تجزیہ
اخلاص مظفر: مالی لحاظ سے کمزور گھرانے کی ہونہار طالبہ

سری نگر،(یو این آئی): جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی منگل کی سہہ پہر سری نگر کے سکہ ڈافر صفا کدل علاقے واقع ایک مالی لحاظ سے کمزور گھرانے میں بھی مسرت و شادمانی کا ماحول سایہ فگن ہوگیا۔
اس گھرانے کی چشم و چراغ اخلاص مظفر نے بھی مالی مشکلات کے با وصف بارہویں جماعت کے امتحانات میں امیتازی نمبرات کے ساتھ کامیابی کا جھنڈا گاڑا تھا۔موصوف طالبہ کے والد مظفر احمد راتھر نو برس قبل اس دار فانی سے رخصت ہوگئے تھیاور تب سے ان کی والدہ نہ صرف ایک مرد آہن کی طرح اکیلے اپنے تین بچوں کی پرورش کر رہی ہیں بلکہ انہیں بہتر سے بہتر تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے میں بھی محو جد وجہد ہیں۔
اخلاص مظفر کی والدہ نے یو این آئی کے ساتھ اپنے گفتگو میں کہا کہ بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور میرا سب سے پسندیدہ خواب ہے۔انہوں نے کہا:‘میرے شوہر مطفر احمد راتھر کا نو برس قبل انتقال ہوگیا تب سے میں اپنے بچوں کی نہ صرف پرورش کر رہی ہوں بلکہ ان کو بہتر سے بہتر تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں
’۔ان کا کہنا تھا:‘میں نے جب منگل کی سہہ پہر بیٹی کی امتیازی نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے کی خبر سنی تو ہمارے گھر میں خوشی کا ماحول چھا گیا اور میری اور میری دوسری چھوٹی بیٹی کے آنکھوں سے بے ساختہ آنسو کی جھریاں جاری ہونے لگیں ’۔موصوفہ نے کہا کہ میری بیٹی نے آج شاندار کامیابی حاصل کرکے میرے حوصلے کو مزید بڑھایا بلکہ سماج میں میرے عزت کو چار چاند لگا دئے۔
انہوں نے کہا کہ میری دوسری بیٹی دسویں جماعت میں زیر تعلیم ہے جبکہ میرا بیٹا نویں جماعت میں پڑھتا ہے لیکن آمدنی کا کوئی موثر ذریعہ نہ ہونے کے باوجود میں انہیں پڑھاتی ہوں۔موصوفہ نے کہا کہ آج کے دور میں بچوں کو پڑھانا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ اس پر آنے والے خرچے کو برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:‘لیکن میں کسی بھی صورت میں اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کروں گی کیو نکہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد بھی ہے اور میرا پسندیدہ خواب بھی ہے ’۔ان کا کہنا تھا:‘میری بیٹی کو پڑھنے کا بہت شوق ہے لیکن مجھے اُس کو پڑھانے کا کئی گنا زیادہ شوق ہے ’۔اخلاص کی والدہ نے کہا کہ خود گوناگوں مشکلات کا سامنا کرکے بچوں کو پڑھانے پر مجھے لوگوں کی طرح طرح کی باتیں سننا پڑتی ہیں لیکن میں انہیں برداشت کرتی ہوں۔
انہوں نے کہا:‘میری بیٹی سخت محنت کرتی ہے اور رات دیر گئے تک پڑھتی رہتی ہے اور اس کے علاوہ گھر کے کام کاج میں میرا بھی ہاتھ بٹاتی ہے ’۔موصوفہ نے کہا کہ لوگوں کو چاہئے کہ مشکلات کا مقابلہ کرکے اپنے بچوں کا تعلیم دیں یہ موجودہ دور میں انتہائی اہم اور سب سے بڑا فریضہ ہے۔انہوں نے تمام طلاب علموں کے بہتر اور تابناک مستقبل کے لئے بھی دعا کی۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
ہندوستان7 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا7 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا7 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا5 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا
دنیا6 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا7 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
دنیا1 week agoاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی ایرانی قیادت کو دھمکی




































































































