تازہ ترین
اقوام متحدہ نے معدوم ہونے کے دہانے پر موجود زبانوں کو بچانے کے لیے پہل شروع کر دی

نیویارک، 17 دسمبر (یواین آئی) اقوام متحدہ نے پوری دنیا میں ایسی مقامی زبانوں کو معدوم ہونے سے بچانے کے لیے بین الاقوامی مقامی زبان کی دہائی کا آغاز کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابا کوروسی نے جمعہ کو کہا کہ ان ممالک کی زبانوں کو بچانا نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے اہم ہے۔ جب کوئی مقامی زبان معدوم ہو جاتی ہے تو اس سے جڑی ثقافت، روایت اور علم بھی معدوم ہو جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی امور کے محکمے کے مطابق پوری دنیا میں تقریباً 6,700 مقامی زبانیں 4,000 سے زیادہ مقامی لوگ بولتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق ان تمام زبانوں میں سے نصف سے زیادہ اس صدی کے آخر تک معدوم ہو جائیں گی۔
مسٹر کوروسی، جو حال ہی میں مونٹریال میں اقوام متحدہ کی حیاتیاتی تنوع کانفرنس میں شرکت سے واپس آئے ہیں، نے کہاکہ “اگر ہمیں فطرت کی کامیابی سے حفاظت کرنا ہے تو ان کو مقامی لوگوں کو ان کی اپنی زبان میں سننا اور سمجھنا چاہیے۔ ان لوگوں نے تقریباً 80 فیصد حیاتیاتی تنوع کو بچا لیا ہے جو آج دنیا میں رہ گیا ہے۔ اس کے باوجود ہر دو ہفتے بعد ایک مقامی زبان تباہ ہو رہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس سے ہمیں آگاہ ہونا چاہیے۔”
اقوام متحدہ کے صدر نے کہا کہ مقامی آبادیوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے تمام ممالک کو ان کی تعلیم اور مقامی زبان کو بچانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کا اور ان کے علم کا استحصال نہ ہو۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ فطرت کو بچانے کے لیے تمام مباحثوں میں مقامی لوگوں کو شامل کرنا اور ان کے ساتھ ٹھوس بحث کرنا شاید بہتر ہوگا۔
اس موقع پر میکسیکو کے اقوام متحدہ کے سفیر جان ریمان ڈی لا فیونتے نے کہا کہ زبان صرف چند الفاظ نہیں ہوتی۔ یہ بولنے والے لوگوں کی شناخت کی خوشبو ہے اور ایسے تمام لوگوں کی یکجا روح ہے۔ زبان تاریخ، ثقافت اور روایات کی علمبردار ہوتی ہے اور آج زبانیں بڑی تیزی سے تباہ ہو رہی ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔
دنیا
امریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی۔
وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملہ جلد ہوگا، ایرانی اس حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کرسکیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہوں نے بارک اوباما اور ایران کے درمیان ہوئی “نیوکلیئر ڈیل” ختم نہ کی ہوتی تو آج دنیا میں اسرائیل کا وجود باقی نہ ہوتا۔ کیوں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکی بی ٹو بمبار طیارے ایک سال پہلے ایرانی نیوکلیئر سائٹس کو نشانہ نہ بناتے تو ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا اور نہ اسرائیل باقی ہوتا اور نہ ان کے خیال میں مشرق وسطی کے کئی ملک باقی ہوتے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو اس درجے تک کم کردیا جس کا کسی نے سوچا تک نہیں تھا۔
اردن میں ضرور ایران نے کچھ نقصان پہنچایا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اگر “دیگر آپریٹرز” ساتھ دیتے تو ایران ایسا نہ کرپاتا۔ ٹرمپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ “دیگر آپریٹرز” سے ان کی مراد کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ ملاقات کے شدت سے خواہاں ہیں کیوں کہ انہیں شدید تباہی کا سامنا ہے۔ امریکہ کی ایرانیوں سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
ایک سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران غالباً آبنائے ہرمز کی دھمکی دے کر نومبر کے امریکی کانگریس الیکشز میں ان کے اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے امکانات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی اس کوشش کا جو بھی اثر ہو، وہ وہی کریں گے جو درست ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے، تو وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر ایران کے جنگ سے کوئی اثر پڑے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران
تہران، ایرانی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر نے متنبہ کیا ہے کہ ملک کی جوہری یا دیگر حساس تنصیبات پر امریکہ کا کوئی بھی حملہ علاقائی حملوں کو جنم دے گا، جس میں امریکی مفادات کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے اتحادیوں اور حامیوں کے مفادات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر نے بریفنگ میں بتایا کہ اس طرح کے اقدام کو پورے خطے میں جنگ کی توسیع کے طور پر دیکھا جائے گا اور یہ مسلح افواج کی جانب سے “شدید” ردعمل کا باعث بنے گا۔
یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے نتانز جوہری کمپلیکس کے قریب زیرِ زمین” کازما داغ ” تنصیبات پر حملے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اس خطے پر بہت بھاری ضرب لگائے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایران نے خطے میں جوہری سینٹری فیوجز منتقل کیے ہوں گے، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک اس معلومات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے ‘نصر 2 آپریشن’ کی 24ویں لہر کے دوران کویت میں علی السالم ایئر بیس کے قریب ایک ابتدائی انتباہی راڈار، ٹیکٹیکل ریڈار کمپلیکس اور کویت کے جزیرہ بوبیان پر ایک اور ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ راڈار سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے جبکہ امریکہ کے خلاف فوجی آپریشنز جاری رہیں گے۔
امریکہ نے گزشتہ ہفتے سے ایران پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ تہران نے ان حملوں کا جواب ان تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنا کر دیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ امریکی فوج انہیں خطے کے مختلف ممالک میں استعمال کر رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ باہمی حملے اس مفاہمت نامے کے باوجود ہو رہے ہیں جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے اور مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے جون میں پاکستان کی ثالثی میں طے پایا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
دہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
نئی دہلی، دہلی میں طلبہ کے احتجاجی مظاہرے اور کانگریس لیڈروں کے خلاف پولیس کارروائی پر کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی حکومت کو جم کر نشانہ بنایا دونوں لیڈروں نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ کی آواز دبانے اور اپوزیشن کو ڈرانے کی کوشش کر رہی ہے مسٹر کھرگے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لوگ بغیر کسی شناخت یا بیج کے پولیس کے درمیان کام کر رہے ہیں اور بلا واسطہ طور پر طلبہ نیز کانگریس لیڈروں کو ڈرانے دھمکانے کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت طلبہ کے ساتھ ساتھ کانگریس کے سینئر لیڈروں کو بھی کچلنے کی کوشش کرے گی تو ملک بھر میں لاکھوں لوگ ان کی حمایت میں کھڑے ہوں گے اور حالات حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ بعد میں حکومت کو پچھتانا پڑے گا کہ اس نے مسٹر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا۔ انہوں نے دہرایا کہ کانگریس اور انڈیا الائنس کسی بھی دباؤ سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔
وہیں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، یہ اہم نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ طلبہ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ صحیح ہے یا غلط۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنے جائز مطالبات اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں نیز نظامِ تعلیم میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں بار بار امتحانی سوالنامے لیک ہو رہے ہیں اور حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے میں بھی ناکام رہی ہے، جس سے کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے لیکن طلبہ کے ساتھ سڑک پر اور پارلیمنٹ کے اندر جو سلوک ہو رہا ہے، وہ پوری طرح غیر جمہوری ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو اہم موضوعات پر بحث کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ جب اپوزیشن اسپیکر سے اس سلسلے میں بات کرتی ہے تو انہیں حکومت سے بحث کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جمہوری بات چیت کی گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا5 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان7 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا5 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا5 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
جموں و کشمیر4 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان6 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا5 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان7 days agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
دنیا5 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
ہندوستان5 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق







































































































