منہ توڑ جواب دیں گی۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے ہفتہ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ ‘ناری وندن’ کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کا اصل چہرہ اس طرح کے تبصروں سے بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدار کو چیلنج کرنے والی خواتین کو بی جے پی برداشت نہیں کر پاتی اور ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کسی فرد واحد کا تبصرہ نہیں ہے، بلکہ خواتین کے تئیں پارٹی کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ خاتون ارکان پارلیمنٹ کے سوالات سے بچنا اور ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ خواتین اپنی توہین کو کبھی نہیں بھولتیں اور گجرات سمیت پورے ہندوستان کی خواتین اس طرح کے رویے کا جمہوری طریقے سے جواب دیں گی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کھرگے، راہل اور پرینکا نے اہل وطن کو دی بدھ پورنیما کی مبارکباد
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ پورنیما کے موقع پر جمعہ کو اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے سب کی خوشحالی کی خواہش کی ہے مسٹر کھرگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ “بدھ پورنیما کے مبارک موقع پر سب کو دلی مبارکباد بھگوان بدھ کی زندگی اور تعلیمات لافانی، ہمہ گیر اور عالمگیر علم کا ذریعہ ہیں۔ سچائی، ہمدردی، عدم تشدد، بیداری اور برابری کا ان کا پیغام نہ صرف ہماری تہذیب کو تشکیل دیتا ہے، بلکہ تصادم اور غیر یقینی صورتحال سے بھرے دور میں بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا راستہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اندرونی امن ایک منصفانہ اور ہم آہنگ دنیا کی بنیاد ہے۔ ہم آہنگی برقرار رہے، بھائی چارے کے بندھن گہرے ہوں اور ہماری زندگی نیک صفات سے متاثر ہو۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ “آپ سب کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔ بھگوان بدھ کا فلسفہ حیات اور ان کے خیالات پوری انسانیت کے لیے درس ہیں۔ عدم تشدد، ہمدردی، سچائی، سماجی ہم آہنگی اور اخلاقیات کا ان کا دکھایا ہوا راستہ ہمیں ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کی طرف چلنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔”
محترمہ گاندھی نے کہا کہ “بھگوان بدھ کی سب سے بڑی سیکھ ہے کہ نفرت کو صرف محبت سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ بھگوان بدھ نے سچائی، عدم تشدد، انسانیت، رحم اور ہمدردی جیسی عظیم اقدار پر چلنے کی ترغیب دی اور دنیا کو امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کا راستہ دکھایا۔ تمام اہل وطن کو بدھ پورنیما کی دلی مبارکباد۔”
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
شاہ کے دورہ لداخ پر کانگریس کا نشانہ، تاریخی بدھ باقیات کا کیا ذکر
نئی دہلی، کانگریس کے محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ لداخ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسٹر شاہ جمعہ کو پپرہوا کی بدھ باقیات کی “عظمت بیان کرنے ” میں مصروف ہیں، جب کہ لداخ کے عوام کے ریاستی درجے، چھٹے شیڈول کے درجے اور زمین و روزگار کے تحفظ جیسے اہم مطالبات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں مسٹر رمیش نے کہا کہ لداخ میں اس طرح کے مذہبی اور تاریخی مظاہروں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، جس سے وزیر داخلہ شاید ناواقف ہیں۔ انہوں نے 14 جنوری 1949 کے ایک تاریخی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن بھگوان بدھ کے دو اہم شاگردوں سارپتر اور مہا موگلان کی مقدس باقیات، جنہیں 1851 میں وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم لے جایا گیا تھا، انہیں واپس ہندوستان لایا گیا تھا۔ ان باقیات کو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے وصول کر کے کولکتہ میں مہابودھی سوسائٹی آف انڈیا کے حوالے کیا تھا۔
کانگریس لیڈر کے مطابق، 1949 میں ہی مسٹر نہرو نے لداخ کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ اس دوران ممتاز بدھ لیڈر کوشک بکولا رنپوچھے نے ان سے درخواست کی تھی کہ ان باقیات کو لداخ بھی لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل مئی 1950 میں شرمندہ تعبیر ہوئی، جب ان مقدس باقیات کو 79 دنوں تک پورے لداخ میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ اس کے بعد انہیں رنگون، کولمبو اور سانچی میں نصب کیا گیا۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی تقریبات کا مقصد صرف مذہبی عقیدت نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ مکالمہ اور ان کے جذبات کا احترام بھی ہوتا تھا۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان1 week agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
جموں و کشمیر5 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا6 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا3 days agoپوتن نے صدر ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام پر تجاویز دے دیں
دنیا6 days agoامریکہ سے مذاکرات میں پاکستان اہم ثالث ہے: ایرانی وزیرخارجہ
دنیا1 week agoعباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کے دوران جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی: ابراہیم عزیزی
دنیا1 week agoامریکہ کے دوسرے ممالک پر فوجی حملے صرف تیل کے لیے ہیں: روس
جموں و کشمیر1 week agoکپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم












































































































