کھیل
کرسن گھاؤری :وہ گیند باز جس کے باؤنسروں نے پوری دنیا کے بلے بازوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا

نئی دہلی، ہندستان کرکٹ ٹیم میں یوں تو ہمیشہ سے ہی بہترین گیند بازوں نے اپنی شاندار کارکردگی پیش کی ہے۔ ہاں یہ حقیقت ہےکہ اسپن گیند بازوں نے تو اپنی سرزمین کے علاوہ غیر ملکی میدانوں پر بھی بلے بازوں کا ناک میں دم کررکھا تھا۔ ایک وقت ایسا تھا جب ہندستانی ٹیم میں ایک یا دو میڈیم گیند باز ہوا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہندستانی ٹیم میں بھی بدلاؤ آیا اور تیز گیند بازوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ 28 فروری 1952 کو گجرات کے راجکوٹ میں پیدا ہوئے کرسن گھاوری نے ہندستانی ٹیم کی اس کمی کو ایسا پورا کیا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ گھاوری،ہندستانی ٹیم میں ایک ایسے تیز گیند باز کے طور پر ابھرے جی جنہیں ہندستانی ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹ لینے والے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
سابق ہندوستانی فاسٹ بولر کرسن دیوجی بھائی گھاوری نے 70 کی دہائی میں میڈیم فاسٹ باؤلر اور جارحانہ بلے باز کے طور پر اپنی بے مثال کارکردگی سے سب کی توجہ مبذول کرائی۔ان کی بہترین کارکردگی کے بعد میں انہیں ہندوستانی ٹیم میں جگہ مل گئی۔
کرسن گھاوری اور کپِل دیو کی جوڑی اپنے وقت کی سپرہٹ مانی جاتی تھی۔ایک طرف کپِل کی تپی تلی گیند بازی تو دوسری طرف کرسن گھاؤری کی تیز گیند بازی،جنہوں نے اپنے باؤنسروں سے بلے بازوں کاناک میں دم کررکھا تھا۔ہندستان اس زمانے میں تیز گیند بازوں کی سخت ضرورت تھی پھر بھی اس تیز گیند باز کا کیریئر زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکا۔
کرسن گھاوری ایسے وقت میں ہندوستانی ٹیم میں شامل ہوئے جب ملک میں اتنے تیز گیند باز موجودنہیں تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ٹیم انڈیا کے پاس ایراپلی پرسنا، بشن سنگھ بیدی اور بھاگوت چندر شیکھر جیسے عظیم اسپنر تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ ٹیم نے کئی میچز جیتے۔ لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ ان عظیم اسپنرز کی کارکردگی کام نہ آئی۔ اور ایک تیز گیند باز کو اسپن بولنگ کرکے ٹیم کو جیتنے میں مدد کرنی تھی۔
ان کے دور میں اسپنرز کا غلبہ تھا۔ ایسے میں کرسن نے اپنی تیز گیندبازی سے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ اپنی تیز رفتار گیند بازی، باؤنسر اور گیند کو اس طرح ان سوئنگ اور آؤٹ کرانے کے ہنر نے کرسن گھاؤری کو گیند بازی کے شعبے میں ایک الگ شناخت دلائی۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 1975 میں کھیلا۔ کولکتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں، گھاوری کل 2 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
ہندستان یہ میچ 85 رنوں سے جیتنے میں کامیاب رہا۔گھاوری کی اپنے کرکٹ کیرئر میں سب سے کامیاب سیریز سال 1978میں ویسٹ انڈیز کے خلاف رہی جب انہوں نے اپنی بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 27 وکٹیں حاصل کیں۔
ہندستانی ٹیم میں کرسن گھاوری ایک ایسے گیند بازتھے کہ جب بھی ٹیم کسی مشکل میں آتی تواور ٹیم کو اس بحران میں جب بھی ان کی ضرورت پڑی تو ٹیم کے کپتان گھاوری کو محاذ پر لگا دیتے تھے اور گھاوری اس بحران سے ٹیم کو نکال کر جیت کی دہلیز تک لے آتے۔ اسی لئے انہیں کپتان کا رائٹ ہینڈ مین کہا جاتا تھا۔سال 1974 میں ہندوستان کے لیےکرسن نے ڈیبیو کیا تو اسپنرز غالب تھے۔ لیکن انہوں نے ٹیم میں اپنے کردار کو سمجھا اور مدن لال کے ساتھ ایک مفید شراکت داری قائم کی۔ گھاوری گیند بازی کے علاوہ نچلے آرڈر میں بلے میں بھی کارآمد ثابت ہوئے۔ ضرورت پڑنے پر ایک بلے باز کی مانند شاٹ بھی مارتے ورنہ کریز کے دوسرے حصہ پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہتے تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے لئے چار بار پانچ وکٹ لینے کا کارنامہ انجام دیا لیکن بدقسمتی سے ہندوستان ان میچوں میں ایک بار بھی نہیں جیت سکا۔
جب انگلینڈ کی ٹیم سال 1976 میں ہندوستان کے دورے پر آئی تو بشن سنگھ بیدی کو انجری کے باعث ایک میچ سے باہر جانا پڑا۔ ایسے میں نائب کپتان سنیل گواسکر نے ذمہ داری لی۔اس کے بعد گواسکر نے گھاؤری کو گیند تھما دی اور انہیں اسپن گیند کرنے کو کہا۔ گھاؤری نے اسپن گیند بازی کی اور تقریباً سات آٹھ اوور کرائے ۔اسپن میں بھی انہوں نے اپنی مہارت دکھائی اور شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ گھاوری ایک ایسے وقت میں ہندوستانی ٹیم میں شامل ہوئے جب اسپنرگیند بازوں کا بول بالا تھا۔ اور تیز گیند باز بہت کم ہی سے ٹیم کا حصہ ہوا کرتے تھے۔
اپنی پہلی سیریز میں، انہوں نے ممبئی میں تیسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 140 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ وہ واحد ہندوستانی گیند باز تھے جو اس میچ میں کامیاب رہے۔ تاہم، انہیں ٹیم انڈیا میں خود کو مستحکم کرنے میں تقریباً دو برس لگ گئے۔ سال 1976 کے بعد ان کو ٹیم میں شمولیت ملی۔ اس سال انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز میں 27 وکٹیں حاصل کیں۔ اس سیریز میں انہوں نے بنگلور میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں 51 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
سال 1978 کے دورہ آسٹریلیا کے دوران کرسن نے سڈنی کی ایک مشکل پچ پر 64 رن بنائے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان ایک اننگز اور 2 رنوں سے یہ جیت گیا تھا۔ 1979 میں ممبئی ٹیسٹ میں انہوں نے ایک بار پھر آسٹریلیا کو شکست دینے میں موثر کردار ادا کیا۔ یہاں وہ 9ویں نمبر پر بلے بازی کرنے آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سید کرمانی کے ساتھ 8ویں وکٹ کے لیے 127 رن کی ریکارڈ شراکت قائم کی۔ جس کی وجہ سے ہندستان نے آٹھ وکٹوں پر 458 رنز بنانے کے بعد اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا۔
کرمانی نے ناقابل شکست 101 رنز بنائے جبکہ گھاوری نے 86 رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا سکور تھا۔ ہندستان نے یہ میچ ایک اننگز اور 100 رنوں سے جیت لیا تھا۔
سال 1981 میں آسٹریلیا کے دورے پر انہوں نے پھرایک بار بہترین گیند بازی کا نمونہ پیش کیا اور تین ٹیسٹ میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔ بیرون ملک ٹیسٹ میں یہ ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ میلبورن میں انہوں نے 107 رن دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ گھاوری نے 1975 اور 1979 کے ورلڈ کپ کھیلے۔ لیکن ان میچوں میں انہیں زیادہ کامیابی نہیں مل پائی۔ وہ آخری بار 1981 میں ہندوستان کے لیے کھیلے تھے۔
کرسن گھاوری نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1974 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کیا۔ انہوں نے ایڈن گارڈن اسٹیڈیم میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں دو وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے پہلی اور دوسری اننگز میں ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ گھاوری نے دوسری اننگز میں بھی بلے بازی میں اہم کردار ادا کیا۔ آٹھویں نمبر پر کھیلتے ہوئے انہوں نے 27 رنز بنائے۔ ہندستان نے اس میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم 85 رنز سے بڑی جیت درج کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس میچ میں ٹیم انڈیا کی قیادت نواب پٹودی کر رہے تھے۔
ایک میچ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے بہت یادگار ہوتا ہے۔ لیکن صرف منتخب کھلاڑی ہیں جن کی پوری سیریز یادگار بن جاتی ہے۔ گھاوری کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم 1978-79 میں ہندوستان کے دورے پر آئی تھی۔ گھاوری نے کیریبین ٹیم کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا ۔ انہوں نے 6 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 27 وکٹیں حاصل کیں جو کہ اس وقت ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم کے خلاف ایک بڑی بات تھی۔ کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی بلے باز گھاوڑی کے باؤنسر سے بہت ڈرتے تھے۔
گھاوری نے ہندوستان کے لیے 39 ٹیسٹ میچوں میں 913 رنز بنائے، جس میں ان کا بہترین اسکور 86 رہا۔ ان رنوں میں ان کی دو بہترین نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔19 ون ڈے میچوں میں انہوں نے114 رن بنائے ۔ 39ٹیسٹ میں انہوں نے 109 وکٹیں حاصل کیں۔جبکہ ایک روزہ 19 میچوں میں انہوں نے 15 وکٹیں لیں۔ ٹیم انڈیا میں ان کا کردار یوٹیلیٹی پلیئر کا تھا۔ یوٹیلیٹی پلیئر کا مطلب ہے وہ کھلاڑی جو ضرورت کے مطابق کہیں بھی کھیل سکتا ہو۔ کبھی انہیں تیز باؤنسرز گیند کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا تو کبھی اسپن بولنگ کرنے کے لیے انہیں آزمایا جاتا تھا۔گھاوری نے اپنا ٹسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف 27 دسمبر 1974 میں اور آخری ٹسٹ میچ 6 مارچ کو کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔
کرسن گھاوری ٹیسٹ میچوں میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے ہندوستانی تیز گیند باز ہیں۔ ان سے پہلے کوئی بھی تیز گیند باز یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا تھا۔ تاہم اس بڑے کارنامے کو حاصل کرنے کے بعد ان کا کیریئر جلد ہی پٹڑی سے اتر گیا۔ کرکٹ سے سبکدوشی کے بعد انہوں نے کوچنگ کا رخ کیا۔ وہ سوراشٹرا کے کوچ بھی بنے۔
یو این آئی، ایم جے
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
کھیل
میسی ورلڈ کپ کی تاریخ کے ٹاپ اسکورر بنے
ڈلاس، کلب اور قومی ٹیم کے لیے 750 سے زائد سینئر گول کر چکے ارجنٹینا کے لیونل میسی فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
میسی فیفا ورلڈ کپ میں 28 میچوں میں 17 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوز (24 میچوں میں 16 گول) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ارجنٹینا کے لئے آسٹریا کے خلاف پہلا ہاف تاریخی ثابت ہوا۔ ابتدا میں گھبراہٹ کے باعث لیونل میسی نے ایک پنالٹی مس کی اور ایک اور موقع گنوا دیا، لیکن ارجنٹینا کے کپتان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میروسلاو کلوزکا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ میسی کے اس یادگار گول کی بدولت موجودہ چیمپئن ارجنٹینا کو ہاف ٹائم تک 1-0 کی برتری دلائی۔
میسی نے الجیریا کے خلاف ارجنٹینا کی گزشتہ ہفتے 3-0 سے جیت میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی۔
میسی فٹ بال ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے لیے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ ان میں سے سات گول قطر میں ہوئے 2022 فیفا ورلڈ کپ میں کئے تھے، جسے ارجنٹینا نے جیتا تھا۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 201 میچوں میں 121 گول کیے ہیں، جس سے وہ ارجنٹینا کے لئے اب تک کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں کی فہرست میں بھی میسی دوسرے نمبر پر ہیں، ان سے آگے صرف ان کے حریف کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔
میسی سے پہلے، گیبریل بٹسٹوٹا (12 میچوں میں 10 گول) فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے۔ ڈیاگو میراڈونا (21 میچز) اور یوراگوئے 1930 کے گولڈن بوٹ کے فاتح گیلرمو سٹیبیل (چار میچز) نے آٹھ آٹھ گول کئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں بھی لیونل میسی کا گول کرنے کا ریکارڈ شاندار رہا ہے، انہوں نے 72 میچوں میں 36 گول کئے ہیں۔
لیونل میسی کا پہلا فیفا ورلڈ کپ گول
لیونل میسی نے 2006 میں جرمنی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہیمبرگ کے ورلڈ کپ اسٹیڈیم میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف ارجنٹینا کے گروپ سی کے دوسرے میچ میں اپنا پہلا ورلڈ کپ گول کیا تھا۔ اپنی ٹیم کو گروپ کے پہلے میچ میں آئیوری کوسٹ کے خلاف 2-1 سے جیتتے ہوئے بنچ سے دیکھنے کے بعد، لیونل میسی نے اگلے میچ میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف 75ویں منٹ میں متبادل کے طور پر میدان پر اتر کر اپنا ورلڈ کپ ڈیبیو کیا۔ اس وقت ارجنٹینا پہلے سے ہی 3-0 سے آگے تھا اور اپنے ڈیبیو کے صرف تین منٹ بعد ہی، لیونل میسی نے ہرنان کریسپو کی مدد سے ارجنٹینا کے لئے میچ کا چوتھا گول کیا۔ 88ویں منٹ میں کارلوس تیویز کے پاس پر میسی نے گول کیا اور مخالف ٹیم کے گول کیپر کو نیئر پوسٹ پر چھکاتے ہوئے 6-0 کی بڑی جیت پکی کی۔
جاری یواین آئی۔الف الف
دنیا6 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا7 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا6 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر6 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان5 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل








































































































