تازہ ترین
وادی میں خشک مچھلیوں کی مانگ میں اضافہ

ساحل اقبال
سرینگر: آج سے کچھ سال پہلے کشمیر ی مکانات کی دیواروں پر اکثر سبزیوں کے ہار لٹکے ہوئے د یکھنے کو ملا کرتے تھا۔ یہ نہ تو مکان کی خوبصورتی بڈاھنے کے لئے ٹنگے جاتے تھے اور نہ ہی یہ توہم پرستی کا نتیجہ تھا۔ بلکہ سخت سردیوں سے بچنے کا گھریلونسخہ تھا جس کے تحت موسم گرما کے ایام میں لوگ سردیوں کے لئے سبزیاں کے ہار مکانوں کی دیواروں پے خشک ہونے کے لئے ٹانگ دیا کرتے تھے، وادی کی ہڈیوں گلا دینے والی سردی میں یہ سوکھی سبزیوں کسی لزیز پکوان سے کم نہیں سمجھی جاتی تھی
موسم ِگرما اور خزاں میں ہر طرح کی سبزیاں، خاص کر مچھلی، کو ایک لمبی مالا میں پرو کردیواروں پر لٹکانے یاٹوکریوں میں خشک کرنے کے لئے دھوپ میں رکھ دیا جاتا تھا۔ یہ امیر اور غریب یکساں افراد کے لئے ایک سالانہ رواج ہوا کرتاتھا –
وادی کشمیر میں سردیوں کا سخت ترین موسم چلہ کلان‘ عالم شباب پر پہنچتے اور بھاری برف باری ہونے کے ساتھ اج بھی سوکھی سبزیو ں اور خشک مچھلیوں کی مانگ بڑ جاتی ہے۔
وادی کشمیرمیں ’چلہ کلان‘ شروع ہوتے ہی جہاں گرم ملبوسات اور کانگڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے وہیں سوکھی سبزیاں، مچھلیاں اور دالے اہم ترین ضرورت بن جاتی ہیں،جب بھاری برف باری کی وجہ سے لوگ گھروں میں ہی محصور ہو کر رجاتے ہیں۔
وادی میں اگرچہ گذشتہ چند برسوں سے طبی ماہرین کے انتباہ کے پیش نظر خشک سبریوں خاض کر خشک مچھلیوں کی خرید و فروخت میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے لیکن چلہ کلان اپنے تیور دکھاتے ہی لوگوں کے پاس ان خشک سبزیوں اور مچھلیوں کو خریدنے کے علاوہ کوئی اورچارہ ہی نہیں بچتا جس کی وجہ سے ان کی مانگ بھی بڑھ جاتی ہے اور قیمتیں بھی، خشک مچھلیاں اج کل مارکیٹ میں تقریبا 1000 روپے فی کلو فروخت ہوتی ہے۔
حال ہی میں قومی شارہ کچھ دن بند رہنے کی وجہ سے لوگ ایک بار پھراپنی پرانی روایت کی طرف راغیب ہوتے دکھائی دیے، جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد بازاروں میں خشک مچھلیوں کی فروخت کرتی نظر آئے۔
بانڈی پورہ ضلع سے تعلق رکھنے وا لے اعجاز احمدسر ینگر کے گونی کھن علاقے میں خشک مچھلیاں فروخت کرنے والا ایک چھاپڑی فروش ہے، جو چھ قسم کی خشک مچھلیاں فروخت کرتا ہے۔
ہندوستان
سچ جان چکے نوجوانوں کو ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا : کھرگے – راہل

نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے مودی حکومت پر طلبہ کی تحریک کے بعد انتقامی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے نوجوان حکومت کا سچ جان چکے ہیں، اس لیے انہیں اب ڈرا دھمکا کر خاموش نہیں کیا جا سکتا مسٹر کھرگے نے جمعہ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ 10 دن پہلے حکومت نے نوجوانوں پر لاٹھیوں اور پیلٹ گن کا استعمال کیا اور اب تحریک واپس لینے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جا رہی ہے نیز انہیں زبردستی حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت تحریک واپس لینے کے دوران کیے گئے وعدے سے پلٹ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرائے جا رہے ہیں، ان کی ذاتی معلومات عام کی جا رہی ہیں اور حکومت جوابدہی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسے ہتھکنڈے نہیں چلیں گے کیونکہ نوجوان حکومت کا سچ جان چکے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے وزیرِ داخلہ امت شاہ کا استعفیٰ لینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ ‘جین زی’ کو دھمکا کر خاموش نہیں کرا سکتے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے طلبہ پر طاقت کا استعمال کیا گیا اور اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جا رہی ہے نیز ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہٹائے جا رہے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں۔ ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں، اس سلسلے میں محتاط رہیں۔”
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ریلوے بھرتی میں بیماری کی مکمل معلومات دینا لازمی، حقائق چھپانے پر ملازمت منسوخ ہو سکتی ہے
نئی دہلی، ریلوے میں ملازمت کے خواہش مند امیدواروں کے لیے بھرتی کے ضابطے مزید سخت کر دیے گئے ہیں اب ہر امیدوار کو طبی معائنے سے قبل اپنے صحت سے متعلق مکمل معلومات حلف نامے کی صورت میں فراہم کرنا ہوں گی ریلوے بورڈ نے ہندوستانی ریلوے میڈیکل مینوئل کے تحت سیلف ڈیکلریشن فارم کا نیا فارمیٹ نافذ کر دیا ہے، جو آئندہ تمام بھرتیوں میں لازمی ہوگا۔
ریلوے بورڈ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد بھرتی کے عمل کو مزید شفاف اور محفوظ بنانا ہے۔ نئی ہدایات میں اسسٹنٹ لوکو پائلٹ کی بھرتی اور نظر کی اصلاح کے لیے کرائی جانے والی لیزر آنکھوں کی سرجری سے متعلق ضابطے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
نئے ضابطوں کے تحت امیدواروں کو یہ بتانا ہوگا کہ آیا وہ کبھی دل، پھیپھڑوں، دمہ، تپ دق، مرگی، ذہنی امراض یا کسی دیگر سنگین بیماری میں مبتلا رہے ہیں۔ انہیں طویل علاج، اسپتال میں داخلے، سر پر شدید چوٹ یا آنکھوں کی کسی سرجری کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
اس کے علاوہ امیدواروں کو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، بولنے میں دشواری، منشیات یا شراب کے استعمال اور کسی سرکاری ملازمت میں طبی بنیاد پر نااہل قرار دیے جانے سے متعلق معلومات بھی دینی ہوں گی۔
سیلف ڈیکلریشن فارم میں امیدوار کو تصدیق کرنا ہوگی کہ فراہم کردہ تمام معلومات درست اور مکمل ہیں اور اس نے کسی بیماری کی بنیاد پر معذوری کا سرٹیفکیٹ یا پنشن حاصل نہیں کی۔
ریلوے بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار بیماری یا دیگر اہم معلومات چھپاتا ہے یا غلط معلومات فراہم کرتا ہے تو اس کی تقرری فوری طور پر منسوخ کی جا سکتی ہے۔ اگر تقرری کے بعد ایسی معلومات سامنے آئیں تو ملازمت ختم کرنے کے ساتھ ضابطوں کے مطابق ریٹائرمنٹ سے متعلق فوائد بھی روکے جا سکتے ہیں۔
ریلوے حکام کے مطابق نئی پالیسی سے بھرتی کے عمل کی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور حساس عہدوں پر صرف مکمل طور پر طبی لحاظ سے اہل امیدواروں کی تقرری یقینی بنائی جا سکے گی۔
یو این آئی۔ م س
تجزیہ
پاکستان وہ زخم نہیں بھرسکتا: پی او کے کی تاریخ، شناخت اور بقا کا بحران
کرنل گرو سدے بٹابیال (ریٹائرڈ)
نئی دہلی، پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) کو اسلام آباد کی جانب سے طویل عرصے سے نظریاتی وفاداری کی علامت اور کشمیر کے بڑے مسئلے پر اپنے دعوے کی ایک زندہ دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، اس زبانی جمع خرچ کے پیچھے ایک ایسا علاقہ ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے—ایک ایسا زخم جسے وہ بھر نہیں سکتا، ایک ایسا تضاد جسے وہ حل نہیں کر سکتا، اور ایک ایسے عوام جسے اس نے کبھی دل سے نہیں اپنایا۔
پی او کے آج تاریخ اور خواہشات کے درمیان معلق ایک ایسا علاقہ ہے، جسے 1947 کے ہنگامے میں چھینا گیا، غیر حل شدہ ماضی میں منجمد کر دیا گیا، اور جبر، غفلت اور اسٹریٹجک موقع پرستی کے آمیزے کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ پی او کے میں شدید کارروائیوں، مہلک طاقت اور بار بار مواصلاتی نظام کی بندش کے دوران، پاکستانی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ پانچ سال میں اندازاً 75 سے 90 شہری مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔ بار بار ہونے والے احتجاج اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہلاکتوں اور تشدد کے الزامات نے پاکستان کے احتیاط سے بنائے گئے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے، جس سے ایک ایسا گہرا بحران سامنے آیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلام آباد تیار نظر آتا ہے نہ ہی اسکا اہل ہے ۔
اس بحران کی جڑیں 1947 کے موسم خزاں کے پرتشدد واقعہ میں پیوست ہیں، جب پاکستان کی حمایت یافتہ قبائلی ملیشیا نے کشمیر پر حملہ کیا، جس نے مہاراجہ ہری سنگھ کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد پہلی ہند-پاک جنگ (1947–1948) ہوئی، جو پاکستان کے اس علاقے کے حصوں پر قابض ہونے کے ساتھ ختم ہوئی جسے بعد میں “آزاد جموں و کشمیر” اور “گلگت بلتستان” کا نام دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ نے مداخلت کرتے ہوئے جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور رائے شماری کی تجویز پیش کی، لیکن رائے شماری مشروط تھی: پاکستان کو پہلے اپنی افواج واپس بلانی تھیں۔
اس نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں سفارتی باقیات بن گئیں، جن کا انتخابی طور پر حوالہ تو دیا گیا لیکن ان پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔ ہندوستان نے کراچی معاہدے سے لے کر شملہ معاہدے تک بات چیت کی متعدد کوششیں کیں تاکہ ایک دوطرفہ فریم ورک تلاش کیا جا سکے جو خطے کو مستحکم کرے۔ تاہم، پاکستان نے پی او کے پر فوجی اور سیاسی کنٹرول برقرار رکھا، جس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ یہ علاقہ ایک ایسے معلق ماحول میں رہے جہاں نہ تو خود مختاری اور نہ ہی حقیقی آزادی کو کبھی پنپنے دیا گیا۔
پاکستان کے دعوؤں کے باوجود، پی او کے کو کبھی بھی کامل ریاست کا وقار نہیں دیا گیا۔ یہ نہ تو کوئی صوبہ ہے، نہ کوئی ریاست، اور نہ ہی مکمل طور پر خود مختار ادارہ۔ 1974 کے نام نہاد اے جے کے کانسٹی ٹیوشن ایکٹ نے خود حکمرانی کا ایک دکھاوا قائم کیا، لیکن حقیقی اختیار اسلام آباد میں وزارتِ امورِ کشمیر کے پاس ہے۔ بجٹ، سکیورٹی آپریشنز، سیاسی اجازت نامے—سب پی او کے کے باہر سے طے ہوتے ہیں۔ رہنما اس وقت تک انتخابات نہیں لڑ سکتے جب تک وہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی توثیق نہ کریں۔ اختلافِ رائے کو جرم قرار دیا جاتا ہے۔ صحافی خوف کے تحت کام کرتے ہیں۔ سول سوسائٹی پر نظر رکھی جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کا حال اس سے بھی بدتر ہے، جہاں جمہوری قانون سازی کے بجائے انتظامی احکامات کے ذریعے حکومت کی جاتی ہے، اور اس کے لوگوں کو پاکستان کی اسٹریٹجک خواہشات، بشمول چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے لیے مرکزی حیثیت رکھنے کے باوجود سیاسی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ نتیجہ ایک ایسا علاقہ ہے جو آئینی دھندلے پن میں موجود ہے، نہ مربوط نہ بااختیار، نہ آزاد اور نہ ہی مکمل طور پر زیرِ انتظام۔
دہائیوں سے، پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے پی او کے کو سرحد پار عسکریت پسندی کے لیے استعمال کیا۔ انتہا پسند تنظیموں نے اس علاقے میں تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈ چلائے، جس سے پی او کے ایک ایسے فوجی زون میں تبدیل ہو گیا جہاں مقامی آبادی کو شہریوں کے طور پر نہیں بلکہ اسٹریٹجک پالیسی کے آلات کے طور پر دیکھا گیا۔ اس کے نتائج سخت نکلے ہیں: نقل و حرکت پر پابندی کی وجہ سے معاشی جمود، انسدادِ دہشت گردی کی آڑ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اور سیاسی اختلاف کو اکثر “ریاست مخالف” قرار دے کر دبایا جانا۔ پی او کے کے لوگوں نے اس تنازع کی قیمت چکائی ہے جسے انہوں نے خود نہیں چنا تھا، ان کی روزمرہ کی زندگی دور دراز کیے گئے فیصلوں اور قومی حکمتِ عملی کے نام پر جواز پیش کیے جانے والے اقدامات سے متاثر ہوئی۔ یہ علاقہ ایک گھر کے بجائے تنازع کی راہداری اور اپنی خواہشات رکھنے والے معاشرے کے بجائے ایک جیو پولیٹیکل اثاثہ بن گیا۔
پاکستان کے متفقہ وفاداری کے بیانیے کے برعکس، پی او کے نے متعدد بغاوتوں، احتجاجی مظاہروں اور علیحدگی پسند تحریکوں کو دیکھا ہے۔ کچھ گروہ پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں؛ دوسرے ہندوستان کی انتظامیہ کے تحت دستیاب بہتر بنیادی ڈھانچے، مضبوط اداروں اور آئینی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان کے جموں و کشمیر کے ساتھ ضم ہونے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں حالیہ بے چینی اس وقت بھڑک اٹھی جب مقامی انتظامیہ نے 27 جولائی کے علاقائی انتخابات سے قبل ایک مقبول شہری حقوق اور معاشی حقوق کے اتحاد کو بے اثر کرنے کی کوشش کے تحت وسیع انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو کالعدم قرار دے دیا۔
جیسے ہی جے اے اے سی کے حامی پولنگ کے پہلے مرحلے کے دوران پرامن مارچ اور دھرنوں کے ساتھ آگے بڑھے، سکیورٹی فورسز نے گولی چلا دی، جس سے پہلے سے ہی کشیدہ سیاسی ماحول ایک مہلک تصادم میں بدل گیا جس میں تیس سے زائد افراد کی جان چلی گئی۔ پابندی، بیلٹ اور گولیاں ایک ہی تنازع میں بدل گئیں، جس نے ایک ایسے خطے کی ناپائیداری کو بے نقاب کر دیا جہاں اختلافِ رائے کو اکثر جرم قرار دیا جاتا ہے اور انتخابی عمل پر ریاستی طاقت کا سایہ رہتا ہے۔ آج، سوشل میڈیا نے ان آوازوں کو بلند کر دیا ہے جنہیں کبھی دبا دیا گیا تھا، مظفر آباد، راولپنڈی اور میرپور سے آنے والی ویڈیوز میں لوگوں کو کھلے عام پاکستان کی حکمرانی کو چیلنج کرتے اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ متفقہ رضامندی کا مغالطہ ختم ہو چکا ہے؛ اب جو باقی ہے وہ ایک ایسی آبادی ہے جس نے اپنا سیاسی تصور واضح کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس بحران کے مرکز میں ایک بنیادی قانونی اور اخلاقی تضاد ہے۔ پی او کے میں پاکستان کی موجودگی اس کی فوج کے زبردستی قبضے پر مبنی ہے، کسی قانونی الحاق کی دستاویز پر نہیں۔ ہندوستان کا موقف مسلسل اور واضح رہا ہے: پی او کے اکتوبر 1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخط کردہ الحاق کی دستاویز کی بدولت ہندوستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، ایک ایسی دستاویز جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے اور حکومتِ ہند نے اسے خود مختاری کی قانونی بنیاد کے طور پر قبول کیا ہے۔ نئی دہلی کا یہ موقف ہے کہ پی او کے پر پاکستان کا کنٹرول مسلح جارحیت کا نتیجہ ہے، نہ کہ سیاسی رضامندی کا، اور اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ قانونیت اور اس کے لوگوں کی فلاح و بہبود دونوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انسانیت کی خاطر، الحاق کی دستاویز کی قانونی حیثیت کی خاطر، اور پی او کے میں ان بہت سے لوگوں کی واضح طور پر ظاہر کی گئی خواہشات کے لیے جنہوں نے بار بار ہندوستان کے ساتھ انضمام کا مطالبہ کیا ہے، پاکستان کو اس سچائی کا سامنا کرنا چاہیے جس سے وہ دہائیوں سے بھاگتا رہا ہے۔ طاقت کے ذریعے رکھے گئے علاقے کو نعروں کے ذریعے مستحکم نہیں کیا جا سکتا؛ جس عوام سے وقار چھین لیا گیا ہو، انہیں جبر سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسلام آباد سچ مچ امن اور پی او کے کے لوگوں کی فلاح و بہبود چاہتا ہے، تو اسے اس انتخاب کی اجازت دینی چاہیے جس کی طرف تاریخ، قانون اور زندہ تجربہ واضح اشارہ کرتے ہیں۔
اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے باوجود، پی او کے پاکستان کے کنٹرول کے تحت سب سے کم ترقی افتہ علاقوں میں سے ایک ہے۔
سڑکیں، ہسپتال اور اسکول قومی اوسط سے پیچھے ہیں۔ بجلی کی قلت دائمی ہے، حالانکہ اس علاقے میں پن بجلی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ روزگار کے مواقع نایاب ہیں۔ خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کا تحفظ کمزور ہے۔ سی پیک، جسے کبھی ایک انقلابی منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، خوشحالی کے بجائے فوجی چیک پوسٹیں لے کر آیا ہے۔ مقامی برادریوں کا گلہ ہے کہ چینی کمپنیاں وسائل نکالتی ہیں جبکہ رہائشیوں کو کچھ نہیں دیتیں۔ گلگت بلتستان کی معدنی دولت—سونا، یورینیم، نایاب دھاتین —مقامی فائدے کے بغیر استعمال کی جا رہی ہے۔ ترقی کا یہ خسارہ اتفاقی نہیں ہے؛ یہ ساختی ہے، جو حکمرانی کے ایک ایسے ماڈل میں پیوست ہے جو فلاح و بہبود پر کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے۔ پی او کے کے ساتھ ایک بفر زون کی طرح سلوک کیا گیا ہے، مستفید ہونے والے کے طور پر نہیں۔ پی او کے میں جنم لینے والا انسانی بحران سست، مسلسل اور بیرونی دنیا کے لیے کافی حد تک پوشیدہ ہے۔ لوگوں کو محدود شہری آزادیاں، آئینی حقوق کی عدم دستیابی، معاشی محرومی، سکیورٹی ریاست کا جبر اور سیاسی حقوق سے محرومی کا سامنا ہے۔ حالیہ ہلاکتیں پاکستان کے کنٹرول کی کمزوری کو اجاگر کرتی ہیں۔
جب کسی ریاست کو ووٹنگ کرانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے، تو قانونی حیثیت پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ بحران عارضی نہیں؛ یہ ساختی ہے۔ یہ کوئی عارضی خلل نہیں ہے؛ یہ حکمرانی اور تصور کی طویل مدتی ناکامی ہے۔ پی او کے کے لوگ دہائیوں سے ایک ایسے سیاسی نظام میں زندگی گزار رہے ہیں جو ان سے ان کی خود مختاری، شناخت اور وقار چھینتا ہے۔
پی او کے صرف ایک علاقائی تنازع نہیں ہے؛ یہ چھوڑ دیے جانے، جبر اور لچک کی ایک انسانی کہانی ہے۔ اس علاقے کو سیاسی، معاشی یا اخلاقی طور پر مربوط کرنے میں پاکستان کی ناکامی نے اسے ایک ساختی کمزوری میں بدل دیا ہے—ایک ایسا کمزور نقطہ جو زبانی جمع خرچ اور حقیقت کے درمیان کے فرق کو بے نقاب کرتا ہے۔ پی او کے کے لوگوں نے بہت طویل عرصے تک تکلیف اٹھائی ہے۔ ان کی آوازیں، نہ کہ ریاستوں کی خواہشات، حتمی فیصلے کی تشکیل کریں۔ پاکستان سے شدید عدم اطمینان کا مسلسل ثبوت موجود ہے، اور آبادی کا ایک بڑا حصہ پاکستانی کنٹرول کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
چاہے وہ خود مختاری کا انتخاب کریں یا ہندوستان کا، فیصلہ ان کا ہونا چاہیے—بغیر کسی پابندی، خوف اور جوڑ توڑ کے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
دنیا7 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
دنیا1 week agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoامریکہ سعودی جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ
دنیا1 week agoامریکی حملے جاری رہے تو نئی حکمتِ عملی اپنائیں گے: ایران کا انتباہ
جموں و کشمیر22 hours agoپاکستان سے دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے والے پانچ دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم
دنیا1 week agoہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی نہیں بیچ سکے گا: باقر قالیباف


































































































