ہندوستان
صاف ستھرے ماحول کی وراثت آنے والی نسلوں کو سونپنا اخلاقی ذمہ داری : مرمو

نئی دہلی، صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ صاف ستھرے ماحول کی وراثت کو آنے والی نسلوں کے حوالے کرنا ہر ایک کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ہفتہ کو یہاں ‘ماحولیات 2025’ پر دو روزہ قومی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے، محترمہ۔ مرمو نے کہا کہ ماحولیات سے متعلق تمام دن یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہمیں ان کے مقاصد اور پروگراموں کو ذہن میں رکھنا چاہئے اور انہیں زیادہ سے زیادہ اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی اور سب کی شرکت پر مبنی مسلسل سرگرمی سے ہی ماحولیاتی تحفظ اور فروغ ممکن ہو گا۔
صدر نے کہا کہ بچوں اور نوجوان نسل کو بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرنا ہو گا اور اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کے اسکول، کالج اور کیریئر کی فکر کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ بچے کس طرح کی ہوا میں سانس لیں گے، انہیں کیسا پانی پینے کو ملے گا، کیا وہ پرندوں کی میٹھی آواز سن سکیں گے یا نہیں، کیا وہ سرسبز و شاداب جنگلات کی خوبصورتی کا تجربہ کر سکیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے معاشی، سماجی اور سائنسی پہلو ہیں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تمام مسائل سے جڑے چیلنجز کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے۔ صاف ستھرے ماحول کی میراث اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے ہمیں ماحولیات کے حوالے سے آگاہی اور حساس طرز زندگی اپنانا ہو گا تاکہ ماحول کی نہ صرف حفاظت ہو بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو اور ماحول مزید جاندار ہو سکے۔ صاف ستھرا ماحول اور جدید ترقی کے درمیان توازن قائم کرنا ایک موقع اور چیلنج دونوں ہے۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ فطرت ہمیں ماں کی طرح پرورش دیتی ہے اور ہمیں فطرت کا احترام اور تحفظ کرنا چاہیے۔ ترقی کے ہندوستانی ورثے کی بنیاد پرورش ہے، استحصال نہیں۔ تحفظ ہے، خاتمہ نہیں۔ اسی روایت پر عمل کرتے ہوئے ہم ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ پچھلی دہائی میں ہندوستان نے بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق اپنے طے شدہ تعاون کو وقت سے پہلے پورا کیا ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے ملک کی ماحولیاتی نظم و نسق میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے ماحولیاتی انصاف یا موسمیاتی انصاف کے میدان میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔این جی ٹی کے ذریعے دیے گئے تاریخی فیصلوں کے زندگی، صحت اور زمین کے مستقبل پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے ماحولیاتی انتظام کے ماحولیاتی نظام سے وابستہ تنظیموں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کریں۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ ملک اور پوری عالمی برادری کو ماحول دوست راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ تب ہی انسانیت حقیقی ترقی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اپنے گرین اقدامات کے ذریعے عالمی برادری کے سامنے بہت سی مثالی مثالیں قائم کی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے ہندوستان عالمی سطح پر گرین قیادت کا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے جہاں ہوا، پانی، ہریالی اور خوشحالی پوری عالمی برادری کو طرف متوجہ کرتی ہے۔
این جی ٹی کے زیر اہتمام ‘ماحولیات 2025’ پر قومی کانفرنس کا مقصد کلیدی اسٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ لاکر ماحولیاتی چیلنجوں پر بات چیت کرنے، بہترین طریقوں کا اشتراک اور پائیدار ماحولیاتی انتظام کے لیے مستقبل کے ایکشن پلان پر تعاون کرنا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
لوک سبھا میں منگل کو بھی وقفہ سوالات خلل کا شکار رہا
نئی دہلی، لوک سبھا میں منگل کو بھی اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے ہنگامے کی وجہ سے وقفہ سوالات خلل کا شکار رہا ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اسپیکر اوم برلا نے کامن ویلتھ گیمز میں ہندوستان کے لیے تمغے جیتنے والے کھلاڑیوں کو مبارکباد دی انہوں نے ایوان کی جانب سے کھلاڑیوں کے روشن مستقبل کی تمنا کرتے ہوئے ان کی محنت اور کامیابیوں کی ستائش کی۔ اس دوران اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اپنی بات رکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس پر مسٹر برلا نے کہا کہ وقفہ سوالات کے دوران صرف مفاد عامہ سے جڑے سوالات اور وزراء کے جوابات ہی لیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے ہنگامہ کرنے والے اراکین سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ “میں تمام جماعتوں کے لیڈروں سے گزارش کرتا ہوں کہ ایوان میں بحث ہونے دیں۔ تمام جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ اتفاق رائے ہوا ہے کہ دوپہر دو بجے سے بل پر بحث ہوگی۔ تمام جماعتوں نے اپنے خیالات رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بل پر بحث ہوگی اور تمام جماعتیں اس میں حصہ لیں گی تو اس سے ملک میں مثبت پیغام جائے گا۔”
ہنگامے کے درمیان اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
سپریم کورٹ کا بغیر مجرمانہ ریکارڈ والے طلباء کو رہا کرنے کا حکم
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر گرفتار یا حراست میں لئے گئے ان تمام طلباء کو منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اس کے ساتھ ہی عدالت نے مرکزی حکومت اور آسام، بہار، مغربی بنگال، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر نیز کیرالہ حکومتوں سے جواب طلب کیا ہےعدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک گیر طلباء کے مظاہروں کے دوران طلباء اور پولیس اہلکاروں کو آئی چوٹوں کے الزامات کی منصفانہ اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں عبوری ہدایات کا ایک سلسلہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اپنے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ پولیس بربریت کے الزامات والی عرضیوں کے ساتھ ساتھ زخمی پولیس اہلکاروں اور میڈیا نمائندوں کی طرف سے دائر عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی۔ عدالت نے طلبا مظاہرین کی ذاتی معلومات اور ڈیجیٹل ڈیٹا کو محفوظ رکھنے نیز ایسی معلومات کو فی الحال عام نہ کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے خاص طور پر ہدایت دی کہ مظاہرین کی ذاتی تفصیلات شائع نہ کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، بغیر کسی مجرمانہ پس منظر والے طلباء کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر کوئی بھی تادیبی یا جابرانہ کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ان واقعات سے جڑے تمام سی سی ٹی وی اور ڈرون فوٹیج، کیمرہ ریکارڈنگ، وائرلیس ریکارڈ اور پی سی آر لاگ کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مظاہرین کےخلاف پولیس کی کارروائی نہ رکی تو دوبارہ مظاہرہ کریں گے: سی جے پی
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے آسام، بہار، مغربی بنگال اور دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں مظاہرین اور طلبہ کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی اپنی یقین دہانی پر عمل نہیں کیا تو پارٹی دوبارہ تحریک چلانے پر مجبور ہوگی پارٹی کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا نے پیر کو ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مرکزی وزراء جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی نہ کرنے سے متعلق معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
مسٹر رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، “ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہار اور مغربی بنگال میں سینکڑوں طالب علموں کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں سینکڑوں طالب علموں کی نگرانی کی جا رہی ہے نیز انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ دہلی میں مظاہرین کو لاجسٹک مدد پہنچانے والے لوگوں کو بھی حراست میں لیے جانے کی رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں۔”
مسٹر رانکا نے مطالبہ کیا کہ مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز فوری طور پر واپس لی جائیں، گرفتار طالب علموں کو رہا کیا جائے نیز مستقبل میں دہلی پولیس، مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی پولیس کسی بھی مظاہرین کے خلاف نیا معاملہ درج نہ کرے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قانونی معاملات سے متعلق تحریری معاہدہ حکومت کی طے شدہ وقت کے مطابق منگل تک فراہم کرایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے کے تحت اگر اس سمت میں کارروائی نہیں ہوئی تو سی جے پی پھر سے دھرنا مظاہرہ شروع کرے گی۔
اس سے پہلے پارٹی کے چیف ترجمان سورَو داس نے بھی بیان جاری کر کے کہا تھا کہ حکومتِ ہند کی یقین دہانی کے بعد ہی سی جے پی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ واپس لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف تادیبی کارروائی جاری رہتی ہے تو یہ حکومت کے وعدے اور لاکھوں نوجوانوں کے اعتماد کے ساتھ اعتماد شکنی ہوگی۔
مسٹر داس نے کہا کہ سی جے پی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ حکومتِ ہند کی اس یقین دہانی کے بعد واپس لیا ہے کہ کسی بھی بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت والی ریاست میں مظاہرہ کرنےعالے کسی بھی کارکن کے خلاف تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ آسام، مغربی بنگال اور بہار سے مظاہرین کو حراست میں لینے، گرفتار کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کی خبریں شدید تشویش کا باعث ہیں۔
بیان میں کہا گیا، “ہم ہر مظاہرین کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہماری ٹیم ان تمام ریاستوں میں وکلاء کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ حراست میں لیے گئے لوگوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہر ممکن قانونی امداد دی جا سکے۔ یہ ہم پہلے دن سے کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا، “ہم حکومتِ ہند سے، خصوصاً جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حکومت کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کا احترام کریں اور حراست میں لیے گئے تمام لوگوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت دیں کہ ملک میں کسی بھی مظاہرین کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کی جائے۔ مظاہرین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز کو بھی واپس لیا جانا چاہیے۔”
انہوں نے حکومتِ ہند کو یاد دلایا کہ اس سلسلے میں انہیں تحریری ضمانت منگل (28 جولائی) تک فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے۔ پارٹی نے اپنا ملک گیر مظاہرہ حکومت پر بھروسے کی بنیاد پر ہی ختم کیا تھا کہ وہ اپنے وعدے پر کھری اترے گی۔ اس وعدے کو توڑ کر نہ صرف حکومت سی جے پی سے اعتماد شکنی کرے گی، بلکہ ان لاکھوں نوجوانوں کے بھروسے کو بھی توڑے گی جنہوں نے مظاہرے کے بجائے بات چیت کا راستہ چنا۔
بیان میں کہا گیا، “اس طرح کی اعتماد شکنی نوجوانوں کو قطعی ناقابل قبول ہے۔ حکومتِ ہند کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اس کی ساکھ صرف وعدہ کرنے سے نہیں، بلکہ اس وعدے کو پورا کرنے سے ہے۔”
بیان میں نوجوان مظاہرین کو یقین دلایا گیا کہ وہ ڈٹے رہیں اور سی جے پی ان کے ساتھ ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ مسلسل صورتحال پر نظر بنائے ہوئے ہے اور حکومت نیز بی جے پی-این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں حکومت سے انتہائی مستعدی، ذمہ داری اور نیک نیتی سے کام کرنے کی امید رکھتی ہے۔
بیان میں کہا گیا، “ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام حراست میں لیے گئے یا گرفتار لوگوں کو فوراً، اور ہر حال میں کل تک رہا کیا جائے اور تمام ایف آئی آرز فوراً واپس لی جائیں۔ ایسا نہ ہونے پر ہم آگے ضروری قدم اٹھائیں گے۔”
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا6 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا7 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان7 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
جموں و کشمیر7 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان5 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج








































































































