جموں و کشمیر
باغ گل لالہ کو کھول کر سیاحتی سیزن کا آغاز کیا،باغ داﺅدسیزن کو مزید آگے بڑھائے گا: وزیراعلیٰ عمرعبداللہ

ایک سال کی ریکارڈمدت میںتیار لاکھوں دلکش پھولوں سے مزین ’باغ گل داﺅد ‘کاباضابطہ طورپرافتتاح
صرف موسم گرمامیں پھول کھلنے کی غلط فہمی دُور،خزاں بھی پُررونق
سری نگر:جے کے این ایس : وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع ’نہرو میموریل بوٹنیکل گارڈن‘ کے بیچوں بیچ ایک سال کی ریکارڈمدت میںتیار کئے گئے ’ ’باغ گل داﺅد‘ ‘کاباضابطہ طورپرہفتہ کو افتتاح کیا۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس وزیر اعلی عمر عبدللہ نے ”باغ گل داود“ کی بنیاد رکھی تھی اور آج26 تاریخ کوانہوںنے باضابطہ طور اس کا رسمی افتتاح کیا گیا۔جے کے این ایس کے مطابق باغ گل داﺅدکاافتتاح کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے باغ داﺅد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وادی میں سیاحتی سیزن کو بڑھا دے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہمیشہ سیاحت کے سیزن کو بڑھانے کی رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ٹیولپ گارڈن ہمارے سیاحتی سیزن کو آگے بڑھاتا ہے، اور اب باغ گل داﺅد اسے مزید آگے بڑھائے گا۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح ہم نے ٹیولپ گارڈن کو شروع کیا اور پھر اسے ایشیا کا سب سے بڑا باغ بنانے کےلئے بڑھایا، ہمارے پاس ہر موسم میں زیادہ سے زیادہ کرسنتھیمم گل داﺅدکھلیں گے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ کشمیر میں گرمی کے موسم کے بعد پھول نہیں کھلتے۔انہوںنے کہاکہ محکمہ پھول بانی (فلوری کلچر ڈیپارٹمنٹ) کے حکام کےساتھ میٹنگ کے بعد ہم نے اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر ہم ٹیولپ گارڈن کو کھول کر سیاحتی سیزن کا آغاز کر سکتے ہیں تو ہم گل داو ¿د باغ کے ساتھ سیزن کو بڑھا سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ میں تمام باغبانوں اور محکمہ کے عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔کرسنتھیمم گارڈن یعنی باغ گل داﺅکے افتتاح کے موقع پر، وزیر اعلیٰ نے ایک نمائش کا بھی افتتاح کیا جس میں سجاوٹی، لیوینڈر اور دیگر پھولوں کی اقسام کی وسیع رینج پر مشتمل ہے جو مقامی کاشتکاروں نے محکمانہ تعاون سے کاشت کی ہے۔ انہوں نے پھولوں کے کاشتکاروں سے بات چیت کی اور باغبانوں اور فیلڈ سٹاف کی لگن اور دستکاری کو سراہا جن کی کوششوں سے پھولوں میں جان آئی۔’ باغ گل داﺅد‘ یہ کشمیر وادی میں اپنی نوعیت کا ایسا پہلا باغ ہے جو کہ موسم خزاں میں گل داﺅد کے تھیم پر تیار کیا گیا ہے۔ 5ہیکٹیئر یعنی لگ بھگ100 کنال اراضی پر محیط اس باغ میں گل داﺅد کے ایک لاکھ پودے لگائے گئے ہیں جن پر اس وقت 30 لاکھ رنگ برنگے پھول اپنے جوبن پر ہیں۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق دراصل ’باغ گل داﺅد‘ کی گزشتہ برس نومبر میں بنیاد ڈالی گئی تاکہ سیاحوں کو نہ صرف یہاں خزاں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملے بلکہ ان پھولوں کی دلکشی اور خوبصورتی سے بھی محظوظ ہو سکیں۔کشمیر میں اس وقت خزاں (پت جڑھ) کا موسم ہے اور ہر سو درختوں سے پتے گرنے شروع ہو جاتے ہیں اور بیشتر پھول بھی مرجھائے نظر آتے ہیں، جس سے درخت برہنہ اور زرخیز زمین و باغات سونے معلوم ہوتے ہیں، تاہم خزاں کے ساےے میں ماہ اکتوبر میں گل داﺅد کے یہ رنگین پھول ماحول میں دوبارہ رنگ بھرنے اور دیکھنے والے کو معطر کرتے ہیں۔فلوریکلچر آفیسر جاوید مسعود کہتے ہیں کہ ”گل داود“ موسم خزاں کے پھول ہیں اور یہ اسی موسم میں کھلتے ہیں اور یہ پھول باغات اور گھریلوں پارکوں کے خلا ءکو دور کرتے ہیں جو ہمیں خزاں میں زمینی سطح کو دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا ”گل داود کی قسم میں تقریباً ہر رنگ کے پھول کھلتے ہیں لیکن سرخ، پیلا اور نارنگی اس پھول کے بنیادی رنگ ہیں۔“وادی کشمیر اپنی بے پناہ خوبصورتی اور دلکشی سے جہاں دنیا بھر میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے، وہیں یہ بدلتے موسموں کی وجہ سے بھی جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ کیونکہ یہاں کے موسم بھی بڑے نرالے ہوتے ہیں۔ موسم سرما ہو یا گرما، بہار ہو یا خزاں، ہر موسم میں کشمیر اپنے حسن کا الگ رنگ بکھیرتا ہے۔ اور یہی وہ حسن ہے جو وادی کی سیر کرنے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔موسم خزاں میں کشمیر کی سیر پر آئے سیاح ان دنوں باغ گل داﺅد کی سیر کرنا نہیں بھولتے۔ ممبئی سے آئی ایک خاتون سیاح یاسمین بانو نے بتایا ”پت جڑھ (خزاں)کے اس موسم میں مختلف رنگوں کے پھولوں سے بھرا ہوا ایسا باغ میں نے پہلی بار دیکھا ہے باغ اور پھولوں کی یہ خوبصورتی میرے لیے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔“’باغ گل داود‘ کشمیر میں خزاں میں ایک نئی کشش ثابت ہو رہا ہے اور اس سے سیاحت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ جاوید مسعود کہتے ہیں کہ ”ہمارے پاس سیاحوں کو اس وقت چنار کے زرد پتوں کو دکھانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا تھا تاہم اب ’باغ گل داود‘ اکتبور نومبر میں سیاحوں کو کشمیر کی طرف متوجہ کرنے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔
جموں و کشمیر
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ‘نشہ مکت جموں و کشمیر مہم’ کے جذبے کو اپنانے کی اپیل
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز منشیات کے استعمال کے خلاف اجتماعی کارروائی کی زوردار اپیل کی اور اعلان کیا کہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں “اتحاد ہماری ڈھال ہوگی اور عزم ہمارا ہتھیار”۔
ادھم پور میں منعقدہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر مہم’ کے دوران ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خطے کے نوجوانوں کی حفاظت، خاندانوں کو مضبوط بنانے اور نشے کی گرفت سے آزاد مستقبل کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئیے ہم ایک ایسا جموں و کشمیر بنانے کا عزم کریں جہاں نوجوان اپنا آزاد مستقبل خود لکھیں، خاندان سلامت رہیں، معاشرہ ترقی کرے اور امیدیں پھر سے پروان چڑھیں۔ ہم اپنے نوجوانوں اور اپنے مستقبل کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘‘ْ
انہوں نے مزید کہا کہ ’’نشے کی اس لعنت کے خلاف لڑائی تمام اختلافات سے بالا تر ہو کر یکجہتی کا مطالبہ کرتی ہے۔ جموں و کشمیر کے شہریوں کے طور پر، ہمیں اپنے نوجوانوں کو بچانے، خاندانوں کو طاقت دینے اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے اپنے مشترکہ فرض کے لیے متحد ہونے کا عہد کرنا چاہیے۔”
ہزاروں مقامی باشندوں کے ساتھ پد یاترا میں شرکت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ہر شہری سے گزارش کی کہ وہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر مہم’ کو منشیات کے خلاف ایک مشترکہ جنگ کے طور پر دیکھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب کو مل کر یہ لڑائی جیتنی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’جموں و کشمیر ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کرنے والے نشے کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے نئی طاقت کے ساتھ کھڑا ہو رہا ہے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو اس کی گرفت سے بچانے کی قسم کھاتے ہیں۔ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری سرزمین کے حوصلے پست نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ یہ وقت معاشرے کے جاگنے، مقابلہ کرنے اور فتح حاصل کرنے کا ہے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے خلاف یہ لڑائی کوئی بھی اتھارٹی اکیلے نہیں لڑ سکتی اور یہ جذبہ ہر دل میں پیدا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادھم پور کا ہر گاؤں، محلہ اور شہر مزاحمت کا قلعہ بن جائے۔ ہر گھر ایک چوکس محاذ کے طور پر کھڑا ہو۔ میں ہر رہائشی سے اس نیک کام میں ایک جنگجو کے طور پر شامل ہونے کی اپیل کرتا ہوں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو ‘نشہ مکت جموں و کشمیر مہم’ کے جذبے کو اپنانا چاہیے، تاکہ تاریخ میں یہ درج ہو سکے کہ 27 اپریل کو ادھم پور میں امید، اتحاد اور پختہ عزم کی شمع روشن کی گئی تھی۔ ہر خاندان کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ تاریخ ادھم پور کے متحد موقف، متحد لڑائی اور متحد جیت کو یاد رکھے جو کہ قوم کی تعمیر کے لیے وقف ایک منشیات سے پاک کل کی وراثت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ’’آنے والے 83 دنوں میں، آئیے ہم معاشرے کے نظریے کو بدلیں اور نشے کے جال میں پھنسے لوگوں کے ساتھ متاثرین جیسا سلوک کریں، جو حقارت کے نہیں بلکہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔ بحالی کے ذریعے ان کے وقار کو بحال کیا جانا چاہیے اور انہیں دوبارہ معاشرے کے مرکزی دھارے سے جوڑنا چاہیے۔ اجتماعی توانائی کو اس مہم کی طاقت بننے دیں۔ آگاہی کو جوابدہی میں بدلیں، عوامی شرکت کو بڑھائیں اور اس لڑائی کی قیادت میں خواتین اور نوجوانوں کا کلیدی کردار ہونا چاہیے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ نشے کے خطرے کے خلاف یہ جنگ کئی مراحل میں چلے گی، جن میں سے ہر مرحلہ ہمت اور لگن کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بیداری مہمات کے ذریعے خاندانوں کو منشیات کی لت کی علامات اور اس کے خطرات کے بارے میں تعلیم دی جانی چاہیے اور انہیں یہ یاد دلایا جانا چاہیے کہ یہ خطرہ دور نہیں بلکہ ہمارے درمیان ہی موجود ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے ‘نشہ مکت جموں و کشمیر مہم’ کے تحت ایک ‘اینٹی ڈرگ اویرنس بائیک ریلی’ کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور ‘منی اولمپکس’ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے منشیات کے زہر سے چھٹکارا پانے والے افراد کو ایکسپٹنس لیٹر بھی سونپے اور ‘نشہ مکت آئیڈیاز چیمپئن شپ’ کے فاتح کو اعزاز سے نوازا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
کپواڑہ عدالت نے ڈی ایس پی کو بری کیا، سات پولیس اہلکاروں کے خلاف ٹرائل کا حکم
سری نگر، کپواڑہ کی ایک عدالت نے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو بری کرتے ہوئے 2023 میں ایک پولیس کانسٹیبل کے مبینہ حراستی تشدد کیس میں سات دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کپواڑہ، منجیت سنگھ منہاس نے 24 اپریل کو اپنے حکم میں کہا کہ ڈی ایس پی اعجاز احمد نائک کے خلاف بادی النظر میں کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، تاہم دیگر سات ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔
یہ معاملہ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تحقیقات سے متعلق ہے، جس میں الزام ہے کہ پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو 20 فروری سے 26 فروری 2023 کے درمیان جوائنٹ انٹروگیشن سینٹر (جے سی آئی) کپواڑہ میں غیر قانونی
طور پر حراست میں رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا، جو مبینہ طور پر منشیات سے متعلق جرائم کی تفتیش کے بہانے کیا گیا تھا۔
یہ تحقیقات سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں، جب متاثر کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی تھی۔ سی بی آئی نے جولائی 2025 میں ایف آئی آر درج کی اور بعد میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی، جس میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120-بی (مجرمانہ سازش)، 323، 325 (زخمی کرنا)، 330، 331 (اقرارِ جرم حاصل کرنے کے لیے تشدد) اور 343 (غلط حراست) شامل تھیں۔ بعد ازاں سی بی آئی نے ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا اور دسمبر کے آخری ہفتے میں عدالت نے تمام ملزمان کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کہا کہ ڈی ایس پی نائک کا کردار نگرانی تک محدود تھا اور ان کے براہ راست یا بالواسطہ طور پر تشدد میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عدالت نے کہاکہ”ان کے خلاف محض شبہ پایا جاتا ہے جو سنگین شبہ کی حد تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی کوئی ایسا ابتدائی ثبوت موجود ہے جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ شرکت کو ظاہر کرے۔ لہٰذا ملزم اے-1 (ڈی ایس پی اعجاز) کو مذکورہ دفعات کے تحت بری کیا جاتا ہے۔”
تاہم عدالت نے دیگر ملزمان کے حوالے سے مختلف رائے اختیار کی، جن میں سب انسپکٹر ریاض احمد میر، اسپیشل پولیس آفیسر جہانگیر احمد بیگ، ہیڈ کانسٹیبل محمد یونس خان اور تنویر احمد ملا، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شاکر حسین کھوجا اور الطاف حسین بھٹ، اور کانسٹیبل شہنواز احمد دیداد شامل ہیں۔
ان سات میں سے چھ ملزمان کپواڑہ ضلع کے رہائشی ہیں جبکہ تنویر احمد ملا کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔
عدالت نے کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد، جن میں متاثر کا بیان، طبی رپورٹس اور دیگر حالات شامل ہیں، ان ساتوں کے خلاف بادی النظر میں کیس ثابت کرتے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ حراست کے دوران متاثر کے جسم کے حساس حصوں پر لگنے والی چوٹیں اور طبی رائے حراستی تشدد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ متاثر مکمل طور پر ملزمان کے کنٹرول میں تھا، جو استغاثہ کے موقف کو مضبوط بناتا ہے۔
عدالت نے دفاع کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ الزامات مبہم ہیں اور کہا کہ متاثر نے واضح طور پر ملزمان کے نام لیے اور ان کے کردار کی تفصیل بیان کی، جو کئی دنوں تک جاری رہنے والے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عدالت نے کہاکہ”اس مرحلے پر عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا بادی النظر میں کیس یا سنگین شبہ موجود ہے، نہ کہ مکمل ٹرائل کرنا۔”
عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ابتدائی طور پر ان جرائم کے عناصر کو ثابت کرتا ہے۔ “ریکارڈ پر موجود مواد، اپنی ظاہری حیثیت میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان سات ملزمان نے مشترکہ منصوبے کے تحت مذکورہ دفعات کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔”
اس کے مطابق عدالت نے ساتوں ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا اور مقدمہ 14 مئی کو استغاثہ کے ثبوت کے لیے درج کیا جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مانڈویہ نے نچلی سطح پر توجہ مرکوز کرنے پر دیا زور، سرینگر میں وزرائے کھیل کا ‘چنتن شیویر’
سرینگر نوجوانوں اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ہفتہ کو اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی سپر پاور کے طور پر ابھرنے کا جو 10 سالہ پرجوش روڈ میپ ہے، اسے نچلی سطح پر کام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے مباحثوں کی سمت متعین کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے کھیلوں کے عزائم کو زمینی سطح پر عمل درآمد کے ذریعے ہی حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا
”عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے لیے ہمارا 10 سالہ روڈ میپ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر کھیل کے میدان، ہر ضلع اور ہر نوجوان کے خواب میں زندہ نظر آنا چاہیے۔“
جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی چنتن شیوِر میں شرکت کی اور ہندوستان کو کھیلوں کی طاقت بنانے کے وژن کو سراہا۔
کھیلوں کے مرکزی وزیر نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ محض پالیسی اپنانے تک محدود نہ رہیں بلکہ فعال عمل درآمد کی طرف بڑھیں، اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی پیش رفت کا اندازہ اُن نتائج سے ہوگا جو اضلاع، تربیتی نظام اور نچلی سطح کے کھیلوں کے ڈھانچے میں واضح طور پر نظر آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”کھیلو بھارت مشن صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اور قوم کے عزم کی عکاسی ہے۔“
ڈاکٹر مانڈویہ نے ریاستی حکومتوں اور اسپورٹس فیڈریشنوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط اور متحدہ ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل کے لیے قریبی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے پر ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے تعلیمی نظام کے ساتھ ربط ضروری ہے اور جسمانی تعلیم کے اساتذہ نچلی سطح کے کھیلوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر کسی ایک باصلاحیت بچے کو مواقع کی کمی کے باعث پیچھے رہ جانا پڑے تو یہ صرف اس کی ذاتی نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔“
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کھیل ایک تبدیلی لانے والا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جموں و کشمیر اور دیگر مشکل علاقوں میں، جہاں یہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔
نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر مانڈویہ نے کوچ کی باقاعدہ تصدیق اور تربیت میں بہتری، کھلاڑیوں کی سائنسی بنیادوں پر تربیت اور اسپورٹس انتظامیہ میں صلاحیت سازی کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک مربوط اور مسلسل نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا، ”جب بنیادی ڈھانچہ، ٹیلنٹ کی شناخت اور تربیت یافتہ افرادی قوت ایک مربوط سلسلے کی صورت اختیار کر لیں گے تو اولمپک پوڈیم تک رسائی خود بخود ممکن ہو جائے گی“ اور اس طرح نچلی سطح کی شمولیت کو اعلیٰ کارکردگی سے ایک منظم راستے کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر مانڈویہ نے لکشمی بائی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل ایجوکیشن، گوالیار کے تحت وائی ای ایس-پی ای (ینگ انگیجمنٹ اِن اسپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن) پروگرام کا بھی آغاز کیا، جسے جماعت 9 سے 12 تک کے طلبہ کے لیے کھیلوں میں شرکت، اسپورٹس مین شپ اور قیادت کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری (کھیل) ہری رنجن راؤ نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اس شیوِر کی اہمیت کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر اجاگر کیا جو اجتماعی غور و فکر اور عملی اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
چنتن شیوِر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ اجتماع محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ غور و فکر، عزم اور نئے عہد کا ایک مشترکہ لمحہ ہے۔“
چنتن شیوِر میں مختلف موضوعاتی اجلاس منعقد ہوئے جن میں میڈل حکمتِ عملی، پالیسی ہم آہنگی، صاف اور محفوظ کھیل، اور ٹیلنٹ کی شناخت و ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پندرہ سے زائد ریاستی وزرائے کھیل کے ساتھ ساتھ ممتاز کھیل شخصیات جیسے عادل سُمرِی والا، ابھینو بندرا، پلیلا گوپی چند اور گگن نارنگ نے چنتن شیوِر میں شرکت کی اور متعلقہ فریقین کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جو ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پالیسی مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مختلف ریاستوں کے وزرائے کھیل نے کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو مرکز میں رکھنے والے نقطۂ نظر پر اتفاقِ رائے قائم کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ماڈل کو ملک کے مختلف خطوں میں نافذ کر کے ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
مباحثوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کوچنگ نظام کو بہتر بنانے، مرکز و ریاست کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے، اخلاقی اور محفوظ کھیل کے ماحول کو یقینی بنانے اور اسکولوں، اکیڈمیوں اور اعلیٰ تربیتی مراکز کے درمیان مربوط سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیلنٹ پائپ لائن کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
ان اجلاسوں میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ کھلاڑیوں کی نشاندہی سے لے کر اعلیٰ کارکردگی کی تربیت تک تسلسل برقرار رکھنے کے لیے منظم راستوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستوں کے درمیان مسلسل نگرانی، جائزہ اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی کے مقاصد کو زمینی سطح پر قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
مباحثوں میں اس امر کی دوبارہ توثیق کی گئی کہ ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کھیلوں کا نظام قائم کرنے کے لیے مرکز، ریاستوں اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان متحدہ اور مربوط نقطۂ نظر نہایت اہم ہے، جو ہندوستانکے عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے طویل مدتی وژن سے ہم آہنگ ہو۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر4 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا6 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا6 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoشہید بیٹیوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا: ایرانی صدر
دنیا1 week agoامریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
دنیا6 days agoٹرمپ امریکہ کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے: وائٹ ہاؤس
دنیا6 days agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں







































































































