ہندوستان
اڈیشہ، پنجاب، آندھرا پردیش میں چار نئے سیمی کنڈکٹر فیکٹری پروجیکٹوں کو منظوری

نئی دہلی، مرکز نے منگل کو چار نئے سیمی کنڈکٹر پلانٹس کے قیام کے لئے کل 4600 کروڑ روپے کے منصوبوں کو منظوری دی انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) کے تحت منظور شدہ یہ پروجیکٹس سکسیم، کانٹی نینٹل ڈیوائس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ (سی ڈی آئی ایل)، 3ڈی گلاس سلوشنز انک، اور ایڈوانسڈ سسٹم ان پیکج (اے ایس آئی پی) ٹیکنالوجیز کی جانب سے رکھی گئی ہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشون ویشنو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان میں دو سیمی کنڈکٹر کارخانے اڈیشہ اور ایک ایک پنجاب اور آندھرا پردیش میں قائم کیا جائیں گے۔ سکسیم اور گلاس 3ڈی اڈیشہ میں، سی ڈی آئی ایل کا پروجیکٹ پنجاب میں اور اے ایس آئی پی آندھرا پردیش میں قائم کیا جائے گا۔
مسٹر ویشنو نے کہا، “انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن: ہندوستان کے کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر اور ایڈوانسڈ پیکیجنگ سیکٹر میں آگے بڑھنے کے ساتھ رفتار اور بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم میں مومینٹم بڑھ رہا ہے اور چھ منظور شدہ پروجیکٹ پہلے سے ہی نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان چار منظور شدہ پروجیکٹس میں تقریباً 4600 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سہولیات قائم ہوں گی اور توقع ہے کہ اس سے 2034 ہنر مند پیشہ ور افراد کے لیے مجموعی روزگار پیدا ہوگا جس سے الیکٹرانک مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو تحریک ملے گی جس کے نتیجے میں بہت سے بالواسطہ روزگار بھی پیدا ہوں گے ۔ آج ان چار مزید منظوریوں کے ساتھ ، آئی ایس ایم کے تحت کل منظور شدہ پروجیکٹ 6 ریاستوں میں تقریبا. 1.60 لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ 10 تک پہنچ گئے ہیں۔
ٹیلی کام ، آٹوموٹو ، ڈیٹا سینٹرز ، کنزیومر الیکٹرانکس اور انڈسٹریل الیکٹرانکس میں سیمی کنڈکٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے ، یہ چار نئے منظور شدہ سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ آتم نربھر بھارت کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔
سک سیم پرائیویٹ لمیٹڈ اڈیشہ کے بھونیشور میں واقع انفو ویلی میں سلیکون کاربائیڈ (سک) پر مبنی کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر کی ایک مربوط سہولت قائم کرنے کے برٹین کی کلاس – سک ویفر فیب لیمیٹڈ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ یہ ملک کا پہلا تجارتی کمپاؤنڈ فیب ہوگا۔ اس منصوبے میں سلکان کاربائیڈ ڈیوائسز تیار کرنے کی تجویز ہے۔
اس کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر فیب کی سالانہ گنجائش 60,000 ویفرز اور پیکیجنگ کی گنجائش 960 لاکھ یونٹ ہوگی۔ مجوزہ مصنوعات کو میزائلوں، دفاعی آلات، الیکٹرک گاڑیوں (ای وی)، ریلوے، فاسٹ چارجرز، ڈیٹا سینٹر ریک، صارفین کے آلات اور شمسی توانائی کے انورٹرز میں استعمال کیا جائے گا۔
تھری ڈی گلاس سولیوشنز انک (3 ڈی جی ایس) ، اڈیشہ کے بھونیشور کے انفو ویلی میں عمودی طور پر مربوط ایڈوانسڈ پیکیجنگ اور ایمبیڈڈ گلاس سبسٹریٹ یونٹ قائم کرے گا۔ یہ یونٹ دنیا کی جدید ترین پیکیجنگ ٹیکنالوجی ہندوستان میں لائے گا جو سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں اگلی نسل کی کارکردگی لاتا ہے۔
اس مرکز میں مختلف قسم کی جدید ٹیکنالوجیز ہوں گی جن میں پیسوز اور سلیکون بریجزکے ساتھ گلاس انٹرپوزر اور تھری ڈی ہیٹروجینیئس انٹیگریشن (تھری ڈی ایچ آئی) ماڈیول شامل ہیں۔ اس یونٹ کی منصوبہ بند صلاحیت تقریبا 69600 گلاس پینل سبسٹریٹس، 50 ملین اسمبلڈ یونٹس اور 13200 تھری ڈی ایچ آئی ماڈیولز سالانہ ہوگی۔ مجوزہ مصنوعات میں دفاعی، اعلی کارکردگی والی کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، آر ایف اور آٹوموٹو، فوٹوونکس اور کو- پیکیجڈ آپٹکس وغیرہ میں اہم ایپلی کیشنز ہوں گی۔
ایڈوانسڈ سسٹم ان پیکیج ٹیکنالوجیز (اے ایس آئی پی) 96 ملین اکائیوں کی سالانہ صلاحیت کے ساتھ اے پی اے سی ٹی کمپنی لمیٹڈ، جنوبی کوریا کے ساتھ ٹکنالوجی ٹائی اپ کے تحت آندھرا پردیش میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرے گی۔ تیار شدہ مصنوعات کو موبائل فونز، سیٹ -ٹاپ باکسز ، آٹوموبائل ایپلی کیشنز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات میں استعمال کیا جائے گا۔
کانٹی نینٹل ڈیوائس (سی ڈی آئی ایل) پنجاب کے موہالی میں اپنی ڈسکریٹ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ مرکز کو وسعت دے گی ۔ مجوزہ مرکز سلیکون اور سلیکون کاربائڈ دونوں میں ہائی پاور ڈسکریٹ سیمی کنڈکٹر ڈیوائسز جیسے ایم او ایس ایف ای ٹی، آئی جی بی ٹی، شاٹکی بائی پاس ڈائیڈس اور ٹرانجسٹر تیار کرے گی۔ اس براؤن فیلڈ توسیع کی سالانہ صلاحیت 158.38 ملین یونٹ ہوگی ۔ ان مجوزہ اکائیوں کے ذریعہ تیار کردہ آلات کا استعمال آٹوموٹیو الیکٹرانکس جن میں ای وی اور اس کے چارجنگ انفرااسٹرکچر، قابل تجدید توانائی کے نظامات، پاور کنورژن ایپلی کیشنز، صنعتی ایپلی کیشنز اور کمیونی کیشن انفرااسٹرکچرمیں کیا جائے گا۔
ان منصوبوں کی منظوری سے ملک میں سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو نمایاں فروغ ملے گا کیونکہ ان منصوبوں میں ملک کا پہلا تجارتی کمپاؤنڈ فیب کے ساتھ ساتھ انتہائی ایڈوانسڈ گلاس پر مبنی سبسٹریٹ سیمی کنڈکٹر پیکیجنگ یونٹ بھی شامل ہے۔
حکومت نے کہا کہ یہ صلاحیتیں ملک میں بڑھتی ہوئی عالمی معیار کی چپ ڈیزائن کی صلاحیتوں میں معاونت کریں گی، جو حکومت کی طرف سے 278 تعلیمی اداروں اور 72 اسٹارٹ اپس کو فراہم کردہ ڈیزائن انفرااسٹرکچر سپورٹ سے آگے بڑھے ہیں۔ اس میں 60000 سے زیادہ طلباء ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ پروگرام کے فوائد حاصل کر چکے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
کانگریس نے اوڈیشہ کے رائگڑا اور کالاہانڈی اضلاع میں کان کنی کے لیے قبائلی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے منگل کو اوڈیشہ کے رائگڑا اور کالاہانڈی اضلاع میں مجوزہ باکسائٹ کانکنی پروجیکٹ کے سلسلے میں قبائلی حقوق اور ماحولیاتی تحفظات کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا انہوں نے خطے میں حالیہ بدامنی کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر رمیش نے کہا کہ اڈیشہ کی عوامی مزاحمت کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، خاص طور پر جب ماحولیاتی نتائج کے ساتھ کان کنی کے پروجیکٹوں کو آئینی اور قانونی تحفظات کی پیروی کیے بغیر ’جبراً تھوپا‘ جاتا ہے۔ انہوں نے سیجیمالی میں مجوزہ پروجیکٹ کو اسی ’مایوس کن کہانی‘ کا حصہ قرار دیا۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ قبائلی اور جنگل میں رہنے والی برادریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے کلیدی قوانین، جن میں پنچایت (شیڈولڈ ایریاز تک توسیع) ایکٹ (پیسا) 1996، اور جنگلات کے حقوق ایکٹ 2006 شامل ہیں، ان کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
مسٹر رمیش نے دعویٰ کیا کہ جب حالیہ دنوں میں مظاہرے شروع ہوئے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’ضرورت سے زیادہ طاقت‘ کا استعمال کیا، جس میں خاص طور پر شیڈولڈ ٹرائب کمیونٹیز اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں درج فہرست ذاتوں/ درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ 1989 کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
سیاسی سیاق و سباق کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ چونکہ اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ اور قبائلی امور کے مرکزی وزیر دونوں کا تعلق ایک ہی ریاست سے ہے، اس لیے انہیں اس معاملے سے نمٹنے میں زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے قبائلی امور کے مرکزی وزیر پر زور دیا کہ وہ سیجیمالی بدامنی کی آزادانہ انکوائری کا حکم دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پی ای ایس اے اور فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے التزامات کو شفاف اور شراکتی عمل کے ذریعے ’لفظ بہ لفظ‘ لاگو کیا جائے۔
یہ الزامات جنوبی اوڈیشہ کے کچھ حصوں میں جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں، جہاں قبائلی برادریوں نے نقل مکانی، ماحولیاتی انحطاط اور روایتی حقوق کے نقصان کے خدشات پر کان کنی کے پروجیکٹس پر اکثر احتجاج کیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
منیش سسودیا نے بھی جسٹس سوارن کانتا کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا
نئی دہلی، اروند کیجریوال کے بعد اب دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھی جسٹس سوارن کانتا شرما کو خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں نہ تو وہ اور نہ ہی ان کے وکیل ان کی عدالت میں پیش ہوں گے اپنے خط اور سوشل میڈیا ‘ایسک’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر سسودیا نے کہا کہ ‘پورے احترام کے ساتھ’، ان کا ضمیر انہیں موجودہ حالات میں جج کے سامنے کارروائی میں حصہ لینا جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’یہ کسی فرد کا سوال نہیں ہے، بلکہ اس اعتماد کا سوال ہے جس پر نظام انصاف قائم ہے کہ ہر شہری کو نہ صرف انصاف ملنا چاہیے بلکہ انصاف ہوتے وہئے نظر بھی آنا بھی چاہیے۔
سابق ڈپٹی وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عدلیہ اور آئین پر ان کا اعتماد ’’غیر متزلزل‘‘ ہے لیکن جب دل میں سنگین شکوک پیدا ہوں تو محض رسمی شرکت مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس لیے، میرے پاس ستیہ گرہ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا ہے۔
یہ اقدام مسٹر کیجریوال کے ذریعہ اسی طرح کا مؤقف اختیار کرنے کے کچھ ہی وقت کے بعد آیا ہے، جنہوں نے اپنے ریکیوزل درخواست (جج کو معاملے سے ہٹنے کی عرضی) خارج ہونے کے بعد عدالت میں پیش ہونے ست انکار کردیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک غیر معمولی اورتلخ ٹکراؤ کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) دونوں سینئر لیڈروں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی بھلر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا شکنجہ، ٹھکانوں پر چھاپہ ماری
نئی دہلی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی ہرچرن سنگھ بھلر اور دیگر سے متعلق کئی مقامات پر تلاشی مہم چلا رہا ہے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)، انسدادبدعنوانی بیورو (اے سی بی)، چنڈی گڑھ نے سابق ڈی آئی جی اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان معاملات میں آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے اور ایک مجرمانہ معاملے کے تصفیے کے لیے بچولیہ کے ذریعے غیر قانونی رقم کے مطالبے جیسے الزامات شامل ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ “ملزم، ساتھیوں اور مشتبہ بے نامی داروں سے منسلک 11 مقامات (چنڈی گڑھ-2، ضلع لدھیانہ-5، پٹیالہ-2، نابھہ-1 اور جالندھر-1) پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 17 کے تحت تلاشی لی جا رہی ہے۔” اہلکار نے مزید کہا کہ تلاشی کا مقصد جرم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا سراغ لگانا، بے نامی جائیدادوں کی شناخت کرنا اور منی لانڈرنگ سے متعلق شواہد اکٹھا کرنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی نے گزشتہ سال اکتوبر میں سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ہرچرن سنگھ بھلر کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا کیس درج کیا تھا۔ انہیں 17 اکتوبر 2025 کو ایک اور معاملے میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا۔
سی بی آئی کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق، آکاش بارا نے شکایت درج کرائی تھی جس کی بنیاد پر پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی (روپڑ رینج) بھلر اور ایک نجی شخص کرشانو کے خلاف بھارتیہ نیاۓ سنہیتا کی دفعہ 61 (2) اور انسداد بدعنوانی قانون کی دفعات 7 اور 7 اے کے تحت 16 اکتوبر کو باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں بچولیہ ملزم کرشانو کو شکایت کنندہ سے مسٹر بھلر کے لیے پانچ لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ اس کے بعد سی بی آئی نے مسٹر بھلر اور بچولیہ کرشانو کو گرفتار کر لیا۔
سی بی آئی کی ایف آئی آر کے مطابق، “مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے دوران، چنڈی گڑھ میں واقع بھلر کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے دوران 7,36,90,000 روپے نقد برآمد ہوئے، جن میں سے 7,36,50,000 روپے ضبط کر لیے گئے۔ اس کے علاوہ، مجموعی طور پر 2,32,07,686 روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور چاندی کی اشیاء (بھلر کے بیڈروم سے)، اور 26 برانڈڈ اور مہنگی گھڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔”
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ “غیر منقولہ جائیداد کے دستاویزات بھی ضبط کی گئی ہیں، جن میں چنڈی گڑھ کے ایک گھر اور فلیٹ کے کاغذات اور موہالی، ہوشیار پور اور لدھیانہ اضلاع میں تقریباً 150 ایکڑ زرعی زمین کے حصول سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ ان میں مسٹر بھلر، ان کے خاندان کے افراد (بشمول اہلیہ تجیندر کور بھلر، بیٹا گرپرتاپ سنگھ بھلر اور بیٹی تیز کرن کور بھلر) اور دیگر کے نام پر تجارتی جائیدادیں شامل ہیں۔ جناب بھلر اور ان کے اہل خانہ کے پاس مرسڈیز، آڈی، انووا اور فارچیونر جیسی مہنگی گاڑیوں سمیت پانچ گاڑیاں بھی پائی گئیں۔”
سی بی آئی نے انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 13(1)(بی) بشمول دفعہ 13(2)، اور بھارتیہ نیاۓ سنہیتا 2023 کی دفعہ 61(2) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی سی بی آئی کی ایف آئی آر کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کر کے چھاپہ ماری شروع کر دی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا4 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر










































































































