تازہ ترین
راجوری میں پہلی کورونا ہلاکت

جموں وکشمیر میں عالمگیر وبا کا قہرجاری
جموں کشمیر میں اموات کی تعدادبڑھ کر 53ہوگئی،وادی میں 47،جموں میں 6
جموں،راجوری: پہاڑی وسرحدی ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے 65سالہ شہری کی گور نمنٹ مڈیکل کالج واسپتال جموں میں جمعہ کو کورونا وائرس سے موت ہوگئی۔ ضلع راجوری میں مہلک وائرس سے ہونے والی پہلی موت ہے اوراس طرح جموں کشمیر میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر53ہوگئی ہے۔
صوبہ جموں میں اب کورونا سے مرنے والوں کی تعداد6ہوگئی جبکہ صوبہ کشمیر میں یہ تعداد47ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر میں عالمگیر وبا کورونا وائرس کا قہر جاری ہے جبکہ متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے کیساتھ ساتھ اموات کے رجحان میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔پہاڑی وسرحدی ضلع راجوری میں کورونا سے پہلی موت رپورٹ ہوئی ہے۔
اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق صوبہ جموں کے ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی جمعہ کو کورونا وائرس سے موت واقع ہوگئی جو اس ضلع میں مہلک وائرس سے ہونے والی پہلی موت ہے۔اطلاعات کے مطابق کالاکوٹ تحصیل کے سیالسوئی گاؤں کا65سالہ شہری جی ایم سی جموں میں انتقال کرگیا۔
معلوم ہوا ے کہ اْسے6 روز قبل جی ایم سی جموں میں زخمی ہونے کے بعد داخل کیا گیا تھا جہاں اْس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجوری شیر سنگھ نے شہری کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضلع میں کورونا سے ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم کی آخری رسومات کووڈ۔19کے قواعد وضوابط کے تحت عمل میں لائی گئی۔
راجوری کے شہری کی موت کے بعدجموں کشمیر میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد53ہوگئی ہے،جن میں سے47 کا تعلق کشمیر سے ہے جبکہ 5جموں صوبے کے رہنے والے ہیں۔وادی کشمیر میں اب تک کورونا سے متعلق اموات میں ضلع سری نگر12 اموات کے ساتھ سر فہرست ہے جبکہ ضلع بارہمولہ10 اموات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
ضلع کولگام میں 8، اننت ناگ میں 6، کپوارہ اور شوپیاں میں 3۔3، پلوامہ اور بڈگام میں 2۔2 اور بانڈی پورہ میں ایک مریض کورونا میں مبتلا ہوکر جاں بحق ہوگیا۔صوبہ جموں میں اب ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 6ہوگئی۔یاد رہے کہ جموں وکشمیر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد4500تجاوز کر گئی۔
جموں و کشمیر
سوپور میں طلبہ احتجاج کے پرتشدد ہونے پر پولیس نے چھ افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے سوپور سب ضلع میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ طور پر امن و امان میں خلل ڈالنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے جمعہ کو چھ افراد کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔
پی ایس اے کے تحت بعض معاملات میں بغیر باضابطہ الزام یا مقدمہ کے دو سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق جن افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی ان میں سیلو کے عمر اکبر حاجم، شالپورہ کے سلمان احمد شالا، پنزی پورہ ترزو کے الطاف احمد شیخ، نصیر آباد کے مبشر احمد گلکار، آرام پورہ کے مزمل مشتاق چنگا اور چنکی پورہ کے مجید فردوس ڈار شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو جموں خطے کی ضلع جیل بھدرواہ میں رکھا گیا ہے۔
ان افراد کو بارہمولہ کے ضلع مجسٹریٹ سے باضابطہ حراستی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران بدامنی پھیلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور امن خراب کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھے۔ پولیس کے مطابق “ان کی سرگرمیاں عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں”۔ مزید یہ کہ اس واقعے میں ملوث دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف بھی اسی طرح کی قانونی کارروائی، بشمول پی ایس اے کے تحت حراست، عمل میں لائی جا رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے سوپور میں ایک خاتون طالبہ کی جانب سے ایک سینئر لیکچرر پر ہراسانی کے الزامات کے بعد شدید طلبہ احتجاج ہوا تھا۔ جموں و کشمیر حکومت نے اس سینئر لیکچرر کو معطل کر دیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث کئی افراد کو گرفتار بھی کیا۔
سوپور پولیس نے واضح کیا کہ ضلع میں امن و استحکام کو متاثر کرنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پولیس نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حساس حالات کا فائدہ اٹھانے یا عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش پر فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عوام، خاص طور پر نوجوانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہیں اور شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ والدین اور سماجی رہنماؤں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
نشہ مکت مہم: 12 دنوں میں کئی منشیات اسمگلر گرفتار، کروڑوں مالیت کی منشیات ضبط: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو کہا کہ “نشہ مکت ابھیان” کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور صرف 12 دنوں میں کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔
ریاسی ضلع میں “ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم” کا آغاز کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے استعمال کے خلاف اجتماعی سماجی ردعمل کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ یہ لعنت معاشرے کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
انہوں نے کمیونٹیز، اداروں اور افراد سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 دنوں سے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے خلاف ایک اجتماعی تحریک ابھری ہے اور لوگ اس خطے کو منشیات سے پاک بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 11 سے 22 اپریل کے درمیان جموں ڈویژن میں بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے اور کئی منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی، جبکہ تقریباً 1 کروڑ روپے کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں۔
کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات اسمگلروں کی جائیدادیں مسمار کی گئی ہیں، 187 ڈرائیونگ لائسنس اور چار گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہیں، جبکہ 48 منشیات فروشوں کے خلاف مالی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
کیمسٹ دکانوں کا معائنہ کیا گیا اور 15 لائسنس منسوخ کیے گئے۔ منشیات کے عادی افراد کو بحالی مراکز میں بھیجا گیا اور انہیں مشاورت فراہم کی گئی۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے جمعہ کو ان افراد کی رٹ پٹیشنز پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جنہیں ووٹر لسٹ کی ‘خصوصی تفصیلی نظر ثانی’ (ایس آئی آر) کے بعد مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا گیا تھا، جبکہ وہ موجودہ اسمبلی انتخابات میں انتخابی افسران کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیہ باگچی کی بنچ نے عرضی گزاروں کو ان اپیلی ٹریبونلز سے رجوع کرنے کی ہدایت دی جو ووٹر لسٹ سے نام نکالے جانے کے چیلنجوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیے گئے ہیں۔ عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے عدالت کو بتایا کہ کئی افسران کے نام کسی وجہ کے بغیر من مانے طریقے سے ووٹر لسٹ سے کاٹ دیے گئے ہیں۔
جسٹس باگچی نے تسلیم کیا کہ جن لوگوں کی اپیلیں ابھی زیر التوا ہیں، وہ شاید مغربی بنگال کے موجودہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، لیکن وہ اپنی اپیل جاری رکھ سکتے ہیں تاکہ مستقبل کے لیے ووٹر لسٹ میں ان کا نام بحال کیا جا سکے۔
عدالت نے بتایا کہ موجودہ وقت میں تقریباً 19 اپیلی ٹریبونلز کام کر رہے ہیں اور وہ عدالتی افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے 13 اپریل کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مغربی بنگال کے وہ ووٹرز جن کے نام انتخابات سے کم از کم دو دن پہلے اپیلی ٹریبونلز کے ذریعے منظور کر لیے جاتے ہیں، وہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حقدار ہوں گے۔ قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ جمعرات کو مکمل ہو گئی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
دنیا1 week agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا4 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
جموں و کشمیر1 week agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
دنیا1 week agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
دنیا1 week agoضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کیا جائے گا، پیٹ ہیگسی
دنیا1 week agoاسرائیل پر قدرت کا قہر، شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کا حملہ
دنیا1 week agoامریکی سینیٹ نے ایران پر مزید حملوں کی اجازت کی قرارداد مسترد کردی
دنیا1 week agoاسرائیل کا ایران و لبنان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان، فوج مکمل تیاری کے ساتھ ہائی الرٹ پر : اہداف تیار
دنیا1 week ago’’اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو دنیا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی‘‘
دنیا3 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر3 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند










































































































