جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 20 جولائی تک ہلکی بارشوں کا امکان: محکمہ موسمیات

سری نگر، جھلسانے والی گرمیوں کے بیچ محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر میں 20 جولائی تک کہیں کہیں بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں 12 جولائی کو موسم مجموعی طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ کہیں کہیں ہلکی بارشوں کا امکان ہے اور اس دوران جموں میں کچھ مقامات پر بھاری بارشیں متوقع ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعد ازاں جموں وکشمیر میں 13 سے 15 جولائی تک بھی کچھ مقامات پر بارشوں کے مختصر مرحلے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں 16 اور 17 جولائی کو بھی گرج چمک کے ساتھ کہیں کہیں مختصر بارشیں ہوسکتی ہیں جبکہ 18 سے 20 جولائی تک بھی کچھ مقامات پر بارشوں کے مختصر مرحلے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ 12 جولائی کو جموں صوبے کے خطرنا مقامات پر سیلابی ریلے، زمین کھسکنے اور چٹانیں گر آنے کے بھی امکانات ہیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کے بیان کے خلاف جے کے پی سی کا احتجاج
سری نگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس (جے کے پی سی) نے پیر کے روز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کے دہلی کے جنتر منتر پر دیے گئے بیان کے خلاف پرامن احتجاج کیا۔
جے کے پی سی کے ریاستی سیکریٹری شیخ محمد عمران نے کہا کہ ان کی جماعت کشمیر کے عوام کی عزت، شناخت اور وقار کی توہین پر خاموش نہیں رہے گی۔ انہوں نے محبوبہ مفتی سے بلا شرط معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنا بیان واپس نہ لیا تو پارٹی اپنے احتجاج میں مزید شدت لائے گی۔
شیخ محمد عمران نے کہا، “محبوبہ جی، کشمیر کے عوام سے معافی مانگیے۔ اگر آپ معافی نہیں مانگتیں تو آج ہم پارٹی دفتر کے اندر احتجاج کر رہے ہیں، کل سڑکوں پر ہوں گے۔”
پی ڈی پی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے محبوبہ مفتی پر الزام لگایا کہ وہ خود کو کشمیریوں کی محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جب کہ ان کے مطابق وادی کے کئی متنازع فیصلوں کی ذمہ دار بھی وہی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، “آج دہلی میں محبوبہ مفتی کشمیریوں کو عسکریت پسند قرار دے رہی ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں خونریزی ہوئی، پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا اور ہمارے ہزاروں نوجوانوں نے تکلیفیں برداشت کیں۔ جن لوگوں نے یہ نقصان اٹھایا، انہیں آج عسکریت پسند نہیں کہا جا سکتا۔”
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب محبوبہ مفتی 24 جولائی کو جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج میں شریک ہوئیں اور دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اس کا کشمیر سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وادی میں موجودہ عسکریت پسندی کے باعث وہاں ایسی کارروائی “قابلِ فہم” ہے، جس کے بعد ان کے اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
جموں-سری نگر قومی شاہراہ سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری
جموں، شدید بارش کے باعث ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ اور ملبہ گرنے سے بند ہونے والی جموں-سری نگر قومی شاہراہ کو دوبارہ کھولنے کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ پھنسے ہوئے سیکڑوں گاڑیوں کو مرحلہ وار نکالا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ضلع ادھم پور کے دیوال علاقے میں دوبارہ لینڈ سلائیڈنگ ہونے کے بعد ادھم پور اور بنیہال کے درمیان تقریباً 1,700 ٹرک اور بڑی تعداد میں مسافر گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔ فی الحال انہیں ایک ہی لین کے ذریعے نکالا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سڑک کی مرمت اور ملبہ ہٹانے کا کام بھی مسلسل جاری ہے۔
حکام نے بتایا کہ سب سے پہلے مسافر گاڑیوں کو نکالا جا رہا ہے۔ تاہم جب تک شاہراہ مکمل طور پر محفوظ اور قابلِ استعمال نہیں ہو جاتی، اس وقت تک جموں سے سری نگر، ڈوڈہ، رام بن، پٹنی ٹاپ اور دیگر علاقوں کی جانب یا وہاں سے جموں آنے والی کسی بھی نئی گاڑی کو سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شاہراہ کو محفوظ قرار دیے جانے تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کیونکہ مزید لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے لوگوں کو افواہوں پر توجہ نہ دینے اور شاہراہ کی تازہ صورتحال صرف ٹریفک پولیس کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے معلوم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
جموں کے بیس کیمپ سے 3,800 سے زائد امرناتھ یاتری روانہ
جموں، جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس سے پیر کے روز 3,800 سے زائد یاتریوں کا ایک نیا قافلہ امرناتھ گپھا کے لیے روانہ ہوا۔
جموں و کشمیر میں خراب موسم کے باعث 19 جولائی کو معطل کی گئی امرناتھ یاترا، خاص طور پر گپھا مندر تک جانے والے پہلگام اور بالتال راستوں پر، ہفتہ کے روز دوبارہ شروع کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق 3,823 یاتریوں پر مشتمل ایک نیا قافلہ بھگوتی نگر یاتری نواس سے بالتال بیس کیمپ کے لیے روانہ ہوا۔ یہ قافلہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان 140 گاڑیوں پر مشتمل کارواں کی شکل میں روانہ کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ پیر کے روز پہلگام راستے کے لیے کوئی قافلہ روانہ نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ سالانہ امرناتھ یاترا 28 اگست کو رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔
اب تک چار لاکھ سے زائد عقیدت مند امرناتھ گپھا مندر میں درشن کر چکے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ امرناتھ یاترا 2026 نے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اس سال یاتریوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر لی ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
جموں و کشمیر6 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
دنیا6 days ago‘جنگی جرائم’ نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی








































































































