دنیا
ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان، مذاکرات جاری
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک “حتمی” امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اور اسی سلسلے میں انہوں نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
یہ اعلان رات گئے ایک ڈرامائی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا، جس نے دونوں ممالک کو ممکنہ بڑے فوجی تصادم کے دہانے سے واپس کھینچ لیا۔
واشنگٹن وقت کے مطابق شام 6 بج کر 32 منٹ (بدھ کو صبح 4 بج کر 2 منٹ ہندستانی وقت) پر، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جاری سفارتی پیش رفت کے پیش نظر وہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی کارروائیوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہے ہیں۔
یہ اقدام ان کی جانب سے مقرر کردہ رات 8 بجے (ہندستانی وقت صبح 5:30) کی ڈیڈ لائن سے کچھ ہی پہلے سامنے آیا۔
اس سے قبل واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کر سکتا ہے۔
ایک باضابطہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ شہباز شریف اور عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایرانآبنائے ہرمز کو “مکمل، فوری اور محفوظ” طور پر کھولنے پر رضامند ہو۔
ٹرمپ نے کہا یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی،” اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدہ طے کرنے کے قریب ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ واشنگٹن کو تہران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے انہوں نے مذاکرات کے لیے “قابلِ عمل بنیاد” قرار دیا، اور کہا کہ ماضی کے بیشتر اختلافی نکات حل کیے جا چکے ہیں۔
یہ اعلان ہفتے کے آغاز میں اپنائے گئے سخت مؤقف سے ایک واضح تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ منگل کی صبح تک ٹرمپ نے تہران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے ایران کی تہذیب کو “مکمل طور پر تباہ کر دینے” کی دھمکی دی تھی، جو صورتحال کی غیر یقینی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
حکام کے مطابق جنگ بندی اس بات سے مشروط ہے کہ ایران بھی کشیدگی میں کمی کرے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی مکمل آمد و رفت کو یقینی بنائے جس کے لیے تہران آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔
کشیدگی سے مذاکرات کی جانب یہ تیز رفتار تبدیلی اس صورتحال کی نازک نوعیت اور خلیجی خطے میں استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔
یو این آئی،۔ ایم جے
دنیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں دھماکوں کا دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تہران، آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کے باعث کشیدگی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل امریکی انٹیلی جنس اداروں نے مبینہ طور پر دو آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز کے جنوب میں واقع بارودی سرنگوں والے علاقے سے گزارنے کی کوشش کی، جہاں وہ سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
بیان کے مطابق بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دونوں آئل ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔
ایران نے متاثرہ آئل ٹینکروں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم ملاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے جاری ہدایات پر عمل کریں اور بارودی سرنگوں والے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں۔
اس واقعے پر امریکی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
کویت میں پیٹرولیم تنصیب پر ایران کا حملہ، متعدد افراد زخمی، بڑے پیمانے پر نقصان
تہران، ایرانی حملے میں کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
اس حوالے سے جاری کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے خبر دار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملے جاری رکھے تو تہران تنازع کو مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل کر دے گا۔
محسن رضائی نے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب جنگ یا مذاکرات کی پالیسی ختم ہو چکی ہے، 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی حکمتِ عملی تنازع کو خطے میں پھیلنے سے روکنا تھی۔
سینئر فوجی مشیر کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے کویت یا دیگر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
لبنانی صدر جوزف عون امریکہ کے دورے پر روانہ
تہران، لبنان کے صدر جوزف عون اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ روانہ ہوگئے۔
بیروت میں ایوانِ صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لبنانی صدر کی امریکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ سربراہی اجلاس منعقد ہو گا۔
اجلاس میں امریکی حکام کے ساتھ لبنان کی موجودہ صورتِ حال، جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے ممکنہ اقدامات، بالخصوص جنوبی لبنان میں امن و استحکام کی بحالی، اسرائیل کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور ریاستی عملداری کو لبنان کے تمام علاقوں تک وسعت دینے جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoمیرٹھ کی دلت طالبہ للیتا گوتم قتل کیس پر کھرگے کا بی جے پی پر شدید حملہ، کہا، حکومت دبا رہی ہے انصاف کی آواز
ہندوستان1 week agoاتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سے لوگوں میں ہے مایوسی: کانگریس
دنیا4 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا2 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
دنیا1 week agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
ہندوستان5 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا4 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی، ہنگامی امداد کی اپیل
دنیا5 days agoامریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان









































































































