دنیا
اسرائیل کے خلاف ہمارے میزائل حملے کے لیے تیار ہیں:ایران
تہران، ایران کے مرحوم رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ ترین فوجی مشیر محسن رضائی نے جمعرات کے روز بیان دیا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے خلاف اسرائیلی دھمکیوں کے جواب میں میزائل داغنے کے لیے تیار کر لیے گئے ہیں۔
یہ بیان علاقائی کشیدگی کے دوران حزب اللہ کے لیے تہران کی مسلسل حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے لبنان میں دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل کے کسی بھی علاقائی تصفیے میں لبنان کا کردار مرکزی رہے گا اور انہوں نے اپنے اتحادیوں کی حمایت کے لیے تہران کے عزم کا اعادہ کیا۔
رضائی نے کہا کہ حزب اللہ کے لیے ایران کی حمایت اس کی اسٹریٹجک ساکھ کا معاملہ ہے اور انہوں نے دلیل دی کہ جو ممالک اپنے شراکت داروں کو چھوڑ دیتے ہیں وہ اپنا اثر و رسوخ اور پوزیشن کمزور کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ وارننگ بھی دی کہ کوئی بھی نئی محاذ آرائی شمالی اسرائیل کو ان حالات سے دوچار کر دے گی جو حالیہ 40 روزہ تنازع کے دوران تجربہ کیے گئے حالات سے “کہیں زیادہ مشکل” ہوں گے۔ رضائی نے آبنائے ہرمز کو ایران کے کنٹرول میں ایک طاقتور رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کو تجارت کے لیے کھلا رہنا چاہیے لیکن اسے فوجی دباؤ کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
مشیر نے کم از کم 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا، اور دلیل دی کہ اس طرح کا اقدام جاری سفارتی کوششوں میں اعتماد سازی کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ یہ تبصرے ایک انتہائی غیر مستحکم علاقائی پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ اس سال کے شروع میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تناؤ میں اضافہ ہوا تھا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ اگرچہ اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نافذ العمل ہوئی تھی، لیکن کسی وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات اب بھی نازک ہیں۔ لبنان میں، اپریل کے وسط میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود لڑائی جاری ہے۔
بیروت کے آس پاس حملوں اور اپنی جارحیت کو بڑھانے کی اسرائیلی دھمکیوں نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ تنازع دوبارہ پھیل سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی قیادت میں سفارتی کوششیں اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے خلاف بڑے حملے دوبارہ کرنا ممکن تو ہے مگر اس سے اسلحہ ذخائر میں کمی ہوگی: امریکی جنرل
واشنگٹن، امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن ہے ، لیکن اس سے امریکی فوج کے پاس موجود میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔
گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق 13 روز سے جاری کارروائی روکنے کا حکم جمعے کو دیا گیا ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے ایک روز کے لیے روکے گئے ہیں یا جنگ بندی کردی گئی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اجلاس کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹس چیفس آف اسٹاف ڈین کین نے ایران جنگ میں شدت لانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق حکام کا کہنا ہےکہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن تو ہے ، لیکن اس سے امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔
ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ ایران پر حملوں کا نتیجہ توقعات کے برعکس نکلا ہے ، امریکی حملے ایران کو اندر سے متحد ہونے اور ایرانی رہنماؤں کو بیرونی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع دے رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے عمانی حکام کے دورہ ایران کی وجہ سے حملے روکے، عمانی وفد جمعے کو بات چیت کے لیے ایران گیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے اور اس کی شدت بڑھانے کا آپشن بھی ہے جس میں ہر چیز کو تباہ کیا جاسکتا ہے ۔ مگر اسمارٹ اسٹریٹجی یہ ہے کہ ایران سے ڈیل کی جائے۔
ایران نے بھی امریکہ کے خلاف جوابی کارروائیاں عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیاہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کمزور امریکی دفاعی نظام کی وجہ سے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے کسی رکاوٹ کے بغیر امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایرانی ذرائع نے برطانوی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک حملے روکے گاجب تک امریکی حملے رُکے رہیں، ایران امریکہ کے ارادوں کے بارے میں بدستور تحفظات رکھتا ہے، ایران کا مؤقف اب بھی حملے کے جواب میں حملہ ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق حملوں میں وقفے کے بارے میں امید کے مقابلے میں شکوک زیادہ ہیں، یہ وقفہ حقیقی نہیں بلکہ حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل پر براہ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر براہِ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے کسی بھی حملے کی صورت میں انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب یا تو ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے یا تہران معاشی تباہی پھیلانے اور ہر طرف حملے کرنے کی قیمت چکانے پر آمادہ ہو۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور اردن کو نشانہ بنا رہا ہے۔
نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل پر براہِ راست یا پراکسی گروپوں کے ذریعے کسی بھی حملے کی صورت میں انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم ایران کا جوہری پروگرام کسی معاہدے کے ساتھ یا بغیر، ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔
نیتن یاہو نے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ٹرمپ کی تجویز کی بھی حمایت کی، جس کے تحت ریاض کو صرف سویلین جوہری پروگرام کی اجازت دی جائے گی، فوجی جوہری پروگرام کی نہیں، اور اس کے بدلے دونوں ممالک باضابطہ تعلقات قائم کریں گے۔
لبنان سے متعلق اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کو اسرائیل لبنان سرحد سے 5 سے 8 میل پیچھے دھکیل دیا ہے اور تنظیم کے تقریباً 94 فیصد میزائل اور راکٹ تباہ کر دیے ہیں۔
نیتن یاہو نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک نئے سہ فریقی معاہدے کے تحت کئی دہائیوں بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوں گے، جس کے مطابق اسرائیل لبنان سے انخلا کرے گا جبکہ لبنان حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گا۔تاہم انہوں نے کہا کہ آیا لبنانی فوج اس علاقے پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھ سکے گی یا نہیں، یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: ایرانی وزارت خارجہ
تہران، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم ایران کی اولین ترجیح حملوں کے دوران اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔
آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاکہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کا وعدہ پورا کیا، لیکن اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی امریکہ نے مبینہ بحری جہازوں کے واقعات کو جواز بنا کر نئے حملے کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تیسری مرتبہ ہے کہ مذاکرات کے دوران حملے کرکے ایران کی سفارتی کوششوں کو دھوکہ دیا گیا۔
ایرانی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکہ اب تک ایران کے منجمد اثاثے بھی جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
جموں و کشمیر6 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی




































































































