ہندوستان
ہندوستان اور بحرین کے مابین تجارت وسرمایہ کاری میں شراکت کے امکانات

نئی دہلی، ہندوستان نے بحرین کے ساتھ خلائی تحقیق، فِن ٹیک اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدے اور ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔ ہندوستان نے غزہ امن منصوبے کی تائید کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے مسئلے کا مستقل حل نکلے گا۔
وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے ساتھ پیر کے روز یہاں منعقدہ پانچویں ہندوستان-بحرین اعلیٰ مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ ہندوستان اور بحرین کے درمیان صدیوں پرانے دوستانہ تعلقات ہیں، جو تجارت اور عوامی سطح پر مضبوط روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے عوام اور اپنے مشترکہ خطے کے لیے امن و خوشحالی کو فروغ دینے کے مشترکہ ہدف اور عزم پر بھی یقین رکھتے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ میٹنگ کے دوران دونوں ممالک نے دفاع، سلامتی، تجارت و معیشت، صحت، ثقافت اور عوامی تعلقات کے شعبوں میں قابلِ ذکر دو طرفہ پیش رفت کی ہے۔ لیکن خلائی تحقیق، مالیاتی ٹیکنالوجی اور عمومی ٹیکنالوجی جیسے نئے شعبے بھی ہیں، جن میں شراکت داری کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم بحرین کے سرمایہ کاروں کا ہندوستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے خیر مقدم کرتے ہیں‘‘۔
دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط اور تجارت و سرمایہ کاری پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل سے ہمارے اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک صحت کی خدمات اور خلائی تحقیق کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ایس وائی۔
ہندوستان
کیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو تاریخ کا سب سے شوقین شخص قرار دیتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے اپنی نئی رہائش گاہ بھی ’شیش محل‘ جیسی بنا لی ہے۔
دہلی حکومت کے سابق رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی لیڈر پرویش صاحب سنگھ نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’عآپ‘ کا مطلب ’عالیشان آدمی پارٹی‘ ہے۔ اس دوران انہوں نے مسٹر کیجریوال کی نئی رہائش گاہ کی تصویر جاری کرتے ہوئے ان کا موازنہ فلم ’دھورندھر‘ کے ’رحمان ڈکیت‘ سے کیا اور کہا کہ انہوں نے اب یہاں دوسرا ’شیش محل‘ بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی انتخاب ہارنے کے بعد مسٹر کیجریوال پنجاب چلے گئے تھے۔ وہاں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی سرکاری رہائش گاہ کے آس پاس چار گھروں پر مسٹر کیجریوال اور عآپ لیڈروں ستیندر جین، منیش سسودیا اور سنجے سنگھ نے قبضہ کر لیا تھا۔ مسٹر بھگونت مان بھی اس وجہ سے ان سے پریشان تھے۔
قابل ذکر ہے کہ عدالت کے حکم کے بعد مرکزی حکومت نے مسٹر کیجریوال کو دہلی میں 95، لودھی اسٹیٹ میں واقع سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی تھی، جس میں وہ جمعہ کو خاندان کے ساتھ منتقل ہو گئے۔ مسٹر سنگھ نے مسٹر کیجریوال کی اس رہائش گاہ کی مرمت پر ہونے والے اخراجات کے تعلق سے ان پر حملہ بولا۔ انہوں نے مسٹر کیجریوال کی اس رہائش گاہ کی تصاویر دکھا کر حیرت کا اظہار کیا اور کہا، “وہاں بھی انہوں نے خوب پیسہ خرچ کیا ہے۔ یہ سرکاری رہائش گاہ ہے، لیکن اس میں سرکاری پیسہ نہیں لگا ہے۔” انہوں نے کہا کہ پہلے ’شیش محل‘ (6، فلیگ اسٹاف روڈ، وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ) پر بھاری اخراجات کے حوالے سے جب سوالات اٹھے تو مسٹر کیجریوال نے دعویٰ کیا تھا کہ سجاوٹ کا فیصلہ پی ڈبلیو ڈی کے چیف انجینئر نے کیا تھا اور انہیں اخراجات کا علم نہیں تھا۔ اب نئی رہائش گاہ کے بارے میں وہ ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جو لیڈر کبھی عام بنگلہ بھی نہ لینے کی بات کرتے تھے، آج خود ’شیش محل‘ میں رہ رہے ہیں۔ دہلی میں کورونا کی وبا، پانی اور بجلی کی قلت کے وقت بھی مسٹر کیجریوال غائب ہو کر ’شیش محل‘ بنانے میں لگے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’شیش محل‘ مسٹر کیجریوال کی بدعنوانی کا ثبوت ہے۔ وزیر اعلیٰ کی تنخواہ سے ایسی آلیشان رہائش گاہ نہیں بن سکتی۔ انہیں بتانا چاہیے کہ اس پر شراب گھپلے کا پیسہ لگایا گیا ہے یا نہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسٹر کیجریوال کے اندر ’شیش محل‘ بس چکا ہے۔ اس وجہ سے انہیں دہلی اور پنجاب کی عوام کا دکھ دکھائی نہیں دیتا۔ آپ کارکن پوری زندگی محنت کریں، تب بھی رہائش گاہ کو ایسا نہیں بنا سکتے۔ اس دوران انہوں نے سوال کیا کہ مسٹر کیجریوال بتائیں کہ لودھی روڈ والے بنگلے میں کتنا پیسہ لگا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ پیسہ کہاں سے آیا اور کس کا ہے؟ کیا عآپ کی عیاشی کی وجہ سے آپ کے کارکن آپ کو چھوڑ رہے ہیں؟ بار بار عالیشان شیش محل بنانے کی انہیں کیا ضرورت پڑ رہی ہے؟ پہلے شیش محل میں شراب کا پیسہ لگا تھا، اس بار کس کا پیسہ لگا ہے”
انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسٹر کیجریوال سب سے شوقین شخص ہیں۔ نام عام آدمی پارٹی رکھا، لیکن کام راجہ مہاراجاؤں والا ہے۔ پارٹی کا نام ’ عام عالیشان پارٹی‘ ہونا چاہیے۔ پارٹی سے سات راجیہ سبھا ارکان کے استعفیٰ اور بی جے پی میں شمولیت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ایماندار کارکن اب مسٹر کیجریوال کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
بنگال اور تمل ناڈو میں دوبارہ پولنگ کی کوئی سفارش نہیں کی گئی:الیکشن کمیشن
نئی دہلی،
الیکشن کمیشن کے حکام نے ہفتے کے روز واضح کیا ہے کہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے لیے 23 اپریل کو ہونے والی پولنگ کے حوالے سے کسی بھی مقام پر دوبارہ ووٹنگ کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔
ریاست کی 294 رکنی اسمبلی کے پہلے مرحلے کے تحت 152 نشستوں کے لیے اس ہفتے جمعرات کو ووٹ ڈالے گئے۔ ان نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 44,376 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔ چند مقامات پر اکا دکا واقعات کے علاوہ ووٹنگ کا عمل پرامن رہا۔
تمل ناڈو کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں انتخابات مکمل کر لیے گئے۔ اس مقصد کے لیے ریاست بھر میں 75,064 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے تھے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، دونوں ریاستوں میں رائے دہندگان کی جانب سے بھرپور جوش و خروش دیکھا گیا اور پولنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ کسی بھی مرکز سے دھاندلی یا سنگین بے ضابطگی کی شکایت موصول نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ پولنگ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
بی جے پی کے دورِ حکومت میں اب متاثرہ کو ہراساں کرنے کا نیا نظام بن گیا ہے: پرینکا گاندھی
نئی دہلی،
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اتر پردیش میں ایک لڑکی کے قتل سے پہلے اس کی شکایت درج کرنے میں تامل برتنے اور پھر بدمعاشوں کی جانب سے متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالنے کے معاملے پر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں اب یہ ایک نیا نظام بن گیا ہے۔
سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں محترمہ واڈرا نے لکھا: “اتر پردیش کے غازی پور میں ایک لڑکی کے قتل کے معاملے میں پہلے ایف آئی آر درج کرنے میں آنا کانی، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں ملنا اور بدمعاشوں کے ذریعے لاقانونیت پھیلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست میں خواتین کے خلاف مظالم انتہا پر ہیں۔”
پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی راج میں اب یہ ایک “غیر اعلانیہ قانون” بن گیا ہے کہ جب بھی کسی خاتون پر ظلم ہوتا ہے تو الٹا متاثرہ شخص کو ہی مزید ہراساں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر خواتین کی حفاظت کے حوالے سے غیر سنجیدہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ خواتین کے بارے میں وزیراعظم کی بڑی بڑی باتیں محض دکھاوا ہیں۔
انہوں نے اناؤ، ہاتھرس، پریاگ راج اور اب غازی پور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی، بی جے پی اپنی پوری طاقت کے ساتھ ظالم کے حق میں اور مظلوم کے خلاف کھڑی ہو گئی۔
پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ملک بھر کی خواتین یہ “اندھیر نگری” دیکھ رہی ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر2 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoمکمل حقوق تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز نہیں چھوڑیں گے: مشیر ایرانی سپریم لیڈر





































































































