جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر ایئرپورٹ پر حجاجِ کرام کے پہلے قافلے کا استقبال کیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حج کی سعادت حاصل کر کے واپس لوٹنے والے عازمین کے پہلے قافلے کا شاندار اور والہانہ استقبال کیا۔ سرکاری حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔حجاجِ کرام کو لے کر پہلی پرواز دوپہر 1:28 بجے سری نگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جس کے فوراً بعد ایئرپورٹ حکام نے امیگریشن سمیت تمام ضروری کاغذی کارروائیاں انتہائی خوش اسلوبی اور مؤثر انداز میں مکمل کیں۔
اس پہلی پرواز کے ذریعے مجموعی طور پر 144 حجاجِ کرام وطن واپس پہنچے ہیں، جن میں 74 مرد اور 70 خواتین شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خود ایئرپورٹ پر موجود رہ کر حجاج کا استقبال کیا اور انہیں اس مقدس اور بابرکت سفر کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد پیش کی۔
وزیر اعلیٰ نے حجاجِ کرام سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی دعائیں اور روحانی تجربات جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں امن، خوشحالی، ترقی اور خیر و عافیت کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے عازمین سے سعودی عرب میں ان کے قیام اور واپسی کے سفر کے انتظامات کے بارے میں بھی دریافت کیا اور ان کی اچھی صحت، خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر ایئرپورٹ پر حجاج کے آسان اور آرام دہ استقبال کے لیے تمام متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وطن واپس لوٹنے والے تمام حجاجِ کرام کے سامان کی بحفاظت اور بروقت فراہمی، ٹرانسپورٹ (نقل و حمل) اور دیگر امدادی خدمات سمیت ہر قسم کی ضروری سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس سے قبل حجاج کے سامان کی منتقلی میں ہونے والی تاخیر کا معاملہ حکومتِ ہند اور متعلقہ اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا تھا۔ انہوں نے مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی کو لکھے گئے اپنے خط میں سامان کی بروقت ڈیلیوری اور بہتر انتظام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔رواں سال جموں و کشمیر سے مجموعی طور پر 4,641 عازمین نے فریضۂ حج ادا کیا ہے، جن میں سے 3,952 حجاج سری نگر مرکز (ایمبرکیشن پوائنٹ) کے ذریعے واپس لوٹیں گے۔ ان تمام حجاج کی واپسی کی پروازیں 2 جون سے 16 جون کے درمیان شیڈول ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب حادثاتی دھماکے میں فوج کے دو جوان زخمی
سری نگر، جموں و کشمیر کے اُڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب منگل کے روز ایک حادثاتی دھماکے میں ہندوستانی فوج کے دو جوان زخمی ہو گئے۔ یہ اطلاع افسران نے دی۔
حکام کے مطابق یہ حاڈثۃ اُڑی سیکٹر کے کمل کوٹ علاقے میں پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکہ مکمل طور پر حادثاتی نوعیت کا تھا، جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔
حکام نے کہا، “دونوں زخمی جوانوں کو فوری طور پر خصوصی طبی علاج کے لیے فضائی راستے سے سری نگر کے بادامی باغ میں واقع فوج کے بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔”
حکام نے واضح کیا کہ یہ دھماکہ ایک حادثہ تھا اور اس کا سرحد پار سے ہونے والی کسی فائرنگ یا دہشت گردانہ سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خبر لکھے جانے تک ہندوستانی فوج کی جانب سے اس حادثہ کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔
یواین آئی ۔اے ایم ۔ایف اے
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے الزام میں دو افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے بارہمولہ ضلع میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان پر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے، واقعے کی ویڈیو بنانے اور شکایت درج کرانے کی صورت میں متاثرہ خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکی دینے کا الزام ہے۔
بارہمولہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گُریندر پال سنگھ نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ متاثرہ خاتون نے 25 جولائی کو بارہمولہ پولیس سے رابطہ کر کے واقعے کی شکایت درج کرائی تھی۔ یہ واقعہ 3 جولائی کو جلشیری-ڈرنگبل علاقے میں پیش آیا تھا۔
ایس ایس پی کے مطابق خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ سیر کے لیے اس علاقے میں گئی تھی، جہاں دو نامعلوم افراد ان کے پاس آئے، انہیں ہراساں کرنا شروع کیا اور ان کی ویڈیو بنانے لگے۔
گُریندر پال سنگھ نے بتایا، “ملزمان نے جوڑے کو تشدد کا نشانہ بنایا، نوجوان کو وہاں سے بھگا دیا اور اس کے بعد باری باری خاتون کے ساتھ عصمت دری کی۔ انہوں نے اس دوران اپنے موبائل فون سے پورے واقعے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور پھر موقع سے فرار ہو گئے۔”
ایس ایس پی کے مطابق متاثرہ خاتون ملزمان کی شناخت نہیں کر سکی، تاہم اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ واقعے کے دوران دونوں افراد ایک دوسرے کو “شاکر” اور “اشرف” کے نام سے پکار رہے تھے۔
شکایت موصول ہونے کے بعد بارہمولہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خاتون پولیس افسر میناکشی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔
بارہمولہ ہیڈکوارٹر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شاہجہاں چودھری نے کہا کہ ملزمان کی شناخت ایک بڑا چیلنج تھی کیونکہ واقعے کے 22 دن بعد شکایت درج کرائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تکنیکی شواہد اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے گہرائی سے تحقیقات کا آغاز کیا۔
یو این آئی۔ اے ایم۔ایف اے
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی نے جنتر منتر پر دیے گئے بیان پر معافی مانگ لی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے منگل کے روز جنتر منتر پر دیے گئے اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر منعقدہ احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے کشمیر میں جاری عسکریت پسندی کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں طاقت کے استعمال کو درست قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے ان پر سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کو جائز قرار دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنتر منتر اپنی مرضی سے نہیں گئیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری طلبہ کی درخواست پر وہاں پہنچیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان طلبہ کو کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں ہراساں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، “میں خود وہاں نہیں گئی تھی، کشمیر کے بچوں نے مجھے بلایا تھا۔ انہوں نے مجھے اس لیے بلایا کیونکہ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے اور یہ بچے ملک کے مختلف حصوں میں ہوتے ہیں تو انہیں کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلوں میں پریشان کیا جاتا ہے۔ انہیں امید تھی کہ شاید محبوبہ مفتی آئیں گی تو ہماری کچھ مدد ہو سکے گی۔”
جنتر منتر پر دیے گئے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں نے کہا تھا کہ آج پورا ہندستان جموں و کشمیر بن گیا ہے۔”
انہوں نے تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان کے متنازع بیان کی ویڈیو اصلی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس لفظ کا انہوں نے استعمال کیا تھا، اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “میں یہ نہیں کہوں گی کہ یہ فرضی ویڈیو ہے، نہیں، ویڈیو اصلی ہے، لیکن ‘بہانہ’ کا لفظ مجھ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا تھا کیوں کہ میں ایک ساتھ بہت سے لوگوں سے بات کر رہی تھی، جس کا غلط مطلب نکالا گیا۔”
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا7 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا7 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا7 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
ہندوستان6 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
ہندوستان7 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی









































































































