تجزیہ
تبلیغی جماعت کیس میں تاریخی عدالتی فیصلہ:آئینی اصولوں کی فتح یا الزامات کی شکست؟

شمس آغاز
ایڈیٹر ،دی کوریج
ہندوستان کی عدلیہ نے حال ہی میں ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جو قانونی تاریخ میں نہ صرف ایک نظیر کے طور پر یاد رکھا جائے گا بلکہ اس نے سماجی انصاف، آئینی اصولوں اور انسانی وقار کے تحفظ کی جو مثال قائم کی ہے، وہ آنے والے برسوں تک موضوعِ بحث رہے گی۔ دہلی ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ، جس میں تبلیغی جماعت کے ستر(70) ارکان کے خلاف درج سولہ(16) ایف آئی آر اور ان پر دائر چارج شیٹ کو مکمل طور پر خارج کر دیا گیا، صرف ایک مقدمے کی بندش نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول میں سامنے آیا ہے جہاں مذہبی اقلیتوں کو برسوں سے مشتبہ اور خطرناک بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ان پر بدنیتی پر مبنی الزامات لگائے گئے اور قانونی اداروں کا استعمال کرکے انہیں سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس فیصلے نے ان تمام رویّوں پر نہ صرف سوال اٹھائے بلکہ ان کے خلاف ایک عدالتی تادیب بھی فراہم کی ہے۔ مارچ 2020 میں، جب کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا، دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع منعقد ہوا۔ اس وقت ملک میں لاک ڈاؤن کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا تھا اور سفری پابندیاں بھی مکمل طور پر نافذ نہیں کی گئی تھیں۔ تاہم، اس مذہبی اجتماع کو بعض میڈیا اداروں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ایک سازش کے طور پر پیش کیا گیا۔
پورے ملک میں ایک طوفان برپا ہوا جس میں تبلیغی جماعت کو ’سپر اسپریڈر‘ کے طور پر بدنام کیا گیا۔ نیوز چینلز نے بغیر تحقیق ایسی خبریں نشر کیں جنہوں نے عوام کے ذہن میں یہ تاثر مضبوط کیا کہ یہ جماعت اور اس سے وابستہ افراد جان بوجھ کر وبا پھیلانے کے مجرم ہیں۔ اس دوران ;کورونا جہاد جیسے اشتعال انگیز اور نفرت انگیز اصطلاحات عام ہو گئیں جو صحافتی اصولوں کی پامالی کے ساتھ ساتھ آئینی مساوات کی روح کو بھی مجروح کرنے کے مترادف تھا۔اس اجتماع کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے خلاف درجنوں مقدمات درج کیے گئے۔ ان پر مجرمانہ سازش، حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی، ویزا قوانین کی خلاف ورزی، اور لاپرواہی سے انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔
ان میں سے کئی افراد غیر ملکی تھے، جنہیں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی ملک بدر کر دیا گیا جبکہ بعض کو طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا۔ ان مقدمات کے دوران متاثرہ افراد کون مالی، جذباتی اور سماجی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی خاندان تباہ ہو گئے، لوگوں کی روزی روٹی چھن گئی اور انہیں معاشرتی سطح پر حقارت و نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان تمام واقعات نے یہ سوالات جنم دیے کہ ان کے ساتھ ہونے والا سلوک انصاف پر مبنی تھا یا مذہبی تعصب کا نتیجہ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عدالتوں نے ان مقدمات کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ سب سے پہلے ممبئی کی ایک عدالت نے تبلیغی جماعت سے وابستہ کئی غیر ملکی افراد کو بری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کوئی پختہ ثبوت موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں دہلی کی عدالتوں نے بھی ان الزامات کو کمزور قرار دیا۔ لیکن سب. سے اہم فیصلہ دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس نینا بنسل کرشنا کا تھا، جنہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان ایف آئی آرز اور چارج شیٹ کا کوئی حقیقی قانونی جواز نہیں تھا، اور یہ تمام کارروائیاں تعصب، خوف، اور سیاسی دباؤ کے تحت کی گئی تھیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف ان افراد کی بے گناہی کا اعتراف ہے بلکہ اس نظام پر بھی سوال اٹھاتا ہے جو مذہب کی بنیاد پر قانون کا استعمال کرتا ہے۔
عدالت نے تسلیم کیا کہ تبلیغی جماعت کے خلاف کی گئی کارروائیاں دراصل انتظامی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش تھیں۔ جہاں کورونا جیسی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے تھے، وہاں بعض عناصر نے اس بحران کو ایک مخصوص طبقے کو بدنام کرنے کا ذریعہ بنا لیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ان مقدمات کا مقصد قانونی نفاذ نہیں بلکہ مذہبی اقلیت کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کورونا کے ابتدائی دنوں میں جب پورا ملک خوف اور غیر یقینی کا شکار تھا، میڈیا نے تحقیق اور تصدیق کی بجائے سنسنی خیزی اور جذباتی رپورٹنگ کو ترجیح دی۔ کئی میڈیا ہاؤسز نے صحافتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تبلیغی جماعت کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈہ کیا اور انہیں ’کورونا بم‘ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی ویڈیوز، جعلی خبریں اور اشتعال انگیز تبصرے فضا کو مزید زہریلا بنا نے کا باعث بنے۔ نتیجتاً، ملک کے مختلف حصوں میں تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد پر تشدد ہوا، گرفتاریاں ہوئیں اور بعض جگہوں پر ان کے ساتھ دشمن ملک کے جاسوسوں جیسا سلوک کیا گیا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی اس رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذہب، نسل یا جماعت کو وبا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرانا نہ صرف غیر سائنسی ہے بلکہ وبا کے خلاف مؤثر جدوجہد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان مقدمات کو مذہبی پروفائلنگ کی ایک واضح مثال قرار دیا ہے، جو اقلیتوں کے خلاف تعصب اور امتیاز کو فروغ دیتا ہے۔ اس عدالتی فیصلے نے ان تمام افراد کے لیے ایک امید کی کرن روشن کی ہے جو برسوں سے انصاف کے متلاشی تھے۔ یہ فیصلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگرچہ عدالتی نظام رفتہ رفتہ کام کرتا ہے، مگر بالآخر وہ آئین کے اصولوں اور انسانی وقار کے تحفظ کا ضامن ہوتا ہے۔ اس سے عدلیہ کی خودمختاری اور غیر جانبداری پر بھی روشنی پڑتی ہےجو آج کے سیاسی ماحول میں نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے، جہاں اکثر ریاستی ادارے سیاسی دباؤ کے آگے جھکتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، اس فیصلے کے بعد کچھ سخت مگر ضروری سوالات بھی اٹھتے ہیں کہ و ہ ادارے جنہوں نے غلط مقدمات قائم کیے، پولیس اہلکار جنہوں نے بغیر مناسب تحقیق کے ایف آئی آر درج کیں، افسران جنہوں نے چارج شیٹس پر دستخط کیے، اور جن میڈیا ہاؤسز نے نفرت کو فروغ دیا، کیا ان کا کوئی احتساب ہوگا؟ کیا ایسے بدنیتی پر مبنی الزامات کے خلاف کوئی مؤثر نظام تشکیل دیا جائے گا؟ کیا ان بے گناہوں کو ریاست معاوضہ فراہم کرے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات صرف عدالتوں سے نہیں بلکہ حکومت اور سماج سے بھی متوقع ہیں۔ یہ فیصلہ ان سب کے لیے آئینہ ہے جو طاقت و اثر و رسوخ کے بل پر کمزوروں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ان کے لیے بھی سبق ہے جو قانون کا استعمال مخصوص برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ میڈیا، حکومت، اور دیگر اداروں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوششیں بالآخر بے نقاب ہو جاتی ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ پورا سماج ایک اجتماعی خود احتسابی کا عمل شروع کرے ۔
اس فیصلے کے بعد لازم ہو گیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز صحافتی اخلاقیات کی جانب لوٹیں، تحقیق پر مبنی رپورٹنگ کو ترجیح دیں، اور مذہبی و نسلی تعصب سے اجتناب کریں۔ حکومتوں کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی بھی بحران کے دوران اقلیتوں کو قربانی کا بکرا بنانا نہ صرف غیراخلاقی ہے بلکہ آئینی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ صرف عدالتی فیصلے کافی نہیں، جب تک معاشرہ مجموعی طور پر انصاف پسند اور غیرمتعصب نہ بنے، ایسے فیصلے وقتی راحت تو فراہم کر سکتے ہیں لیکن دیرپا حل نہیں دے سکتے۔
یہ مقدمہ اور اس کا اختتام ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مساوات، آزادی اور انصاف کا حق دیتا ہے، اور عدلیہ ان اصولوں کی محافظ ہے۔ اگرچہ انصاف کا راستہ طویل اور
دشوار ہو سکتا ہے، لیکن بالآخر سچائی ہی کو فتح حاصل ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف تبلیغی جماعت کے ان افراد کے لیے انصاف کی علامت ہے جو برسوں تک بے گناہ ہو کر بدنامی اور اذیت کا شکار رہے، بلکہ یہ ایک علامتی کامیابی بھی ہے اُن تمام اقلیتوں کے لیے جو اکثر ریاستی طاقت، میڈیا کی نفرت انگیز مہم اور سماجی تعصب کا نشانہ بنتی ہیں۔یہ عدالتی فیصلہ آنے والی نسلوں کے لیے محض ایک قانونی نظیر نہیں، بلکہ ایک بیدار کن پیغام ہے کہ آئینی حقوق کا تحفظ فقط ایک نظری تصور نہیں بلکہ ایک قابلِ حصول حقیقت ہے۔ یہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر انسان سچائی، عدل اور آئینی اصولوں کی شمع تھامے رکھے، تو وہ نہ صرف ظلم و جبر کے خلاف سینہ سپر ہو سکتا ہے بلکہ خود اختیار و اقتدار کے ایوانوں سے بھی سوال کرنے کا حوصلہ پا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ یاد دلاتا ہے کہ مزاحمت، جب اصول پر مبنی ہو، تو وہ تنہا آواز بھی تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ صرف عدلیہ ہی نہیں، بلکہ پورا معاشرہ بالخصوص میڈیا، ریاستی ادارے اور عام شہری اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا ازسرِنو سنجیدہ جائزہ لیں۔ کیونکہ انصاف کی اصل روح صرف عدالتی فیصلوں میں نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور، گفتگو، طرزِ فکر اور سماجی برتاؤ میں بھی جھلکتی ہے۔ جب تک سچائی، رواداری اور عدل کو صرف قانون کی کتابوں میں نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی اپنایا نہیں جاتا، تب تک ایسے فیصلے محض عدالت کی فائلوں یا تاریخ کی کتابوں تک محدود رہیں گے ، زندہ جمہوریت کے ستون نہیں بن سکیں گے۔
جموں و کشمیر
پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
گوہر پیرزادہ
اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی
پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتاΩ تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔
پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔
“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔
محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”
غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔
کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔
ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔
انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔
“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

ہوٹل مالک گورپریہ کور
مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔
“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔
لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔
جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
تجزیہ
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔
دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔
پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔
لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔
کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔
(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔
(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔
ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔
بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔
کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔
حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔
بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔
کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔
ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔
درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔
درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ





































































































