تازہ ترین
بھارت میں بڑھتی گرمی : پیڑ کہاں سا یہ کہاں پانی کہاں؟

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی
خا لق کا ئنات نے اپنی مخلوق کے لیے ہر ضرورت کی چیز پیدا فر مائی، سب کی ضروریات الگ الگ ہیں کچھ ضروریات تو تمام مخلوق کی ایک ہی طرح کی ہیں جیسے ہوا، پانی اور آکسیجن(ہوا اور پانی کا وہ جز جس پر روشنی اورزندگی موقوف ہے۔) انسان ہو یا جانور ہر جاندار کو اس کی ضرورت ہے ،یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بلا آکسیجن کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا، اس کے بغیر موت واقع ہو جاتی ہے۔ اور یہ انمول شئے(نایاب چیز) اللہ رب العزت نے درختوں، پو دوں میں رکھی ہے یاد رہے آکسیجن درختوں اور پو دوں کے سوا اور کہیں سے نہیں ملتی ہے۔ اتنے ترقی یافتہ دور میں بھی انسان کتنا نادان اور ظالم ہے جو چیز اسے درختوں اور پودوں کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتی اسی کو ختم کرتے جارہاہے( اسی کو کہتے ہیں آ بیل مجھے مار ، نہیں بلکہ دوڑ کے مار) پیڑ ، پودے انسان کی اہم ضرو ریات میں شامل رہے ہیں اور رہیں گے جب سے دنیا میں انسان نے آنکھ کھو لی ہے، درخت اس کی بنیادی ضرو یات میں شا مل رہے ہیں۔انسان کی یہ بڑی بھول ہے کہ ہم ہر چیز کے مالک ہیں، یہ صفت صرف خالق کائنات کی ہے۔ *اَ للَّہُ خَا لِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ وّ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ*( القرآن،سورہ39،آیت62) تر جمہ: اللہ ہر چیز کا پیدا کر نے والا ہے، اور وہ ہر چیز کا مختار ہے۔
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق و مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے آسما نوں زمین کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جو اس کی ملکیت کا انکار کرتا ہے اور اپنا قبضہ جماکر کسی چیز کو بے دریغ استعمال کرتا ہے وہی نقصان اور گھا ٹا اٹھا تا ہے۔درختوں کو پیدا فر مانے کی بہت سی ضرورت و حکمت قرآن مجید میں مطا لعہ فر مائیں۔تر جمہ: وہ کون ہے جس نے آ سمانوں اور ز مینوں کو پیدا فر مایا اور تمھا رے لیے آسمانی فضا سے پانی اتا را، پھر ہم نے اس پانی سے تازہ اور خوشنما باغات اگا ئے؟ تمھارے لیے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغات کے درخت اگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ کو ئی(اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو( راہ حق سے)پرے ہٹ رہے ہیں۔( القرآن، سورہ نمل27،آیت60) کل کائنات کو پیدا کر نے والا سب کو روزی دینے والا تمام جہان کی تد بیر کر نے والا، صرف اللہ تعا لیٰ ہے، کھیتیاں، باغات، پھل ،پھول، دریا ،سمندر،حیوانات،خشکی،تری کے تمام جاندار اللہ نے پیدا کئے۔آسما نوں سے پانی برسا کر اپنی مخلوق کو روزی دینے کا ذریعہ کھیتیاں ،باغات سب وہی اگاتا ہے جو خو بصورت منظر ہونے کے علا وہ بہت کار آمداور مفید ہوتے ہیں خوش ذائقہ ہو نے کے ساتھ زندگی کو قا ئم رکھنے والے ہیں۔ انسانوں اور دوسری مخلوق کی روزی اور زندگی کی دوسری ضرو ریات کے لیے خالق کائنات نے کھیتاں باغات پیدا فرمائے۔ لیکن انسان ایسا جا ہل اور ظا لم ہے کہ اپنی بر باد ی کا سامان خود کر رہا ہے ۔ قرآن کریم نے انسان کی اس فطرت کا ذکر کیا ہے۔سورہ احزاب آیت 72، بیشک انسان اپنی جان پر بڑی زیا دتی کر نے والا ہے۔ بے تحا شہ جنگلوں کی کٹا ئی نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ اللہ کی دوسری مخلوق کے لیے پریشانی باعث ہے۔
*شجر کاری کے فوائد:
قرآن کریم نے شجر کاری کےساتھ معیشت اور خوش حالی کے گہرے تعلق کاذکر بڑے خوبصورت لفظوں میں کیا ہے۔حسن فطرت کی رعنا ئیاں، دلکش منا ظر جس سے آنکھوں کو ٹھنڈ ک اور دل ودماغ کو قوت ملتی ہے، باغات کا ذکر فر ما کر قرآن نے پیڑ پو دوں کی اہمیت بتائی۔روئے زمین پرجا بجا پھیلے پیڑ پودے بنی نوع انسان کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔درخت نہ صرف سایہ دیتے ہیں بلکہ ماحو لیاتی آلود گی کو کم کرتے ہیں، سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا تے ہیں،زمین کے کٹا ئو کو روکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کسی بھی ملک کی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کم ازکم 25 فیصدجنگلات کا ہو نا بہت ضروری ہے ور نہ ماحول کی آلود گی انسانوں کے لیے بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔بد قسمتی سے ہما رے ملک ہندوستان میں جنگلوں کی کٹائی بہت ہو رہی ہے،اور جنگل مافیا ویرپن سے لیکرآج تک سینکڑوں ویرپن جنگلوں کو ویران بنا رہے ہیں اور اس بہتی گنگا میں نیچے سے لیکر اوپرتک سب رین کوٹ پہن کر نہا رہے ہیں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔انسان اپنے تعیش کے لیے قدرتی نظام کو بر باد کررہا ہے یہ بہت بڑی بھول ہے، نظام الٰہی نے خود انسانوں کوآرام پہچانے کا بندو بست کردیا ہے جس کا کو ئی نعم ا لبدل نہیں-
درخت جس رفتار سے کاٹے جارہے ہیں اس کے نتا ئج میں آج فضا میں آکسیجن کم اور کار بن ڈائی آکسائیڈ (CARBON DIOXIDE) زیا دہ ہور ہی ہے،قدرت کا اعلیٰ نظام دیکھئے درخت کار بن ڈا ئی آکسائیڈ بطور خو راک استعمال کرتے ہیں اگر درخت کاٹ دیئے جائیں تو ظاہر ہے کہ فضا میں اس کی مقدار زیادہ ہو جائے گی اور گلوبل وار منگ یعنی زمینی تپش میں اضا فہ ہوجائے گااور اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔آکسیجن پیدا کر نے کے لیے قا بل ذکرکوئی ٹکنا لوجی مو جود نہیں ہے۔ اور جو قدرتی آکسیجن مو جود ہے جس کی ضرورت سب کو ہے،اسی کو بچانے کے لیے قابل قدر کوئی کام نہیں ہے بہت لمحہ فکریہ ہے عوام حکو مت پر نظریں لگائے ہو ئے ہیں حکو متوں کا حال سب کو معلوم ہے بھینس کے آ گے بین بجائے، بھینس کھڑ ی پگور ائے و الی مثال ہے۔درختوں سے انسانوں کو بے شمار فوائد ہیں زندگی سے لیکر معاشی فوائد بھی ہیں، معاشی فوائد میں درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی انسا نوں کو قدم قدم پر کام آتی ہے، فر نیچر بنا نے سے لیکر، جلانے کے کا م آتی ہے ، یہاں تک کہ بعد مرنے کے قبر کے استعمال میں بھی لکڑی کام آتی ہے۔ درختوں کی شاخیں پتے جانوروں کی خوراک کے کام آتے ہیں، سوکھے پتوں سے کھاد بنتی ہے، پھلوں سے لیکر پھو لوں، بچوں کے کھیلنے کے لیے سایہ دار جگہ کی ضرورت کے لیے درختوں کی ضرورت پڑ تی ہے، درختوں سے طرح طرح کی لکڑیاں ملتی ہیں جو مختلف کاموںمیں کام آتی ہیں درختوں سے ہمیں شہد، پھل،، روغنیات،اور دوائوں کے لیے جڑی بو ٹیاں اور مختلف قسم کے ریشے، لاکھ، گوند، گندہ بروزہ،ابریشم، کاغذ بنا نا کرنسی نوٹ( رو پیے) بھی انھیں درختوں کی دین ہیں،شدید دھوپ میں انسا نوں ،جانوروں کو سایہ انھیں درختوں سے نصیب ہو تا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ہر معاشرے میں درختوں کی بہت قدرو قیمت اور ضرورت ہوتی ہے۔
*نبوی تعلیمات:
احا دیث طیبہ میں بھی پیڑپو دوں کی اہمیت کو بتایا گیا ہے ۔آقا ﷺ نے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے اور دوران جنگ میں بھی پھل دار اور سایہ دار درختوں کو کاٹنے سے سخت منع فر مایا ہے۔ہم اور آپ زرا( تھوڑا) غور کریں کہ ہم کس در جہ میں ہیں۔شجر کاری کر نے وا لوں سے اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے،رحمت عا لم ﷺ نے فر مایا: کہ مسلمان کوئی درخت لگا ئے یا کھیتی لگا ئے اور اس میں سے انسان، درندہ، پرندہ یا چو پا یا کھائے تو وہ اس کے لیے صد قہ ہو جاتاے۔( مسلم ) اس حدیث پاک سے شجر کاری کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ شجر کاری میں بہت خیر ہے،ایک اور حدیث پاک میں اس طرح سے ہے آپ ﷺ فر ماتے ہیں جس کے پاس زمین ہو اسے اس ز مین میں کاشتکاری کر نی چا ہیے،اگر وہ خود کا شت نہ کر سکتا ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے،تاکہ وہ کاشت کاری کرے۔( مسلم ،حدیث:1536)
*اللہ تعالیٰ کی نعمتیں:
اللہ نے اپنے بندوںکو بے شمار نعمتوں سے نوازہ ہے ،اعلان الٰہی ہے۔(القرآن،سورہ14،آیت34) تر جمہ:اور اللہ نے تمھیں ہر وہ چیز عطا فر مادی جو تم نے اس سے مانگی،اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کر نا چاہو(تو) پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی نا شکر گزارہے،راحت وآرام والی نعمتوں کا اظہار بطور خاص فر مارہاہے اور یادد لا رہاہے۔سبھی جانتے ہیںدرختوں سے ہی سایہ نصیب ہو تا ہے اور فرحت بخش ہوا نصیب ہو تی ہے،ایک مقام پر زیتون کے درخت کے فوائد کا ذکر قرآن کریم اس طرح فر مارہا ہے۔وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِسَیْنَآ ئَ تَنْبُتُ بِا لدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰ کِلِیْنَ ۔(القرآن،سورہ مومنون23،آیت20) تر جمہ:اور (پیداکیا) وہ درخت جو طور سینا پہاڑپر نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن ہے۔ زیتون کے درخت کو مبا رک درخت قرار دیا گیا، سورہ نور آیت 35۔اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں شجر کاری کے بہت فوائدو اہمیت بتا ئی گئی ہے۔
*گلو بل وار منگ کے نقصانات:
مو جودہ حالات میں ماحو لیات کی آلود گی سے سینکڑوں پریشانیاں لاحق ہیں خطر ناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں کینسر، ہیپا ٹا ئٹس،ٹی بی، کھانسی،اور سانس کی بہت سی موذی بیماریاں پھیل رہی ہیںآلودگی کی وجوہات میں سے انڈ سٹر یوں سے زہریلا دھواں اور پانی کا نکلنا، بے تحاشا جنگلات کی کٹائی سے جنگلات کی کمی اور پلاسٹک بیگیز کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔گلوبل وار منگ یعنی عالمی درجہ حرارت میں اضا فہ موجو دہ دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔
*زمینی تپش کے نقصانات:
زمینی حرارت(گرمی) زیادہ ہونے کے باعث بر فانی تودے اور گلیشیرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیںاور سب سے بڑا خطرہ اوزون لیئر (O Zone Layer)کو خطرہ بڑھتے جارہاہے،اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے فضا میں ایک گیس پیدا کیاہے۔جو زمین سے دس کیلو میٹر کی اونچائی سے شروع ہو کر پچاس کیلو میٹر تک جو حصہ ہے اس میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ایک باریک سبز رنگ کی گیس ہے جسے اوزون تہہ یا لیئر کہتے ہیں یہی تہہ ہے،جو زمین کو سورج کی خطر ناک زہریلی شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے، ماحولیاتی آلود گی میں بڑھتے ہوئے اضافے سے اوزون پرت کو بہت نقصان پہنچا ہے اس سے بھی بہت بیماریاں بڑھ رہی ہیں خاص کر جلدی بیماریاں،اسی وجہ کر سخت گر می بڑھ رہی ہے جس سے ان گنت مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اللہ رب ا لعزت نے اس کرہ ارض میں کوئی ایسی چیز نہیں پیدا فر مائی جو انسانوں وتما م مخلوق کے فائدے و فلاح کے لیے نہ ہو، لیکن اس کے باوجود انسان رب کے بنائے ہوئے قوانین اور طریقوں میں تبدیلی کا مر تکب ہو رہا ہے جس کے چلتے موسم میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور انسانوں کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ چند برسو ں میں سیلابوں کی وجہ کر دنیا کا برا حال رہاہے ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، پا کستان،جاپان، امریکہ، ابھی حال ہی میں امریکہ میں شدید طوفان وبارش سے سیلاب نے زبر دست تباہی مچائی تھی اور جاپان میں بھی،خود کر دہ را علاج/ علاجے نیست ۔خود کے کئے کا کوئی علاج نہیں-
*حکیمانہ نظام:
رب کائنات نے اس عظیم کائنات میں ہر چیز کو ایک خاص نظام وتر تیب کے تحت بنایا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(القرآن،سورہ انبیاء21،آیت16)تر جمہ: اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر(بے کار) نہیں بنایا۔ اگر نظام الٰہی میں بگاڑ پیدا کر نے کی کو شش کی گئی تو اس سے خود ہمیں اور ہمارے ماحول کو نقصان ہوگا،اور ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ بھوگ بھی رہے ہیں، ارشاد الٰہی ہے کہ۔تر جمہ:اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ زمین پر فساد مت پھیلائو،تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کر تے ہیں۔ اور جو لوگ فساد پھیلانے وا لے ہیں ایسے لو گوں پر خدا کی لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔(القرآن)اسلام کی پا کیزہ تعلیم انسا ن و کو دین ودنیا کا سکون دیتی ہے اور دین ودنیا کی کامیابی کی بھی ضامن ہے –
*ذمہ داری:
اسلام صفائی وستھرائی کا حکم دیتا ہے تاکہ ماحول آلودہ نہ ہو اور آب و (پانی) ہوا خراب نہ ہو تاکہ انسان صحت مند و تندرست رہے، تندرست مو من اللہ کو پسند ہے۔(حدیث)گلو بل وار منگ سے جو زمینی گر می بڑھ رہی ہے اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ہم سب کوچا ہیے اس پر غور کریں ہر انسان کم از کم پانچ درخت لگائے،ہر انسان اپنے حصے کا کام کرے دوسرے پر انحصار نہ کرے،اپنے لیے اوراپنے آنے والے نو نہالوں(نسلوں) کے لیے کچھ تو کریں پرانے پیڑکی کٹا ئی سے حتی الا مکان پر ہیز کریں۔دنیا میں کئی ایسی چیزیںہیں جن کی وجہ سے دنیا قا ئم ہے ان میں سے شجر کا ری بھی ہے۔شجر کاری ہر دور کے انسان کے لیے اہم رہی ہے اور موجودہ دور میں تو اس کی اہمیت ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا ئے جا ئیں۔ ان کی دیکھ بھال کی جائے اورآنے والی نسل کو بھی شجر کاری کے فوائد اور اہمیت سے واقف کرایا جائے۔
رابطہ:hhmhashim786@gmail.com
دنیا
امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
تہران، ایرانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سینئر سفارتکار عباس عراقچی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، تاہم امریکہ کے ساتھ براہِ راست کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔
اسماعیل بقائی نے ہفتہ کو کہا کہ عراقچی پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔ عراقچی کے استقبال پر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر سینئر عہدیدار موجود تھے۔ بقائی نے ایکس پر لکھا کہ یہ مذاکرات ‘ان کی جاری ثالثی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کے ساتھ مل کر’ ہوں گے تاکہ ‘امریکہ کی مسلط کردہ جارحانہ جنگ’ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام بحال کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘ایران اور امریکا کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ ایران کے مشاہدات پاکستان کو پہنچا دیے جائیں گے۔’ یہ مباحثے اس وقت ہو رہے ہیں جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ امریکی خصوصی نمائندہ اسٹیو وِٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر ہفتہ کو پاکستان کا سفر کریں گے تاکہ ایرانی نمائندوں سے بات چیت کریں۔ لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ‘میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ خصوصی نمائندہ اسٹیو وِٹکوف اور جارڈ کوشنر کل صبح دوبارہ پاکستان روانہ ہوں گے تاکہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے ایرانی وفد کے نمائندوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کریں۔’ انہوں نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ میں رہیں گے، اگرچہ وہ ‘اس پورے عمل کا بغور جائزہ لینے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ل
یویٹ نے رپورٹرز سے کہا کہ صدر نے وِٹکوف اور کوشنر کو ‘ایرانیوں کی بات سننے’ کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ لیویٹ نے کہ’ہم نے حالیہ چند دنوں میں ایران کی جانب سے کچھ پیش رفت ضرور دیکھی ہے،’ ۔ انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ امریکی حکام کو کیا معلومات ملی ہیں۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کو بحال کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت یہ راہ ہموار کر سکتی ہے کہ اسلام آباد میں 11 تا 12 اپریل کو پہلے دور کی براہِ راست بات چیت کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔ یہ بات چیت پاکستان کی طرف سے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کرائے جانے کے بعد ہوئی تھی، جسے بعد ازاں ٹرمپ نے غیر معینہ طور پر بڑھا دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کے دوران جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی: ابراہیم عزیزی
تہران، ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورۂ پاکستان کےدوران جوہری معاملےپرکوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ جوہری معاملہ ایران کی ریڈ لائن میں سے ایک ہے۔ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی پاکستان کے دورے میں صرف دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے دورے میں ایران اور امریکہ کے حکام کے درمیان کوئی میٹنگ طے نہیں ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ میں پبلک ڈپلومیسی سینٹر کے سربراہ اور ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو تاریخ کا سب سے شوقین شخص قرار دیتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے اپنی نئی رہائش گاہ بھی ’شیش محل‘ جیسی بنا لی ہے۔
دہلی حکومت کے سابق رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی لیڈر پرویش صاحب سنگھ نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’عآپ‘ کا مطلب ’عالیشان آدمی پارٹی‘ ہے۔ اس دوران انہوں نے مسٹر کیجریوال کی نئی رہائش گاہ کی تصویر جاری کرتے ہوئے ان کا موازنہ فلم ’دھورندھر‘ کے ’رحمان ڈکیت‘ سے کیا اور کہا کہ انہوں نے اب یہاں دوسرا ’شیش محل‘ بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی انتخاب ہارنے کے بعد مسٹر کیجریوال پنجاب چلے گئے تھے۔ وہاں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی سرکاری رہائش گاہ کے آس پاس چار گھروں پر مسٹر کیجریوال اور عآپ لیڈروں ستیندر جین، منیش سسودیا اور سنجے سنگھ نے قبضہ کر لیا تھا۔ مسٹر بھگونت مان بھی اس وجہ سے ان سے پریشان تھے۔
قابل ذکر ہے کہ عدالت کے حکم کے بعد مرکزی حکومت نے مسٹر کیجریوال کو دہلی میں 95، لودھی اسٹیٹ میں واقع سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی تھی، جس میں وہ جمعہ کو خاندان کے ساتھ منتقل ہو گئے۔ مسٹر سنگھ نے مسٹر کیجریوال کی اس رہائش گاہ کی مرمت پر ہونے والے اخراجات کے تعلق سے ان پر حملہ بولا۔ انہوں نے مسٹر کیجریوال کی اس رہائش گاہ کی تصاویر دکھا کر حیرت کا اظہار کیا اور کہا، “وہاں بھی انہوں نے خوب پیسہ خرچ کیا ہے۔ یہ سرکاری رہائش گاہ ہے، لیکن اس میں سرکاری پیسہ نہیں لگا ہے۔” انہوں نے کہا کہ پہلے ’شیش محل‘ (6، فلیگ اسٹاف روڈ، وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ) پر بھاری اخراجات کے حوالے سے جب سوالات اٹھے تو مسٹر کیجریوال نے دعویٰ کیا تھا کہ سجاوٹ کا فیصلہ پی ڈبلیو ڈی کے چیف انجینئر نے کیا تھا اور انہیں اخراجات کا علم نہیں تھا۔ اب نئی رہائش گاہ کے بارے میں وہ ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جو لیڈر کبھی عام بنگلہ بھی نہ لینے کی بات کرتے تھے، آج خود ’شیش محل‘ میں رہ رہے ہیں۔ دہلی میں کورونا کی وبا، پانی اور بجلی کی قلت کے وقت بھی مسٹر کیجریوال غائب ہو کر ’شیش محل‘ بنانے میں لگے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’شیش محل‘ مسٹر کیجریوال کی بدعنوانی کا ثبوت ہے۔ وزیر اعلیٰ کی تنخواہ سے ایسی آلیشان رہائش گاہ نہیں بن سکتی۔ انہیں بتانا چاہیے کہ اس پر شراب گھپلے کا پیسہ لگایا گیا ہے یا نہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسٹر کیجریوال کے اندر ’شیش محل‘ بس چکا ہے۔ اس وجہ سے انہیں دہلی اور پنجاب کی عوام کا دکھ دکھائی نہیں دیتا۔ آپ کارکن پوری زندگی محنت کریں، تب بھی رہائش گاہ کو ایسا نہیں بنا سکتے۔ اس دوران انہوں نے سوال کیا کہ مسٹر کیجریوال بتائیں کہ لودھی روڈ والے بنگلے میں کتنا پیسہ لگا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ پیسہ کہاں سے آیا اور کس کا ہے؟ کیا عآپ کی عیاشی کی وجہ سے آپ کے کارکن آپ کو چھوڑ رہے ہیں؟ بار بار عالیشان شیش محل بنانے کی انہیں کیا ضرورت پڑ رہی ہے؟ پہلے شیش محل میں شراب کا پیسہ لگا تھا، اس بار کس کا پیسہ لگا ہے”
انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسٹر کیجریوال سب سے شوقین شخص ہیں۔ نام عام آدمی پارٹی رکھا، لیکن کام راجہ مہاراجاؤں والا ہے۔ پارٹی کا نام ’ عام عالیشان پارٹی‘ ہونا چاہیے۔ پارٹی سے سات راجیہ سبھا ارکان کے استعفیٰ اور بی جے پی میں شمولیت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ایماندار کارکن اب مسٹر کیجریوال کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا5 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 day agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا4 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
جموں و کشمیر4 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان





































































































