تازہ ترین
ریاستی معیشت میں ریڈ کی ہڈی ’’باغبانی ‘‘ لیکن نظرانداز کیوں

رضوان سلطان:
ریاست جموں وکشمیر خوبصورتی کے علاوہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے ۔کشمیر کی اگر ہم بات کریں تو یہ باغبانی کے لئے جانا جاتا ہے ۔وادی میں باغبانی کے شعبے میں سیب ،اخروٹ ،آڑو ،انجیر خوبانی وغیرہ موجود ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کشمیر میں سب سے بڑا کمائی کا ذریعہ باغبانی ہی ہے ۔
باغبانی کے شعبے میں سیب کی بات کریں تو سیب کے کاروبار میں لگ بھگ کشمیر کاہر ایک ضلع جڑا ہواہے ۔ بھارت میں 70فیصد سیب کی پیدا وار کشمیر میں ہی ہوتی ہے جہاں1975.76 میں سیب کی پیداوا 4734 2 ہیکٹر پر 348011 میٹرک ٹن کی جاتی تھی ۔وہیںیہ بڑھ کے 1995میں میں 161773 ہیکٹرپر 1966417میٹرک ٹن کی پیداوارکی ہو گئی ۔
دو صدیوں کے بعد یعنی 2016-17 میں سیب کی پیداور اور اس کے رقبہ میں بہت اضافہ ہو گیا ہے ۔ جہاں رقبہ میں 107فیصد اضافہ وہیں پیداوار میں 175فیصد اضافہ ہوا ہے ۔سب سے زیادہ سیب کی پیداوار بارہمولہ ،شوپیان ،پلوامہ ،بڈگام ،اننت ناگ ،اور کلگام میں ہوتی ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق سیب کے کاروبار کے ساتھ ریاست کی 60فیصد آبادی بلواسطہ یا بلاواسطہ جڑی ہوئی ہے ۔جبکہ وادی میں 35لاکھ افراد اس شعبے سے جڑے ہوئے ہیں ۔
2016کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں 237000ہیکٹر زمین سیب کی پیداروا کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔اسکے علاوہ ریاست کے 20فیصد زمیں باغبانی کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔جس میں 45فیصد رقبے پر صرف سیب کی پیداوار کی جاتی ہے ۔جس سے سالانہ سیب کے کاوربار سے ریاستی سرکارکو 5000کڑوڑ آمدنی ہوتی ہے ۔
لیکن آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ ریاست میں الٹی گنگا کیسے بہتی ہے اور کڑوڑں میں آمدنی حاصل کرنے کے باوجود بھی اس کاروبار کو صنعت کا درجہ نہیں ملا ۔جہاں ریاست میں سیاحتی شعبے کے ایک اشتہار کے لئے ۱ کڑوڑ خرچ کیا جا سکتا ہے وہیں باغبانی شعبہ جو کشمیر کی معیشت میں ریڈ کی ہڈی کا کام کرتا ہے اس کے لئے کچھ بھی نہیں کیا جاتا ۔
ریاست میں باہر کی ریاستوں سے مختلف کمپنییوں کی طرف سے یہاں سٹیل فیکٹریاں بنائی جاتی ہیں ۔ وہاں پر استعمال ہونے والاخام مال بھی باہر سے ہی لایا جاتا ہے ۔
غرض پیسہ کمانے کے لئے یہاں کی زمین استعمال کی جاتی ہے ،اور ریاست کے لوگو ں کو ملتا کچھ بھی نہیں ۔
اگر اس کے بجائے ریاستی سرکار سیب کے کاروبار کو وسعت دے ،جس سے پہلے ہی 60فیصد لوگ جڑے ہوئے ہیں ۔سیب کا میوہ جو سال کے آخر میں کبھی تیز ہواوؤں سے اور کھبی اولے گرنے سے خراب ہو جاتا ہے ،یا کبھی خراب حالات ہونے کی وجہ سے باہر کی منڈیوں تک وقت پر نہیں پہنچ پاتا ۔
اس سب کے لئے حکومت ایسی جوس کی فیکٹریاں کیوں نہیں بنا سکتی ،اگر وہ اشتہار پر ایک کڑوڑ سے زائد خرچ کر سکتی ہے تو وہ وادی کے ہر ضلعے میں چھوٹی ہی سہی ۱۰چو س فیکٹریاں بنائیں ، یا اس سے منسلک سیب کی پیکنگ کے لئے ڈبے بنانے کی فیکٹریاں بھی بنا سکتی ہے ۔ جہاں پر بے روزگار بیٹھے نوجوان روز گار حاصل کر سکتے ہیں ۔ اسکے علاوہ سیب کامیوہ ضائع ہو نے سے بھی بچ سکتا ہے ۔
لیکن اگر یہ ایسے ہی چلا تو اگلے سو سالوں تک بھی ریاست میں بالخصوص وادی میں بے روزگاری ختم نہیں ہو سکتی ۔
دنیا
لبنان سیز فائر کی خلاف ورزی، اسرائیلی کی متعدد قصبوں پر شدید بمباری: لبنانی میڈیا
بیروت، اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان سیز فائر کی خلاف ورزی جاری، لبنان کے متعدد قصبوں پر شدید بمباری کی گئی۔
لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں خیام، بنت جبیل اور البیادہ پر حملے کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور لبنان کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل سے جڑے جنوبی لبنان میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھی گئی، اسرائیلی دھکمیوں کے باوجود لبنانی سڑکوں پر نکل آئے۔ عرب میڈیا کے مطابق لبنان کے عوام نے پلوں کی بحالی اپنی مدد آپ کے تحت کی، جنوبی لبنان میں دریا لیتانی پر تباہ شدہ پل دوبارہ بحال کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا:ایران
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
عباس عراقچی نے آج بروز جمعہ ‘ایکس’ سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “آبنائے ہُرمز کو، لبنان میں فائر بندی سے متوازی شکل میں اور ایران پورٹ اینڈ میری ٹائمز کمیٹی کے اعلان کردہ راستوں سے ، تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل شکل میں کھُلا رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے”۔
امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا اورجمعہ کو اپنے ‘ٹروتھ سوشل’ پلیٹ فارم پر “شکریہ!” لکھ کر کہا ہے کہ “ایران نے اس آبی راستے کو مکمل طور پر کھولنے اور مکمل ٹرانزٹ کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم تہران کے ساتھ امن معاہدہ ہونے تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی”۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی کے حملوں کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود رہی ہے۔ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معمولی اضافے کے علاوہ آبنائے سے یومیہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد دہائیوں تک نہیں پہنچ سکی۔ امریکی بحریہ کی حالیہ پابندیوں کے تحت جہازوں کے مالکان کے لیے خلیج سے تیل اور دیگر اشیاء باہر نکالنے کے لیے ایرانی اور امریکی حکام، دونوں سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس پابندی نے کارگو کی روانی سے متلق غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ ہفتے غیر ایرانی خام تیل لے جانے والے تین سپر ٹینکر آبنائے سے نکلنے میں کامیاب رہے لیکن ناکہ بندی نافذ ہونے سے پہلے کے سات ہفتوں کے دوران بھی اس آبنائے سے بہت کم کارگو گزر سکا ہے۔
‘شالامار’ نامی ٹینکر نے سب سے پہلے اتوار کے روز خلیج میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن امریکہ۔ایران امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹینکر واپس مڑ گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنا سفر مکمل کیا اور ‘داس آئی لینڈ’ کی طرف روانہ ہوا، جہاں سے خام تیل لادنے کے بعد وہ جمعرات کو مشرق کی جانب روانہ ہو گیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ تین دنوں میں 14 جہاز واپس مڑ گئے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے جہازوں کے مالکان موجودہ حالات میں آبنائے سے گزرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ بحری ناکہ بندی عمان کے ساحل پر ‘راس الحد’ کے قریب سے لے کر ایران اور پاکستان کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں کشمیر میں کالعدم جماعتِ اسلامی اور ایف اے ٹی سے وابستہ 58 پرائیویٹ اسکول حکومت کی تحویل میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم تنظیم جمعات اسلامی اور اس کی تعلیمی شاخ فلاحِ عام ٹرسٹ سے وابستہ 58 نجی اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔
یہ کارروائی اس اقدام کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کی گئی ہے، جب حکومت نے جماعت سے منسلک 215 اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔ واضح رہے کہ وزارتِ داخلہ نے 2019 میں جماعتِ اسلامی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
جموں و کشمیر کے محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے مزید 58 فعال اسکولوں کی نشاندہی کی ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جماعتِ اسلامی یا فلاحِ عام ٹرسٹ سے منسلک پائے گئے ہیں۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ان اسکولوں کی انتظامی کمیٹیوں کی قانونی حیثیت ختم ہو چکی ہے یا ان کے خلاف خفیہ رپورٹ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ماتحت محکمۂ تعلیم نے ضلع مجسٹریٹس/ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان اسکولوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لیں اور مناسب جانچ کے بعد نئی انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پیش کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولی تعلیم کے محکمے کے ساتھ مشاورت اور تال میل کے ذریعے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
حکم جاری ہونے کے بعد حکام نے ہفتہ کے روز ان اسکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ان 58 اداروں میں سے سب سے زیادہ 29 بارہمولہ ضلع میں ہیں، جبکہ پلوامہ میں 7، کولگام اور کپواڑہ میں 5-5 اسکول شامل ہیں۔ اننت ناگ اور بڈگام میں 4-4 جبکہ بانڈی پورہ میں 2 اسکولوں کو کنٹرول میں لیا گیا ہے، جب کہ شوپیان اور سری نگر میں ایک ایک اسکول شامل ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی
ہندوستان1 week agoمغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
دنیا1 week agoایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر5 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا5 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
جموں و کشمیر1 week agoایل جی نے 11 اپریل سے شروع ہونے والی 100 روزہ ‘نشہ مکت جموں و کشمیر ‘ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا
دنیا7 days agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
دنیا5 days agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا7 days agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
جموں و کشمیر7 days agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل









































































































