تازہ ترین
پنچایتی انتخابات:مکمل ہڑتالی کال کے نتیجے میں معمولات زندگی متاثر ،پولنگ زدہ علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات معطل

خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر میں 7برس کے بعد منعقد ہوئے پنچایتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے موقعے پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتالی کال کے پیش نظر سنیچر کو سرینگر سمیت وادی کے سبھی اضلاع میں معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے جس دوران یہاں عوامی، تجارتی، کاروباری، تعلیمی و غیر سرکاری معمولات متاثر رہے۔ اطلاعات کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک کی طرف سے پنچایتی انتخابات کے پیش نظر عوام سے مکمل ہڑتال کی اپیل کے بیچ سنیچر کووادی کے سبھی اضلاع میں زندگی کی جملہ سرگرمیاں متاثر رہیں تاہم اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
ہڑتالی کال کے نتیجے میں شہر سرینگر کے تواریخی مرکز لعل چوک میں تمام قسم کی تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں جس کے نتیجے میں یہاں دن بھر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے لعل چوک، جہانگیر چوک، مہاراجہ بازار، گونی کھن، پولو ویو، ریذیڈنسی روڑ، ایم اے روڑ، ڈلگیٹ، بتہ مالو جیسے تجارتی مراکز ہڑتالی کال کے باعث بند رہے جس دوران یہاں زندگی کی سرگرمیاں ماند دکھائی دے رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا شہر کے مضافاتی علاقوں میں بھی تمام قسم کی سرگرمیاں متاثر رہی جس دوران یہاں دن بھر سڑکوں پر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ ادھر ہڑتالی کال کے نتیجے میں سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل مکمل طور پر مسدود رہی تاہم چند ایک مقامات پر نجی گاڑیوں کو سڑکوں پر چلتے ہوئے دیکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ شہر سرینگر کے حساس مقامات پر انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے پولیس اور سی آر پی ایف کے اضافی دستوں کو تعینات کیا تھا جبکہ فورسز کی جانب سے شہر کے بیشتر مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں جہاں راہ چلتے لوگوں اور گاڑیوں کی تلاشی عمل میں لائی جارہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ شہر سرینگر میں سنیچر کے روز دن بھر کئی مقامات پرموٹر سائیکل سواروں کو روک کر ان کے دستاویز چیک کئے جارہے تھے۔ ادھر ضلع بڈگام اور گاندربل میں بھی ہڑتالی کال کا اثر دکھائی دے رہا تھا جس دوران یہاں معمولات زندگی متاثر رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹراسپورٹ مکمل طور پر غائب رہا۔ مزاحتمی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتالی کال کے نتیجے میں جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ میں بھی زندگی کی جملہ سرگرمیاں ٹھپ رہیں جب کہ سڑکوں سے گاڑیوں کی آواجاہی بری طرح متاثر رہی۔ نمائندے کے مطابق ہڑتال کی وجہ سے یہاں تجارتی مراکز میں خاموشی چھائی رہی جبکہ عوام الناس نے بھی گھروں میں بیٹھنے کو روجیح دی۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ، ترال، کولگام، شوپیان اور بجبہاڑہ سے تعلق رکھنے والے حساس مقامات پر انتطامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کیا ہوا تھا تاہم اس دوران کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ شمالی کشمیر کے کپوارہ ، بانڈی پورہ اور بارہمولہ اضلاع میں بھی ہڑتال کا خاصا اثر رہا جس دوران یہاں دوکانات اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی۔اطلاعات کے مطابق وادی کے سبھی اضلاع میں ہڑتالی کال کے نتیجے میں سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی جس کے نتیجے ان دفاتر میں کام کاج بری طرح متاثر رہی۔
اس دوران انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے پولنگ زدہ علاقوں میں پولیس و سی آر پی ایف کے خصوصی دستے تعینات کئے تھے جبکہ بڈگام، بانڈی پورہ اور بارہمولہ اضلاع میں افواہ بازی پر لگام کسنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروس کی تیز رفتار سروس کو 2Gسروس میں تبدیل کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بے لگام افواہ اور امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے سنیچر کو بڈگام، بانڈی پورہ اور بارہمولہ کے تحت آنے والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی تیز رفتار سروس کو بند کیا تھا تاہم سرحدی ضلع کپوارہ میں انٹرنیٹ خدمات کو مکمل طور پر مسدود کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجہ سے طلبا اور تاجر پیشہ افراد نے حکومتی اقدام کے خلاف سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ ادھر ریلوے حکام نے بھی ریلوے جائیداد اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر بارہمولہ سے بانہال تک چلنے والی ریل سروس کو ہڑتالی کال کے پیش نظر معطل رکھا تھا۔
دنیا
واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، ایران نے مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کر دیا
تہران، ایران نے امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ نہیں، واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا ارادہ نہیں ہے۔
ترجمان نے کہا موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں ہے، امریکہ ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا، امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کے نتائج بھی بہتر نہیں ہوں گے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ کی غلطیوں کا تسلسل خطے کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، غلط پالیسیوں سے کبھی مثبت نتائج نہیں نکل سکتے، امریکہ کی روش خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے رہی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے اقدامات خطے میں استحکام کی بجائے بحران بڑھا رہے ہیں، امریکہ میڈیا کے ذریعے متضاد بیانات دے رہا ہے جب کہ ہم نے ایک ہی مؤقف رکھا ہے، ہماری شرائط لاجک پر مبنی ہیں اور کچھ میڈیا ایسا دعویٰ کر رہا ہے جس کا اصل سے کوئی تعلق نہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں کر سکتا، وہ اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر انحصار کر رہا ہے، ماضی میں بھی امریکہ نے معاہدوں کے منافی اقدامات کیے۔ امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، امریکی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارت کاری میں ان کی دل چسپی نہیں ہے، ایسے میں ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔
ترجمان نے کہا کہ ایران کے قومی مفادات کسی ملک کی بدمعاشی پر قربان نہیں کر سکتے، پاکستان کو بطور ثالث امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کر دیا، پاکستان نے امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایران پر جارحیت کے لیے امریکہ نے پڑوسی ممالک کے اڈے استعمال کیے۔ انھوں نے کہا ایران نے 10 نکاتی تجویز پیش کی تھی جس پر اسلام آباد ٹاکس میں غور کیا گیا، امریکہ نے لبنان میں جنگ بندی کو سیز فائر معاہدے کا حصہ ماننے سے انکار کیا، امریکہ نے بحری ناکہ بندی نافذ کر کے کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، ایرانی جہاز پر حملہ جنگ بندی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اس نے مذاکراتی عمل کی 2 بار خلاف ورزی کی، لبنان میں جنگ بندی کی بنیاد پر ہی ہم نے آبنائے ہرمز کو کھولا تھا، لیکن ہم نے امریکی بددیانتی کے کئی اقدامات دیکھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے امریکہ جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ایرانی مسلح افواج کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا افزودہ یورینیم کی منتقلی سے متعلق امریکہ نے میڈیا میں بہت باتیں کیں، جب کہ مذاکراتی دور میں اس نے افزودہ یورینیم کی منتقلی سے متعلق بات ہی نہیں کی تھی۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن ایران کی سائنسی میدان میں ترقی نہیں دیکھنا چاہتے، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایران کی عوام کا بھی سائنسی میدان میں ترقی حق ہے، ایران کی ترقی روکنے کے لیے دشمن نے ہماری یونیورسٹیوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
واشنگٹن، فاکس نیوز سنڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کرس رائٹ نے کہا کہ عوامی سطح پر باتیں سامنے آنے کے باوجود ایرانیوں سے مذاکرات جاری ہیں میرے خیال میں یہ مذاکرات درحقیقت اچھی پیشرفت ہیں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ تخلیقی مذاکرات کار ہیں جو مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالتے ہیں ٹرمپ غیریقینی صورتحال کو بھی ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس تنازع کا ایک اچھا اختتام ہو گا۔
کرس رائٹ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد بحری جہازرانی کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلیے اپنا وفد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے بڑی شرط رکھ دی۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تاحال اسلام آباد میں مذاکراتی وفد بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکا کی بحری ناکہ بندی برقرار ہے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد حالیہ دنوں میں ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کانگریس نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ، پاکستان کے ‘بڑھتے ہوئے سفارتی کردار’ پر متنبہ کیا
نئی دہلی ، کانگریس نے پیر کے روز مرکز کی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعے یہ الزام لگایا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک سخت بیان میں رمیش نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور انہوں نے اسے اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت قرار دیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پہلے کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک کو ہمارے عالم اور ہمیشہ خوش لباس وزیر خارجہ نے ‘دلال’ قرار دیا تھا، وہ مبینہ طور پر آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔
رمیش نے پاکستان کی نازک معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ اس ملک نے حال ہی میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر ادھار لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت واضح طور پر مشکل میں ہے اور اس کا انحصار دوست ممالک کی خیرات پر ہے، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا اور اس سلسلے میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور پہلگام دہشت گردانہ حملے سمیت ماضی کے دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے رمیش نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پاکستان پر مستقل بین الاقوامی دباؤ بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی مشغولیت کے انداز اور بیانیے کے انتظام نے پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔
سابقہ یو پی اے حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے رمیش نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں زیادہ کامیاب رہے تھے۔
رمیش نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کی بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی پذیرائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منیر کے ریمارکس نے خطے میں تناؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت ہندوستان کے لیے ایک خاصا سنگین دھچکا ہے۔ رمیش نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ فیلڈ مارشل اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے خاندان اور ساتھیوں کے ایکو سسٹم کو ہندوستان کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں، اور انہوں نے اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ‘تاریخی ناکامی’ قرار دیا۔ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی میں مکمل تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ موجودہ قیادت مطلوبہ تبدیلی لانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر7 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا7 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا7 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
دنیا3 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ




































































































