جموں و کشمیر
منوج سنہا کا سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کے یوم پیدائش پر خراج

سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کے 150 ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا: ‘سر دار جی قومی اتحاد کے معمار اور حب الوطنی اور سالمیت کے مظہر تھے’۔
واضح رہے کہ ولبھ بھائی پٹیل ملک کے ایک قد آورسیاسی و سماجی رہنما تھے۔ انہیں ملک اور دنیا بھر میں ‘سردار’ کے نام سے جانا جاتا ہے اس لیے آپ سردار ولبھ بھائی پٹیل کہلاتے ہیں۔
منوج سنہا نے سردار پٹیل کو ان کے یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے ‘ایکس’ پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا: ‘ہندوستان کے مرد آہن سردار ولبھ بھائی پٹیل جی کو ان کے 150 ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں’۔
انہوں نے کہا: ‘پٹیل جی قومی اتحاد کے معمار اور حب الوطنی اور سالمیت کے مظہر تھے’۔
ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا: ‘آئیے عہد کریں کہ ان کے نظریات پر عمل کریں اور اتحاد، قومی شناخت اور بھائی چارے کے جذبے کو برقرار رکھیں’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
ہر پنچایت کو منشیات سے پاک بنانا ہوگا: ایل جی سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز شہریوں کو منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہر پنچایت کو منشیات سے پاک اور ہر پولیس تھانے کو منشیات فروشوں سے مکمل طور پر صاف کرنا ہوگا۔
سامبا ضلع میں 100 روزہ “نشہ مکت جموں و کشمیر” مہم کے تحت ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ “یہ جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں جیت سکتے، بلکہ معاشرہ مل کر اسے جیتے گا—بیداری، اتحاد اور اجتماعی عزم کے ذریعے۔ ہم ایک ایسا جموں و کشمیر بنانا چاہتے ہیں جہاں منشیات کو نہ پناہ ملے، نہ حمایت اور نہ ہی کوئی مستقبل۔”
انہوں نے کہا کہ یہ 100 روزہ مہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگی اور یہ دکھائے گی کہ جب معاشرہ متحد ہو جائے تو بڑے سے بڑا بحران بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اگلے 85 دنوں کی کامیابی کا اندازہ نعروں یا ریلیوں سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ گاؤں اور شہروں میں منشیات کے اثرات کو کتنی گہرائی سے ختم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہفتے واضح نتائج سامنے آنے چاہئیں—کتنے افراد کی بحالی ہوئی، کتنے اسمگلرز کے خلاف کارروائی ہوئی، کتنے جعلی مراکز بند کیے گئے، کتنے مقدمات درج ہوئے، کتنی منشیات ضبط کی گئی اور کتنی خواتین کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مہم کی مسلسل نگرانی اور سخت آڈٹ لازمی ہے۔ ڈپٹی کمشنرز، ایس ایس پیز اور دیگر اداروں کو ہر ہفتے جائزہ لینا ہوگا تاکہ شناخت، مشاورت، علاج، بحالی اور دوبارہ آبادکاری تک مکمل عمل یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کا بحران پڑوسی ملک کی جانب سے دانستہ طور پر بڑھایا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور سماجی عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ “منشیات فروش اور نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورکس نے ہماری نوجوان نسل کو نشانہ بنایا ہے، اور اس حملے کا جواب سخت ترین قانونی کارروائی سے دینا ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری طاقت کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کیا جائے اور معاشرے کے خلاف سازش کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قوانین نافذ کیے جائیں۔ آئندہ 85 دنوں میں مہم کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے ہر گھر تک پہنچنا ہوگا اور منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہوگا، کیونکہ نشے کی لت صرف فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سی آئی کے کی سرینگر کی سینٹرل جیل میں تلاشی، دہشت گردی کیس میں ڈیجیٹل آلات برآمد
سرینگر، جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلیجنس کشمیر (سی آئی کے) یونٹ نے ہفتہ کے روز ایک دہشت گردی سے متعلق کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں سرینگر سینٹرل جیل کے اندر تلاشی کارروائی انجام دی، جس کے دوران ڈیجیٹل آلات برآمد کیے گئے۔
پولیس کے مطابق یہ تلاشی اسپیشل کورٹ (این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد)، سرینگر کی جانب سے جاری وارنٹ کی بنیاد پر کی گئی۔ یہ کارروائی 2023 میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی تھی، جو تعزیرات ہند کی دفعات 153-A، 505، 121 اور 120-B کے ساتھ یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13 اور 39 کے تحت پولیس اسٹیشن سی آئی کشمیر میں درج ہے۔
پولیس نے بتایا کہ قابلِ اعتماد تکنیکی معلومات کی بنیاد پر، جن سے جیل کے اندر مشتبہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کے آثار ملے تھے، جیل حکام کے ساتھ قریبی تال میل کے ذریعے مختلف بلاکس اور بیرکس میں تلاشی لی گئی۔
کارروائی کے دوران ایسے ڈیجیٹل مواصلاتی آلات برآمد اور ضبط کیے گئے جو تحقیقات سے متعلق اہم شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔ ان آلات کا تفصیلی فرانزک معائنہ کیا جائے گا تاکہ ممکنہ روابط کا پتہ لگایا جا سکے اور کسی بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
اسی دوران تحقیقاتی ایجنسی اس سکیورٹی خامی کی بھی جانچ کر رہی ہے جس کے باعث ایسے آلات کو اس ہائی سکیورٹی جیل میں داخل کیا جا سکا۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں ملوث سہولت کاروں اور معاونین کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی۔
یہ آپریشن اہم شواہد اکٹھا کرنے، غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور حساس سکیورٹی مقامات، خصوصاً جیلوں میں مواصلاتی آلات کے غلط استعمال کو روکنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنا بھی ہے، جس کے لیے دہشت گردوں کے معاونین اور اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیو) کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سوپور میں طلبہ احتجاج کے پرتشدد ہونے پر پولیس نے چھ افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے سوپور سب ضلع میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر امن و امان میں خلل ڈالنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے جمعہ کو چھ افراد کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔
پی ایس اے کے تحت بعض معاملات میں بغیر باضابطہ الزام یا مقدمہ کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق جن افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ان میں سیلو کے عمر اکبر حاجم، شالپورہ کے سلمان احمد شالا، پنزی پورہ ترزو کے الطاف احمد شیخ، نصیر آباد کے مبشر احمد گلکار، آرام پورہ کے مزمل مشتاق چنگا اور چنکی پورہ کے مجید فردوس ڈار شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو جموں خطے کی ضلع جیل بھدرواہ میں رکھا گیا ہے۔
ان افراد کو بارہمولہ کے ضلع مجسٹریٹ سے باضابطہ حراستی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران بدامنی پھیلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور امن خراب کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق “ان کی سرگرمیاں عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں”۔ مزید یہ کہ اس واقعے میں ملوث دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف بھی اسی طرح کی قانونی کارروائی، بشمول پی ایس اے کے تحت حراست، عمل میں لائی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے سوپور میں ایک خاتون طالبہ کی جانب سے ایک سینئر لیکچرر پر ہراسانی کے الزامات کے بعد شدید طلبہ احتجاج ہوا تھا۔ جموں و کشمیر حکومت نے اس سینئر لیکچرر کو معطل کر دیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث کئی افراد کو گرفتار بھی کیا۔
سوپور پولیس نے واضح کیا کہ ضلع میں امن و استحکام کو متاثر کرنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پولیس نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حساس حالات کا فائدہ اٹھانے یا عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش پر فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہیں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ والدین اور سماجی رہنماؤں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا5 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 day agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا4 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں و کشمیر4 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
ہندوستان1 week agoاسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا ہندوستان کی جانب سے خیر مقدم، امن کی سفارتی کوششوں کی حمایت





































































































