ہندوستان
مسجدوں کو آباد کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے:مولانا محب اللہ ندوی

نئی دہلی، نئی دہلی کی جامع مسجد کے امام اورممبر پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی نے کہا ہے کہ”مسجدوں کو زیادہ سے زیادہ آباد کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اس سے ان شرپسندوں کی حوصلہ شکنی ہوگی جو آئے دن مسجدوں کی تاریخ اور تعمیر پر سوال کھڑے کرتے ہیں گزشتہ شب یہاں جامع مسجد نئی دہلی کے قدیم نمازیوں کے ایک اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ”مسجدوں اور بزرگان دین کے مزاروں کے خلاف شرانگیز مہم منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مٹانا ہے، لیکن یہ مہم کسی بھی طورکامیاب نہیں ہوگی کیونکہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور وہی ان کا نگہبان بھی ہے۔“
اس موقع پر سینئر صحافی معصوم مرادآبادی نے کہا کہ”نئی دہلی کی یہ جامع مسجد جسے عرف عام میں پارلیمنٹ کی مسجد بھی کہا جاتا ہے، اس اعتبار سے تاریخی نوعیت کی حامل ہے کہ یہاں سربراہان مملکت، وزراء اور سفراء عام مقتدیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اسلامی اخوت کا ثبوت پیش کرتے رہے ہیں۔“
انھوں نے کہا کہ ”میں چاردہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے یہاں نماز پڑھ رہا ہوں اورمیں نے اس مسجد کے کئی ادوار کو قریب سے دیکھا ہے۔ مسجدکی موجودہ شاندارتجدید وتزئین مولانا محب اللہ ندوی کی کوششوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔“
اس موقع پر اشرف کریم، سیدلائق علی اور خالد خاں نے بھی اظہار خیال کیا۔ تقریب میں تمام سرکردہ صحافی اور پارلیمنٹ میں برسرکار افسران ملازمین بھی موجود تھے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی بھلر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا شکنجہ، ٹھکانوں پر چھاپہ ماری
نئی دہلی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی ہرچرن سنگھ بھلر اور دیگر سے متعلق کئی مقامات پر تلاشی مہم چلا رہا ہے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)، انسدادبدعنوانی بیورو (اے سی بی)، چنڈی گڑھ نے سابق ڈی آئی جی اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان معاملات میں آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے اور ایک مجرمانہ معاملے کے تصفیے کے لیے بچولیہ کے ذریعے غیر قانونی رقم کے مطالبے جیسے الزامات شامل ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ “ملزم، ساتھیوں اور مشتبہ بے نامی داروں سے منسلک 11 مقامات (چنڈی گڑھ-2، ضلع لدھیانہ-5، پٹیالہ-2، نابھہ-1 اور جالندھر-1) پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 17 کے تحت تلاشی لی جا رہی ہے۔” اہلکار نے مزید کہا کہ تلاشی کا مقصد جرم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا سراغ لگانا، بے نامی جائیدادوں کی شناخت کرنا اور منی لانڈرنگ سے متعلق شواہد اکٹھا کرنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی نے گزشتہ سال اکتوبر میں سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ہرچرن سنگھ بھلر کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا کیس درج کیا تھا۔ انہیں 17 اکتوبر 2025 کو ایک اور معاملے میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا۔
سی بی آئی کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق، آکاش بارا نے شکایت درج کرائی تھی جس کی بنیاد پر پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی (روپڑ رینج) بھلر اور ایک نجی شخص کرشانو کے خلاف بھارتیہ نیاۓ سنہیتا کی دفعہ 61 (2) اور انسداد بدعنوانی قانون کی دفعات 7 اور 7 اے کے تحت 16 اکتوبر کو باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں بچولیہ ملزم کرشانو کو شکایت کنندہ سے مسٹر بھلر کے لیے پانچ لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ اس کے بعد سی بی آئی نے مسٹر بھلر اور بچولیہ کرشانو کو گرفتار کر لیا۔
سی بی آئی کی ایف آئی آر کے مطابق، “مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے دوران، چنڈی گڑھ میں واقع بھلر کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے دوران 7,36,90,000 روپے نقد برآمد ہوئے، جن میں سے 7,36,50,000 روپے ضبط کر لیے گئے۔ اس کے علاوہ، مجموعی طور پر 2,32,07,686 روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور چاندی کی اشیاء (بھلر کے بیڈروم سے)، اور 26 برانڈڈ اور مہنگی گھڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔”
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ “غیر منقولہ جائیداد کے دستاویزات بھی ضبط کی گئی ہیں، جن میں چنڈی گڑھ کے ایک گھر اور فلیٹ کے کاغذات اور موہالی، ہوشیار پور اور لدھیانہ اضلاع میں تقریباً 150 ایکڑ زرعی زمین کے حصول سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ ان میں مسٹر بھلر، ان کے خاندان کے افراد (بشمول اہلیہ تجیندر کور بھلر، بیٹا گرپرتاپ سنگھ بھلر اور بیٹی تیز کرن کور بھلر) اور دیگر کے نام پر تجارتی جائیدادیں شامل ہیں۔ جناب بھلر اور ان کے اہل خانہ کے پاس مرسڈیز، آڈی، انووا اور فارچیونر جیسی مہنگی گاڑیوں سمیت پانچ گاڑیاں بھی پائی گئیں۔”
سی بی آئی نے انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 13(1)(بی) بشمول دفعہ 13(2)، اور بھارتیہ نیاۓ سنہیتا 2023 کی دفعہ 61(2) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی سی بی آئی کی ایف آئی آر کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کر کے چھاپہ ماری شروع کر دی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ‘عآپ’ سے الگ ہونے والے سات ارکان کے بی جے پی میں انضمام کو منظوری دے دی
نئی دہلی، راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ایوان کے ان سات ارکان کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں انضمام کو منظوری دے دی ہے جو حال ہی میں عام آدمی پارٹی (عآپ) سے الگ ہوئے ہیں۔
راجیہ سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایوان میں مختلف جماعتوں کے ارکان کی فہرست میں، عام آدمی پارٹی سے الگ ہو کر بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کرنے والے ارکان کے نام اب بی جے پی کی فہرست میں آگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ارکان کی تعداد 106 سے بڑھ کر 113 ہو گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی سے منتخب ہونے والے ارکان راگھو چڈھا، ڈاکٹر سندیپ کمار پاٹھک اور ڈاکٹر اشوک کمار متل نے گزشتہ 24 اپریل کو دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے سات ارکان کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
ان ارکان میں مذکورہ تین کے علاوہ جناب ہربھجن سنگھ، وکرم جیت سنگھ ساہنی، سواتی مالیوال اور راجندر گپتا شامل ہیں۔ راجیہ سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے آج جاری کردہ فہرست کے مطابق، ان ارکان کو 24 اپریل سے ہی بی جے پی کے ارکان کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
اس فہرست میں اب عام آدمی پارٹی کے ارکان کی تعداد کم ہو کر صرف تین رہ گئی ہے۔ ایوان میں اب عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ کے علاوہ دو ارکان مسٹر نارائن داس گپتا اور مسٹر سنت بلبیر سنگھ کے نام شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے مسٹر راگھو چڈھا کو ایوان میں پارٹی کے ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد سے پارٹی میں مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کیجریوال نے ریکیوزل درخواست مسترد ہونے کے بعد جج سورن کانتا کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کیا
نئی دہلی، دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایکسائز کیس میں سماعت سے ہٹںے کی (ریکیوزل) درخواست مسترد ہونے کے بعد جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں ذاتی طور سے یا اپنے وکیل کے ذریعہ پیش ہونے سے انکار کردیا ہے۔
یہ پیش رفت جسٹس شرما کے اس تفصیلی حکم کے چند دن بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کیس کی سماعت سے ہٹنے سے انکار کردیاتھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ’دباؤ میں جھکنے سے انصاف نہیں ملتا‘ اور جج کسی مدعی کے بے بنیاد اندیشوں کی بنیاد پر خود کو سماعت سے الگ نہیں کرسکتے۔
جسٹس شرما نے یہ بھی تبصرہ کیا تھا کہ ان پر ذاتی حملے عدلیہ پر حملے کے مترادف ہیں اور درخواست کو ’اندازوں‘ اور ’مبینہ جھکاؤ‘ پر مبنی قراردیتے ہوئے خارج کردیا تھا۔
اس کے بعد، مسٹر کیجریوال نے خط لکھ کر کہا کہ انہوں نے اس عدالت سے ’انصاف ملنے کی امید کھودی ہے‘ اور مہاتما گاندھی کے ’ستیہ گرہ‘ کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اپنی ’ضمیرکی آواز‘ سننے کے بعد کیا ہے۔
کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود، مسٹر کیجریوال نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا6 days agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس
دنیا6 days agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں







































































































