جموں و کشمیر
پہلگام عصمت دری واقعہ: عدالت نے ملزم کی ضمانت مسترد کی

سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کی ایک مقامی عدالت نے جمعہ کے روز ایک شخص کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جس پر مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی ایک 70 سالہ سیاح کے ساتھ دو ماہ قبل مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں عصمت دری کرنے کا الزام ہے۔یہ افسوس ناک واقعہ سال رواں کے ماہ اپریل میں پیش آیا۔
پرنسپل سیشن جج، اننت ناگ، طاہر خورشید رینا نے اپنے حکم میں مشاہدہ کیا کہ قابل احترام اور بزرگ مہمان کے ساتھ ‘صوفیوں اور سنتوں’ کی سرزمین پر اس قدر افسوس ناک سلوک کیا گیا کہ وہ کشمیر آنے کے اپنے انتخاب پر ہمیشہ پچھتائے گی’۔انہوں نے کہا: ‘ یہ مبینہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے،قابل مذمت ہے، اور اس واقعے کو اس معاشرے کے شعور کو جھنجوڑنا چاہیے تھا جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی ثقافت موروثی اخلاقی قدروں پر مبنی ہے،لیکن اب یہ سب کچھ لرز گیا ہے۔ ایک معزز مہمان، جو ایک بزرگ خاتون تھی، اور وہ اولیاء اور بزرگوں کی اس سرزمین کے دورے پر آئی ہوئی تھی، اس کے ساتھ اس قدر بدتمیزی اور چونکا دینے والا سلوک کیا گیا کہ آنے والے وقتوں کے لیے، وہ اپنے بڑھاپے کے دنوں میں اپنے بچوں کے ساتھ گزارنے کے لیے اس جگہ کے انتخاب پر پچھتائے گی’۔
ان کا کہنا تھا: ‘یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے جس کو نظر انداز کر دیا جائے، بلکہ معاشرے میں رائج ایک اعلیٰ درجے کی بدحالی اور بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس سے سر شرم سے جھک جانا چاہیے اور یہ ایک سنجیدہ خود احستابی کی دعوت دیتا ہے کہ یہ معاشرہ کیا تھا، اور اب یہ کس طرح زمین بوس ہوا ہے’۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹر کی ایک 70 سالہ بیوہ، جو اپنے بیٹے کے خاندان کے ساتھ “کشمیر کی خوبصورتی” سے لطف اندوز ہونے کے لیے پہلگام میں تھی، کے ساتھ مبینہ طور پر ملزم نے جنسی زیادتی کی ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا: ‘پہلگام میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں اس کے اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ملزم مبینہ طور پر، اس کے کمرے میں داخل ہوا، اس کا منہ کمبل میں باندھ کر، اس کی عصمت دری کی، اسے زخمی کیا، اور پھر کمرے کی کھڑکی سے فرار ہو گیا۔ اس پر اس قدر وحشیانہ جنسی حملہ کیا گیا کہ عمر رسیدہ خاتون بیٹھنے اور حرکت کرنے کے قابل نہیں رہی اور کئی دن تک درد میں مبتلا رہی’۔
عدالت نے کہا کہ کہ اس کیس کی تحقیقات جاری ہے اور کیس ڈائری (سی ڈی) فائل کو پہلی نظر میں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم کی جانب سے ایک بزرگ خاتون پر انتہائی گھناؤنے طریقے سے عصمت دری کے جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے’۔
ملزم نے اس بنیاد پر ضمانت کے لیے درخواست دائر کی تھی کہ پولیس نے اس کے اور اس کے والد کے خلاف کچھ ‘ذاتی رنجشوں’ کی وجہ سے اسے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا ہے۔تاہم، عدالت نے کہا کہ ‘یہ عدالت اس مرحلے پر ضمانت کی گذارش کے ساتھ قانونی طور پر مفاہمت نہیں کرتی ہے، جس کو مسترد کر دیا جاتا ہے’۔جج نے کہا کہ یہ عدالت، جو ہر روز اس معاشرے کی ‘پرابٹی’ سطح کا مشاہدہ کرتی ہے، تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ یہ معاشرہ مختلف محاذوں پر ناامیدی سے ختم ہو رہا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ جتنی جلدی اس معاشرے کے شیٹ اینکرز، با شعور افراد، مخیر حضرات معاشرے کے اخلاقی محاذ پر ہو رہے غلط کے خلاف آواز بلند کریں گے اتنا ہی بہتر ہو گا کہ کشمیر کو اس کے حقیقی معنوں میں جنت بر زمین ہے، کو بچا لیا جائے’۔ان کا کہنا ہے: ‘’محض سر سبز و شاداب میدان، پہاڑ، جنگلات، چشمے، دریا، ندی نالے اور باغات کشمیر کے لیے مطلوبہ سیاحتی مقام کے طور پر کام نہیں آئیں گے’۔عدالت کے حکم کا آغاز اردو کے اس شعر ‘راستے میں سنگریزوں نے دیا پانی مجھے، ذرہ ذرہ ہے میرے کشمیر کا مہماں نواز’ سے ہوتا ہے۔
طاہر خورشید رینا نے کہا کہ کشمیر کے شاندار ثقافتی اقدار اور مہمان نوازی کے بہترین امتزاج نے دنیا بھر کے سیاحوں کو کشمیر کی بے مثال خوبصورتی دیکھنے، تجربہ کرنے اور لطف اندوز ہونے کی طرف راغب کیا ہے جسے اکثر “زمین پر جنت” کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ ان سیاحوں نے بدلے میں، کشمیر کی ثقافت اور اقدار کے نظام کو اس سطح پر فروغ دیا ہے جو تہذیب کے عالمی معیار سے میل کھاتا ہے’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس واقعہ نے کشمیر کی متذکرہ میراث کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، بدقسمتی سے پہلگام آج دنیا میں اچھی وجوہات کی بناء پر نہیں جانا جاتا ہے جس کے لئے یہ جگہ سالہا سال تک ملک اور دنیا کے سیاحتی نقشے پر مشہور تھی’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جنوبی کشمیر رینج کے ڈی آئی جی نے پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا
سری نگر، جنوبی کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اقبال مٹو نے پیر کے روز پلوامہ میں جرائم اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، جس میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے چوکسی بڑھانے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
پلوامہ ضلع پولیس لائنز میں ایس ایس پی پلوامہ تنوشری اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاوید اقبال مٹو نے جاری تحقیقات، این ڈی پی ایس مقدمات اور مجموعی سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ خفیہ نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جائے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر کیا جائے اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی چوکسی برقرار رکھی جائے۔
انہوں نے ضلع میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں اور اینٹی ٹیرر گرڈ کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے موجودہ سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس دوران ملک مخالف عناصر کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطہ بڑھانے، علاقے پر کنٹرول مضبوط کرنے اور خفیہ نظام کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔
افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہر وقت بلند سطح کی چوکسی برقرار رکھیں اور کسی بھی سکیورٹی چیلنج کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
یو این آئی۔ اے ایم۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں پیر کی صبح رام نگر سے ادھم پور جا رہی ایک بس کے گہری کھائی میں گر جانے سے کم از کم 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مسافروں کو لے جانے والی بس ضلع کی رام نگر تحصیل کے کانوٹے موڑ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں 16 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔” پولیس، مقامی لوگوں اور فوج کے جوانوں نے حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ زخمیوں کو ادھم پور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے ادھم پور کے ڈی سی منگا شیرپا سے بات کی، کیونکہ ایک گھنٹہ پہلے کانوٹ گاؤں کے قریب رام نگر سے ادھم پور جانے والی ایک مسافر بس کے حادثے کی خبر موصول ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بچاؤ کی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ شدید زخمیوں کو ایئر لفٹ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔” ڈاکٹر سنگھ نے لکھا کہ وہ مقامی انتظامیہ اور راجندر شرما کی قیادت میں مقامی کارکنوں کی ٹیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’ادھم پور میں ہونے والا سڑک حادثہ انتہائی دردناک ہے۔ میری گہری ہمدردی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ خدا انہیں صبر عطا فرمائے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ میں نے ضلع انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور محکمہ صحت کو متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔”
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں کشمیر میں کالعدم جماعتِ اسلامی اور ایف اے ٹی سے وابستہ 58 پرائیویٹ اسکول حکومت کی تحویل میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم تنظیم جمعات اسلامی اور اس کی تعلیمی شاخ فلاحِ عام ٹرسٹ سے وابستہ 58 نجی اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یہ کارروائی اس اقدام کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کی گئی ہے، جب حکومت نے جماعت سے منسلک 215 اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔ واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے 2019 میں جماعتِ اسلامی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
جموں و کشمیر کے محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے مزید 58 فعال اسکولوں کی نشاندہی کی ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جماعتِ اسلامی یا فلاحِ عام ٹرسٹ سے منسلک پائے گئے ہیں۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ان اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے یا ان کے خلاف خفیہ رپورٹ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ماتحت محکمۂ تعلیم نے ضلع مجسٹریٹس/ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان اسکولوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیں اور مناسب جانچ کے بعد نئی انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پیش کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولی تعلیم کے محکمے کے ساتھ مشاورت اور تال میل کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
حکم جاری ہونے کے بعد حکام نے ہفتہ کے روز ان اسکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان 58 اداروں میں سے سب سے زیادہ 29 بارہمولہ ضلع میں ہیں، جبکہ پلوامہ میں 7، کولگام اور کپواڑہ میں 5-5 اسکول شامل ہیں۔ اننت ناگ اور بڈگام میں 4-4 جبکہ بانڈی پورہ میں 2 اسکولوں کو کنٹرول میں لیا گیا ہے، جب کہ شوپیان اور سری نگر میں ایک ایک اسکول شامل ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا






































































































