جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 جنگجو ہینڈلرز کی غیر منقولہ جائیدادیں قرق:پولیس

سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پاکستان میں مقیم دو جنگجو ہینڈلرز کی لاکھوں روپیے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادوں کو قرق کر دیا۔
جنگجو ہینڈلرز کی شناخت جلال الدین ولد راج محمد ساکن زمبور پٹن اور محمد ساقی ولد مستانہ بھٹی ساکن کمل کوٹ اوڑی کے طور پر ہوئی ہے۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ بارہمولہ پولیس نے سب جج اوڑی سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں مقیم دو دہشت گرد ہینڈلرز کی لاکھوں روپیے مالیت کی 3 کنال 19 مرلہ اراضی کی صورت میں غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کر دیا ہے۔
انہوں نے دہشت گرد ہینڈلرز کی شناخت جلال الدین ولد راج محمد ساکن زمبور پٹن اور محمد ساقی ولد مستانہ بھٹی ساکن کمل کوٹ اوڑی کے طور پر کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سی آر پی سی کے دفعات 83 کے تحت انجام دی گئی اور اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن اوڑی میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر 34/1995 زیر سیکشن 7/25 انڈین آرمز ایکٹ،4(111) ٹی اے ڈی اے ایکٹ اور 105/1996 زیر سیکشن 2/3 ای آئی ایم سی او ایکٹ کے تحت درج ہے۔
بیان میں کہا گیا پولیس کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی شناخت دہشت گرد ہینڈلرز کی جائیدادوں کے طور پر ہوئی۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے کشتواڑ میں گاڑی پلٹنے سے نو افراد زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے داچن علاقے میں ایک کیب گاڑی الٹ جانے سے اس میں سوار کم از کم نو افراد زخمی ہو گئے۔ حکام نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق پیر کی صبح داچن علاقے میں ایک کیب اس وقت الٹ گئی جب ڈرائیور گاڑی پر قابو کھو بیٹھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں نو مسافر زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے ضلع اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام نے مزید کہا کہ تمام زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
جنتر منتر پر دیے گئے بیان پر محبوبہ مفتی کو معافی مانگنی چاہیے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کو دہلی کے جنتر منتر پر دیے گئے اپنے متنازعہ بیان پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب محبوبہ مفتی 24 جولائی کو جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج میں شریک ہوئیں اور دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اس کا کشمیر سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وادی میں موجودہ عسکریت پسندی کے باعث وہاں ایسی کارروائی “قابلِ فہم” ہے۔
اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی، جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین نے الزام لگایا کہ انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ سخت رویے کو درست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
محبوبہ مفتی کے بیان پر پیدا ہونے والے تنازعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے ریمارکس سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے وہ عسکریت پسندی کے نام پر جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق سلب کیے جانے کو جائز قرار دے رہی ہوں۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “وہ جنتر منتر جموں و کشمیر کے مسئلے پر نہیں گئی تھیں۔ وہاں طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور دیگر اقدامات پر جو کچھ کہا گیا، اسے اس بنیاد پر درست قرار دیا گیا کہ چونکہ کشمیر میں عسکریت پسندی ہے، اس لیے یہاں یہ سب جائز ہے۔ آخر اس کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے”
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، “کیا صرف اس لیے کہ یہاں عسکریت پسندی ہے، قانون پر عمل نہیں ہونا چاہیے اگر عسکریت پسندی ہے تو کیا بچوں کو انصاف نہیں ملنا چاہیے؟ کیا لوگوں کے پاسپورٹ روک دیے جانے چاہییں؟ میں اس منطق کو سمجھ نہیں سکا۔”
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی سربراہ دہلی اور کشمیر میں مختلف موقف اختیار کرکے “کچھ لوگوں کو خوش کرنے” کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہی پرانی عادت اب بھی برقرار ہے کہ کشمیر میں کچھ اور کہنا اور دہلی میں کچھ اور۔”
انہوں نے کہا کہ جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ محبوبہ مفتی کے بیان سے عوامی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو انہیں اپنی غلطی تسلیم کر لینی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق، “جب یہ سامنے آ گیا کہ جو کچھ کہا گیا وہ غلط تھا اور لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا تو انہیں معافی مانگ لینی چاہیے تھی۔ اس سے ان کا قد کم نہیں ہو جاتا۔ وہ صرف اتنا کہہ سکتی تھیں کہ میں نے جذبات میں آ کر یہ بات کہی، مجھ سے غلطی ہوئی، میں معذرت خواہ ہوں، براہِ کرم مجھے معاف کر دیں۔”
وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ اس کے برعکس پی ڈی پی نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیو قرار دے کر “زخموں پر نمک چھڑکنے” کا کام کیا ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں تین ہفتے کی بندش کے بعد اسکول دوبارہ کھلے
سری نگر، جموں و کشمیر میں شدید گرمی، اس کے بعد موسلا دھار بارش اور سیلاب جیسے حالات کے باعث تقریباً تین ہفتے تک بند رہنے والے اسکول پیر کے روز دوبارہ کھل گئے۔
کشمیر میں شدید گرمی کے باعث درجۂ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ گیا تھا، جس کے پیشِ نظر تمام تعلیمی اداروں میں پہلے مرحلے میں 6 جولائی سے 19 جولائی تک گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا۔
تاہم 18 جولائی کے آس پاس شدید گرمی کی جگہ موسلا دھار بارش نے لے لی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پانی جمع ہو گیا اور کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس کے باعث حکومت کو تعطیلات میں دو مرتبہ یعنی پہلے 22 جولائی تک اور بعد ازاں 26 جولائی تک توسیع کرنا پڑی۔
حکام کے مطابق موسم میں بہتری اور حالات معمول پر آنے کے بعد پیر کے روز طلبہ، طالبات اور اساتذہ نے دوبارہ اسکولوں کا رخ کیا اور تدریسی سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoسعودی عرب کے شہر الخرج میں پرنس سلطان ائیر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا

































































































