تازہ ترین
امریکا ایک بار پھر ایران سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگیا

خبراردو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے ایک قدم بڑھاتا ہے تو امریکا ضرور مثبت جواب دے گا۔
تفصیلات کے مطابق امریکا نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر بات چیت کے لیے کوئی راہ نکالی جائے تو ٹرمپ انتظامیہ اس کو خوش آمدید کہے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے ردعمل میں امریکا نے ایک بار پھر ایران سے بات چیت کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے۔
ٹرمپ نے ایک طرف ایران کو لاحق ممکنہ خطرات کا بھرپور طریقے سے جواب دینے کی دھمکی دی تو دوسری جانب انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ کوئی مسلح تنازعہ شروع نہیں ہوگا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی پیش کش کو مسترد کردیا، ملکی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اب امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو پہلے ہی امریکا کی اقتصادی جنگ کا سامنا ہے، ان حالات میں مذاکرات کے لیے حالات کسی صورت سازگار نہیں ہے۔
خیال رہے کہ حسن روحانی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ایران کو ایک مرتبہ پھر سن 1980 کی عراق جنگ والی اقتصادی صورت حال درپیش ہے، یہ مشکل وقت ہے۔
دنیا
امریکہ کی چین، ہندوستان، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں نافذ
واشنگٹن، امریکہ نے چین، ہندوستان، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں نافذ کردیں، جن پر الزام ہے کہ وہ مہان ایئر کے لیے سیلز ایجنٹ اور معاون نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ نے ایران کی فضائی کمپنی مہان ایئر کی معاونت کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف نئی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے کہا گیا کہ پابندیوں کا نشانہ چین، ہندوستان، روس اور ایران میں موجود چھ افراد اور ادارے بنے ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ مہان ایئر کے لیے سیلز ایجنٹ اور معاون نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہے تھے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ مہان ایئر نے ماضی میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اہلکاروں، ہتھیاروں اور ڈرونز کی نقل و حمل میں کردار ادا کیا۔
واشنگٹن پہلے ہی مہان ایئر پر پابندیاں عائد کر چکا ہے، یورپی یونین نے بھی اس ایئرلائن کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیل نے ذمے داریاں پوری نہ کیں تو امن معاہدے پر عمل نہیں ہو گا: حماس
غزہ، حماس کے مذاکراتی وفد کے رکن غازی حمد نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی قابض افواج نے معاہدے کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری نہ کیں تو حماس بھی غزہ امن معاہدے کے کسی مرحلے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غازی حمد نے کہا کہ یہ مذاکرات نہایت مشکل اور پیچیدہ تھے، تاہم ہم نے ایسی بہترین قابلِ عمل صورت تک پہنچنے کی کوشش کی جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی حمد نے واضح کیا کہ غزہ سے متعلق معاہدہ مرحلہ وار ہے اور اس پر مختلف مراحل میں عمل درآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے معاہدے کے متن کی منظوری کے بعد اسرائیل کو پہلے مرحلے پر عمل درآمد شروع کرنا ہوگا، جبکہ اسرائیل کو غزہ سے اپنی تمام افواج بھی واپس بلانا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی قومی کمیٹی اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی ضروری ہے اور اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کو بھی ختم کیا جائے گا۔
حماس عہدیدار کے مطابق ہتھیار فلسطینی قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کا عمل اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی مکمل پاسداری پر منحصر ہے اور اگر اسرائیلی افواج نے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اپنی ذمے داریاں پوری نہ کیں تو حماس بھی معاہدے کے کسی حصے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اسلحہ چھوڑنے کا عمل اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلاء اور فلسطینی علاقے کی تعمیرِ نو میں پیش رفت سے مشروط ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تاحال اس معاہدے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ادھر بورڈ آف پیس نے حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
غزہ میں جنگ کے بعد عبوری انتظامات کی نگرانی کے لیے قائم بورڈ آف پیس نے اعلان کیا ہے کہ حماس نے باضابطہ طور پر جنگ بندی کے آئندہ مراحل پر عمل درآمد کے لیے ایک تفصیلی لائحۂ عمل پر اتفاق کر لیا ہے۔
بورڈ آف پیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پہلی مرتبہ حماس نے باضابطہ طور پر غیر مسلح ہونے کے قابلِ عمل منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی افواج غزہ سے انخلاء کریں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کئی ماہ پر محیط سنجیدہ اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کا نتیجہ ہے، جن کا مقصد صدر ٹرمپ کے اس وژن کو عملی شکل دینا ہے جس کے تحت غزہ میں نئی حکمرانی، سیکیورٹی، انسانی امداد، تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کا نظام قائم کیا جانا ہے، جیسا کہ جامع امن منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 میں بیان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے غزہ میں غیر مسلح ہونے کے منصوبے پر مشتمل ایک دستاویز پر اتفاق کر لیا ہے، جسے امریکی صدر ٹرمپ نے امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کا تفصیلی لائحہ عمل 14 روز کے اندر تیار کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بین الاقوامی نگرانی کے ادارے کی منظوری اور تمام فریقوں کی رضامندی سے کی جا سکے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنیوالے 2 جہازوں کو نشانہ بنایا: پاسداران انقلاب
تہران، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائی نگرانی میں آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 2 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر روک دیا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ دیگر 4 آئل ٹینکروں نے فوری طور پر اپنا راستہ تبدیل کیا اور سابقہ پوزیشنوں کی جانب واپس لوٹ گئے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے
جموں و کشمیر1 day agoپاکستان سے دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دینے والے پانچ دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم
دنیا1 week agoایران پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید، 11 زخمی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
دنیا1 week agoامریکہ سعودی جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ
دنیا1 week agoامریکی حملے جاری رہے تو نئی حکمتِ عملی اپنائیں گے: ایران کا انتباہ
دنیا1 week agoہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی نہیں بیچ سکے گا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoیمن بحران پر ایران کو ذمے دار ٹھہرانا درست نہیں: عباس عراقچی
دنیا6 days agoسعودی عرب کے یمن کے شہر الحدیدہ میں فضائی حملے
دنیا4 days agoروس کو ہتھیار فراہم کرکے ایران پہلے ہی یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے: زیلنسکی



































































































