دنیا
امریکہ ایران معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ کیا ہے ایران کا آخری بڑا مطالبہ
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے آثار سامنے آ رہے ہیں، جب کہ پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا یہ مطالبہ ہے کہ امریکہ کسی بھی حتمی معاہدے سے قبل 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے بحال کرے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ سفارتی رابطوں کے نتیجے میں کئی ایسے معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے مذاکرات میں تعطل کا باعث بنے ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورۂ تہران سمیت پاکستان کی سفارتی کوششوں نے دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے میں مدد دی ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود ایرانی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ منجمد اثاثوں کی بحالی کسی بھی معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ موجودہ تعطل کے خاتمے کی ذمہ داری صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ سی این این کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں محسن رضائی نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر واشنگٹن واقعی ایران کے ساتھ کسی وسیع تر امن معاہدے کا خواہاں ہے تو اسے پہلے حسنِ نیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے منجمد رقوم بحال کرنا ہوں گی۔
محسن رضائی نے کہا ’’اگر امریکا واقعی ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے تو اسے پہلے وہ 24 ارب ڈالر واپس کرنے ہوں گے جو ایرانی عوام کے ہیں۔ یہ ایران کا پیسہ ہے، امریکہ کا نہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق تہران کا مطالبہ ہے کہ عبوری معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد 12 ارب ڈالر جاری کیے جائیں جب کہ باقی 12 ارب ڈالر بعد کے مرحلے میں طے شدہ طریقہ کار کے تحت بحال کیے جائیں۔
دوسری جانب امریکی حکام اس تجویز پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ اگر اثاثے بہت جلد بحال کر دیے گئے تو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے واشنگٹن کے پاس موجود ایک اہم سفارتی ہتھیار کمزور ہو جائے گا اور مستقبل میں ایرانی وعدوں کی پاسداری یقینی بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ مختلف ممکنہ فریم ورک کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے تحت ایرانی اثاثوں کی جزوی بحالی کے ساتھ ساتھ امریکہ اپنی مذاکراتی برتری بھی برقرار رکھ سکے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی حملوں کے تبادلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ دونوں فریقوں کو جنگ بندی پر قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن خطے میں وسیع جنگ کے خطرے کو روکنے کے لیے بھرپور سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تو تہران اسرائیلی اہداف پر ایک اور حملوں کی لہر شروع کر سکتا ہے، جس سے موجودہ جنگ بندی کی نازک صورت حال مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ، جو متعدد بار ایران کے ساتھ معاہدے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، نے حال ہی میں ایران اور اسرائیل دونوں پر زور دیا کہ وہ ’’فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے بند کریں‘‘ اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر درپیش چیلنجز کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کو اندرونِ ملک بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کے بعض اراکین حالیہ اہم قانون سازی اور قراردادوں پر انتظامیہ کے مؤقف سے اختلاف کر چکے ہیں، جب کہ متعدد قانون ساز اہم ووٹنگ کے دوران غیر حاضر بھی رہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں مہنگائی، سیاسی تقسیم، آئندہ وسط مدتی انتخابات کی تیاریوں اور بعض روایتی اتحادی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات نے بھی وائٹ ہاؤس کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ادھر ایران بحران اور واشنگٹن و اسرائیلی قیادت کے درمیان مبینہ اختلافات کی اطلاعات بھی ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اضافی چیلنج بن چکی ہیں۔ واشنگٹن کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داخلی اور خارجی دباؤ کے اس امتزاج نے صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جلد از جلد کسی سفارتی پیش رفت حاصل کرنے کی خواہش کو مزید تقویت دی ہے تاکہ انتظامیہ آئندہ انتخابی مرحلے سے قبل اپنی توجہ داخلی معاملات پر مرکوز کر سکے۔
اگرچہ مذاکرات کئی ماہ کے مقابلے میں کسی معاہدے کے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں، تاہم اہم اختلافات بدستور موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ موجودہ سفارتی پیش رفت کسی باضابطہ معاہدے کی شکل اختیار کر پاتی ہے یا نہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے حزب اللہ کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے: مجتبیٰ خامنہ ای
تہران، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اتوار کے روز لبنان کی جماعت حزب اللہ کی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملے ’’مکمل اور غیر مشروط طور پر‘‘ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
مجتبیٰ خامنہ کا یہ بیان امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور تنظیم کے ارکان کی جانب سے بھیجے گئے وفاداری کے عہد پر مبنی خط کے جواب میں سامنے آیا۔
سپریم لیڈر نے حزب اللہ کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا امریکا کے ساتھ ایم او یو کی پہلی شرط ہی لبنانی سرزمین کی سالمیت اور صہیونی جارحیت کا خاتمہ ہے، امریکہ کے ساتھ مسلط جنگ کے خاتمے کے کسی بھی سمجھوتے کے لیے صہیونی جارحیت کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار گروہوں میں ’’ایک ناقابلِ تسخیر چٹان اور صفِ اوّل کی قوت‘‘ ہے، ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، حزب اللہ کی ثابت قدمی دنیا بھر کی آزاد اقوام کے لیے ایک متاثر کن پیغام بن گئی ہے۔
ایرانی رہنما نے کہا کہ دنیا کی اقوام امریکی حکومت اور اسرائیل کے ظلم و جبر سے تنگ آ چکی ہیں، جو انسانی جانوں اور نسلوں کے تباہ کنندہ ہیں، انھوں نے کہا جہاد اور مزاحمت کے سوا اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 4,330 افراد ہلاک اور 12,236 زخمی ہو چکے ہیں۔ 26 جون کو لبنان اور اسرائیل نے امریکا کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گا۔تاہم، اس معاہدے میں انخلا کے لیے کوئی ٹائم لائن شامل نہیں ہے۔ اس کی بہ جائے انخلا کی تکمیل کو اس شرط سے مشروط کیا گیا ہے کہ لبنانی فوج اسرائیلی افواج کے خالی کیے گئے علاقوں کی مکمل سیکیورٹی ذمہ داری سنبھالے اور حزب اللہ سمیت تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔
اس کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر بدستور قابض ہے، جن میں کچھ علاقے کئی دہائیوں سے اس کے قبضے میں ہیں، جب کہ بعض دیگر پر اس نے اکتوبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان ہونے والی گزشتہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے 30 دنوں کا وعدہ پورا کیا، امریکہ منجمد اثاثے جاری نہ کر سکا: اسماعیل بقائی
تہران، اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے 30 دنوں کا وعدہ پورا کیا جب کہ ایم او یو کے مطابق امریکا منجمد اثاثے جاری نہ کر سکا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا فعال طور پر تبادلہ کیا جا رہا ہے، پاکستان اور قطر ثالث کے طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا حملے کے دوران تہران کی اوّلین ترجیح اپنی خودمختاری کا دفاع ہے، انھوں نے بتایا کہ ایران نے 30 دنوں میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی یقین دہانی کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
ترجمان نے کہا امریکہ نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی جہاز رانی واقعات کو بہانہ بنا کر حملے شروع کر دیے، اس طرح ایک سال میں تیسری مرتبہ مذاکرات کے دوران حملوں سے ایران کی سفارت کاری کو دھوکہ دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر قریب دو ہفتے سے جاری حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کی منظوری نہیں دی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکی حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں کمی
سنگاپور، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد اپنی فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روک دیں، جس کے نتیجے میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں 5 فی صد تک گر گئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 5.58 فی صد کم ہو کر 91.38 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جب کہ کاروبار کے آغاز میں یہ مختصر طور پر 90 ڈالر کی اہم تکنیکی حد سے بھی نیچے آ گئی تھی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 5.46 فی صد کمی کے بعد اس کی قیمت 84.43 ڈالر فی بیرل رہی۔
گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مسلسل اضافے کے بعد دونوں معاہدے تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، کیوں کہ یہ تنازع آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر تک پھیل گیا تھا۔ اس کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جب کہ دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب کی ایشیا کے لیے باب المندب کی آبنائے کے ذریعے ہونے والی برآمدات بھی رکاوٹ کا شکار ہو گئیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا7 days agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا7 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
جموں و کشمیر6 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی



































































































