ہندوستان
ہندوستان نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے پیش نظر ایران میں مقیم اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفارت خانے کے تجویز کردہ راستوں کا استعمال کرتے ہوئے جلد از جلد ملک سے باہر نکل جائیں تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے منگل کو اس سلسلے میں جاری کردہ ایڈوائزری کو بدھ کے روز ایک بار پھر جاری کرتے ہوئے ہندوستانی شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ سفارت خانے نے ایڈوائزری میں کہا ہے کہ، “7 اپریل کی ایڈوائزری کے تسلسل میں اور حالیہ پیش رفت کے پیش نظر، ایران میں موجود ہندوستانی شہریوں کو سختی سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفارت خانے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے اور سفارت خانے کے تجویز کردہ راستوں کا استعمال کرتے ہوئے جلد از جلد ایران سے باہر نکل جائیں۔”
سفارت خانے نے ایڈوائزری میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہندوستانی شہری کو سفارت خانے کے مشورے اور ہم آہنگی کے بغیر کسی بین الاقوامی سرحد کو عبور کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ سفارت خانے نے مزید کہا ہے کہ، “اس بات کو دوبارہ دہرایا جاتا ہے کہ سفارت خانے کے ساتھ پیشگی مشورے اور ہم آہنگی کے بغیر کسی بھی بین الاقوامی زمینی سرحد تک پہنچنے کی کوشش نہ کی جائے۔”
سفارت خانے سے ہنگامی رابطہ نمبروں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے، جن میں موبائل نمبر: 989128109115، 989128109102، 989128109109، 989932179359 اور ای میل: cons.tehran@mea.gov.in شامل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
گزشتہ چار دنوں میں پی او کے مظاہروں اور پولیس تشدد میں کم از کم 41 افراد ہلاک
نئی دہلی، پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں حکام نے منگل کی سہ پہر کو کرفیو نافذ کر دیا کیونکہ مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے، جب کہ پولیس تشدد میں گزشتہ چار دنوں میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 19 بچے اور سات حاملہ خواتین شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولکوٹ، مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر، ڈڈیال، پالندری اور سدھانوتی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، حکومت اور فوج مخالف نعرے لگائے اور آزادی کا مطالبہ کیا۔ مظفرآباد، کوٹلی، بھمبر اور ڈڈیال میں انتظامی بندش سے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے، پولیس کی کارروائی میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
راولکوٹ میں صبح 11 بجے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، مظاہرین نے مرکزی سڑک بلاک کر دی، جس سے پاکستانی پولیس، فوج اور رینجرز کو گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا سہارا لینا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتظامی کارروائی میں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے۔
ذرائع کے مطابق کوٹلی اور ڈڈیال میں لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، نعرے لگاتے ہوئے راولکوٹ کی طرف مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ پالندری میں آنسو گیس کے استعمال کے باوجود ہزاروں افراد پاکستانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
دریں اثنا، سودھانوتی میں مظاہرین نے لکڑی کی لاٹھیوں سے مظاہرے کیے اور پاکستانی حکومت اور فوج کو وارننگ جاری کی۔ مظفرآباد میں نیلم پل پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فائرنگ کی ویڈیوز نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پی او کے میں مظاہرین 38 مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان میں بنیادی طور پر سستی بجلی اور آٹے، چاول اور دالوں کی کم قیمتیں شامل ہیں۔
مظاہرین کا موقف ہے کہ پاکستان نے پی او کے میں منگلا ڈیم جیسے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ بنائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے اس لیے مقامی رہائشیوں کو کم نرخوں پر بجلی ملنی چاہیے۔ مظاہرین کا ایک بڑا سیاسی مطالبہ پی او کے اسمبلی میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص 12 نشستوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ نشستیں ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جنہیں پناہ گزین سمجھا جاتا ہے اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر آئے ہیں لیکن اب وہ پی او کے کے بجائے پاکستان کے دوسرے حصوں میں رہتے ہیں۔ مظاہرین سوال کرتے ہیں کہ جو لوگ پی او کے میں نہیں رہتے وہ ان 12 سیٹوں کو ووٹ اور نمائندگی کیسے دے سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستانی فوج اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی میں موجودگی کے باوجود صرف حزب المجاہدین کے ارکان اور ان کے رشتہ دار ہی ان مخصوص نشستوں پر منتخب ہوں۔ نتیجے کے طور پر، پی او کے اسمبلی کی 45 میں سے 12 سیٹیں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے زیر اثر رہیں۔ اس سے وہ قانون سازوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اگر ضروری ہو تو اپنی پسند کا وزیر اعظم مقرر کر سکتے ہیں۔
ایک مثال عبداللہ سعید شاہ کی ہے، جنہیں پیر مظہر سعید شاہ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ جیش محمد کا سندھ کا صوبائی سربراہ بتایا جاتا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم میں ان کے مبینہ کردار کے باوجود، وہ پی او کے اسمبلی کے رکن ہیں اور حال ہی میں اطلاعات و نشریات کے وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ اسی طرح کی مظاہروں کی لہر گزشتہ سال اکتوبر میں بھی پھوٹ پڑی تھی جس میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان مظاہروں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے قریبی ساتھی اور سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ کو مذاکرات کے لیے پی او کے بھیجا۔ حکام نے مظاہرین کے 38 میں سے 21 مطالبات تسلیم کر لیے۔ تاہم آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود وہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ حکام نے موجودہ بدامنی کے دوران اور اس سے پہلے دونوں مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بریگیڈیئر فائق ایوب کے آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پی او کے میں شہریوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ مظاہرین اور ماہرین کا الزام ہے کہ ان کی کمان میں فوج کے جبر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پی او کے میں اپنی پوسٹنگ سے قبل، بریگیڈیئر فائق ایوب پنجاب میں سیکٹر کمانڈر تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں پرتشدد کریک ڈاؤن کا ذمہ دار تھا، جس کی وجہ سے انہیں “لاہور کا قصائی” کا لقب ملا۔ اس کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں پی او کے منتقل کر دیا، جہاں کریک ڈاؤن جاری ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
حکومت کے گزشتہ 12 سال اعتماد، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کے گزشتہ 12 سال بھروسے، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف رہے ہیں انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ ہم وطنوں کی دعاؤں اور سب سے پہلے قومی جذبے سے تحریک پا کر نوجوانوں، خواتین اور کسان بھائی بہنوں کو بااختیار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے مسٹر مودی نے منگل کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ”انتھک کوششوں کے نتیجے میں ہی آج ملک نے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) سے لے کر ڈیجیٹل انقلاب تک عالمی سطح پر ایک نئی پہچان حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے حکومت خدمت، گڈ گورننس اور خوشحالی کی اس راہ پر مسلسل آگے بڑھتی رہے گی“۔ انہوں نے مزید کہا، ”ہماری حکومت کے گزشتہ 12 سال بھروسے، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف رہے ہیں۔ ملک کے 140 کروڑ لوگوں کے آشیرواد اورملک مقدم کے جذبے کے ساتھ ہم نے نوجوانوں، خواتین اور اپنے کسان بھائی بہنوں کو بااختیار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ ہماری انتھک کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ انفراسٹرکچر سے لے کر ڈیجیٹل انقلاب تک آج ملک کو دنیا بھر میں ایک نئی پہچان ملی ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے ہم خدمت، گڈ گورننس اور خوشحالی کی اسی راہ پر مسلسل آگے بڑھتے رہیں گے“۔
واضح رہے کہ مرکز میں مودی حکومت کا 12 سال کا دورِ اقتدار مکمل ہو گیا ہے۔ مسٹر مودی نے 26 مئی 2014 کو پہلی بار وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا تھا۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
عمان کے ساحل کے قریب ٹینکر پر میزائل حملے کے بعد تمام 24 ہندوستانی ملاحوں کو محفوظ بچا لیا گیا
نئی دہلی، دنیا بھر میں ہندوستانی ملاحوں کے تحفظ کے تئیں اپنے اٹوٹ عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے، میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر (ایم آر سی سی) ممبئی نے عمان کے حکام کے ساتھ مل کر عمان کے ساحل کے قریب ایک تجارتی ٹینکر پر میزائل حملے کے بعد اس پر سوار تمام 24 ہندوستانی ملاحوں کو کامیابی کے ساتھ بچا لیا ہے ہندوستانی کوسٹ گارڈ نے منگل کو بتایا کہ ایم آر سی سی ممبئی کو پیر کے روز دو بج کر 20 منٹ پر پلاؤ کے جھنڈے والے ٹینکر ’ایم ٹی میریویکس‘ پر میزائل حملے کی اطلاع ملی۔ یہ جہاز عمان کے مصیرہ کے قریب لنگر انداز تھا۔ جہاز پر 24 ملاح سوار تھے اور وہ سبھی ہندوستانی شہری تھے۔ یہ معلومات جہاز پر موجود ارکان میں سے ایک کے رشتہ دار نے ایم آر سی سی ممبئی کو دی تھی۔
صورتحال کی سنگینی اور ملاحوں کی حفاظت کو لاحق فوری خطرے کو سمجھتے ہوئے، ایم آر سی سی ممبئی نے فوراً عمان میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو سینٹر، عمان کے ساتھ رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے عمان کی ایجنسی سے تلاش اور بچاؤ مشن کے تال میل کی ذمہ داری سنبھالنے اور جہاز اور اس کے عملے کو فوری مدد فراہم کرنے کی درخواست کی۔
تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے عمان نے پاس کے ایک جہاز کا رخ موڑ کر اور جائے وقوعہ پر دو بچاؤ ہیلی کاپٹر بھیج کر بچاؤ مہم کا آغاز کیا اور اس کی نگرانی کی۔ بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنے اور ہندوستانی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایم آر سی سی ممبئی نے عمان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل تال میل برقرار رکھا۔ تقریباً پانچ بجے عمان نے تصدیق کی کہ عمان کی بحریہ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تمام 24 ہندوستانی ارکان کو محفوظ طریقے سے بچا لیا گیا ہے۔ بچائے گئے تمام ارکان محفوظ بتائے جا رہے ہیں، اور کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
جہاز ابھی عمان کے مصیرہ کے قریب لنگر انداز ہے۔ یہ کامیاب بچاؤ مہم بین الاقوامی بحری تعاون اور اس خطے میں بحری بچاؤ کے حکام کے درمیان قائم مضبوط کوآرڈینیشن میکانزم کے موثر ہونے بات کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ ہندوستانی کوسٹ گارڈ کے ہندوستانی ملاحوں کے تحفظ اور مقام کی پرواہ کیے بغیر بحری ہنگامی حالات کے دوران بروقت امداد فراہم کرنے کے عزم کو بھی واضح کرتا ہے۔ بحر ہند میں ایک بڑے تلاش اور بچاؤ کے علاقے کے لیے ایم آر سی سی ممبئی سمندر میں لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ ہندوستانی کوسٹ گارڈ ایک قابل اعتماد بحری سکیورٹی پارٹنر کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے، ملاحوں کی حفاظت، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنے اور پورے بحر ہند کے خطے میں محفوظ بحری ماحول کو فروغ دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
کھیل1 week agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
ہندوستان6 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا5 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا4 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا6 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
دنیا7 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران











































































































