جموں و کشمیر
کٹھوعہ انکاؤنٹر:عمر عبداللہ، سریندر چودھری نے پولیس اہلکار جگبیر سنگھ کی میت پر پھول مالائیں چڑھائیں

جموں، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے ہفتے کو ضلع پولیس لائنز جموں میں کٹھوعہ انکائونٹر میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار جگبیر سنگھ کی میت پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری ہفتے کی صبح ضلع پولیس لائنز جموں پہنچے اور وہاں جگبیر سنگھ کی میت پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔
پولیس ہیڈ کانسٹبل جگبیرسنگھ کٹھوعہ انکائونٹر کے دوران جاں بحق ہوئے۔جگبیر سنگھ کا تعلق جموں کے اکھنور سب ڈویژن کے کھور تحصیل کے مٹو گائوں سے ہے۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نالین پربھات نے جمعہ کی شام میڈیا کو بتایا کہ کٹھوعہ کے جنگلاتی علاقے میں انکائونٹر کے دوران چار پولیس اہلکار شہید ہو گئے جبکہ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو ملی ٹینٹ بھی مارے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں ملی ٹینٹ مخالف آپریشن جاری ہے اور ہفتے کی دوپہر تک صورت حال مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔
کٹھوعہ کے جنگلاتی علاقے میں جمعرات کی صبح سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے درمیان تصادم چھڑ گیا تھا۔ذرائع کے مطابق تصادم چھڑنے کے بعد سیکورٹی فورسز کے دستوں نے کئی کلومیٹر جنگلی علاقے کو پوری طرح سے سیل کردیا۔انہوں نے کہا کہ ملی ٹنٹوں کو بے اثر کرنے کے لئے ہیلی کاپٹروں، کواڈ کاپٹروں اور ڈرون کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے الزام میں دو افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے بارہمولہ ضلع میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان پر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے، واقعے کی ویڈیو بنانے اور شکایت درج کرانے کی صورت میں متاثرہ خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکی دینے کا الزام ہے۔
بارہمولہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گُریندر پال سنگھ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ متاثرہ خاتون نے 25 جولائی کو بارہمولہ پولیس سے رابطہ کر کے واقعے کی شکایت درج کرائی تھی۔ یہ واقعہ 3 جولائی کو جلشیری-ڈرنگبل علاقے میں پیش آیا تھا۔
ایس ایس پی کے مطابق خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ سیر کے لیے اس علاقے میں گئی تھی، جہاں دو نامعلوم افراد ان کے پاس آئے، انہیں ہراساں کرنا شروع کیا اور ان کی ویڈیو بنانے لگے۔
گُریندر پال سنگھ نے بتایا، “ملزمان نے جوڑے کو تشدد کا نشانہ بنایا، نوجوان کو وہاں سے بھگا دیا اور اس کے بعد باری باری خاتون کے ساتھ عصمت دری کی۔ انہوں نے اس دوران اپنے موبائل فون سے پورے واقعے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور پھر موقع سے فرار ہو گئے۔”
ایس ایس پی کے مطابق متاثرہ خاتون ملزمان کی شناخت نہیں کر سکی، تاہم اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ واقعے کے دوران دونوں افراد ایک دوسرے کو “شاکر” اور “اشرف” کے نام سے پکار رہے تھے۔
شکایت موصول ہونے کے بعد بارہمولہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خاتون پولیس افسر میناکشی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔
بارہمولہ ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شاہجہاں چودھری نے کہا کہ ملزمان کی شناخت ایک بڑا چیلنج تھی کیونکہ واقعے کے 22 دن بعد شکایت درج کرائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تکنیکی شواہد اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کیا۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی نے جنتر منتر پر دیے گئے بیان پر معافی مانگ لی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے منگل کے روز جنتر منتر پر دیے گئے اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر منعقدہ احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے کشمیر میں جاری عسکریت پسندی کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں طاقت کے استعمال کو درست قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے ان پر سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کو جائز قرار دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنتر منتر اپنی مرضی سے نہیں گئیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری طلبہ کی درخواست پر وہاں پہنچیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان طلبہ کو کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں ہراساں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، “میں خود وہاں نہیں گئی تھی، کشمیر کے بچوں نے مجھے بلایا تھا۔ انہوں نے مجھے اس لیے بلایا کیونکہ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے اور یہ بچے ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے ہیں تو انہیں کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں پریشان کیا جاتا ہے۔ انہیں امید تھی کہ شاید محبوبہ مفتی آئیں گی تو ہماری کچھ مدد ہو سکے گی۔”
جنتر منتر پر دیے گئے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں نے کہا تھا کہ آج پورا ہندستان جموں و کشمیر بن گیا ہے۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان کے متنازع بیان کی ویڈیو اصلی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس لفظ کا انہوں نے استعمال کیا تھا، اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “میں یہ نہیں کہوں گی کہ یہ فرضی ویڈیو ہے، نہیں، ویڈیو اصلی ہے، لیکن ‘بہانہ’ کا لفظ مجھ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا تھا کیوں کہ میں ایک ساتھ بہت سے لوگوں سے بات کر رہی تھی، جس کا غلط مطلب نکالا گیا۔”
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
گاندربل میں امرناتھ یاتریوں سے بھری بس حادثے کا شکار، 39 زائرین زخمی
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل میں منگل کی صبح امرناتھ یاترا سے واپس آنے والے زائرین کی ایک بس سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 39 یاتری زخمی ہو گئے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ حادثہ سری نگر-لیہہ قومی شاہراہ پر ہری گنیوان، کنگن کے قریب خطرناک ایس موڑ پر پیش آیا۔
بس بالتل سے جموں جا رہی تھی اور اس میں سوار یاتری بابا برفانی کے مقدس گپھا مندر کے درشن کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، مقامی رضاکاروں اور طبی عملے نے فوری طور پر ریسکیو کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
انتظامیہ کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی فہرست کے مطابق بیشتر زخمیوں کے سر، سینے اور کمر پر چوٹیں آئی ہیں، جبکہ کئی افراد کے بازو، کلائی اور ٹانگوں میں فریکچر بھی ہوا ہے۔ زخمی یاتری راجستھان، مدھیہ پردیش، دہلی اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ادھر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ بابا برفانی کے درشن کے بعد واپس آنے والے 39 یاتری اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر گاندربل اور محکمہ صحت کے حکام سے بات کر کے زخمی یاتریوں کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کا شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس) میں علاج جاری ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے زخمی یاتریوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
دریں اثنا، پیر کی دوپہر تک 4.22 لاکھ سے زائد عقیدت مند مقدس گپھا مندر میں درشن کر چکے ہیں۔ اس وقت امرناتھ یاترا بالتل راستے سے معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ پہلگام راستہ بحالی کا کام مکمل ہونے، مکمل معائنے اور محفوظ قرار دیے جانے تک بند رہے گا۔
یو این آئی۔ م س
دنیا6 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان5 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل








































































































