دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
مسلم ممالک اسرائیل کی سازشوں سے ہوشیار رہیں: عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مصر کی ایک بندرگاہ پر دو جہازوں کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کے واقعے کو اسرائیل کا “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد خطے کے امن کو سبوتاژ کرنا اور مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ سب کو اسرائیل کی ان سازشوں اور فالس فلیگ آپریشنز سے ہوشیار رہنا چاہیے، جن کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور امن کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ خطرہ واضح اور مشترکہ ہے، جو پوری مسلم دنیا کے اتحاد کو لاحق ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران مصر کو اپنا دوست اور خطے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ مصر کی سلامتی اور استحکام تہران کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ترکیہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا: اردوغان
انقرہ، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے یہ بات لبنان کے صدر جنرل جوزف عون کے ساتھ صدارتی محل میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
صدر اردوغان نے کہا کہ 17 برس بعد کسی لبنانی صدر کا ترکیہ کا سرکاری دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے اور صدر جوزف عون کی قیادت لبنان میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی قبضے، مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ترک صدر نے کہا کہ لبنان برسوں سے علاقائی تنازعات کا شکار رہا ہے، اس لیے خطے میں پائیدار امن کے قیام سے سب سے زیادہ فائدہ لبنان کو پہنچے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ترکیہ لبنان کے ریاستی اداروں کی استعداد کار بڑھانے، انسانی امداد، تکنیکی تعاون اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں اپنی بھرپور معاونت جاری رکھے گا۔
صدر اردوغان نے لبنان اور شام کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں امن مشن کے اختتام کے بعد اگر لبنان کی سلامتی کے لیے کوئی نیا بین الاقوامی انتظام تشکیل دیا جاتا ہے تو ترکیہ اس میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہے گا، جبکہ لبنانی مسلح افواج کی تربیت اور دفاعی تعاون بھی جاری رکھا جائے گا۔
صدر اردوغان نے کہا کہ 2 مارچ 2026ء سے جاری اسرائیلی حملوں میں 4 ہزار 300 سے زائد لبنانی شہری جاں بحق، 2 ہزار سے زیادہ زخمی اور تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے لبنانی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ابتدا ہی سے اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتا آیا ہے اور ہر بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کے انسانیت کے خلاف جرائم کو اجاگر کرتا رہا ہے۔
اس موقع پر لبنان کے صدر جنرل جوزف عون نے کہا کہ ترکیہ اور لبنان کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور مضبوط تعلقات موجود ہیں، جنہیں مزید فروغ دینے پر دونوں ممالک کی قیادت متفق ہے۔
انہوں نے صدر اردوغان کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک علاقائی حالات میں دونوں ممالک کا قریبی تعاون مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
وینس اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتے اختلافات پر بند کمرے میں کھل کر گفتگو
واشنگٹن، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی اہم ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، اسرائیلی حکومت پر امریکی تنقید اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات پر تفصیلی اور براہ راست تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ بلیر ہاؤس میں ہونے والی اس بند کمرے کی ملاقات کا مقصد گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ نیتن یاہو نے ملاقات کے دوران اسرائیلی حکومت پر جے ڈی وینس کی حالیہ تنقید اور ریپبلکن پارٹی کے اندر اسرائیل کی گرتی ہوئی مقبولیت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ عہدیدار کے مطابق گفتگو بے لاگ اور براہ راست ہوئی، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس کی تصدیق کی۔
اگرچہ امریکی نائب صدر کے دفتر نے ملاقات کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ وینس اور نیتن یاہو کے درمیان مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اہم امور پر دوستانہ اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ یہ ملاقات محاذ آرائی پر مبنی نہیں تھی اور وینس اور نیتن یاہو کے درمیان ورکنگ تعلقات بدستور مثبت اور مؤثر ہیں۔ ایکسیوس کے مطابق منگل کو ہونے والی یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کا اہم موقع ثابت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے جے ڈی وینس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں نیتن یاہو کی حکمت عملی پر سب سے زیادہ تحفظات ظاہر کرنے والی شخصیات میں شامل رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور بعد ازاں امریکہ۔ایران مفاہمت نامے کی حمایت میں نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ نیتن یاہو اس معاہدے کے مخالف تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات وقت کے ساتھ بڑھتے گئے۔ وینس نے اسرائیلی حکومت پر مفاہمت نامے کے خلاف سیاسی مخالفت کو ہوا دینے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت کا الزام عائد کیا، جبکہ نیتن یاہو نے بھی نجی ملاقاتوں میں امریکی نائب صدر کے کردار پر تنقید کی۔
ایکسیوس کے مطابق 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد جے ڈی وینس امریکی انتظامیہ کے اندر ایران کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کرنے کے سب سے بڑے حامی بن کر سامنے آئے۔ جون میں انہوں نے ایران سے معاہدے پر تنقید کرنے والے اسرائیلی حکومتی ارکان کو علانیہ تنبیہ کی، جبکہ جولائی میں ایک انٹرویو کے دوران بعض اسرائیلی رہنماؤں پر امریکہ کو سفارتی راستے سے دور رکھنے اور جنگ جاری رکھنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا۔
یو این آئی۔ م س
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
دنیا7 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
دنیا1 week agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
دنیا1 week agoایرانی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں: مارکو روبیو
دنیا1 week agoامریکہ سعودی جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ






































































































