دنیا
ایران کے جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک: امریکہ 20 سالہ پابندی کا خواہاں، تہران 5 سال پر آمادہ
نیویارک، ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں تہران کا جوہری پروگرام اختلاف کی وجہ بنا۔
امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوز کے مطابق واشنگٹن نے یورینیئم افزودگی پر 20 سالہ پابندی کی تجویز پیش کی، جبکہ ایران نے زیادہ سے زیادہ 5 سال کے لیے اس عمل کو معطل کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔
نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے ایرانی جوہری سرگرمیوں کی معطلی سے متعلق تجاویز کا تبادلہ کیا، تاہم کسی بھی معاہدے کی مدت کے معاملے پر واضح اختلاف برقرار رہا۔ رپورٹس کے مطابق تہران نے یورینیئم افزودگی کو 5 سال تک معطل کرنے کی پیشکش کی، جسے ٹرمپ انتظامیہ نے مسترد کرتے ہوئے 20 سالہ مدت پر اصرار کیا۔ اس حوالے سے نیویارک ٹائمز نے 2 سینئر ایرانی اور 1 امریکی عہدیدار کے حوالے سے تفصیلات شائع کی ہیں۔
یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ مؤقف سے نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اندرونِ ملک یورینیم افزودگی کو مستقل طور پر ختم کرے، کیونکہ اس سے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ سیاسی ماہر ایان بریمر کے مطابق جاری اختلافات کے باوجود امکان ہے کہ امریکہ اور ایران یورینیئم افزودگی کی معطلی کے لیے ساڑھے 12 سالہ معاہدے پر متفق ہو جائیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے حل کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات تھی، جبکہ یہ ایران کے 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے اعلیٰ سطح کا رابطہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ تہران کے جوہری پروگرام پر تعطل کے باعث اسلام آباد مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، اس کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور امن معاہدے کی راہ اب بھی موجود ہے، حتیٰ کہ پیر کے روز امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے آغاز نے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہونے والی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ فریقین کے درمیان آمنے سامنے مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملہ، 5 فوجی زخمی
تہران، ایران کے کویت میں امریکی ایئربیس پر بیلسٹک میزائل حملے میں 5 امریکی فوجیوں کے زخمی ہوگئے جبکہ امریکہ کے 2 جدید ترین ایم کیو 9 ڈرون کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا گروپ ‘بلوم برگ’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کویت میں قائم امریکی ایئربیس پر ایک اور بڑا بیلسٹک میزائل حملہ کیا، ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل نے امریکی ایئربیس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس ہولناک میزائل حملے میں صرف جانی نقصان ہی نہیں ہوا، بلکہ امریکہ کے 2 انتہائی مہنگے اور جدید ترین ‘ایم کیو-9 ریپر’ (MQ-9 Reaper) ڈرونز کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے، جسے امریکی فضائیہ کے لیے ایک بڑا دفاعی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ایران نے کویت میں موجود امریکی تنصیبات پر اپنے خطرناک ترین ‘فتح’ نامی ہائپر سونک/بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا۔
تاہم، اس حساس معاملے پر تاحال امریکی یا ایرانی حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی ابھی تک آزاد ذرائع سے اس حملے کی مکمل تصدیق ہو سکی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی صدر ’سفارتکاری سے تیسری بار غداری‘ کر رہے ہيں: محسن رضائی
تہران، ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ’سفارتکاری سے تیسری بار غداری‘ کر رہے ہيں۔
اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ بدستور بحری ناکہ بندی اور مذاکرات میں ضرورت سے زیادہ مطالبات ایک بار پھر ثابت کرتے ہيں کہ امریکا مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں، وہ دیگر مقاصد کے حصول میں لگا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کےترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کر رہے، توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے، اب تک امریکہ سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، آبنائے ہرمز کے انتظام کا فیصلہ ایران اور عمان کریں گے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ نے عمانی ہم منصب سے رابطہ کیا، مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر گفتگو کی گئی، ہمسایہ ممالک سے مشاورت کا خیر مقدم کیا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
تہران، ایران نے چین اور روس کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان کردیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے روسی، چینی جہازوں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قریبی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی تعاون جاری رکھے گا۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ موجودہ مذاکرات میں افزودہ یورینیم کی منتقلی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا ہے۔
علاوہ ازیں پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے 20 بحری جہازوں کے گزرنے میں تعاون کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے، مذاکرات کے اس مرحلے پر جنگ ختم کرنے پر توجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ایٹمی معاملے کی تفصیلات کے بارے میں وہ بات نہیں کریں گے، امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ہم نے 47 سال پہلے حکم کی زبان کو الوداع کہہ دیا تھا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جیسا غیرقانونی کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر1 week agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
جموں و کشمیر6 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا1 week agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ
دنیا1 week agoحزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف امریکی کارروائی
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول ٹیکس: جہازوں کے گزرنے کیلئے فیس
ہندوستان5 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ

































































































