کھیل
سید کرمانی: اپنی محفوظ وکٹ کیپنگ اور ذمہ دارانہ بلے بازی کے لیے مشہورتھے

یوم پیدائش 29 دسمبر پر خاص
نئی دہلی، سید مجتبیٰ حسین کرمانی ہندستان کے ممتاز سابق کرکٹ کھلاڑی اور وکٹ کیپر تھے،کرمانی اپنی محفوظ وکٹ کیپنگ اور ذمہ دارانہ بلے بازی کے لیے مشہورتھے، کرمانی نے مشکل حالات میں ٹیم کو سہارا دینے والے کھلاڑی کے طور پر شہرت حاصل کی، وکٹ کے پیچھے ان کی پھرتی اور نظم و ضبط نے ہندستانی ٹیم کو کئی موقعوں پر فائدہ پہنچایا، وہ آج بھی ہندستان کے قابلِ اعتماد وکٹ کیپروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔کسی بھی ٹیم کی فتح میں بلے باز ، گیند باز اور وکٹ کیپر کا ہمیشہ سے اہم کردار ہوتا ہے۔ 80 اور 90 کی دہائی سے قبل کرکٹ ٹیم میں وکٹ کیپر کا کام صرف وکٹ کے پیچھے رہ کر رن روکنا اور حریف ٹیم کے کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت بدلتا گیا،کھیل میں تبدیلیاں آتی گئیں اور وکٹ کیپر کا درجہ بھی ایک اہم بلے باز کے طورپر ہوتاگیا۔
سید مجتبیٰ حسین کرمانی ،اصل نام، کرکٹ کی دنیا میں سید کرمانی کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے۔ ہندوستان کے سابق وکٹ کیپر اور 1983 کے ورلڈ کپ کے بہترین وکٹ کیپر کرمانی، جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے، 29 دسمبر 1949 کو مدراس (چنئی) میں پیدا ہوئے۔
کرمانی کو دس گیارہ برس کی عمر سے ہی کرکٹ کھیلنے کا بےانتہا شوق تھا۔ مقامی ٹیم میں ان کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پرہی شمولیت ملی۔ بلے بازی کےساتھ ساتھ انہیں وکٹ کیپنگ کرنے کا بھی بہت ہی شوق تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کے پاس وکٹ کیپنگ کرنے کےلئے دستانے اور دیگر سامان تک موجود نہ تھا۔لیکن ذوق کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے دستانوں کی جگہ میدان میں پڑی دو اینٹیں ہاتھ میں اٹھائیں اور انہیں کو اپنے دستانے سمجھ لیا۔ یہ اینٹیں ان کے پہلے دستانے تھے۔
کرمانی اپنی محنت اور لگن سے مسلسل کرکٹ کی پریکٹس کرتے رہے۔ ان کی جدوجہد ایک دن سودمند ثابت ہوئی اور انہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں کرناٹک میں کھیلنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ٹیم میں رہتے ہوئے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اور آخر کار ایک دن وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر ہندوستانی ٹیم تک پہنچ گئے۔ہندستانی ٹیم میں کرمانی کی شمولیت کی کہانی کافی دلچسپ ہے۔ کرمانی سے قبل فاروق انجینئر ہندوستانی ٹیم کے وکٹ کیپر تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب غیر ملکی دورے دو یا تین ماہ کے ہوا کرتے تھے۔ اتنے طویل دورے کے لئے ٹیم میں ایک وکٹ کیپرکی موجودگی ناکافی سمجھی گئی۔ سلیکشن کمیٹی کے ممبران کے بہت غور و خوض کے بعد یہ طے پایا گیا اور وکٹ کیپر کے متبادل ہونے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ سلیکشن کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیم میں ایک اضافی وکٹ کیپرضرور ہونا چاہیے۔ اس فیصلے سے ٹیم کو دو فائدے ہوئے ایک تو مین وکٹ کیپر کو تمام میچ نہیں کھیلنا پڑے اور کیپرکو کچھ وقت کے لئے آرام بھی مل سکے گا۔ دوسرا، ایک اضافی کیپر رکھنے سے اس کیپر کو کھیل کا تجربہ بھی حاصل ہو گا۔ ایسے میں کرمانی کو انجینئر کے ساتھ 1971 اور 1974 میں انگلینڈ کے دورے کے لیے ہندوستانی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔
نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران کرمانی نے ہندوستان میں شاندار بلےبازی کا مظاہرہ کیا۔ کرمانی کو 1979 کے کرکٹ ورلڈ کپ اور انگلینڈ کے دورے کے بعدکسی وجہ سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ انہیں سال 80-1979 میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں واپس بلایا گیا ۔ تاہم، کرمانی کو ایک بار پھر ٹیم سے باہر کردیا گیا لیکن وہ 86-1985 کے آسٹریلیا کے دورے کے لیے ہندوستانی ٹیم میں واپس آگئے۔
کرمانی ورلڈ کپ سیریز کے ایک میچ میں ایلن بارڈر کو آؤٹ کرنے کے لیے کیچ لیتے ہوئے انجری کا شکار ہو گئے، جس کی وجہ سے وہ ٹورنامنٹ کے بقیہ میچوں میں نہیں کھیل سکے۔
جس سے ان کا بین الاقوامی کیریئر ایک حد تک ختم ہو گیا۔ بعد میں انہوں نے کرناٹک میں بین الاقوامی کرکٹ اور ریلوے کے لیے کرکٹ کھیلنا شروع کردیا۔
کرمانی نے 1983 کے ورلڈ کپ میں ہندوستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیرئیر میں 88 ٹیسٹ میچوں میں مجموعی طور پر 2759 رنز بنائے جس میں سب سے زیادہ اسکور 102 ہے جب کہ انہوں نے 49 ایک روزہ میچوں میں مجموعی طور پر 373 رنز بنائے جس میں سب سے زیادہ اسکور 48 ہے۔ کرمانی نے 88 ٹسٹ میچ کھیلے جس میں انہوں نے 124 اننگز کھیل کر27.04 کی اوسط سے 2759 رن بنائے ۔ ان کا بہترین اسکور 102 رہا ۔
اس میں انہوں نے سنچریاں اور 12 نصف سینچریاں بنائیں۔انہوں نے حریف ٹیم کے کھلاڑیوں کے 160 وکٹ کے پیچھے کیچ لئے اور 38 کھلاڑیوں کا اسٹمپ آؤٹ کیا۔
حالانکہ سید کرمانی ایک بہترین وکٹ کیپر اور بلے باز رہے۔ لیکن کچھ میچوں میں کرمانی کو ٹیم سے ڈراپ ہونے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت دوبارہ ٹیم انڈیا میں جگہ بنائی۔ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف نائٹ واچ مین کی حیثیت سے سنچری بنائی۔ پھر 1983 کے ورلڈ کپ کی فتح میں کرمانی کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے ایک میچ میں پانچ کیچ لیے۔ یہ اس وقت ایک میچ میں سب سے زیادہ کیچ پکڑنے کا عالمی ریکارڈ تھا۔ وہ اس ٹورنامنٹ کے بہترین وکٹ کیپر منتخب ہوئے۔ اس کے تحت انہیں ایوارڈ میں چاندی کے دستانے کے ساتھ چاندی کی گیند ملی۔ نیچے لکھا تھا، دنیا کا بہترین وکٹ کیپر۔ کرمانی کی کیپنگ انتہائی قابل تعریف کہی جاسکتی ہے۔ کرمانی وہ کیچ بھی پکڑلیا کرتے تھے جہاں دوسرے کیپرز کو انہیں پکڑنے کے لیے سخت محنت یا ڈائیو لگانا پڑتی تھی۔ سید کرمانی کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کی لگن، محنت اور ان کے خاندان کا تعاون ہے جس کی وجہ سے وہ آج اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
سید کرمانی نے 88 ٹسٹ میچوں میں 124 اننگز کھیل کر 2759 رن بنائے، اس میں ان کے شاندار 102 ر ن شامل ہیں۔ اپنے ٹسٹ کریئر میں انہوں نے 27.04 کی اوسط سے یہ رن بنائے۔ جس میں دو شاندار سنچریاں اور 12 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ انہوں نے بحیثیت وکٹ کیپر ٹسٹ میچوں میں 160 کیچ لئے اور 38 اسٹمپ آؤٹ کئے۔ ایک روزہ 49 میچوں میں انہوں نے 373 رن بنائے جس میں بہترین اسکور 48 رن نا ٹ آؤٹ رہا۔ ایک روزہ میچوں میں سید کرمانی نے 27 کیچ لئے اور 9 اسٹمپ آؤٹ کئے۔ فرسٹ کلاس میچوں میں 275 میچ کھیلے 383 اننگز کھیل کر 9620 رن بنائے۔ جس میں ان کا بہترین اسکور 161 رہا۔ فرسٹ کلاس میچوں میں سید کرمانی نے 13 سنچریاں اور 38 نصف سنچریاں بھی بنائیں۔ 367 بلے بازوں کو وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ کیا اور 112 کو اسٹمپ کرکے پویلین کی راہ دکھائی۔
سید کرمانی نے اپنا پہلا ٹسٹ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ میں 24 جنوری 1976کو کھیلا۔ جبکہ 2 جنوری 1986 میں اپنا آخری ٹسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف سڈنی میں کھیلا۔وہیں 21 فروری 1976 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا ایک روزہ میچ کھیلا اور آسٹریلیا کے خلاف 12 جنوری سال 1986 میں برسبین میں اپنا آخری ایک روزہ میچ کھیلا۔ جس زمانے میں سید کرمانی کھیل رہے تھے، اس وقت کسی بھی وکٹ کیپر کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔
سال 1968 میں کرناٹک حکومت کی جانب سے سال کا بہترین کھلاڑی اعزاز دیا گیا۔ سال 1980 میں حکومت ہند کے ذریعہ ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ سال 1982 میں ہندستانی حکومت نے پدم شری ایوارڈ دیا۔ سال1982 میں کرناٹک کے گورنر نے ایکلویہ انعام سے نوازا۔ راجیو وکاس رتن ایوارڈ دیا گیا۔ سال 1994 میں انٹرنیشنل فیڈریشن سوسائٹی آف انڈیا ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 5 جنوری 2016 کو کرنل سی کے نائیڈو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیاگیا۔
یو این آئی۔ ایم جے۔
کھیل
بابر اعظم کا ایک اور اعزاز: پی ایس ایل تاریخ میں 500 چوکے لگانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے
لاہور، پاکستان کے اسٹار بیٹر بابر اعظم پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں 500 باؤنڈریز لگانے والے پہلے بیٹر بن گئے ہیں۔
پاکستانی اسٹار بیٹر نے یہ سنگ میل پی ایس ایل میں کراچی کنگز کے خلاف میچ کے دوران عبور کیا۔ 31 سالہ بابر اعظم اب تک 103 پی ایس ایل میچز کی 101 اننگز میں 45.52 کی اوسط اور 128.18 کے سٹرائیک ریٹ سے 3961 رنز سکور کرچکے ہیں جس میں 2 سنچریاں اور 37 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
بابر اعظم اب تک پی ایس ایل میں 507 بائونڈریز (439 چوکے اور 68 چھکے) لگا چکے ہیں۔ ان کی بالز فی باؤنڈری کی ریشو 6.09 ہے۔ لاہور قلندرز کے فخر زمان 421 باؤنڈریز (293 چوکے اور 128 چھکے) لگا کر 5.05 کی بالز فی بائونڈری ریشو کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ محمد رضوان 335 بائونڈریز (262 چوکے اور 73 چھکے) کے ساتھ 6.6 کی بالز فی باؤنڈری ریشو کے ساتھ تیسرے ، رائلی روسوو 324 بائونڈریز (232 چوکے اور 92 چھکے) کے ساتھ اور 4.9 کی بالز فی باؤنڈری ریشو کے ہمراہ چوتھے جب کہ کامران اکمل 302 بائونڈریز (213 چوکے اور 89 چھکے) کے ساتھ اور 4.7 کی بالز فی باؤنڈری ریشو رکھتے ہوئے 5ویں نمبر پر ہیں۔
یو این آئی۔م ا ع
کھیل
سمیر رضوی کی طوفانی بلے بازی سے دہلی کی ممبئی پر شاندار جیت
نئی دہلی، سمیر رضوی (90) کی شاندار بّلے بازی کی بدولت دہلی کیپیٹلز نے اپنے گھریلو میدان پر ہفتہ کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے آٹھویں مقابلے میں ممبئی انڈینز کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی۔ یہ ٹورنامنٹ میں دہلی کیپیٹلز کی مسلسل دوسری جیت ہے۔
163 رنوں کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری دہلی کیپیٹلز کی شروعات اچھی نہیں رہی اور اس نے محض سات رن کے اسکور پر اپنی دو وکٹیں گنوا دیں۔ پہلا اوور کرنے والے دیپک چاہر کی چوتھی گیند پر کے ایل راہل (1) وکٹ کے پیچھے لپکے گئے۔ اگلے اوور میں جسپریت بمراہ نے نتیش رانا کو بغیر کھاتہ کھولے ہی پویلین بھیج دیا۔ دہلی کیپیٹلز کی تیسری وکٹ 10ویں اوور میں پتھم نسانکا کے طورپر گری، جنہیں مچل سینٹنر نے آؤٹ کیا۔ پتھم نسانکا نے 30 گیندوں میں چھ چوکے اور ایک چھکا اڑاتے ہوئے 44 رن بنائے۔
سنچری کی طرف بڑھ رہے سمیر رضوی کو 17ویں اوور میں کاربن بوش نے آؤٹ کر کے ان کی شاندار اننگز کا خاتمہ کیا۔
سمیر رضوی اور ڈیوڈ ملر کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے 78 رنوں کی میچ جتواؤ شراکت داری ہوئی۔ سمیر رضوی نے 51 گیندوں میں سات چوکے اور سات چھکے اڑاتے ہوئے 90 رنوں کی اننگز کھیلی۔ دہلی کیپیٹلز نے 18.1 اوورز میں چار وکٹوں پر 164 رن بنا کر چھ وکٹوں سے مقابلہ اپنے نام کر لیا۔ ڈیوڈ ملر 18 گیندوں میں 21 رن بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔ انہوں نے فاتحانہ چوکا لگایا۔
سمیر رضوی کے 90 رن آئی پی ایل میں ممبئی کے خلاف دہلی کیپیٹلز کے کسی بھی بّلے باز کا تیسرا سب سے بڑا اسکور ہے۔
ان کے ذریعے لگائے گئے سات چھکے بھی ممبئی کے خلاف دہلی کیپیٹلز کے کسی بّلے باز کی جانب سے لگائے گئے مشترکہ طور پر سب سے زیادہ چھکے ہیں۔ ممبئی انڈینز کے لیے دیپک چاہر، کاربن بوش اور مچل سینٹنر نے ایک ایک بّلے باز کو آؤٹ کیا۔
اس سے پہلے، کپتان سوریہ کمار یادو (51) اور روہت شرما (35) کی شاندار بّلے بازی کے دم پر ممبئی انڈینز نے دہلی کیپیٹلز کے خلاف چھ وکٹوں پر 162 رنوں کا اسکور بنایا تھا۔ دہلی کیپیٹلز نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا درست فیصلہ کیا تھا۔
ممبئی کی شروعات اچھی نہیں رہی اور 17 کے اسکور پر رائن ریکلٹن (9) اور تلک ورما (0) آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد سوریہ کمار یادو اور روہت شرما کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 53 رنوں کی شراکت ہوئی۔ دہلی کے لیے مکیش کمار نے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ لنگی اینگیڈی، اکشر پٹیل، وپراج نگم اور ٹی نٹراجن نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
یواین آئی۔ م س
کھیل
آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف
چنئی، نوجوان بلے باز آیوش مہاترے کی شاندار نصف سنچری اور شیوم دوبے کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) نے پنجاب کنگز کے خلاف مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 209 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ کھڑا کر دیا ہے۔
پنجاب کنگز کے کپتان شریئس ائیر نے ٹاس جیت کر پہلے بالنگ کا فیصلہ کیا، جو آغاز میں درست ثابت ہوتا نظر آیا۔ دوسرے ہی اوور میں زیویئر بارٹلیٹ نے اسٹار بلے باز سنجو سیمسن کو محض 7 رنز پر آؤٹ کر کے پنجاب کو پہلی کامیابی دلائی۔: ابتدائی وکٹ گرنے کے بعد آیوش مہاترے اور کپتان رتوراج گائیکواڑ نے محتاط انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا اور دوسری وکٹ کے لیے 96 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی۔ رتوراج 22 گیندوں پر 28 رنز بنا کر یوزویندر چہل کا شکار بنے۔ 17 سالہ آیوش مہاترے نے جارحانہ رنگ اختیار کرتے ہوئے 43 گیندوں پر 73 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 5 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔ انہیں وجے کمار ویشاک نے آؤٹ کیا۔
سرفراز خان نے صرف 12 گیندوں پر 6 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 32 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی۔
مڈل آرڈر میں شیوم دوبے نے ناقابلِ شکست 45 رنز (27 گیندیں، 5 چوکے، 1 چھکا) بنا کر ٹیم کو 200 کے پار پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔پنجاب کے بالرز چنئی کے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے سے روکنے میں ناکام رہے۔وجے کمار ویشک سب سے کامیاب بالرز رہے جنہوں نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔مارکو یانسن، زیویئر بارٹلیٹ اور یوزویندر چہل نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ پنجاب کنگز کو یہ میچ جیتنے کے لیے اب 210 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرنا ہوگا۔ چنئی کی اسپن باؤلنگ اور ہوم گراؤنڈ کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف پنجاب کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
یواین آئی۔م اع
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
جموں و کشمیر5 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک





































































































