ہندوستان
مودی نے وزیر اعظم کے طور پر طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے کا ریکارڈ قائم کیا: برلا
نئی دہلی، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم کے طور پر سب سے طویل عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے کا تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے مسٹر برلا نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا، ”آج وزیر اعظم اور لوک سبھا میں قائدِ ایوان نریندر مودی نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں منتخب وزیر اعظم کے طور پر طویل ترین مدت تک مسلسل خدمات کا تاریخی ریکارڈ قائم کیا۔ وزیر اعظم کے طور پر 4,399 دنوں کی مسلسل خدمت کا یہ تاریخی سنگِ میل ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کی علامت ہے“۔
انہوں نے مزید کہا، ”اس مدت کے دوران آئینی اقدار، پارلیمانی جمہوریت اور جمہوری اداروں کو صحت مند پارلیمانی طریقہ کار اور روایات کے ذریعے مزید استحکام حاصل ہوا ہے“۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا، ”وزیر اعظم کو اس منفرد کامیابی پر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔ ملک کی مسلسل ترقی، گڈ گورننس اور ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کی تکمیل کے لیے ان کی قیادت کے لیے میری نیک تمنائیں“۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
حکومت نے امراوتی میں نئے دفتر کے احاطے اور رہائشی احاطے کی تعمیر کو منظوری دی
نئی دہلی، حکومت نے آندھرا پردیش کے دارالحکومت امراوتی میں مرکزی ملازمین کے لیے رہائشی احاطے کی تعمیر کے لیے 1,235 کروڑ اور مرکزی سرکاری دفتر کے احاطے کی تعمیر کے لیے 1,299 کروڑ روپے کے پروجیکٹ کو منظوری دی ہےمرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے بدھ کو بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے آندھرا پردیش کے نئے دارالحکومت امراوتی میں جنرل پول ریزیڈنشیل ایکوموڈیشن (جی پی آر اے) احاطے اور مرکزی سرکاری جنرل پول آفس ایکوموڈیشن (سی جے پی او اے) کی تعمیر کو منظوری دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 17 ایکڑ رقبے پر تیار ہونے والے اس رہائشی احاطے میں 11 کثیر منزلہ رہائشی ٹاورز بنائے جائیں گے۔ ان میں ٹائپ-2 سے لے کر ٹائپ-6 زمرے تک کے کل 1,504 رہائشی فلیٹس ہوں گے۔ پروجیکٹ میں تقریباً 1,972 کاروں کے لیے بیسمنٹ پارکنگ کی سہولت بھی تیار کی جائے گی۔ پورے احاطے کا کل تعمیراتی رقبہ 31.30 لاکھ مربع فٹ (2,90,762 مربع میٹر) ہوگا، جس میں 9.10 لاکھ مربع فٹ کا بیسمنٹ ایریا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 5.53 ایکڑ رقبے پر بننے والے اس دفتر کے احاطے میں دو بلڈنگ بلاکس ہوں گے۔ پہلا بلاک پلاٹ C-9 پر گراؤنڈ پلس 13 منزلہ ہوگا، جبکہ دوسرا بلاک پلاٹ C-8 پر گراؤنڈ پلس 10 منزلہ بنایا جائے گا۔ احاطے میں تقریباً 8,000 افسران اور ملازمین کے لیے دفتری سہولیات دستیاب ہوں گی۔ ساتھ ہی تقریباً 1,800 گاڑیوں کے لیے پارکنگ کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ پروجیکٹ کا کل تعمیراتی رقبہ 23.25 لاکھ مربع فٹ (2,16,032 مربع میٹر) ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی احاطے میں بینک اور اے ٹی ایم، پوسٹ آفس، کریچ، کھانے کی سہولت سمیت کمیونٹی بلڈنگ، فوڈ کورٹ، شاپنگ کمپلیکس، سروس سینٹر اور گیسٹ ہاؤس جیسی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ دیویانگوں (معذور افراد) کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے احاطے کو رکاوٹوں سے پاک (بیریئر فری) بنایا جائے گا۔ پروجیکٹ سے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہونے کی بھی امید ہے۔ تعمیراتی مرحلے کے دوران سالانہ تقریباً 7 لاکھ ہیومن ڈیز روزگار پیدا ہوگا، جبکہ آپریشنل مرحلے میں سالانہ تقریباً 50 ہزار ہیومن ڈیز روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔ مرکزی سرکاری دفتر کے احاطے میں بینک اور اے ٹی ایم، پوسٹ آفس، کریچ، تفریحی کمرہ، خواتین کا کمرہ، 100 نشستوں والا کانفرنس ہال، 500 نشستوں والا کثیر المقاصد ہال اور چار کینٹین جیسی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ دیویانگوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے احاطے کو پوری طرح رکاوٹوں سے پاک (بیریئر فری) بنایا جائے گا۔
یوین آئی۔ایف اے
ہندوستان
مودی نے مسلسل سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیرِ اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندرمودی نے بدھ کے روز آزادہندستان کے مسلسل سب سے طویل عرصے تک منتخب وزیرِ اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کر لیا مسٹر مودی نے 26 مئی 2014 کو پہلی بار وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھایا تھا اس کے بعد سے وہ مسلسل ملک کے منتخب وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں مسلسل منتخب وزیرِ اعظم کی حیثیت سے منگل کو ان کی مدتِ کار کے 4398 دن مکمل ہو گئے یہ پنڈت نہرو کی منتخب وزیرِ اعظم کے طور پر 4398 دن کی مدتِ کار کے برابر ہیں۔ پنڈت نہرو 13 مئی 1952 سے 27 مئی 1964 تک وزیرِ اعظم رہے تھے۔ البتہ وہ آزادی کے بعد 15 اگست 1947 کو ہندستان کے پہلے وزیرِ اعظم بنے تھے، لیکن اس وقت وہ منتخب نہیں بلکہ عبوری حکومت کے وزیرِ اعظم تھے۔
اس سے قبل مسٹر مودی سابق وزیرِ اعظم اندراگاندھی کے مسلسل منتخب وزیرِ اعظم کے طور پر 4077 دن کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ اندرا گاندھی 24 جنوری 1966 سے 24 مارچ 1977 تک مسلسل وزیرِ اعظم رہیں، اگرچہ بعد میں 1980 میں بھی وزیرِ اعظم منتخب ہوئی تھیں۔
مسٹر مودی وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کی حیثیت سے مجموعی طور پر 9000 سے بھی زائد دن خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے تیسری مسلسل مدت کے لیے 9 جون 2024 کو وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
ذرائع کے مطابق قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی ریاستی حکومتوں کے وزرائے اعلیٰ کی ایک اہم میٹنگ آج ہوگی، جس میں مسٹر مودی کو اس حصولیابی کے پر مبارکباد دی جائے گی۔ اس موقع پر ایک قرارداد بھی منظور کیے جانے کا امکان ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
گزشتہ چار دنوں میں پی او کے مظاہروں اور پولیس تشدد میں کم از کم 41 افراد ہلاک
نئی دہلی، پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں حکام نے منگل کی سہ پہر کو کرفیو نافذ کر دیا کیونکہ مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے، جب کہ پولیس تشدد میں گزشتہ چار دنوں میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 19 بچے اور سات حاملہ خواتین شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولکوٹ، مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر، ڈڈیال، پالندری اور سدھانوتی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، حکومت اور فوج مخالف نعرے لگائے اور آزادی کا مطالبہ کیا۔ مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر اور ڈڈیال میں انتظامی بندش سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے، پولیس کی کارروائی میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
راولکوٹ میں صبح 11 بجے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، مظاہرین نے مرکزی سڑک بلاک کر دی، جس سے پاکستانی پولیس، فوج اور رینجرز کو گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا سہارا لینا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی کارروائی میں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق کوٹلی اور ڈڈیال میں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، نعرے لگاتے ہوئے راولکوٹ کی طرف مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ پالندری میں آنسو گیس کے استعمال کے باوجود ہزاروں افراد پاکستانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
دریں اثنا، سودھانوتی میں مظاہرین نے لکڑی کی لاٹھیوں سے مظاہرے کیے اور پاکستانی حکومت اور فوج کو وارننگ جاری کی۔ مظفرآباد میں نیلم پل پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فائرنگ کی ویڈیوز نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پی او کے میں مظاہرین 38 مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان میں بنیادی طور پر سستی بجلی اور آٹے، چاول اور دالوں کی کم قیمتیں شامل ہیں۔
مظاہرین کا موقف ہے کہ پاکستان نے پی او کے میں منگلا ڈیم جیسے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بنائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے اس لیے مقامی رہائشیوں کو کم نرخوں پر بجلی ملنی چاہیے۔ مظاہرین کا ایک بڑا سیاسی مطالبہ پی او کے اسمبلی میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ نشستیں ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جنہیں پناہ گزین سمجھا جاتا ہے اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر آئے ہیں لیکن اب وہ پی او کے کے بجائے پاکستان کے دوسرے حصوں میں رہتے ہیں۔ مظاہرین سوال کرتے ہیں کہ جو لوگ پی او کے میں نہیں رہتے وہ ان 12 سیٹوں کو ووٹ اور نمائندگی کیسے دے سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستانی فوج اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی میں موجودگی کے باوجود صرف حزب المجاہدین کے ارکان اور ان کے رشتہ دار ہی ان مخصوص نشستوں پر منتخب ہوں۔ نتیجے کے طور پر، پی او کے اسمبلی کی 45 میں سے 12 سیٹیں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے زیر اثر رہیں۔ اس سے وہ قانون سازوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اگر ضروری ہو تو اپنی پسند کا وزیر اعظم مقرر کر سکتے ہیں۔
ایک مثال عبداللہ سعید شاہ کی ہے، جنہیں پیر مظہر سعید شاہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ جیش محمد کا سندھ کا صوبائی سربراہ بتایا جاتا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم میں ان کے مبینہ کردار کے باوجود، وہ پی او کے اسمبلی کے رکن ہیں اور حال ہی میں اطلاعات و نشریات کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ اسی طرح کی مظاہروں کی لہر گزشتہ سال اکتوبر میں بھی پھوٹ پڑی تھی جس میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان مظاہروں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے قریبی ساتھی اور سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ کو مذاکرات کے لیے پی او کے بھیجا۔ حکام نے مظاہرین کے 38 میں سے 21 مطالبات تسلیم کر لیے۔ تاہم آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود وہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ حکام نے موجودہ بدامنی کے دوران اور اس سے پہلے دونوں مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بریگیڈیئر فائق ایوب کے آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پی او کے میں شہریوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ مظاہرین اور ماہرین کا الزام ہے کہ ان کی کمان میں فوج کے جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پی او کے میں اپنی پوسٹنگ سے قبل، بریگیڈیئر فائق ایوب پنجاب میں سیکٹر کمانڈر تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں پرتشدد کریک ڈاؤن کا ذمہ دار تھا، جس کی وجہ سے انہیں “لاہور کا قصائی” کا لقب ملا۔ اس کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں پی او کے منتقل کر دیا، جہاں کریک ڈاؤن جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا1 week agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا7 days agoیہ بھی ممکن ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر سے کبھی ملاقات کروں: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی







































































































