تازہ ترین
ہم کالے ہیں تو کیا ہوا؟

ایک انصاف پسند شخص کیلئے فوجی سربراہ کا بیان بھی قابل سائش ہے اور ان سفید فام عوام کا اس مفہوم کے نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈس لے کر مظاہروں میں شریک ہونا بھی کہ سفید فام عوام کا سکوت تشدد اور جبر کی حمایت یا تشدد کے مترادف ہے۔ اگر یہ جذبہ عام ہوجائے تو دنیا کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں اور کمزور طبقوں پر مظالم نہ ڈھائے جائیں۔
ظلم کو ظلم اور غلط کو غلط کہہ کر اپنے ہی لوگوں کو کٹھرے میں کھڑا کرنا ایک ایسی سعادت ہے جو سب کو نصیب نہیں ہوتی اس لئے اپنوں ہی کے ہاتھوں نہ صرف اپنی حکومتیں تباہ ہوتی رہی ہیں بلکہ اداروں اور تحریکوں کے تباہ ہونے کیساتھ معاشرے بھی پن کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ اپنے ہندوستانی معاشرے ہی کی مثال لیں تو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ یہاں اس غلط کو صحیح کہا جاتا ہے جو اپنوں نے یا انہوں نے کیا ہو جن سے ہمارا مفاد وابستہ ہے۔
اسی طرح صحیح صرف ان کو تسلیم کیا جاتا ہے جو اپنے ہوں یا جن سے ہمارا مفاد وابستہ ہے۔ دھونس، دھمکی، اکثریت اور بدعنوانی سے غلط کام بھی کروالئے جاتے ہیں اور جو لوگ دھونس دھمکی کا سہارا نہیں لیتے وہ ہر طرح سے حق پر عمل پیرا ہونے کے باوجود معتوب ہوتے ہیں اور ان کو ملامت کرنے والوں میں وہ نورانی چہرے اور مقدس لباس والے بھی شامل ہوتے ہیں جنھیں حق گو اور حق بیں سمجھا جاتا ہے۔ مگر تاریکیوں سے روشنیوں کی نمود کرنے والا ہمارا رب ایسے مناظر بھی دکھاتا رہتا ہے جو ہمیں ہر حالت میں حق پر عمل پیرا ہونے کی تحریک عطا کرتے ہیں۔
چین، روس، ویتنام، ایران اور عرب ملکوں کے علاوہ خود یورپ کے عوام کی اکثریت کیلئے امریکہ ایک ناپسندیدہ ملک ہے مگر یہاں کے سیاہ فام عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے برتی جانے والی تفریق اور کئے جانے والے مظالم کیخلاف تحریک شروع کرکے اور سفید فام عوام نے ان کی ہمنوائی کرکے ایک ایسی تاریخ مرتب کی ہے جس کی ستائش دنیا کے ہر انصاف پسند پر فرض ہے۔ جب ٹرمپ نے مظاہرین کو دھمکی دی تو امریکی فوج کے سربراہ نے ایک ایسا بیان دیا جس کا مطلب تھا کہ وہ امریکی صدر کو بچانے کیلئے امریکی عوام کو قتل نہیں کریں گے۔ یہ بیان بشمول ہندوستان دنیا کے تمام ملکوں کیلئے ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس بیان میں جہاں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ فوج کا کام ملک کی حفاظت کرنا ہے کسی ایک فرد کے اقتدار کی حفاظت کرنا نہیں وہیں اس میں مظاہرین کیلئے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ تمام سفید فام عوام اور ملک کے نظام کو اپنا دشمن نہ سمجھیں اور ایک سیاہ فام کے قتل یا ٹرمپ کے غیر دانشمندانہ بیان کے رد عمل میں کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے امریکی معاشرے میں انتشار پیدا ہو۔ امریکہ نے چار پولیس والوں کو سزا دلانے کی کارروائی کا آغاز کرکے ثابت کردیا کہ وہاں قانون کی سالمیت کو قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے قانون اہم ہے صدر کی خواہش نہیں۔ اس مثال میں ہم ہندوستانیوں کیلئے ایک سبق ہے جو روز یہ دیکھتے ہیں کہ پولیس اور حکمراں جماعت میں رسوخ رکھنے والا شخص قانون کا مذاق اڑاتا ہوا بہت کچھ کرلیتا ہے۔
ایک انصاف پسند شخص کیلئے فوجی سربراہ کا بیان بھی قابل سائش ہے اور ان سفید فام عوام کا اس مفہوم کے نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈس لے کر مظاہروں میں شریک ہونا بھی کہ سفید فام عوام کا سکوت تشدد اور جبر کی حمایت یا تشدد کے مترادف ہے۔ اگر یہ جذبہ عام ہوجائے تو دنیا کے کسی بھی ملک میں اقلیتوں اور کمزور طبقوں پر مظالم نہ ڈھائے جائیں۔ گھر ہو یا معاشرہ ہر جگہ یہ دیکھنا کہ کمزوروں کے انسانی اور دستوری حقوق محفوظ رہیں حکومت کے علاوہ اکثریتی طبقے کی بھی ذمہ داری ہے۔ اکثریتی طبقہ ہم مذہب بھی ہوسکتا ہے اور دوسرے کسی مذہب کا ماننے والا بھی۔
امریکہ میں جس کا قتل ہوا وہ عیسائی تھا، جس نے قتل کیا وہ بھی عیسائی تھا اور جو سفید و سیاہ عوام احتجاج کررہے ہیں وہ بھی عیسائی ہیں۔ اگر حکومت و انتظامیہ اور احتجاج کرنیوالے الگ الگ مذہب سے تعلق رکھتے تو شاید مظاہروں اور ان کیخلاف ہونے والے رد عمل کی نوعیت کچھ اور ہوتی۔
مگر امریکہ کے ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کا ایک پولیس کے ذریعہ قتل کیا جانا صرف سیاہ فام عوام پر امریکی پولیس کا ظلم نہیں سمجھا جارہا ہے بلکہ اس کو سیاہ فام اور سفید فام عوام کے درمیان برتی جانے والی اس صدیوں پرانی تفریق سے تعبیر کیا جارہا ہے جو بارک اوبامہ کے صدر بننے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اچھی بات صرف یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ناعاقبت اندیشانہ بیان کے باوجود افریقہ، یورپ اور خود امریکہ کے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد سیاہ فام عوام سے ہمدردی کا اظہار کررہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاف دلانے کے نام پر ساری دنیا میں پولیس کا کردار ادا کرنے والے امریکہ میں انتظامیہ کتنا ظالمانہ کردار ادا کررہی ہے۔
امریکہ کے سیاہ فام غلاموں کی اولاد ہیں جنہیں خرید کر یا قبضے میں لے کر امریکہ لایا گیا تھا وہ یہاں ایک عرصے تک غلام سمجھے جاتے رہے۔ ابراہیم لنکن نے غلامی کا خاتمہ کردیا تھا اس کے باوجود ساٹھ کے دہے کے درمیان تک سیاہ فام عوام کیخلاف تعصب و تفریق کو کسی حد تک قانونی حیثیت حاصل تھی۔ کئی تحریکیں چلیں حکومت نے کئی بار یقین دہانی کی مگر سیاہ فام عوام کیخلاف کسی نہ کسی شکل میں تفریق برتی جاتی رہی۔
یہ صحیح ہے کہ امریکہ میں سیاہ فام عوام کی حالت ہندوستان کے دلتوں سے بہتر ہے اس کے باوجود ان کیخلاف کی جانے والی نسلی تفریق سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس بنیاد پر یہاں فسادات بھی ہوتے رہے ہیں۔ دولت کے ذرائع اور معیشت پر تو سفید فام عوام کا ہی قبضہ ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں تسلسل سے یہ اعلان کرتی رہتی ہیں کہ انہوں نے اتنے سیاہ فام لوگوں کو ملازمت دی یا معاشی طور پر مستحکم ہونے میں مدد دی۔ مگر یہ سب شاید اس لئے ہوتا ہے کہ سیاہ فام اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام آپے سے باہر نہ ہوں۔
امریکہ کے حالیہ واقعات بظاہر اس لئے رونما ہوئے ہیں کہ ایک سیاہ فام شخص کو پولیس نے قتل کیا تھا مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکی معاشرے میں سیاہ اور سفید عوام کی نفسیات اتنی مختلف ہے اور سفید فام طبقے میں سیاہ فام عوام کیلئے اس درجہ نفرت ہے کہ وہ اکثر چھلک جاتی ہے۔ سیاہ فام عوام یہ کہتے ہوئے سڑکوں پر اتر آتے ہیں کہ ’’ ہم کالے ہیں تو کیا ہوا انسان ہیں اور ہمارے بھی حقوق ہیں۔ ‘‘
ہندوستان میں خاص طور سے ہندوستانی مسلمانوں میں جو مظلوم ہیں ان کے ذہنوں پر ایسے لوگ چھائے ہوئے ہیں جو سیاہ فام تو نہیں ہیں مگر جن کے دل سیاہ ہیں۔ مسلمانوں کا کئی معاملات میں عدلیہ میں بھی پسپا ہونا اس لئے ممکن ہوا کہ ان کے درمیان موجود ایسے لوگوں نے بہت غلط کردار ادا کیا جن کے چہرے بہت روشن، گفتگو بہت مجاہدانہ مگر دل نفاق سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ سیاہ دل ’’مجاہدین‘‘ قومی سطح پر ملی بقا کی لڑائی تو کیا لڑیں گے اپنے اداروں اور اداروں کے علمی ادبی اثاثوں کو بھی تباہ ہوتے دیکھ کر چپ ہیں۔ امریکہ میں سیاہ فام عوام کی تحریک دنیا بھر کے محرومین کے لئے مینارئہ نور ہے اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔(انقلاب)
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
ترکیہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے مدد کی پیشکش کردی
انقرہ، ترکیے نے امریکہ ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر2 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا6 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ






































































































