تازہ ترین
گیلانی کے داماد غلامحسن مخدومی انتقال کر گئے

خبراردو:
حریت کانفرنس کے چیر مین سید علی شاہ گیلانی کے داماد غلام حسن مخدومی ساکنہ ڈورو سوپور کچھ عرصےتک کینسر کے موزی بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد منگل کے روز بعد دوپہر صور میڈیل انسٹچوٹ میں انتقال کر گیا ہے
ان کے وفات پر متعدد سماجی و سیاسی پارٹیوں کے علاوہ مختلف طبقہ ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے پورے خاندان جن میں خاص کر علی شاہ گیلانی کے ساتھ تعزیت کا اظہار کر کے یکجہتی کا اظہار کیا ہے .
اس دوران تحریک حریت کے چیر مین محمد اشرف صحرائی نے اپنے ایک بیان میں پورے خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کر کے مرحوم کے لئے دعا مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔ادھر معروف حریت کار کن امتیاز حیدر نے بھی گیلانی کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے جبکہ شام دیر گئے تک تعزیتی بیانوں کا سلسلہ جاری تھا ۔
ہندوستان
کمرشبل ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، گھریلو رسوئی گیس کی قیمت جوں کی توں
نئی دہلی، ملک بھر میں پیر کو کمرشبل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا، جس سے ہوٹلوں، ریستوراں، کیٹررز اور رسوئی گیس پر انحصار کرنے والے دیگر کاروباروں کی آپریشنل لاگت بڑھ گئی ہے تاہم، گھریلو ایل پی جی کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں دہلی میں 19 کلو والے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 42 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے اس کی خردہ قیمت 3,113.50 روپے فی سلنڈر ہو گئی ہے۔ کولکتہ میں سب سے زیادہ 53.50 روپے کا اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ممبئی اور چنئی میں قیمتوں میں بالترتیب 43.50 روپے اور 46 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 5 کلو والے فری ٹریڈ ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھی 11 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ تازہ ترین اضافہ حالیہ مہینوں میں کمرشل ایل پی جی کی شرحوں میں مسلسل ہونے والے اضافے کا تسلسل ہے۔ بین الاقوامی توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی کی تشویش نے ایندھن کی منڈیوں پر دباؤ برقرار رکھا ہے، جس کی وجہ سے کمرشل صارفین کے لیے لاگت بڑھ رہی ہے۔ اس اضافے سے مہمان نوازی اور فوڈ سروس سیکٹرز کے کاروبار متاثر ہونے کی توقع ہے، جہاں ایل پی جی ایک اہم آپریشنل ضرورت ہے۔ صنعتی مبصرین کا خیال ہے کہ ایندھن کے اخراجات میں مسلسل اضافے سے ریستوراں، ہوٹلوں اور چھوٹے فوڈ وینڈرز کے منافع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس کے برعکس، گھریلو ایل پی جی کی قیمتیں برقرار ہیں۔ 14.2 کلو کا گھریلو ایل پی جی سلنڈر دہلی میں 913 روپے، ممبئی میں 912.50 روپے، کولکتہ میں 939 روپے اور چنئی میں 928.50 روپے کا مل رہا ہے۔
حکومت اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں ایل پی جی کا وافر اسٹاک دستیاب ہے۔ عالمی توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود رسوئی گیس اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل سپلائی کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
تازہ ترین تبدیلی کمرشل ایندھن کے صارفین پر جاری دباؤ کو نمایاں کرتی ہے، حالانکہ گھریلو صارفین کو رسوئی گیس کی قیمتوں میں کسی بھی اضافے سے محفوظ رکھا گیا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
تعلیم کو کاروبار بنانا سبھی برائیوں کی جڑ
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کی جانب سے اس کی غلطیوں کے لیے طلبہ سے فیس کی وصولی کو لوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تعلیم کو خدمت کے بجائے کاروبار بنا دیا جاتا ہے تو اس سے کئی برائیاں جنم لینا شروع کر دیتی ہیں راہل گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا، “سی بی ایس ای کی غلطی سے نمبر غلط آئیں تو اس کی قیمت طلبہ کو چکانی پڑتی ہے۔ ڈیجیٹل اسکین کاپی، ری ٹو ٹلنگ اور ری ایویلیوایشن کے لیے الگ الگ فیس دینی پڑتی ہے۔ اپنے ہی پرچے کی صحیح جانچ کرانے کے لیے ایک طالب علم کو ہزاروں روپے تک خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ جانچ کے عمل میں خامیوں کا بوجھ طلبہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلطی سی بی ایس ای کرتا ہے اور اس کی سزا بچے کو ملتی ہے اور حکومت اس سے کمائی کرتی ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا “جب تعلیم کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا دیا جاتا ہے تو غلطیاں سدھرنے کے بجائے نظام کا حصہ بن جاتی ہیں اور اس کی سب سے بڑی قیمت بچوں کو اپنے وقت، خود اعتمادی اور مستقبل سے چکانی پڑتی ہے۔”
واضح رہے کہ سی بی ایس ای بورڈ امتحان کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد پرچے کی ڈیجیٹل کاپی، دوبارہ گنتی اور دوبارہ جانچ کی سہولت فیس پر فراہم کرنے کے تعلق سے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر بحث تیز ہوئی ہے، جس ہر راہل گاندھی نے یہ تبصرہ کیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
تجزیہ
گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
پوری دنیا کے مسلمان ہر سال جس روحانی سفر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں وہ حج ہے، مکہ مکرمہ میں ادا کی جانے والی یہ اہم عبادت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، صبر، مساوات اور بندگی کا عظیم مظہر سمجھی جاتی ہے, لاکھوں مسلمان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور ایک ایسی فضا میں عبادت کرتے ہیں جہاں روحانیت کا ایک منفرد احساس جنم لیتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویش ناک حقیقت اس مقدس عبادت کے ساتھ جڑتی جا رہی ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی عالمی گرمی یا گلوبل ہیٹنگ۔
حالیہ تحقیقی رپورٹس اور موسمیاتی تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مکہ مکرمہ کے موسم کو خطرناک حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ شدید گرمی اب صرف گرمیوں کے چند مہینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال کے نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے اوقات میں بھی حجاج کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صدی کے اختتام تک حج تقریباً پورا سال شدید اور جان لیوا گرمی کے ماحول میں ادا کرنا پڑے گا۔
ایک تازہ تجزیے کے مطابق مکہ مکرمہ کی آب و ہوا میں بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ جہاں ماضی میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت صرف جون، جولائی یا اگست جیسے مہینوں میں دیکھا جاتا تھا، وہاں اب مئی جیسے نسبتاً ٹھنڈے تصور کیے جانے والے مہینے میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن کا بے تحاشہ استعمال ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کیا۔
حج چونکہ اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج مختلف موسموں میں گردش کرتا رہے گا، کبھی سردیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی گرمیوں میں۔ لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاہے حج موسمِ بہار میں ہو یا خزاں میں، عالمی حدت کے باعث شدید گرمی ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گی۔
2024 میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس خطرے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ جون میں ادا کیے گئے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی کے باعث 1300 سے زائد حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہزاروں افراد کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
حج بنیادی طور پر جسمانی مشقت پر مشتمل عبادت ہے۔ لاکھوں عازمین حج کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، مختلف مقامات کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرنا ہوتی ہے اور کھلے آسمان تلے عبادات انجام دینی پڑتی ہیں۔ میدانِ عرفات میں قیام، منیٰ میں قیام، جمرات پر رمی اور طواف جیسی عبادات جسمانی برداشت کا تقاضا کرتی ہیں۔ شدید گرمی ان تمام مراحل کو نہایت مشکل اور بعض اوقات خطرناک بنا دیتی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق مئی کے مہینے کا اوسط درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں چند ڈگری کا فرق انسانی صحت، پانی کی دستیابی، جسمانی برداشت اور موسمی توازن پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عبادات، معیشت اور عالمی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب نے کئی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے سایہ دار راستے تعمیر کیے گئے ہیں، کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مسٹنگ سسٹمز لگائے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے درجہ حرارت کا احساس کم کرتے ہیں، جبکہ طبی خدمات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی تاکہ گرمی سے متاثر افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو حفاظتی انتظامات کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد سے تجاوز کر جائے، اور محض ٹھنڈا پانی یا سایہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہ رہے۔
یہ صورتحال ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی صنعت پر منحصر ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی سائنسدان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حج میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد مختلف ممالک اور موسمی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔
بعض حجاج نسبتاً سرد خطوں سے آتے ہیں جہاں 20 یا 25 ڈگری درجہ حرارت بھی گرمی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے 45 یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بوڑھے افراد، دل کے مریض، شوگر کے مریض اور جسمانی کمزوری کے شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
عالمی حدت صرف حج ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ شدید گرمی پانی کے بحران کو جنم دے رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں انسانی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار نسبتاً زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل و گیس پر انحصار کم کیا جائے تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے حج سمیت بہت سی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں شدید موسمی خطرات سے جڑی رہیں گی۔
اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اسلام میں اسراف، وسائل کے ضیاع اور زمین میں فساد سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے تو نہ صرف ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عبادات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
حج ہمیشہ اتحاد، قربانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے، مگر اب اس مقدس عبادت کے سامنے ایک نیا چیلنج موجود ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، مذہبی آزادی اور عالمی ذمہ داری کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ دن دور نہیں جب حج کا یہ روحانی سفر لاکھوں لوگوں کے لیے شدید جسمانی آزمائش میں تبدیل ہو جائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر انسان نے اپنے طرزِ زندگی، صنعتی ترجیحات اور توانائی کے ذرائع پر نظرثانی نہ کی تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، حتیٰ کہ عبادت گاہیں اور مقدس مقامات بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
ہندوستان7 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا2 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا3 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا1 week agoچین میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، 90 افراد ہلاک
جموں و کشمیر6 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا2 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا7 days agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا3 days agoایرانی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہا
دنیا2 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
































































































