اہم خبریں
کینیڈا میں نفرت پر مبنی حملے میں ہلاک ہونے والا پاکستانی نژاد خاندان کون تھا؟

سرنیگر- وہ سونے جیسے لوگ تھے۔۔ہمیشہ ہنستے مسکراتے۔۔۔کبھی کسی سے کچھ نہیں کہتے تھے۔۔۔صبور خان کو یقین نہیں آرہا کہ ان کے اتنے پیارے دوست۔۔۔اتنی محبت کرنے والا خاندان آناً فاناً ختم ہو گیا۔
لندن، اونٹاریو کینیڈا میں اتوار کے روز کے اس واقعے پر ہر طبقہ فکر کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی جان لے لی گئی جبکہ ایک دس سالہ بچہ زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے فوری طور پر اپنے ٹوئیٹر پیغام میں متاثرہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ وہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامو فوبیا کی ہماری کمیونٹیز میں کوئی جگہ نہیں۔۔۔ یہ نفرت گھناؤنی اور شرمناک ہے ۔۔ اور اسے ختم ہونا چاہئے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے جس میں ایک پک اپ ٹرک ان لوگوں پر چڑھ دوڑا اور پانچ میں سے چار لوگ اپنی جان سے گئے۔ انہوں نے منگل کو ٹویٹر پر کہا کہ یہ مسلمانوں کو ہدف بنا کر کی گئی دہشت گردی کا ایسا واقعہ ہے جس کی جڑیں اسلامو فوبیا میں ہیں جو یورپ میں بڑھتا جا رہا ہے۔
نفرت انگیز حملے کا نشانہ بننے والے خاندان کے دوست اور ہمسائے کیا کہتے ہیں؟
پاکستان سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان چودہ برس سے کینیڈا کے اسی علاقے میں رہائش پذیر تھا۔
متاثرہ خاندان کے قریبی ہمسائے، دوست صبور خان ایک وکیل ہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ خاندان شام کو چہل قدمی کے لئے گھر سے نکلے تھے۔ اور سڑک کراس کرنے کے لئے کھڑے تھے کہ ایک ٹرک نے آکر انہیں روند ڈالا۔
کینیڈین پولیس نے اسے فوری طور پر دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے اور مئیر ایڈ ہولڈر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کی جڑیں ناقابلِ بیان نفرت میں ہیں۔
خاندان کے ایک بیان کے مطابق موت کا شکار ہونے والوں میں 46 سالہ سلمان افضل، ان کی 44 برس کی بیوی مدیحہ، بیٹی 15 سالہ یمنیٰ اور 74 برس کی دادی شامل ہیں۔
واقعے میں ہلاک ہونے والے خاندان کی مالی مدد کے لئے قائم کئے گئے’گو فنڈ می’ پیج پر خاندان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ سلمان افضل ایک فزیو تھیراپسٹ تھے، ان کی اہلیہ ویسٹرن یونیورسٹی لندن سے سول انجنئیرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔ ان کی بیٹی 9th گریڈ کی پڑھائی مکمل کر رہی تھی اور دادی ان سے ملنے کے لئے آئی ہوئی تھیں۔
حملہ آور کون تھا؟
پولیس نے واقعے کے مقام کے قریب ہی ایک مال کے پارکنگ لاٹ سے ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مشتبہ ملزم نتھیلئن ویلٹمین انہیں جانتا بھی نہیں تھا مگر “نفرت اتنی کہ ان کی جان لے لی”۔
متاثرہ خاندان کے ایک بیان میں ہی بتایا گیا ہے کہ مشتبہ نوجوان کسی گروپ سے وابستہ تھا اور ممکنہ طور پر اسی کے اثر کی وجہ سے اس نے ایسا کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضروری ہے کہ کمیونٹی سے لے کر حکومتی سطح پر ہر شخص اس کے خلاف مضبوط آواز اٹھائے۔
کینیڈا میں دوسری ثقافتوں سے آنے والوں کے لئے قبولیت کی صورتحال کیسی ہے؟
کینیڈا ایسا ملک ہے جہاں امریکہ کی طرح دنیا بھر سے مختلف مذاہب اور رنگ و نسل کے لوگ آباد ہیں اور سوائے چند برس پہلے کے اکا دکا واقعات کے کبھی نسلی یا مذہبی منافرت کے مسائل سامنے نہیں آئے۔ اور کرونا کی وبا کے دوران تو خیال کیا جا رہا تھا کہ کمیونیٹیز میں خاصی یک جہتی پیدا ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد اقبال مسعود الندوی، کینیڈا میں کونسل آف امام کے چئیرمین ہیں ۔ وہ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ یا اکنا کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں خیال کیا جا رہا تھا کہ مسلمانوں نے اپنے معمولات کو اس طرح منظم کر لیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا میں مذہبی امور بھی طبی ہدایات کے مطابق انجام دئیے جا رہے ہیں اور ماحول بڑا دوستانہ ہو گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں اس کی مثال حال ہی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے بڑے بڑے اجتماعات ہیں جن کے خلاف کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ اس لئے کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں پارلیمنٹ نے کچھ قوانین بھی منظور کئے تھےجن کے تحت اسلامو فوبیا پر مبنی کارروائی کو دہشت گردی کے زمرے میں ڈالنے کے لئے کہا گیا تھا اور مسلمان اسے اپنی ایک کامیابی تصور کر رہے تھے۔
سب ٹھیک تھا مگر پھر بھی ایسا ہوگیا!!
لندن، اونٹاریو کے بارے میں ڈاکٹر ندوی کا کہنا ہے کہ یہ مختصر مگر مختلف النوع آبادی کا علاقہ ہے اور زیادہ تر وہاں عرب آباد ہیں اور زندگی نہایت پر سکون ہے۔
ان خیالات کا اظہار صبور خان نے بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والا یہ خاندان 14 برس سے ان کے پڑوس میں آباد تھا۔ بہت خوش اخلاق اور ہر دم مدد پر تیار۔۔۔ کوئی کچھ کہہ دیتا تو بھی یہ ناراض نہیں ہوتے تھے۔ ہر دم ہنستے مسکراتے۔۔۔پر امن یہ لوگ سب کے پسندیدہ بھی تھے۔ پھر بھی نفرت کا شکار ہوگئے جس کا انہیں یقین نہیں آتا۔
حملے کی وجہ نفرت، حسد یا کرونا کے باعث نفسیاتی مسائل تھے؟
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ندوی نے کہا کہ حالیہ افسوسناک واقعے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ تاہم، ان کے خیال میں ایک تو لوگ کرونا کی وبا کی وجہ سے کافی پریشان اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں؛ دوسرے وہ کہتے ہیں کہ اس خاندان کو ہلاک کرنے والے نوجوان کی عمر کے لوگ مختلف گروپوں میں شامل ہو کر ایسی نفرتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر ندوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرونا کی وبا کے دوران اچانک اونٹاریو کے اس علاقے کی آبادی میں اقتصادی تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔۔۔مکانون کی قیمتیں چڑھنے لگیں اور خوشحالی میں بھی اضافہ نظر آیا۔ چنانچہ، ہو سکتا ہے اس سے بھی کوئی منفی خیال پیدا ہوا ہو۔
ڈاکٹر اقبال ندوی کہتے ہیں کہ تسلی کی بات یہ ہے کہ پولیس اور کینیڈا کے دیگر حکام نے اس واقعے کو فوری طور پر دہشت گردی قرار دے دیا ہے۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ کینیڈا میں رہنے والی دوسری ثقافتوں کے لوگ جو سمجھ رہے تھے کہ سب اچھا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہو سکتا، انہیں پھر بھی کینیڈین سوسائٹی کے تانے بانے کو دیکھنا ہوگا۔۔۔
ان کے بقول، “ہمارے ملک کی کچھ پرتیں اب بھی کمزور ہیں، مزید کام کرنا ہوگا تاکہ باہم فاصلے پیدا نہ ہوں اور نہ صرف حکومتی اور سیاسی سطح پر بلکہ معاشرتی سطح پر اجتماعی طور پر کام کرنا ہوگا، تاکہ دلوں میں نفرت جنم نہ لے اور کمیونیٹیز کے مسائل مل کر حل کئے جا سکیں”۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
ہندوستان7 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا7 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
دنیا7 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا7 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا5 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا
دنیا6 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا1 week agoاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی ایرانی قیادت کو دھمکی





































































































