فن و ادب
ہارر فلمیں:ڈرانے کا ذریعہ نہیں ،بلکہ گہری فکری، نفسیاتی اور سماجی معنویت رکھتی ہے

خصوصی مضمون: محمد جاوید
نئی دہلی، آج کے زمانے میں ہارر فلموں کی بات کرنا ، عجیب ضرور لگ سکتا ہے ، لیکن ہارر فلمیں بالی ووڈ ہو یا ہالی ووڈ ، انڈسٹری کا ایک بڑا حصہ سمجھی جاتی رہی ہیں۔ جہاں آج کے دور میں رومانٹک، ایکشن ، ڈرامہ والی فلمیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں وہیں ہارر فلمیں چاہےسا ل یادو سال میں ایک ہی فلم ریلیز کیوں نہ ہو، انڈسٹری اور فلمی مداحوں پر اپنے نقش ثبت کرجاتی ہیں۔ ہارر فلمیں ایسی فلمیں ہوتی ہیں جو ناظرین میں خوف، تجسس اور سنسنی پیدا کرتی ہیں۔ ہارر فلمیں دراصل انسان کے اندر چھپے ہوئے خوف، عدمِ تحفظ اور لاشعوری اضطراب کو کہانی کی شکل دیتی ہیں۔ یہ خوف صرف بھوت یا جن کا نہیں ہوتا، بلکہ طاقت کے غلط استعمال، سماجی ناانصافی، تنہائی، جنگ، بیماری اور موت جیسے حقیقی مسائل کا استعارہ بھی بن جاتا ہے۔ ہارر فلمیں محض ڈرانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی ذہن اور سماج کو سمجھنے کی ایک طاقتور صنف ہیں، جو خوف کے پردے میں گہری حقیقتوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔
یہ فلمیں مختلف انداز اور اصناف میں بنتی ہیں۔ ہارر فلموں کی کئی اقسام ہوسکتی ہیں، جیسے ماورائی،بھوت، جن، آتما، پراسرار طاقتیں وغیرہ، دوسری قسم آتی ہے، نفسیاتی ہارریعنی جن فلموں میں ذہنی خوف، وہم، پاگل پن دکھایا جاتا ہے۔ ہارر فلموں میں ایک اور قسم کی فلم بنائی جاتی ہے جسے سلیشر ہاررکہتے ہیں، یہ فلمیں قاتل، خونریز واقعات پر مبنی ہوتی ہیں۔ اسی طرح کچھ فلمیں دیہی عقائد، لوک کہانیوں پر پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں زندہ مردے، درندے وغیرہ کو ڈراونے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
ہارر فلمیں کچھ تو اس قدر خطرناک ہوتی ہیں جنہیں کمزور دل والے نہیں دیکھ پاتے ، اور کچھ ہلکی ہارر فلمیں ہوتی ہیں جنہیں سب عمر کے لوگ دیکھ سکتے ہیں اور بچوں کے لئے بھی ہارر فلمیں تیار کی جاتی ہیں جو بچوں کی عمر کو دھیان میں رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔
ہارر فلموں کی اہمیت کو صرف خوف یا سنسنی تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ صنف انسانی نفسیات، سماجی رویّوں اور ثقافتی خدشات کی عکاس بھی ہوتی ہے۔ انسانی خوف کی عکاسی کرنے والی ہارر فلمیں انسان کے بنیادی خوف یعنی موت، تنہائی، نامعلوم، طاقت کے ہونےکو علامتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی فلمیں اپنے اندر چھپے خوف کو پہچاننے اور سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔
ہدایت کار کچھ فلمیں نفسیاتی تطہیرپر مبنی فلمیں بناتے ہیں جس میں خوفناک مناظر دیکھ کر ناظر اپنے دبے ہوئے جذبات کو خارج کرتا ہے۔ یہ ایک طرح کی ذہنی صفائی ہوتی ہے جس کے بعد انسان خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔دوسرے سماجی اور اخلاقی تنقیدوالی ہارر فلمیں ہوتی ہیں جو سماجی مسائل پر گہرا تبصرہ کرتی ہیں،جیسے طبقاتی تفاوت، صنفی تشدد، جنگ، وبائیں یا طاقت کا غلط استعمال۔ خوف کو بطور استعارہ استعمال کیا جاتا ہے۔
ہر معاشرے کی ہارر فلمیں اس کی لوک روایات، جنّات، بھوت پریت اور عقائد کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس طرح یہ فلمیں ثقافتی ورثے کی دستاویز بن جاتی ہیں۔تخلیقی اور فنی تجربات جیسی ہارر صنف والی فلموں میں ساؤنڈ ڈیزائن، لائٹنگ، کیمرہ اینگل اور علامت نگاری کے بے شمار تجربات کیے جاتے ہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر سنیما کی زبان کو مالا مال کیا ہے۔
ناظرین کی نفسیاتی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی فلموں پر طبع آزمائی کی گئی ہے ۔
جوکنٹرولڈ ماحول میں خوف کا سامنا کرنے سے انسان حقیقی زندگی کے دباؤ اور خطرات سے نمٹنے کی ذہنی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔اگرچہ ہارر فلمیں تفریح کے ساتھ سنجیدہ مکالم بھی فراہم کرتی ہیں، مگر وہ زندگی، موت، خیر و شر اور انسانی جبلّت جیسے سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتی ہیں۔
نفسیاتی سطح پر ہارر فلمیں ناظر کو اپنے خوف کا سامنا کرنے کا موقع دیتی ہیں۔ ایک محفوظ ماحول میں خوف کو محسوس کرنا انسان کو ذہنی طور پر مضبوط بناتا ہے اور دبے ہوئے جذبات کے اخراج کا ذریعہ بنتا ہے۔
سماجی اعتبار سے بہت سی ہارر فلمیں خاموش مسائل پر بات کرتی ہیں—جیسے گھریلو تشدد، صنفی عدم مساوات، طبقاتی فرق یا نوآبادیاتی اثرات لیکن براہِ راست نہیں بلکہ علامتوں اور استعاروں کے ذریعے۔فنی لحاظ سے بھی ہارر صنف نے سنیما کو نئی زبان دی ہے۔خاموشی کا استعمال، روشنی اور سائے، آوازوں کی نفسیات اور علامتی مناظر،یہ سب سنیما کی تخلیقی وسعت کو بڑھاتے ہیں۔
ہارر فلمیں صرف خوف پیدا نہیں کرتیں بلکہ ناظر کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، سماج کا آئینہ دکھاتی ہیں اور انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ خوف یہاں مقصد نہیں بلکہ پیغام پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ہارر فلمیں انسان کے بنیادی خوف کو نہایت گہرے اور علامتی انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہ خوف صرف بیرونی مخلوقات یا خوفناک مناظر تک محدود نہیں ہوتے بلکہ انسان کی داخلی دنیا سے جڑے ہوتے ہیں۔
سب سے پہلا اور بنیادی خوف موت کا ہے۔ ہارر فلمیں موت کو کبھی بھوت، کبھی وبا، کبھی قاتل اور کبھی نامعلوم طاقت کی صورت میں دکھا کر انسان کی فانی حیثیت کو اجاگر کرتی ہیں۔دوسرا بڑا خوف نامعلوم کا ہوتا ہے۔ اندھیرا، خاموشی، بند دروازے اور نہ دکھائی دینے والی طاقتیں اسی خوف کی نمائندگی کرتی ہیں، کیونکہ انسان ہمیشہ اس چیز سے زیادہ ڈرتا ہے جسے وہ سمجھ نہ سکے۔تنہائی اور ترک کیے جانے کا خوف بھی ہارر فلموں کا اہم موضوع ہے۔ ویران گھر، سنسان جنگل یا الگ تھلگ قصبے انسان کی اس اندرونی بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اکیلا نہ رہ جائے۔
ایک اور بنیادی خوف کنٹرول کے ہونے کا ہے۔ جسم پر کسی اور طاقت کا قبضہ، ذہن کا قابو سے باہر ہو جانا یا حالات کا انسان کے ہاتھ سے نکل جانا—یہ سب اسی خوف کی علامتیں ہیں۔ہارر فلمیں اخلاقی خوف کو بھی اجاگر کرتی ہیں، یعنی گناہ، سزا اور ضمیر کی خلش۔
بعض کہانیوں میں خوف دراصل انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ہارر فلمیں انسان کے بنیادی خوف کو صرف ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ انہیں سمجھنے، پہچاننے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے پیش کرتی ہیں۔ یہ صنف خوف کو ایک نفسیاتی اور فکری تجربہ بنا دیتی ہے۔
یہ سوال دراصل ذوق، توقع اور معیار تینوں سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کا ایک سادہ سا جواب نہیں، بلکہ تقابلی جائزہ زیادہ مناسب ہے۔ایسی کہانیوں میں جذبات، رشتے اور مقامی سماجی تناظر مضبوط ہوتا ہے۔مکالمے اور موسیقی ناظر سے فوری ربط پیدا کرتے ہیں
عام ناظر کے لیے قابلِ فہم اور دل سے قریب ہوتی ہیں۔بعض اوقات غیر ضروری گانے یا لمبائی سنسنی کو کم کر دیتی ہے۔
سسپنس کی جگہ ڈرامہ غالب آ جاتا ہے۔
جہاں تک غیر ملکی یعنی ہالی ووڈکی سنسنی خیز فلموں کا تعلق ہے وہاں فلموں میں اسکرپٹ اور رفتار پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ ایسی فلموں میں نفسیاتی تھرلر اور غیر متوقع انجام نظر آتا ہے ۔تکنیکی معیار جس میں ساؤنڈ، ایڈیٹنگ، کیمرہ ورک بہت مضبوط ہوتا ہے۔ ثقافتی فرق کے باعث ہر ناظر فوراً جڑ نہیں پاتا۔جذباتی پہلو نسبتاً سرد محسوس ہو سکتا ہے۔ہارر فلمیں اخلاقی خوف کو بھی اجاگر کرتی ہیں اور یہی پہلو اس صنف کو محض خوفناک تفریح سے آگے لے جاتا ہے۔
اخلاقی خوف سے مراد وہ ڈر ہے جو انسان کے اپنے ضمیر، گناہ، غلط فیصلوں اور ان کے انجام سے پیدا ہوتا ہے۔ بہت سی ہارر فلموں میں اصل خوف کسی بھوت یا عفریت سے نہیں بلکہ انسان کے اپنے کیے ہوئے اعمال سے جنم لیتا ہے۔اکثر کہانیوں میں دیکھا جاتا ہے کہ ظلم، لالچ یا دھوکے کے بعد خوف ایک سزا کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔کردار اپنے گناہ سے بھاگتا ہے، مگر خوف اس کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔ماضی کے غلط کام کسی ماورائی یا نفسیاتی شکل میں لوٹ آتے ہیں۔یہ فلمیں ناظر کو یہ سوال سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ”اگر ضمیر بیدار ہو جائے تو اس کا سامنا کیسے کیا جائے؟”
اخلاقی خوف ہارر فلموں میں اکثر ان علامتوں سے ظاہر ہوتا ہے جیسےآسیب یا سایہ ، دبا ہوا جرم،ویران گھر ، اندرونی خالی پن،یوں ہارر فلمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ خوف ہمیشہ باہر سے نہیں آتا، بعض اوقات انسان خود اپنے لیے خوف تخلیق کرتا ہے۔
عام طور پر بالی ووڈ میں ہارر فلمیں پہلی پسند نہیں سمجھی جاتیں، مگر اس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔بالی ووڈ کا مرکزی دھارا زیادہ تر رومان، خاندانی ڈرامہ، ایکشن اور موسیقی پر مبنی رہا ہے۔ چونکہ ہندوستانی ناظر بڑی تعداد میں اجتماعی اور خاندانی تفریح کو ترجیح دیتا ہے، اس لیے ہارر جیسی نسبتاً سنجیدہ اور خوف پر مبنی صنف مرکزی مقام حاصل نہیں کر پاتی۔
ہارر فلمیں خاندانی ناظرین کے لیے کم موزوں سمجھی جاتی ہیں۔بالی ووڈ میں طویل عرصے تک ہارر کو کم بجٹ اور فارمولا فلم سمجھا گیا۔غیر ضروری گانے اور کمزور اسکرپٹ نے اس صنف کی ساکھ متاثر کی۔اس طرح کی فلموں کے لئے سنسرشپ اور سماجی حساسیت بھی رکاوٹ بنتی رہی ہے۔اس کے باوجود کچھ ہارر اور ہارر-تھرلر فلموں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے آنے کے بعد ہارر صنف کو نئی زندگی ملی ہے۔ اب بالی ووڈ میں نفسیاتی، لوک کہانیوں پر مبنی اور سماجی استعاروں والی ہارر کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔
بالی ووڈ میں ہارر فلمیں روایتی طور پر پہلی پسند نہیں رہیں،لیکن اچھی کہانی اور تخلیقی انداز کے ساتھ یہ صنف آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا پائی ہے۔بالی ووڈ میں خوفناک مناظر اگرچہ ہالی ووڈ جتنے کثرت سے نہیں ملتے، مگر جب مؤثر انداز میں پیش کیے گئے تو وہ ناظر کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑ گئے۔ یہ مناظر اکثر ماورائی خوف، نفسیاتی دباؤ اور خاموش سسپنس کے ذریعے یادگار بنے۔
خالی فلیٹ، آہستہ آہستہ بند ہونے والے دروازے اور پس منظر میں خاموشی،یہ سب خوف کو غیر ضروری چیخ و پکار کے بغیر پیدا کرتے ہیں۔جنگل، ویران سڑک اور اچانک ظاہر ہونے والی موجودگی نے خوف کے ساتھ تجسس بھی پیدا کیا۔ہستار کی پہلی جھلک، اندھیرے تہہ خانے اور بارش میں ڈوبا گاؤں،یہ مناظر خوف کو لوک کہانی اور لالچ کے استعارے میں بدل دیتے ہیں۔رات کے وقت گلیوں میں سنائی دینے والی آواز اور پیچھے مڑنے کی ممانعت،سادہ مگر نہایت مؤثر خوف کا احساس دلاتی ہے۔جسمانی حرکات، آئینے اور اچانک زاویے بدلتے مناظر نفسیاتی خوف پیدا کرتے ہیں۔ٹی وی پر آنے والے مناظر کا حقیقت بن جانا،یہ خیال ہی خوفناک ہے، جسے فلم نے بہترین انداز میں دکھایا۔بالی ووڈ کے خوفناک مناظر اکثر نفسیاتی اور ماحولاتی خوف پر مبنی ہوتے ہیں، نہ کہ صرف اچانک ڈرانےپر۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مناظر چیخ سے زیادہ خاموش خوف پیدا کرتے ہیں۔
نتیجتاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہارر فلمیں اخلاقی ذمہ داری، سزا و جزا اور انسانی ضمیر پر ایک خاموش مگر گہرا مکالمہ قائم کرتی ہیں، جو ناظر کو سوچنے اور خود احتسابی کی طرف لے جاتا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج 1000 کروڑ کلب میں شامل
ممبئی، بالی ووڈ اسٹار رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج نے ہندوستانی مارکیٹ میں 1013 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی ہے۔ آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی بلاک بسٹر دھوندھر کا سیکوئل، دھوندھر: دی ریونج روزانہ لاکھوں روپے کی آمد کے ساتھ کامیابی جاری ہےرنویر سنگھ نے مرکزی کردار میں اداکاری کی، یہ فلم ریلیز کے بعد سے ہی شائقین کے درمیان زبردست ہٹ رہی ہے۔ فلم کی مقبولیت اپنے عروج پر ہے۔ رنویر سنگھ، آر مادھاون، ارجن رامپال، سنجے دت، راکیش بیدی، اور سارہ علی خان نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔
سکنلک کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق، “دھورندھر: دی ریوینج” نے 18 مارچ تک تقریباً 43 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں ہندوستانی مارکیٹ میں 674.17 کروڑ روپے کمائے۔ اس نے دوسرے ہفتے میں 263.65 کروڑ روپے کمائے۔ فلم نے 16ویں دن 21.55 کروڑ روپے، 17ویں دن 25.65 کروڑ اور 18ویں دن 28.75 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے 18 دنوں میں ہندوستانی مارکیٹ میں 1013.77 کروڑ روپے کمائے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نوتن فلموں میں کام کرنے والی پہلی مس انڈیا تھیں
21 فروری برسی کے موقع پر
خصوصی تحریر: نسیم الدین
بالی ووڈ میں ایسی شخصیتوں کی ایک طویل فہرست ہے جِن کے کارناموں کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے اور جِنھوں نے فلمی دنیا میں اپنے انمٹ نقش چھوڑے ہیں اِس طویل عرصے میں کیسے کیسے نامور فن کاروں نے، جِن میں ایکٹرز، ڈائریکٹرز، گلوکار، رائٹرز، شاعر اور موسیقار اور فلمی اسکرین پر اور اس کے پس پردہ کام کرنے والی سینکڑوں شخصیتیں شامل ہیں، اپنی لگن اور فنی جوہر سے بالی ووڈ کو وہ بلند مقام دیا جہاں اُسے ہم آج دیکھتے ہیں۔اِنہی میں ایک عظیم اداکارہ نوتن بھی شامل ہیں۔
نوتن نے اپنی فطری اداکاری، سادگی اور مکالموں کی ادائیگی سے فلم شائقین کو جِس طرح متاثر کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
آج کے دور میں جہاں مس انڈیا کا خطاب جیتنے والی حسیناؤں کو فلموں میں کام کرنے کا موقع آسانی سے مل جاتا ہے، وہیں نوتن کو فلموں میں کام حاصل کرنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑی تھی۔
چار جون 1936 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں نوتن کا اصلی نام نوتن سمرتھ تھا۔ ان کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کی ماں شوبھنا سمرتھ اس زمانے کی معروف فلم اداکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے نوتن اکثر اپنی ماں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتی تھیں۔
اس وجہ سے ان کا رجحان بھی فلموں کی جانب مائل ہو گیا اور وہ بھی اداکارہ بننے کے خواب دیکھنے لگیں۔نوتن نے بطور چائلڈا سٹار فلم ’نل دمينتی‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس درمیان نوتن نے آل انڈیا بیوٹی مقابلہ میں حصہ لیا جس میں وہ سرفہرست رہیں لیکن بالی ووڈ کے کسی فلمساز کی توجہ ان کی طرف نہیں گئی۔ انہیں 1950 کی فلم ہماری بیٹی میں اداکاری کرنے کا موقع ملا جس کی ہدایت کار ان کی ماں شوبھنا سمرتھ تھیں۔
جاری۔یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
عشق نامہ: محبت کی ایک لازوال داستان
خصوصی مضمون : ڈا کٹر شگفتہ یاسمین
جب جب محبت تاریخ کی خاردار راہوں سے لہو لہان ہو کر پروان چڑھی ہے تو کہانیوں نے جنم لیا ہے… اور ایسی ہی ایک داستان لے کر آ رہی ہیں شہناز گل اپنی نئی فلم’’ عشق نامہ‘‘ کے ساتھ پنجابی سپر اسٹار شہناز گل کی آنے والی فلم ’’عشق نامہ ‘‘کا پہلا پوسٹر منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر جذبات کی ایک لہردوڑ گئی ہے یہ محض ایک پوسٹر نہیں، بلکہ شہناز کے فنی سفر میں ایک نئے باب کا آغاز محسوس ہوتا ہے۔ شہناز نے پوسٹر شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’’میری آنے والی فلم کی پہلی جھلک… عشق نامہ — دوسچے عاشقوں ۔ نمّا اور نسیمہ کی سچی داستان۔ 24 جولائی 2026 کو دنیا بھر کے سینما گھروں میں‘‘
یہ صرف ایک فلم ریلیز کی خبر نہی ۔بلکہ ایک ایسی محبت کی بازگشت ہےجس میں درد بھی ہے، تاریخ کا عکس بھی ہےاور امید کی روشنی بھی۔ پردہ ٔ سیمیں پر جلوہ گر ہوتی ایک ایسی فلم جہاں محبت بھی ہے اور جدائی بھی اور وقت کی کڑی آزمائش بھی۔
پوسٹر میں شہناز گل، جے رندھاوا کو آغوش میں تھامے نظر آتی ہیں جیسے محبت ہر آزمائش سے بڑی ہو۔ پس منظر میں ہندوستان اور پاکستان کے کشیدہ حالات کی فضا اس عشق کو مزید گہرا اور بامعنی بنا دیتی ہے۔دوسری جھلک میں وہ روایتی پنجابی دلہن کے روپ میں دکھائی دیتی ہیں، جہاں آنکھوں میں خواب بھی ہیں اور قربانیوں کی خاموش داستان بھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ محبت صرف ملن کی نہیں، بلکہ صبر، انتظار اور جدوجہد کی کہانی ہے۔
یہ فلم شہناز گل کے کریئر کے ایک اہم موڑ پر سامنے آئی ہے۔ 2025 میں انہوں نے اپنی پروڈکشن کے بینر تلے فلم’ اک کُڑی ‘بنا کر نہ صرف بطور اداکارہ بلکہ بطور پروڈیوسربھی اپنی مضبوط پہچان قائم کی۔ فلم کی کامیابی نے ثابت کر دیاکہ شہناز محض ایک چہرہ نہیں، بلکہ ایک تخلیقی سوچ رکھنے والی فنکارہ بھی ہیں۔اس سے قبل 2021 کی بلاک بسٹر ’ حونصلہ رکھ ‘نے انہیں عوام کے دلوں کی دھڑکن بنا دیا . ’’عشق نامہ‘‘ میں شہناز گل اپنے فنی افق کو مزید وسعت دیتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ صرف ایک رومانوی فلم نہیں، بلکہ ایک ایسا جذباتی سفر ہے جو تاریخ کے زخموں، جدائی کے درد اور امید کی روشنی سے گزر کر دل کو چھو جاتا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے یہ فلم صرف دیکھی نہیں جائے گی — بلکہ محسوس بھی کی جائے گی۔
یو این آئی ۔ایس وائی
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر4 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا





































































































