جموں و کشمیر
کشمیر میں شبانہ سردیوں کا زور جاری، پہلگام سرد ترین مقام

سری نگر، وادی کشمیر میں خشک موسمی صورتحال کے بیچ ٹھٹھرتی سردیوں کا زور جاری ہے تاہم دن کے دوران درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ ہونے سے لوگ اچھی خاصی دھوپ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی4.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی2.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی5.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی4.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی4.2 ڈگری سینٹی گرید ریکارڈ ہوا تھا۔
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی8.1 ڈگری سینٹی گریڈ، ضلع کرگل میں منفی 8.3 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قصبہ دراس جو سائبیریا کے بعد دنیا کا دوسرا سرد ترین علاقہ ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی11.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں 23 جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران 16 جنوری کی رات شمالی و وسطی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی بارش یا برف باری متوقع ہے۔
ادھر وادی میں سردیوں کے بادشاہ چالیس روزہ چلہ کلان کے 26 ویں دن بھی موسم خشک رہا اور ہلکی دھوپ چھائی رہی جس سے لوگوں کو پارکوں وغیرہ میں لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔
چلہ کلان میں خشک اور قدرے گرم موسم کے بیچ نواجوں کو میدانوں میں دن بھر کھلتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں چالیس روزہ چلہ کلان 21 دسمبر سے مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہے۔
چلہ کلان جو ’شہنشہاہ زمستان‘ کے نام سے بھی وادی کے قرب وجوار میں مشہور ہے،21 دسمبر سے شروع ہو کر 31 جنوری کو اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
گاندربل میں امرناتھ یاتریوں سے بھری بس حادثے کا شکار، 39 زائرین زخمی
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل میں منگل کی صبح امرناتھ یاترا سے واپس آنے والے زائرین کی ایک بس سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 39 یاتری زخمی ہو گئے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ حادثہ سری نگر-لیہہ قومی شاہراہ پر ہری گنیوان، کنگن کے قریب خطرناک ایس موڑ پر پیش آیا۔
بس بالتل سے جموں جا رہی تھی اور اس میں سوار یاتری بابا برفانی کے مقدس گپھا مندر کے درشن کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، مقامی رضاکاروں اور طبی عملے نے فوری طور پر ریسکیو کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
انتظامیہ کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی فہرست کے مطابق بیشتر زخمیوں کے سر، سینے اور کمر پر چوٹیں آئی ہیں، جبکہ کئی افراد کے بازو، کلائی اور ٹانگوں میں فریکچر بھی ہوا ہے۔ زخمی یاتری راجستھان، مدھیہ پردیش، دہلی اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ادھر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ بابا برفانی کے درشن کے بعد واپس آنے والے 39 یاتری اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر گاندربل اور محکمہ صحت کے حکام سے بات کر کے زخمی یاتریوں کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کا شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس) میں علاج جاری ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے زخمی یاتریوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
دریں اثنا، پیر کی دوپہر تک 4.22 لاکھ سے زائد عقیدت مند مقدس گپھا مندر میں درشن کر چکے ہیں۔ اس وقت امرناتھ یاترا بالتل راستے سے معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ پہلگام راستہ بحالی کا کام مکمل ہونے، مکمل معائنے اور محفوظ قرار دیے جانے تک بند رہے گا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
تین ہزار سے زائد امرناتھ یاتری جموں کے بیس کیمپ سے روانہ
جموں، شری امرناتھ یاترا کے لیے 3,051 یاتریوں کا ایک نیا قافلہ منگل کے روز جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے جنوبی کشمیر ہمالیہ میں واقع مقدس گپھا مندر کے لیے روانہ ہوا۔
سرکاری حکام کے مطابق یاتری بھگوتی نگر یاتری نواس سے بالتل بیس کیمپ کے لیے روانہ ہوئے۔ یاتریوں کا یہ قافلہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان 151 گاڑیوں پر مشتمل تھا۔
حکام نے بتایا کہ اس روز پہلگام راستے کے لیے کوئی قافلہ روانہ نہیں کیا گیا۔
سالانہ امرناتھ یاترا 28 اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔ اب تک چار لاکھ سے زائد یاتری مقدس گپھا میں درشن کر چکے ہیں۔
جموں و کشمیر میں خراب موسم کے انتباہ کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر 19 جولائی کو یاترا عارضی طور پر روک دی گئی تھی، خاص طور پر مقدس گپھا مندر تک جانے والے پہلگام اور بالتل کے دونوں راستوں پر۔ تاہم ہفتہ کے روز موسم بہتر ہونے کے بعد یاترا دوبارہ شروع کر دی گئی۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کے بیان کے خلاف جے کے پی سی کا احتجاج
سری نگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس (جے کے پی سی) نے پیر کے روز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کے دہلی کے جنتر منتر پر دیے گئے بیان کے خلاف پرامن احتجاج کیا۔
جے کے پی سی کے ریاستی سیکریٹری شیخ محمد عمران نے کہا کہ ان کی جماعت کشمیر کے عوام کی عزت، شناخت اور وقار کی توہین پر خاموش نہیں رہے گی۔ انہوں نے محبوبہ مفتی سے بلا شرط معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنا بیان واپس نہ لیا تو پارٹی اپنے احتجاج میں مزید شدت لائے گی۔
شیخ محمد عمران نے کہا، “محبوبہ جی، کشمیر کے عوام سے معافی مانگیے۔ اگر آپ معافی نہیں مانگتیں تو آج ہم پارٹی دفتر کے اندر احتجاج کر رہے ہیں، کل سڑکوں پر ہوں گے۔”
پی ڈی پی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے محبوبہ مفتی پر الزام لگایا کہ وہ خود کو کشمیریوں کی محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جب کہ ان کے مطابق وادی کے کئی متنازع فیصلوں کی ذمہ دار بھی وہی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، “آج دہلی میں محبوبہ مفتی کشمیریوں کو عسکریت پسند قرار دے رہی ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں خونریزی ہوئی، پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا اور ہمارے ہزاروں نوجوانوں نے تکلیفیں برداشت کیں۔ جن لوگوں نے یہ نقصان اٹھایا، انہیں آج عسکریت پسند نہیں کہا جا سکتا۔”
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب محبوبہ مفتی 24 جولائی کو جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج میں شریک ہوئیں اور دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اس کا کشمیر سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وادی میں موجودہ عسکریت پسندی کے باعث وہاں ایسی کارروائی “قابلِ فہم” ہے، جس کے بعد ان کے اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا6 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا7 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان7 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
جموں و کشمیر7 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں: اسماعیل بقائی








































































































