جموں و کشمیر
پدم شیری ایوارڈ یافتہ غلام محمد میر عرف ’ممہ کنا‘ بھاجپا میں شامل

سری نگر،پدم شری ایوارڈ یافتہ غلام محمد میر نے بدھ کے روز بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔
بی جے پی کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پدم شری ایوارڈ یافتہ غلام محمد میرنے بدھ کو بھارتیہ جنتاپارٹی کا دامن تھام لیا۔
انہوں نے کہاکہ میر کی شمولیت سے آئندہ لوک سبھا چناو سے قبل پارٹی مزید مضبوط ہوگی ۔
جموں وکشمیر کے بڈگام میں ضلع صدر حکیم روح اللہ غازی کی موجودگی میں غلام محمد میر نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔
غلام محمد میر عرف مومہ کنا کو فوج کے ساتھ کام کرنے کے صلے میں سال 2010میں ملک کے سب سے بڑے سیول ایوارڈ پدم شری سے نوازا گیا۔
بی جے پی نے پدم شری ایوارڈ یافتہ غلام محمد میر کے بھاجپا میں شامل ہونے کو نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بی جے پی میں آمد سے پارٹی مزید مستحکم ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران جموں وکشمیر میں سینکڑوں کی تعداد میں ذی عزت شہریوں اور سیاستدانوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔
بی جے پی ضلع صدر بڈگام حکیم روح اللہ غازی نے غلام محمد میر کی پارٹی میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر اطمینان کا اظہارکیا ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں کے بیس کیمپ سے دو ہزار سے زائد امرناتھ یاتری روانہ
جموں، شدید بارش کے باوجود بدھ کے روز دو ہزار سے زائد شری امرناتھ یاتری جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے جنوبی کشمیر کے ہمالیائی سلسلے میں واقع مقدس غار کی جانب روانہ ہوئے۔
سرکاری حکام کے مطابق 2,051 یاتریوں کا قافلہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان 82 گاڑیوں میں بالتل بنیادی کیمپ کے لیے روانہ ہوا۔حکام نے بتایا کہ آج پہلگام راستے کے لیے کسی بھی یاتری قافلے کو روانہ نہیں کیا گیا۔
سالانہ امرناتھ یاترا 28 اگست کو رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔اب تک چار لاکھ سے زائد عقیدت مند مقدس غار میں درشن دے کر مذہبی رسومات ادا کر چکے ہیں۔
19 جولائی کو جموں و کشمیر کے لیے جاری کیے گئے موسمی انتباہ، خصوصاً مقدس غار تک جانے والے پہلگام اور بالتل کے دونوں راستوں کے پیش نظر، احتیاطی تدبیر کے طور پر یاترا عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں 25 جولائی کو یاترا دوبارہ شروع کر دی گئی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب حادثاتی دھماکے میں فوج کے دو جوان زخمی
سری نگر، جموں و کشمیر کے اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب منگل کے روز ایک حادثاتی دھماکے میں ہندوستانی فوج کے دو جوان زخمی ہو گئے۔ یہ اطلاع افسران نے دی۔
حکام کے مطابق یہ حاڈثۃ اُڑی سیکٹر کے کمل کوٹ علاقے میں پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکہ مکمل طور پر حادثاتی نوعیت کا تھا، جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔
حکام نے کہا، “دونوں زخمی جوانوں کو فوری طور پر خصوصی طبی علاج کے لیے فضائی راستے سے سری نگر کے بادامی باغ میں واقع فوج کے بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔”
حکام نے واضح کیا کہ یہ دھماکہ ایک حادثہ تھا اور اس کا سرحد پار سے ہونے والی کسی فائرنگ یا دہشت گردانہ سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خبر لکھے جانے تک ہندوستانی فوج کی جانب سے اس حادثہ کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔
یواین آئی ۔اے ایم ۔ایف اے
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے الزام میں دو افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے بارہمولہ ضلع میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان پر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے، واقعے کی ویڈیو بنانے اور شکایت درج کرانے کی صورت میں متاثرہ خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکی دینے کا الزام ہے۔
بارہمولہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گُریندر پال سنگھ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ متاثرہ خاتون نے 25 جولائی کو بارہمولہ پولیس سے رابطہ کر کے واقعے کی شکایت درج کرائی تھی۔ یہ واقعہ 3 جولائی کو جلشیری-ڈرنگبل علاقے میں پیش آیا تھا۔
ایس ایس پی کے مطابق خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ سیر کے لیے اس علاقے میں گئی تھی، جہاں دو نامعلوم افراد ان کے پاس آئے، انہیں ہراساں کرنا شروع کیا اور ان کی ویڈیو بنانے لگے۔
گُریندر پال سنگھ نے بتایا، “ملزمان نے جوڑے کو تشدد کا نشانہ بنایا، نوجوان کو وہاں سے بھگا دیا اور اس کے بعد باری باری خاتون کے ساتھ عصمت دری کی۔ انہوں نے اس دوران اپنے موبائل فون سے پورے واقعے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور پھر موقع سے فرار ہو گئے۔”
ایس ایس پی کے مطابق متاثرہ خاتون ملزمان کی شناخت نہیں کر سکی، تاہم اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ واقعے کے دوران دونوں افراد ایک دوسرے کو “شاکر” اور “اشرف” کے نام سے پکار رہے تھے۔
شکایت موصول ہونے کے بعد بارہمولہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خاتون پولیس افسر میناکشی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔
بارہمولہ ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شاہجہاں چودھری نے کہا کہ ملزمان کی شناخت ایک بڑا چیلنج تھی کیونکہ واقعے کے 22 دن بعد شکایت درج کرائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تکنیکی شواہد اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کیا۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
دنیا7 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
ہندوستان6 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا7 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان7 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج






































































































